• 27 فروری, 2021

عاجزی اور انکساری

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
عاجزی اور انکساری ایک ایسا خلق ہے جب کسی انسان میں پیدا ہو جائے تو اس کے ماحول میں اور اس سے تعلق رکھنے والوں میں باوجود مذہبی اختلاف کے جس شخص میں یہ خلق ہو اس پر انگلی اٹھانے کا موقعہ نہیں ملتا بلکہ اس خُلق کی وجہ سے لوگ اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں، اس سے تعلق رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہمیں تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ عاجزی اگر کسی میں نظر آتی ہے تو وہ آنحضرتﷺ کی ذات ہے چنانچہ دیکھ لیں باوجود خاتم الانبیاء ہونے کے آپ اپنے ماننے والوں کو یہی فرماتے ہیں کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو اور اس یہودی کو بھی پتہ تھا کہ باوجود اس کے کہ میں یہودی ہوں اور جھگڑا میرا مسلمان سے ہے اور پھر معاملہ بھی آپﷺ کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اپنے اس جھگڑے کا معاملہ آپﷺ کے پاس ہی لاتا ہے، آپ کی خدمت میں ہی پیش کرتا ہے۔ کیونکہ مذہبی اختلاف کے باوجود اس کو یہ یقین تھا اور وہ اس یقین پر قائم تھا کہ یہ عاجز انسان ﷺ کبھی اپنی بڑائی ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اور اس یہودی کو یہ بھی یقین تھا کہ میرا دل رکھنے کے لئے اپنے مرید کو یہی کہیں گے کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔ یہ یقین اس لئے قائم تھا کہ آپ کی زندگی جو زندگی اس یہودی کے سامنے تھی اس سے یہی ثابت ہو اتھا اور آپ کا یہ حسن خلق اس کو پتہ تھا اور یہ حسنِ خلق آپ میں اس لئے تھا کہ وہ شرعی کتاب جو آپ پر اتری یعنی قرآن کریم اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو میں نے آیت پڑھی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو جواباً کہتے ہیں سلام۔ یعنی جھگڑے کو بڑھاتے نہیں بلکہ وہیں معاملہ نپٹا کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی جھگڑا کرنے کی کوشش بھی کرے تو اس کو آگے نہیں بڑھنے دیتے۔ جاہلوں کی طرح ذرا ذرا سی بات پر سالو ں جنگیں لڑنے کی ان کو عادت نہیں ہے۔ تو یہ ہے وہ حسن خلق جو آنحضرتﷺ میں تھا اور جو آپ اپنی امت میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔

(خطبہ جمعہ 2؍ جنوری 2004ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 فروری 2021