• 27 فروری, 2021

مَئے عِشق خدا میں سخت مخمور رہتا ہوں

مَئے عِشق خدا میں سخت مخمور رہتا ہوں
یہ ایسا نشّہ ہے جس میں کہ ہر دم چُور رہتا ہُوں
وُہ ہے مجھ میں نہاں غیروں سے پردہ ہے اسے لازم
تبھی تو چشمِ بد بیناں سے میں مستور رہتا ہُوں
قیامت ہے کہ وصلِ یار میں بھی رنجِ فرقت ہے
میں اِس کے پاس رہ کر بھی ہمیشہ دُور رہتا ہوں
لیا کیوں ورثۂ پدری وفاداری نہ کیوں چھوڑی
نگاہِ دوستاں میں مَیں تبھی مقہُور رہتا ہُوں
مجھے اس کی نہیں پروا کوئی ناراض ہو بیشک
میں غدّاری کی سرحد سے بہت ہی دُور رہتا ہُوں
مجھے فکرِ معاش و پوشش و خور کا الَم کیوں ہو
میں عشقِ حضرتِ یزداں میں جب مخمور رہتا ہُوں
تڑپ ہے دین کی مجھ کو اُسے دُنیا کی لالچ ہے
مخالف پر ہمیشہ مَیں تبھی منصور رہتا ہُوں
اُسے ہے قوم کا غم اور مَیں دنیا سے بچتا ہُوں
میں اب اس دل کے ہاتھوں سے بہت مجبور رہتا ہُوں

(اخبار بدر جلد 8۔ 08؍جولائی 1909ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 فروری 2021