• 27 فروری, 2021

لائبیریا میں نصرت جہاں (آگے بڑھو) سکیم کے تحت خدمت کی توفیق پانے والے مرحومین کا ذکر خیر

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے 1970ء میں جن ممالک کا دورہ فرمایا ان خوش نصیب ممالک میں لائبیریا بھی شامل تھا۔ دورہ کے بعد افریقہ کے لئے طبی اور تعلیمی میدان میں جو سرعت پیدا ہوئی اور ترقی کی راہیں کھلیں ان سے فائدہ اور برکت پانے والے ممالک میں لائبیریا بھی شامل ہے۔

نصرت جہاں سکیم کے بعد اب تک لائبیریا میں 4 طبی ادارے اور 4 تعلیمی ادارے قائم ہو چکے ہیں۔ ان ادارہ جات میں خدمت کی توفیق پانے والے جوواقفین وفات پا چکے ہیں ان کے ذکر خیر اور درجات کی بلندی کی درخواست کی غرض سے ان کا اس مضمون میں ذکر کیا جا رہا ہے۔

مکرم سردار رفیق احمد صاحب

آپ مکرم سردار ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کے ہاں 20فروری 1939ء کو کینیا میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم کینیا سے حاصل کی۔ا ٓپ نے Teachers Training Certificate نیروبی سے 1960ءمیں حاصل کیا۔ 1961ء تا 1967ء گورنمنٹ سکول نیروبی میں بطور استاد خدمت کی توفیق پائی اور بی اے 1970ء میں پرائیوٹ طور پر کیا ۔ آپ نے 1971ء میں سینٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے بی ایڈ کا امتحان پاس کیا نیز 1972ء میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے ایم اے عربی کیا۔

1973ء میں آپ مجلس نصرت جہاں کے تحت وقف کر کے لائیبریا گئے۔ آپ نے لمبا عرصہ پرنسپل نصرت جہاں احمدیہ ہائی سکول سانوئے ،لائیبریا کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔آ پ طالبعلموں کو حساب، جغرافیہ، سائنس، عربی اور آرٹ کے مضامین کے ساتھ ساتھ دینی وتربیتی تعلیم سے بھی روشنا س کرواتے ۔لائیبریا میں بہت ہی نامساعد حالات کے باوجود بہت تگ ودو سے پرنسپل کوارٹر تعمیر کروایا جس کا افتتاح مکرم سردار ڈاکٹر نذیر احمد صاحب نے دعاکے ساتھ کیا۔

ایک لائیبرین امام الصلوٰۃ سانوے تشریف لائے اور آپکو وفات مسیح ،صداقت مسیح موعودؑاور معراج النبی ﷺ پر چیلنج دیا۔ تاریخ 21ستمبر 1979ء مقرر ہوئی۔ منروویا سے مکرم مشنری انچارج صاحب مع وفد تشریف لائے مگر چیلنج دینے والا مقابلے کے لئے میدان سے غیر حاضر رہا۔

؎آزمائش کیلئے کوئی نہ آیا ہر چند
ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے

آپ نے مؤرخہ 20اکتوبر 1979ء کو سانوئے سے تقریبا 3 میل کے فاصلہ پر واقع ایک گاؤں میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ۔اس مبارک موقع پر سات بیعتیں بھی ہوئیں ۔

براعظم افریقہ میں بہت سی مشکلات کے باوجود مرکز سے وہاں بھجوائے گئے واقفین ہر طرح کی قربانی کرتے ہوئے خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔دوسری طرف ایسے لوگ جو راہ کی مشکلات برداشت نہیں کرسکتے وہ بمشکل وہاں قدم جما پاتے ہیں ۔اس کی ایک مثال آپ کے اس خط سےظاہر ہوتی ہے جو آپ نے 31 مئی 1977ء کو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کی خدمت اقدس میں لکھا ۔

آپ لکھتے ہیں :
’’اس ماہ ایک غیر احمدی پاکستانی بھائی جو لائیبریا ملازمت کی غرض سے تشریف لائے تھے، سانوے مولوی صاحب کے ساتھ تشریف لائے اور ہمارے کام کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے ۔ یہ پاکستانی بھائی سانگلہ ہل کے رہنے والے ہیں اور چند ہفتے لائیبریا قیام کے بعد پاکستان اس لئے چلے گئے کہ یہاں انکو لسی ،پکوڑے ،گندلوں کا ساگ،چوسنے والے آم اور دیگر پاکستانی خوراک و آب وہوا اور ماحول وغیرہ نہیں ملتے ۔جبکہ ہم پاکستان کی ہر چیز ہی بھول چکے ہیں سوائے اس کے کہ ایمان کی تازگی، خلیفۃ المسیح کا پیار اور دسمبر کا مہینہ یاد آتا ہے۔‘‘

ہم اور وہ کتنے مختلف ہیں فرق صاف ظاہر ہے۔

مکرم ڈاکٹر احمد خان صاحب

ڈاکٹر صاحب موصوف محمد خان صاحب کے ہاں 14 جنوری 1960ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق گوٹھ غلام محمد میر پور خاص سندھ سے تھا۔

1976ء میں آپ نے BISE حیدر آباد سے میٹرک اور پھر 1978ء میں F.Sc کا امتحان پاس کیا۔ اسی طرح لیاقت میڈیکل کالج حیدرآباد سندھ (LMUHS) جامشورہ سے 1987ء میں ایم بی بی ایس کیا اور 1986ء تا 1987ء لیاقت میڈیکل یونیورسٹی اینڈ ہسپتال میں ہی ہاؤس جاب مکمل کیا۔

آپ نے 27 سال محکمہ صحت میں مختلف حیثیتوں میں کام کیا۔ تعلقہ ہسپتال میرپورخاص میں1987ء تا 1995ء بطور میڈیکل آفیسر، 1995ء تا 2003ء سینیئر میڈیکل آفیسراور پھر 2003ء تا مئی 2013ء دس سال ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHQ Health Officer) رہے۔ 25 سال سرکاری سروس مکمل ہونے پر ریٹائر منٹ حاصل کی۔

وقف سے قبل ڈاکٹر صاحب کو بطور سیکرٹری امور خارجہ مقامی و ضلع خدمت کی توفیق ملی۔ علاقہ میں باثر طبقہ سے اچھے اور قریبی روابط تھے اور ان کی رائے کو ان حلقوں میں خصوصی اہمیت دی جاتی تھی۔

مکرم ڈاکٹر عبد المنان صاحب کی شہادت کے بعدمکرم ڈاکٹر صاحب نے المہدی ہسپتال مٹھی میں ایک سال تک وقفِ عارضی کی توفیق پائی۔ اس طرح آپ کواس ہسپتال میں وقفِ عارضی کرنے والے پہلے ڈاکٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

مکرم ڈاکٹر صاحب موصوف نے وقف بعد از ریٹائرمنٹ کی تحریک میں حصہ لیتے ہوئے 30 مئی 2013ء کو وقف کیا۔ آپ 14 اگست 2015ء کو مع فیملی روانہ ہوئے اور 16 اگست 2015ء کو منروویالائبیریا پہنچے۔

آپ کی محنت اور دعاؤں سے ہسپتال کی تعمیرو ترقی اور رجسٹریشن کے مراحل جلدی طے ہوئے اورہسپتال کا باقاعدہ افتتاح 16 جنوری 2016ء کو ہوا۔

آپ نے آغاز سے ہی محنت اور ہمت سے کام سنبھالا۔ آپ اکثر کہتے تھے کہ ’’ہم سنا کرتے تھے کہ شفاء آسمانوں سے نازل ہوتی ہے۔ اب وقف کی برکات کی و جہ سے ہم روز اس کے نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔‘‘

مکرم ڈاکٹر صاحب کو دوران خدمت 19 ستمبر 2018ء کو ہارٹ اٹیک ہوا۔ بعدازاں آپ کوآئیوری کوسٹ لے جایا گیا اور 22 ستمبر 2018ء کو آپ وفات پا گئے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی اجازت سے آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ دار الفضل میں ہوئی۔ مکرم ڈاکٹر صاحب ایک بار بہشتی مقبرہ دارالفضل ربوہ میں دعا کی غرض سے گئے اور اس خدشہ کا اظہار کیاکہ ہماری باری آنے تک یہ مقبرہ بھر چکا ہوگا اور ہم یہاں دفن ہونے سے محروم ہو جائیں گے ۔مکرم ڈاکٹر صاحب کی حسرت بھری اس خواہش کواللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور انہیں اس مقبرہ میں دفن ہونے کا موقع مل گیا۔

آپ نے پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔ مرحوم نے نہ صرف خود وقف کیا بلکہ اس کی روح اپنےبیوی بچوں میں بھی پیدا کی۔ اسی وجہ سے ان کے ساتھ ان کی اہلیہ محترمہ شیریں صاحبہ کو بھی اسی ہسپتال میں کام کی توفیق ملی جو میٹرنٹی وارڈ کی انچارج کے طور پر کام کرتی رہیں نیز کچھ عرصہ بیٹے مکرم ریحان احمد صاحب کوبھی رضاکارانہ طور پر ہسپتال میں انتظامی خدمات بجالانے کی توفیق نصیب ہوئی۔

بعض دفعہ ان کے ہسپتال میں ایسے مریض بھی لائے گئے جنہیں بڑے اور اچھے اچھے ہسپتال جواب دے چکے ہوتے تھے۔ ایسے مواقع پر بعض دفعہ ان کا سٹاف مکرم ڈاکٹر صاحب کو یہ مریض کسی دوسرے ہسپتال میں ریفر کرنے کا مشورہ دیتا ۔ مگر موصوف کہتے کہ مریض یہاں آیا ہے تو اس میں بھی کوئی نہ کوئی حکمت ہوگی۔ ایسے مریضوں کے لئے خاص دعا کرتے اور ایلوپیتھک علاج کے ساتھ ساتھ ہومیو پیتھک کا طریقۂ علاج بھی استعمال میں لاتے اور حضور انور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو دعا کے لئے لکھتے۔

ایک دفعہ ایک ایسے ہی مریض کو ان کے ہسپتال میں لایا گیا جسے اس کے لواحقین بھی ہسپتال میں چھوڑ کر غائب ہو گئے باقی ہسپتالوں کی نسبت یہاں فرق صرف دعا کا تھا جس میں انہوں نے کمی نہ آنے دی اور معجزانہ شفاء کا ظہور ہوا۔

تین سال کے مختصر عرصہ میں مکرم ڈاکٹر صاحب نے اپنی محنت، مہمان نوازی، اخلاص، ہمدردی کی وجہ سے نہایت اچھی شہرت پائی اورا ن کی وفات پر مقامی لوگ بھی غمگین اور افسردہ تھے۔

لائبیریا سے فون پر مکرم منصور احمد ناصر صاحب پرنسپل شاہ تاج سکول کہتے ہیں کہ ان کے مریض دھاڑیں مار مار کررو رہے ہیں اور ان کے محبت و شفقت کے قصے سنا رہے ہیں۔ ہسپتال میں خدمت کے علاوہ مکرم ڈاکٹرصاحب اتوار کے روز وفد لے کر تبلیغ کے لئے نکل جاتے تھے اور دن بھر یہ کام کرتے۔ مرحوم اکثر کہا کرتے تھے کہ زندگی کا مزہ تو اب وقف میں آیا ہے۔ پہلی زندگی تو گویا دنیا داری میں ہی ضائع کر دی۔ طبیعت میں حد درجہ عاجزی اور انکساری تھی۔دعاؤں پر بہت بھروسہ تھا اور بظاہر لاعلاج مریض بھی قبول کر لیتے تھے جو شفایاب ہو کر جاتے۔

مکرم ڈاکٹر طاہر احمد مرزا صاحب

آپ مکرم ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب کے ہاں 21 اگست 1970ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق چک جمال تحصیل و ضلع جہلم سے تھا۔

ابتدائی تعلیم ایف جی سکول جہلم سے اور ایف ایس سی گورنمنٹ ڈگری کالج راولپنڈی سے حاصل کی ۔ آپ نے ڈپلومہ آف ایم ڈی میڈیکل یونیورسٹی بیلا روس سے کیا۔ آپ 6 اگست 2006ء کو لائبیریا پہنچ گئے اور بڑی جان فشانی اور ذاتی لگن سے 25جون 2007ء ٹب مین برگ کے احمدیہ ہسپتال کا آغاز کیا اور اس کے بانی ڈاکٹر ہونے کا اعزاز پایا۔ اپنے ذاتی حالات کی وجہ سے 11فروری 2010ء کو لائبیریا میں 4 سال گزار کر واپس پاکستان تشریف لے آئے اور حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت سے وقف کا بقیہ ایک سال طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں پورا کیا۔

مکرم ڈاکٹر صاحب کی خدمات کے اعتراف میں ویسٹ افریقن میڈیا نیٹ ورک نے انہیں Outstanding Medical Doctor of the year 2009 کا سرٹیفکیٹ دیا۔لا ئبیریا کے عوام اور سوسائٹی میں حفظان صحت کے اصولوں کی ترویج اور دن رات ہسپتال میں حاضر رہ کر طبی امداد مہیا کرنے کو خوب سراہا گیا۔

لائبیریا کے ایک معروف اخبار ’’Africa Watch‘‘ کے شمارہ 16 اپریل 2010ء کی اشاعت میں مکرم ڈاکٹر صاحب کی تصویر کے ساتھ نہایت اچھے الفاظ میں جماعت احمدیہ کی طبی اور تعلیمی میدان میں خدمات کا اعتراف کیا۔

2012ء میں دورانِ خدمت ہی پیٹ کی غدودوں کا کینسر تشخیص ہوا۔ ایک عرصہ زیرِ علاج رہے اور 2016ء میں 45 سال کی عمر میں وفات پا گئے ۔

موصوف احمدیہ کلینک ٹب مین برگ کے بانی ڈاکٹر تھے۔ مشکل حالات میں بھی صبر اور ہمت سے وقت گزارا۔ آپ سادہ طبیعت کے مالک، ہر وقت مسکرانے والے، اطاعت گزار، نیک کاموں میں تعاون کرنے والے، انتہائی شفیق، دعا گو اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے تھے۔ انکی اہلیہ محترمہ شمائلہ طاہرصاحبہ نے بھی مشکل حالات میں انکا ساتھ دیا اور شانہ بشانہ خدمت بجالاتی رہیں ۔

اللہ تعالیٰ میدان عمل میں مصروف ہمارے تمام مخلصین کو مقبول خدمت دین کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے اور مرحومین کی نسل کو ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

(از ابن منور)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 فروری 2021