• 27 فروری, 2021

رپورٹ انگلش کلاسز اکتوبر تا دسمبر 2020ء۔ سپین

معاشرے میں رواداری کی مثال قائم کرنا اور معاشرے میں مثبت تعمیری کردار ادا کرنا ہمیشہ سے جماعت احمدیہ کا طرّہ ٔ امتیاز رہا ہے۔ ایسا ہی موقع گزشتہ دنوں جماعت احمدیہ سپین کو میسر آیا۔

مقامی میئر سے ایک ملاقات کے دوران مکرم امیر صاحب اور نیشنل سیکرٹری صاحب تبلیغ نے تعلیم بالغان کے سلسلہ میں انگلش کلاسز کے انعقاد کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

چنانچہ ان کلاسز کے لئے مکرم نیشنل سیکرٹری تبلیغ صاحب ، مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ سپین، پیدروآباد کی میئر اور رواداری اور مساوات کی مشیر نے معاملات طے کئے۔ کلاس کا طریق کار، کورس اور کلاسز کا دورانیہ وغیرہ طے کیا گیا۔

ان کلاسز کے حوالے سے طے پایا کہ کلاس مسجد بشارت کے احاطہ میں موجود کانفرنس ہال میں منعقد ہوا کرے گی۔ ہفتہ میں دو دن اور دو گھنٹہ کی کلاس ہوا کرے گی۔ ایک دن ٹیچرز آن لائن پڑھائیں گے جبکہ ایک دن بالمشافہ پڑھایا جائے گا۔

اس کلاس کے لئے حالات کے حوالے سے طے پایا کہ 15 سے زیادہ لوگوں کو ایک وقت میں شامل نہ کیا جائے۔ جبکہ کلاس کے لئے17 سے زائد لوگوں نے رجسٹر کیا۔ لیکن بعد ازاں بعض اپنے کام یا دیگر مصروفیات کے باعث کلاس جاری نہ رکھ سکے۔ اور آخر کار صرف11 افراد ہی باقاعدہ کلاس میں شامل ہوئےاور امتحان دینے کے اہل قرار پائے۔ ان میں سے بھی ایک اپنی مجبوری کی بناء پر امتحان میں شامل نہیں ہو سکے۔

ان کلاسز کے لئے درج ذیل احباب و خواتین کو تدریس کے فرائض سرانجام دینے کی توفیق ملی۔

مکرمہ طاہرہ الٰہی شمیم صاحبہ ٹیچر (کوآرڈینیٹر کلاس)
مکرم عبد السلام چارلس صاحب ٹیچر
مکرم طارق عطاء المنعم ٹیچر (نگران لاجسٹکس)
مکرم ظفر رشید صاحب ٹیچر

پہلی کلاس 6 اکتوبر 2020ءبروز منگل منعقد ہوئی ۔ جبکہ آخری کلاس 10 دسمبر 2020ء بروز جمعرات منعقد ہوئی ۔ مؤرخہ 15 دسمبر 2020ء بروز منگل امتحان لیا گیا اور 17 اکتوبر کو تقریب تقسیم اسناد منعقد ہوئی۔
کلاس کے آغاز سے قبل ایک مختصر تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف، اور یہاں کے باشندوں کے لئے جماعت کی ہر طرح کی خدمت اورتعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ میئر کی طرف سے نمائندہ اور مشیر رواداری و مساوات نے شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد ریفریشمنٹ پیش کی گئی اور پھر کلاس کا آغاز ہوا۔

مکرم عبد السلام چارلس صاحب ایک ایکسیڈنٹ کی وجہ سے زخمی ہوجانے کے باعث کلاسز کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے ۔ لہٰذا ان کی جگہ آن لائن کلاسز مکرمہ طاہرہ الٰہی شمیم صاحبہ نے ہی لیں۔

اس کورس میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایلیمنٹری کورس کی کتاب، ورک بُک اور دیگر مواد سے مدد لی گئی۔ چونکہ کلاس کا دورانیہ ہفتہ میں صرف دو دن اور دو گھنٹے کے لئے تھا۔ نیز طلباء کی اکثریت بڑی عمر کے افراد پر مشتمل تھی۔ جنہیں انگلش زبان سے بہت کم آشنائی تھی یا بالکل نہیں تھی۔ اس وجہ سے کلاس کی رفتار کافی سست رہی اور اس تین ماہ کے عرصہ میں قریبا ًنصف کتاب ہی پڑھائی جا سکی۔ لیکن طلباء نے باوجود مشکل کے محنت کی، چنانچہ دس طلباء جو امتحان میں شامل ہوئے ان میں سے 8 امتحان میں پاس ہوئے۔

کلاس میں وقفہ کے دوران طلباء کے لئے ریفریشمنٹ کا انتظام کیا جاتا رہا۔

کلاس سے قبل اور کلاس کے دوران ایک مرتبہ تمام ٹیچرز کی میٹنگ ہوئی جس میں کلاس کے متعلقہ معاملات اور طلباء کے مسائل پر بات چیت ہوئی۔ نیز ہر ہفتہ کا ٹیچنگ پلان ای میل کے ذریعہ سب ٹیچرز کو بھجوایا جاتا رہا اور فالواَپ کیا جاتا رہا۔

کلاس کے اختتام پر جیسا کہ ذکر ہوا تقریب تقسیم اسناد منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں پیدرو آباد کی میئر، مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ سپین اور مکرم نیشنل سیکرٹری صاحب تبلیغ (آن لائن) شامل ہوئے۔ تقریب سے قبل ناشتہ کا انتظام تھا۔ اس کے بعد باقاعدہ تقریب کا آغاز ہوا۔

سب سے پہلے مکرم نیشنل سیکرٹری صاحب تبلیغ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اور اس امر کا اعادہ کیا کہ جماعت ہمیشہ ہر رنگ میں معاشرے کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ انہوں نے میئر کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ آئندہ بھی میئر کے تعاون سے ایسے پروگراموں کا انعقاد جاری رہے گا۔عربی کیلیگرافی، عرب زبان وغیرہ کے حوالے سے بھی اگر آپ لوگ شوق رکھتے ہیں تو ان کی کلاسز بھی شروع کی جا سکتی ہیں۔

میئر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرصہ سے اس بات کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ انگلش زبان کے حوالےسے ٹاؤن ہال کوئی پروگرام یا کلاس وغیرہ منعقد کرے۔ لیکن بعض وجوہات کی بناء پر یہ التواء میں جا رہا تھا۔ پھر انہوں نے امیر صاحب کی تجویز اور فراخدلانہ پیش کش کا ذکر کیا کہ مسجد کے احاطہ میں اس کانفرنس ہال میں جہاں اس وقت بھی ہم موجود ہیں کلاسز کا آغاز کیا جا سکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے یہ مسجد یہاں بنی ہے، ہر موقع پر جماعت اور جماعت کے افراد نے ہمیشہ ہی تعاون کیا ہے اور ہمیشہ ہی یہاں آکر اپنائیت کا احساس ہوتاہے۔ انہوں نے مکرم امیر صاحب کے حوالےسے کہا کہ رزاق صاحب نے بھی ہمیشہ ہی ہمیں تعاون کا یقین دلایا ہے اور اس بات کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ جب بھی گاؤں کےباسی یہاں آنا چاہیں یہاں آسکتے ہیں اور ہم ہمیشہ ہی ہر ممکن تعاون کرتے رہیں گے۔

مکرم امیر صاحب نے بات کا آغاز میئر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا اورکہا کہ یہ مسجد ہے ہی آپ لوگوں کے لئے۔ اس کلاس کے علاوہ بھی جب بھی آپ چاہیں ، انگلش کے حوالے سے یا اور بھی کسی حوالے سے کوئی رہنمائی چاہیئے ہو، یا مسجد وزٹ کرنا چاہتے ہوں تو آپ کسی بھی وقت یہاں آسکتے ہیں۔ ہم اور یہ مسجد ہمیشہ آپ لوگوں کے لئے یہاں موجود ہیں۔یہاں لائبریری بھی ہے۔ آپ لوگ جب چاہیں یہاں آ سکتے ہیں۔ آپ آئیں، اپنی فیملی کے ساتھ آئیں۔ ہم ہمیشہ اس حوالے سے کوشش کرتے رہیں گے کہ ہم گاؤں اور اس کے لوگوں کی خدمت کر سکیں۔ہم یہاں انسانیت کی خدمت کے لئےہیں۔ انسانیت سب سے پہلے ہے، باقی چیزیں اس کے بعد آتی ہیں۔

مشیر رواداری اور مساوات نے کہا کہ یہ کلاس اور مسجد کے احاطہ میں اس کا انعقاد ایک نیا اور خوشگوار تجربہ تھا۔ تمام لوگ ہی بہت تعاون کرنے والے اور بہت محبت سے پیش آنے والے تھے۔ اس سے بہت حوصلہ افزائی ہوئی۔ نیز کہا کہ بہت سے طلباء ابھی سے یہ جاننا چاہتے ہیں اور شوق رکھتے ہیں کہ کب اگلا کورس یا اسی کلاس کا تسلسل شروع ہوگا۔ اور کب وہ دوبارہ کلاس میں شامل ہو سکیں گے۔

ایک طالبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کو باہر سے کافی دفعہ دیکھا ہوا تھا۔ گاؤں میں رہنے کے باوجود کبھی ایسا خیال نہیں آیا کہ اندر جایا جائے یا دیکھا جائے۔ لیکن اس کلاس کی بدولت نہ صرف انگلش سیکھنے کا موقع ملا بلکہ مسجد دیکھنےاور آپ لوگوں سے ملنے کا بھی موقع ملا اوریہ میرے لئے بہت یادگار ہے۔ میرے بہت سے جاننے والے جن کو اس کلاس کے بارے میں اب پتہ چلا ہے، اظہار افسوس کر رہے ہیں کہ وہ اس اچھے موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

اسی طرح ایک اور طالبہ نے کہا کہ گو آخری کچھ کلاسوں میں وہ شامل نہیں ہو سکیں مگر یہاں آنا اور کلاس میں شامل ہونا ایک بہت اچھا تجربہ تھا۔ مجھے بہت اشتیاق ہے کہ دوبارہ کلاسیں ہوں اور میں ان میں شامل ہو سکوں۔ نیز کہا کہ گو کہ مسجد ایک لمبے عرصے سے موجود ہے،مگرخیال تھا کہ یہ شاید بس ان لوگوں (مسلمانوں) کی ہےاور صرف ان کے لئے ہی ہے۔ مگر یہاں آنا، اس کلاس میں شامل ہونا اور مسجد کے افراد سے ملنابہت اچھا لگا۔

ایک طالب علم نے کہا کہ جس طرح یہاں پڑھایا گیا محبت اور پیار کے ساتھ اور جس رفتار سے کلاسز کو چلایا گیا وہ بہت زیادہ مددگار ثابت ہوا اور ہمیں سیکھنے کا حوصلہ پیدا ہوتا گیا۔ جس طرح یہاں اساتذہ نے پڑھایا ہے ، اس طرح شاید کسی اور جگہ نہیں پڑھ سکتے تھے۔

ٹاؤن ہال کی رواداری اور مساوات کی مشیر نے پیدروآباد کی میئر اور مکرم امیر صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے تعاون سے یہ موقع لوگوں کو ملا زبان سیکھنے کا، اور امید ہے کہ آئندہ بھی ایسے مواقع پیدا ہوتے رہیں گے۔

مکرم امیر صاحب نے اس کے بعد طلباء میں اسناد تقسیم کیں۔ اسناد تین کیٹیگریز میں تقسیم کی گئیں۔ وہ افراد جنہوں نے رجسٹریشن کرائی تھی مگر کلاس میں شامل نہیں ہوئے۔ دوسرے وہ جنہوں نے کلاسز لیں، مگر پاس نہیں ہو سکے، یا جتنی حاضری کلاس کے لئے ضروری تھی وہ پوری نہیں کر سکے۔ تیسرے وہ جنہوںنے کلاسز کے ساتھ ساتھ امتحان بھی پاس کیا۔

آخر پر مکرم امیر صاحب نے کہا کہ ان شاء اللہ آئندہ بھی ایسے پروگرامز ٹاؤن ہال اور میئر کے تعاون سے جاری رہیں گے، آپ لوگ بھی اس حوالے سے تجاویز دے سکتے ہیں اگر انگلش کے علاوہ بھی کورس کرنا چاہتے ہوں۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ آپ لوگ اب جو سیکھا ہے اس کی پریکٹس کرتے رہیں۔ ریڈیو سنیں، پروگرام سنیں۔ اس کے ساتھ ہی اگر آپ کو کسی بھی مدد کی ضرورت ہو تو آپ کسی بھی وقت مسجد آ سکتے ہیں۔ آپ کا، میئر صاحبہ کا، اساتذہ کا، اور دیگر مدد کرنے والوں کا سب کا شکریہ۔

آخر پر جماعت کے تعارف کی ویڈیو بھی سب کو دکھائی گئی۔ جس کے بعد ریفریشمنٹ پیش کی گئی جس کا انتظام ٹاؤن ہال کی طرف سے کیا گیا تھا۔

(رپورٹ:ظفر رشید مربی سلسلہ مسجد بشارت قرطبہ ، سپین)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 فروری 2021