• 21 مئی, 2022

سفر کی متلی وجوہات اور علاج

سفر چاہے کتنا ہی سہانا اور سواری چاہے کتنی ہی اچھی ہو لیکن اگر آپ کو دوران سفر متلی ہوتی ہے تو سفر کا سارا سواد جاتا رہتا ہے۔ اس تکلیف کا شکار ہر تین میں سے ایک فرد ہوتا ہے باقی دو فرد اس کیفیت کا شکار کیوں نہیں سردست ایک معمہ ہے۔ ان میں بھی زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہوتی ہے۔ بچوں میں 12 سال سے کم عمر بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت جسے motion sickness کہاجاتا ہے وقت کے ساتھ خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن جب تک اس تکلیف سے جان نا چھوٹ جائے یہ اپنے علاوہ دوسروں کو بھی دوران سفر ناگواری میں مبتلاء کئے رکھتی ہے۔

وجوہات

اس کی سب بڑی وجہ ہمارے اندرونی کان میں موجود توازن رکھنے کا نظام ہے۔ جب ہم گاڑی، ہوائی جہاز یا کشتی میں سفر کر رہے ہوتے ہیں تو ہمارے اندرونی کان میں موجود توازن رکھنے کا نظام، ہمارے جوڑ اور پٹھے گاڑی کے رکنے، چلنے، اوپر، نیچے اور تیزی سے مڑنے کی وجہ سے مسلسل دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں کہ ہمارا جسم حرکت میں ہے۔ وہیں ہماری آنکھیں گاڑی اور گاڑی کی نشستوں اور ہمارے جسم کو ساکن دیکھ کر دماغ کو جسم کے ساکن ہونے کے پیغام بھیج رہی ہوتی ہیں۔ تواتر سے ملنے والے ان متضاد پیغامات کی بدولت دماغ کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا اور متلی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

سفر کے دوران متلی کی ایک اور وجہ پیٹرول اور ڈیزل کی ناگوار بو بھی ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل میں بیسیوں کیمیکل موجود ہوتے ہیں۔ جن میں ٹولیون، ایتھائل، بینزین اور زائلین وغیرہ شامل ہیں۔ پیٹرول بہت کثیف مائع ہے جو آسانی سے ہوا میں تحلیل ہو کر سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو جاتا ہے جو متلی اور سردرد کی وجہ بنتا ہے۔ اسی طرح دھوئیں میں موجود مونو آکسائیڈ کی سانس لینے میں دشواری، گلے اور آنکھوں میں سوزش، متلی اور قے ہونا، نیز سردرد اور چکر آنے کا سبب بنتا ہے۔

سدباب اور علاج

یہ بیماری وقت کے ساتھ ساتھ بالکل ختم یا کم ہو جاتی ہے۔ چند ایک احتیاطی تدابیر سے اس تکلیف دہ کیفیت پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ دوران سفر مسلسل کچھ چباتے رہیں جیسا کہ چیونگم وغیرہ۔ جبڑے کی یہ حرکت اندرونی کان کے توازن کے نظام کو اس طرح متحرک اور مصروف رکھتی ہے کہ دماغ کو متضاد سگنل نہیں ملتے۔ نتیجتاً متلی کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ بند گاڑی میں متلی ہونے کے زیادہ امکان ہوتے ہیں۔ کوشش کریں کہ کھڑی والی سیٹ پر بیٹھیں اور تازہ ہوا میں گہرے سانس لیں۔ گاڑی میں ایسی پوزیشن میں بیٹھیں کہ آنکھیں وہی حرکت دیکھیں جو جسم اور اندرونی کان محسوس کرے۔ اس لیے کوشش کریں کہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھیں اور دائیں بائیں دیکھنے کے بجائے سامنے دیکھیں۔ سامنے کا منظر دائیں، بائیں کی نسبت کم حرکت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جس سے دماغ کو جسم کے اور منظر کے ساکن ہونے کے سگنل ایک ساتھ ملتے ہیں نتیجتاً متلی کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ اس کیفیت سے دوچار لوگ بالعموم کھانا کھائے بغیر سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسا بالکل بھی نہیں کرنا چاہئے۔ خالی پیٹ سفر کرنا اس مرض میں کمی کی بجائے زیادتی کا سبب بنتا ہے۔ البتہ مرغن اور بہت زیادہ تیل میں بنی ہوئی چیزیں کھا کر سفر نہ کریں اور نا ہی دوران سفر تلی ہوئی چیزیں کھائیں بلکہ زود ہضم غذا لیں۔ دوران سفر کچھ پڑھنے اور موبائل پر ٹیکسٹ کرنے سے گریز کریں۔ البتہ موبائل پر یا گاڑی میں نظم یا تلاوت سنتے رہیں۔ اس سے اندرونی کان میں موجود توازن کا نظام دماغ کو درست معلومات فراہم کرتا ہے۔ گردن گھما کر دائیں بائیں دیکھنے کی بجائے سامنے دیکھیں یا نشست سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔ اگر سو جائیں تو یہ سب سے بہتر ہے۔ ایسی نشست پر بیٹھنے سے گریز کریں جس میں آپ کا رخ گاڑی کی حرکت کے مخالف سمت ہو۔ نوٹ کریں کہ کس پوزیشن میں بیٹھے ہوئے متلی کی کیفیت زیادہ ہوتی ہے اور اس پوزیشن میں بیٹھنے سے گریز کریں۔

علاج

سفر کے دوران اگر متلی ہوتی ہو تو Ipicachua 30سفر پر جانے سے پہلے ایک خوراک لے لیں۔ دوران سفر پیٹرول ڈیزل کی بو متلی، چکر، الٹی یا سردرد کا باعث بنے تو Petrolium 30 مفید ہے۔ متلی اور چکر آنے کی کیفیت گاڑی کی حرکت وجہ سے ہو تو Caculus 30 کے استعمال سے افاقہ ہوگا۔ اس کے علاوہ نکس وامیکا، برائیونیا، کالچیم وغیرہ حسب علامات اپنے ہومیوپیتھ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر اور ادویات سے کافی حد تک اس تکلیف دہ کیفیت سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ الٹی آنا جسم کا ایک مفید دفاعی نظام ہے لیکن دوران سفر ایسا کیوں ہوتا ہے اور ہر تین میں سے ایک فرد ہی کیوں اس کا شکار ہوتا ہے۔ اور مردوں کی نسبت خواتین میں یہ مسئلہ کیوں زیادہ ہے۔؟ میڈیکل سائنس اس سوال کا حتمی جواب دینے سے قاصر ہے۔

(مدثر ظفر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 فروری 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ