• 25 جون, 2024

غلامان مسیح کے نام پیغام

غلامان مسیح کنڈی ہلاتے کیوں نہیں ہو
در نصرت کھلے گا کھٹکھٹاتے کیوں نہیں ہو

کیوں ظلم عدو پرچپ کئے حیران بیٹھے ہو
دعا کو ہاتھ اب اپنے اٹھاتے کیوں نہیں ہو

ملی ہے معجزہ بن کر جو مہدی کے غلاموں کو
وہ شمشیر دعا ان پر چلاتے کیوں نہیں ہو

تمہارا ایک آنسو نار نمرودی پہ کافی ہے
جھڑی اشکوں کی پلکوں سے لگاتے کیوں نہیں ہو

بتایا تم کو مرشد نے تمہارا ایک مولا ہے
یہ روداد ستم اس کو سناتے کیوں نہیں ہو

وہ کہتا ہے میں آتا ہو ں بلائے گر مجھے کو ئی
مدد کے واسطے اس کو بلاتے کیوں نہیں ہو

وہ ہاتھی ابرہہ کے ہیں سہی ہو گا مگر تم بھی
ابابیلان مہدی ہو بتاتے کیوں نہیں ہو

دعا کی دیر ہے نصرت اتر آئے گی خالق کی
اٹھو سجدے مصلوں پر سجاتے کیوں نہیں ہو

لکھے اشعار نجمہ نے یہ اس کے دل کی باتیں ہیں
ترنم سے سر محفل سناتے کیوں نہیں ہو

(کنیز بتول نجمہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 فروری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی