• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

جماعت احمدیہ کی روزافزوں ترقیات کی وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں

أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ

اللہ تعالیٰ سورۃ ابراہیم آیات 6 تا 8 میں حضرت موسیٰؑ کا قصہ بیان کرتےہوئے فرماتاہےکہ جب ہم نےموسیٰ کو اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا تو اسے حکم دیا وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ کہ انہیں اللہ کے دن یاد کرا۔ اور ساتھ ہی قوم کو ان نعمتوں کی یاددہانی کروا کر شکرِ الہٰی کی تلقین کی جو فرعون کے مظالم سے نجات میں ملی تھیں اور فرمایا لَئِن شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں (نعمتوں میں) بڑھاؤں گا۔

یہی سبق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ تمام روحانی ومذہبی قوموں، امتوں، گروہوں اور جماعتوں کو دیا ہے۔ جن میں ہم عالمگیر جماعت احمدیہ کےلوگ شامل ہیں۔ آج سے 131 سال قبل 23مارچ 1889ء کو حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اِذن پاکر اس موعود مسیح اور معہود مہدی کا اعلان فرمایا اور بیعت لینےکا آغاز فرمایا جس کی سیدنا حضرت محمد مجتبیٰ ﷺ نے آخری زمانہ میں آنےکی نشاندہی فرمائی تھی۔ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی تائیدو نصرت اس مردِ مجاہد کے ساتھ تھی تو دوسری طرف دشمنوں اور معاندین کی صفحۂ ہستی سے مٹا ڈالنے کی دھمکیاں تھیں کہ ہم تمہیں پھلنے پھولنے نہیں دیں گے، ہم قادیان کا نام ونشان مٹا ڈالیں گے، تمہاری آواز قادیان سےباہر نہ نکلنے دیں گے۔ جبکہ یہ موعود مسیح ومہدی ایسےسخت اور تیز مخالفت کی آندھیوں میں یہ اعلان کرتا نظر آتا ہے کہ

’’میں نامرادی کے ساتھ ہرگز قبر میں نہیں اُتروں گا کیونکہ میرا خدا میرے ہر قدم پر میرے ساتھ ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں‘‘ اورپھر اس جگہ فرمایا کہ میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔

اس حقیقت پر ہمارے آباءواجداد، ہم اور ہماری اولادیں گواہ ہیں کہ یہ سلسلہ 131 سال قبل ایک نفس سے شروع ہوا تھا۔ جو پہلے ہی دن 40 سے زائد مخلص افراد پر مشتمل ایک قافلہ کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ اب 131 سالوں کے قلیل عرصہ میں جو قوموں کی تاریخ میں آنکھ جھپکنے کے برابر بھی نہیں ہوتا کیا ایشیا، کیا یورپ، کیا آسٹریلیا، کیا وسط ایشیا، کیا عرب ممالک، کیا افریقہ اور کیا برّاعظم امریکہ میں بڑی سرعت سے پھیلتا اور اس ننھے مُنے درخت کی جڑوں کو زمین میں مضبوطی کے ساتھ پیوسط ہوتے اور شاخوں کو آسمانوں سے باتیں کرتے دیکھا۔ اور ہاں ہاں اس درخت کے شیریں اور مزیدار پھلوں سےدنیا کے کونےکونےمیں بسنےوالے لوگ فائدہ اٹھاتےاوراس کےپھلوں کےمزے سےلطف اندوز نظر آرہےہیں۔اورہرطرف سےیہ صدا بلند ہوتی سنائی دیتی ہے۔؂

اِسْمَعُوْا الصَّوْتَ السَّمَاء جَاءَ الْمَسِیْح جَاءَ الْمَسِیْح
نیز بشنو از زمیں آمد کامگار

اس دوران جماعت کی مخالفت عالمی حیثیت اختیار کر گئی۔ ملکوں، ملکوں اس ننھے سے پودے کو اپنے پاؤں تلے ملنےکی کوشش جاری رکھی اور ابھی بھی بعض جاری رکھے ہوئے ہیں۔ احمدیت پر ایمان لانے والوں کو جان سے مار کر شہید کیا گیا۔ ان کی جائیدادوں کو مالِ غنیمت سمجھ کر لوٹا گیا۔ ان کے مکانوں کو آگ لگاکر جلا دیا گیا۔ ان کو قرآنی حکم کےمطابق ایک جگہ سےدوسری جگہ ہجرت کرنی پڑی جو بابرکت ثابت ہوئی اورجماعت بہت تیزی کےساتھ دنیا میں پھیلی اور اپنی عالمی حیثیت اختیار کر گئی۔ سرکاری، نجی دفاتر، سیاست دانوں اور مذہبی دنیا میں اپنا ایک اثرورسوخ اختیار کر گئی۔ ان معاندین نے اس زمین پر احمدیوں کو ختم کرنے کا اعادہ کیا۔ ان کے راستے مسدود کرنے کی کوششیں کیں مگر اللہ تعالیٰ نے MTA کے ذریعہ آسمان کی بلندیوں سے پیغام کو دنیا بھر کے تمام ممالک تک پہنچایا۔ جن میں سے 212 ممالک تو ایسے ہیں جن میں جماعت احمدیہ کا پودا لگ چکا ہے اور اکثر میں افرادِ جماعت کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔ الحمدللّٰہ علیٰ ذٰلک

میں اس مختصرسےاداریہ میں 212ممالک میں سےصرف 2ممالک میں جماعت احمدیہ کی ترقیات اور اللہ تعالیٰ کےاحسانات کانقشہ مختصر طورپرپیش کرنا چاہتا ہوں۔ ان میں ایک تو برطانیہ ہے۔ گواس ملک میں احمدیت کاپیغام حضرت مسیح موعودؑ کے دَور میں پہنچ چکا تھا اور سفید پرندوں نے احمدیت کو قبول کرنا شروع کر دیا تھا مگر ترقی کی رفتاراتنی تیز نہ تھی۔

مکرم بشیر احمد رفیق سابق امام مسجدفضل لندن ایک جگہ لکھتے ہیں کہ
ہم دوہی یعنی میں اور حضرت سر چوہدری محمد ظفراللہ خان لمبے عرصہ نماز پڑھ لیا کرتے تھے مگر آج پورے برطانیہ میں مساجد اور مشن ہاؤسز کا ایک جال بچھ چکا ہے۔ احمدیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ لندن چلے جائیں، مسجد فضل، مسجد بیت الفتوح یا مسجد مبارک کے احاطہ میں داخل ہوجائیں تو آپ کو ہزاروں کی تعداد میں فدائی اور ایسے مخلص جواپنی زندگیوں کا ایک ایک لمحہ اسلام احمدیت کی خاطر قربان کرتے نظر آتے ہیں۔ ہر طرف اسلامی اصطلاحات الحمدللّٰہ، ماشاءاللّٰہ، ان شاء اللّٰہ، السلام علیکم، وعلیکم السلام کا استعمال ہوتا دکھلائی اورسنائی دیتا ہے۔ ہر فردِ جماعت کےاندرایک روحانی تبدیلی وترقی نظرآتی ہے۔ ہمارےقابلِ قدروقابلِ احترام امام حضرت مرزامسروراحمدخلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ وہاں موجودہیں۔جن کی امامت اوراطاعت میں نہ صرف برطانیہ بلکہ تمام دنیاکی جماعتیں منظّم ہوتی چلی جارہی ہیں۔

دوسری مثال میں براعظم افریقہ کےمغربی ممالک میں سے ایک چھوٹے سے ملک سیرالیون کی دینا چاہتاہوں جہاں مجھے کچھ عرصہ قبل بطور نمائندہ جاکر جلسہ سالانہ میں شمولیت، مساجد کے افتتاح اور ملک کے پانچوں صوبوں میں احمدیت کے پھیلاؤ کو دیکھنے کا موقع ملا۔ زبان الحمدللہ کے الفاظ سے تَر تھی اور دِل اپنے اس خدا کے آگے سجدہ ریز رہا جس نے اس زمانہ کے امام حضرت مرزاغلام احمدؑ کو بھیجا اورجس کی ایک آواز کو لاکھوں آوازوں میں تبدیل کیا۔ سیرالیون کی صرف 40لاکھ کی آبادی والے ملک میں احمدیوں کی تعداد 6لاکھ ہے۔ جن میں 2لاکھ فعال احمدی ہیں جو باقاعدہ چندہ کے نظام میں شامل ہیں۔ 1400 کے قریب مساجد ہیں جہاں روزانہ اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور اپنے اور غیربھی نمازیں ادا کرتےہیں۔ ملک میں سڑکوں کا خاطرخواہ انتظام نہ ہونے کے باوجود جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد 25ہزار سے زائد نفوس تک پہنچ چکی ہے۔سرکاری وغیرسرکاری دفاتر، سیاسی ومذہبی حلقوں میں جماعت اپنا ایک نام پیداکرچکی ہے۔ اس کا اپنا اثرورسوخ ہے اور 100سے زائد مرکزی ومقامی مبلغین و معلمین اعلائےکلمہ اسلام کے لئے سرگرم ہیں اورصرف امسال جلسہ سالانہ پربیعت کرنے والوں کی تعداد 180 تھی۔

یہی کیفیت کم وبیش دنیا کے ہرگوشےمیں دکھائی دیتی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے تو گو اپنی جسمانی و مادی اولاد کی بڑھوتی کیلئے یہ دعا کی تھی کہ

اک سے ہزار ہوویں بابرگ و بار ہوویں

آج یہ دعا ہر دو پہلوؤں یعنی جسمانی وروحانی اولاد کی صورت میں پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

جماعت احمدیہ کےاس پھیلاؤ اور ترقی کے تناظر میں ہمارا یہ اوّلین فرض بنتا ہےکہ ہم اپنےخدائے واحد عزّوجل کے فرمانبردار اور شکرگزار بندے بن جائیں اور اپنی اولادوں میں بھی یہ پیغام کوٹ کوٹ کربھر دیں کہ لَئِن شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ کہ اگرتم اپنے شکرگزاری کے پیمانے بڑھاؤ گے تو میں تمہیں ضرور مزید دیتاچلا جاؤں گا اس مضمون کو اللہ تبارک وتعالیٰ نےمتعدد مقامات پر بیان فرمایا ہے۔ جیسے فرمایا وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ کہ جہاں تک تیرے رب کی نعمتوں کاتعلق ہےاسے بکثرت بیان کیاکر۔

(الضحیٰ:12)

نعمتوں کا ذکر اور شکرِ الہٰی ایک مومن کی صرف غذاہی نہیں بلکہ ایک ایسا (Tonic) ہے کیونکہ ہم جب یہ دیکھتے ہیں کہ جماعت کہاں سے اٹھی، کن مشکل حالات اور کیفیات میں کہاں جاپہنچی، کس سرعت سے اس کے آگے بڑھنے کے امکانات روشن سے روشن تر ہیں تویقیناً یہ بات ہمارے ایمانوں کے ازدیاد کیلئے ایک ٹانک کا رنگ رکھتی ہے۔

ادارہ روزنامہ الفضل لندن آن لائن اپنےتمام قارئین کوجماعت احمدیہ کےاس سالگرہ کےدن جہاں مبارکباد پیش کرتا ہے وہاں شکرِ الہٰی بجا لاتےہوئے پنجوقتہ نمازوں کی ادائیگی اوردوسرے حقوق اللہ وحقوق العباد پوری حضوری سے ادا کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہرفرد سے راضی ہو۔ ہم سے ایسے کام کروائے، ایسی خدمت لے جس کے انعامات نہ صرف ہم پر بلکہ پوری جماعت پر نازل ہوتے رہیں۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ