• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

23 مارچ، بیعت اولیٰ اور جماعت احمدیہ کا قیام

رسول اللہ ﷺ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے کہ آپؐ پر سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔ آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعۃ:4) کی تلاوت فرمائی تو ایک صحابی نے سوال کیا کہ یارسول اللہﷺ! وہ دوسرےکون لوگ ہوں گے (جن کى طرف بھى آپؐ کو مبعوث کىا گیا ہے اور جو) ابھى ملے بھی نہیں۔ آپؐ خاموش رہے۔ سائل نے اپنا سوال دو تین دفعہ دہرایا۔ حضرت سلمان فارسیؓ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسیؓ پر رکھا اور فرمایا:

’’اگر ایمان ثریا ستارہ کی بلندی تک بھی چلا گیا تو ان لوگوں یعنی حضرت سلمانؓ کی قوم میں سے کچھ لوگ یا ایک مرد اسے واپس لے آئے گا۔‘‘

(صحیح بخاری کتاب التفسیر بَابُ قَوْلِهِ: وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ)

انیسویں صدی کے وسط میں اسلام کی جو دگرگوں حالت تھی وہ بھی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئیوں کے پوراہونے کا وقت تھا۔ہندوستان میں تمام مذاہب کی طرف سے اسلام اوربانیٔ اسلام پر توہین آمیزحملے کئےجارہےتھےاور کوئی مرد مجاہد ایسا نہ تھا جو ان حملوں کے آگے سینہ سپرہوکر اسلام کا دفاع کرتا۔ مسلمان زندہ مذہب کو چھوڑ کرجوق در جوق دیگر مذاہب خصوصاً عیسائیت کی آغوش میں گرتے چلے جارہے تھے اور کوئی ان کو بچانے والا نہ تھا۔ اسلام ایک ایسا قلعہ رہ گیا تھا جس کا کوئی حاکم نہ تھا اور فوج بغیر کماندار کے دشمنوں کے سامنے نہتی شکستہ دل کھڑی تھی۔ اوریہ وہ پُرآشوب زمانہ تھا جو قرآنی آیت ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم:42) اور رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ، وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ (شعب الإيمان جزء3ص318) کا مصداق تھا۔

اس زمانہ کے لوگ بھی اس صورتحال سے بخوبی آگاہ تھے۔ چنانچہ الطاف حسین حالی نے 1879ء میں اپنی مشہور مسدّس میں لکھا: ؎

رہا دین باقی نہ اسلام باقی
اک اسلام کا رہ گیا نام باقی

(مسدّس حالی بند نمبر 108)

پھر اسلام کو ایک باغ سے تشبیہہ دے کر فرماتے ہیں:

پھر اک باغ دیکھے گا اجڑا سراسر
جہاں خاک اڑتی ہے ہر سو برابر
نہیں زندگی کا کہیں نام جس پر
ہری ٹہنیاں جھڑ گئیں جس کی جل کر
نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل
ہوئے راکھ جس کے جلانے کے قابل

(مسدّس حالی بند نمبر 111)

مسلمان کی اخلاقی و روحانی حالت بیان کرتے ہوئے علامہ اقبال لکھتے ہیں:

ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں
بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پسر آذر ہیں

(بانگِ درا ۔زیرِ عنوان جوابِ شکوہ)

پھرمسلمانوں کی عملی حالت کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں کہ

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

پس وہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں تھااورعلماء سمیت تمام مسلمان کسی مسیحا کے متلاشی تھے۔ ایسے وقت میں رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی کے عین مطابق قوم سلمانؓ سے ایک رجل فارس میدان میں آیا جس نے ایمان کو ثریا سے لاکر دنیا میں قائم کیا اور زندہ مذہب اسلام کی حقانیت اور صداقت کو تمام ادیان باطلہ پر ثابت کر دکھایا اور دشمنان اسلام کو چاروں شانے چِت کردیا۔ وہ جری اللہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعودؑ ہیں۔ جنہوں نے 1882ء کے اوائل میں بیت اقصیٰ میں ایک کشف دیکھا کہ ایک باغ لگایا جارہا ہے اور آپؑ اس کے مالی مقرر ہوئے ہیں۔

(حیات احمد جلد اول حصہ دوم صفحہ305)

یہ ماموریت کی پہلی بشارت تھی۔پھر آپؑ نے براہین احمدیہ جیسی معرکۃ الآراء تصنیف میں اسلام کی صداقت کے سینکڑوں ثبوت پیش کیے اور زندہ خدا کے زندہ نشانات دکھانے کی تمام اہل دنیا کو دعوت دی۔ جس پر جہاں اہل اسلام میں خوشیوں کی لہر دوڑی وہاں مخالفین کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ آپؑ نے کیا ہندو، کیا آریہ، کیا عیسائی، سب مخالفین کو چیلنج دیا کہ وہ اسلام پر اپنے مذہب کی برتری ثابت کر دکھائیں۔ لیکن کسی کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وہ آپؑ کے اس چیلنج کو قبول کرتا۔ مسلمانوں کو تو ایک ناکتخدا مل گیا جو اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارہ پر لے آیا۔

براہین احمدیہ حصہ سوم کا حاشیہ تحریر فرمانے کے دوران حالت کشف میں رسول اللہ ﷺ سے زیارت و معانقہ کا شرف پایا اور دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک سے نور کی کرنیں نکل نکل کر آپؑ کے اندر داخل ہورہی ہیں۔ اس کے بعدآپؑ پرالہام الہیٰ کا سلسلہ بکثرت شروع ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماموریت کا پہلا الہام نازل ہوا جو کم و بیش ستر فقرات پر مشتمل تھا،جس کا آغاز یا احمد بارک اللّٰہ فیک سے ہوا۔

آپؑ کی اسلام کے لیے ان خدمات جلیلہ کی وجہ سے آپؑ کے معتقدین یہ بات جانتے تھے کہ اس زمانہ میں اگر کوئی اسلام کو دوبارہ قائم کرسکتا ہے تو وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی ہیں۔اگرچہ مخلصین کے دلوں میں آپ کی بیعت کی تحریک جاری تھی۔لدھیانہ کے ایک بزرگ حضرت صوفی احمد جان صاحب جوحضرت مسیح موعودؑپر حسن اعتقاد رکھتے تھے نے فرمایا:

ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر
تم مسیحا بنو خدا کے لئے

اسی طرح مولوی عبد القادر صاحب نے حضرت اقدسؑ سے بیعت لینے کا کہا مگر آپؑ کا یہی جواب ہوتا: لَسْتُ بِمَاْمُوْرٍ۔ (یعنی میں مامور نہیں ہوں)

آپؑ نے بیعت نہ لینے کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’چونکہ بیعت کے بارے میں اب تک خداوند کریم کی طرف سے کچھ علم نہیں۔ اس لئے تکلف کی راہ میں قدم رکھنا جائز نہیں۔ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا۔’’

(حیاتِ احمد جلد دوم نمبر دوم صفحہ150)

لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؑ کوبیعت لینے کا واضح حکم ملا تو یکم دسمبر 1888ء کو آپ نے ’’تبلیغ‘‘ کے نام سے اشتہار میں بیعت کا اعلان عام کرتے ہوئے فرمایا:

’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدّارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لئے مجھ سے بیعت کریں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ188)

اس اشتہار میں آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ استخارہ کے بعد بیعت کے لیے حاضر ہوں۔اس اعلان میں حضرت مسیح موعودؑ نے بیعت کے لیے معین رنگ میں کوئی خاص شرائط تحریر نہیں فرمائی تھیں۔مگر جب حضرت مصلح موعودؓ کی 12 جنوری 1889ء کو ولادت ہوئی تو آپ نے 12 جنوری 1889ء کو تکمیل تبلیغ کا اشتہار تحریر فرمایا اور اس میں دس شرائط بیعت تجویز فرمائیں۔ اس لحاظ سے جماعت احمدیہ اور پسر موعود حضرت مصلح موعودؑ کی پیدائش توام (جڑواں) ہے۔

دس شرائط بیعت

حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ نے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کے لیے جو دس شرائط بیعت تجویز فرمائیں وہ یہ ہیں:

اوّل :۔بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے مجتنب رہے گا۔

دوم :۔یہ کہ جھوٹ اور زنااور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجوراور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔

سوم :۔یہ کہ بلاناغہ پنج وقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا۔ اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم ؐ پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا۔ اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا۔

چہارم :۔ یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔

پنجم :۔یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عُسر اور یُسر اور نعمت اور بلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گااور بہر حالت راضی بقضاء ہو گا اور ہر ایک ذِلّت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔

ششم :۔ یہ کہ اتباعِ رسم اور متابعتِ ہواوہوس سے باز آجائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلّی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قَالَ اللّٰہ اور قَالَ الرَّسُوْل کو اپنے ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔

ہفتم :۔یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلّی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اورحلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔

ہشتم :۔ یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردیٔ اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔

نہم :۔ یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض لِلّٰہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔

دہم :۔ یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض لِلّٰہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گااور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیردنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔

(اشتہار تکمیل تبلیغ 12جنوری 1889ء)

مذکورہ بالا دس شرائط سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کے لیے لازمی قرار دی گئیں اوربیعت کرتے وقت ان پر حتی الوسع کاربند رہنے کا عہد لیاجاتا۔
بعدہ حضرت مسیح موعودؑ لدھیانہ تشریف لے گئے اور حضرت صوفی احمد جان کے مکان واقع محلہ جدید میں رہائش اختیار فرمائی۔اسی دوران آپ نے 4 مارچ 1889ء کوبیعت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’یہ سلسلہ بیعت محض بمراد فراہمی طائفہ مُتَّقِین یعنی تقویٰ شعار لوگوں کی جماعت کے جمع کرنے کے لئے ہے ۔ تا ایسے متقیوں کا ایک بھاری گروہ دنیا پر اپنا نیک اثر ڈالے اور ان کا اتفاق اسلام کے لئے برکت و عظمت و نتائج خیر کا موجب ہو۔ اور وہ بہ برکت کلمۂ واحدہ پر متفق ہونے کے اسلام کی پاک و مقدس خدمات میں جلد کام آسکیں اور ایک کاہل اور بخیل و بے مصرف مسلمان نہ ہوں اور نہ ان نالائق لوگوں کی طرح جنہوں نے اپنے تفرقہ و نا اتفاقی کی و جہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے خوبصورت چہرہ کو اپنی فاسقانہ حالتوں سے داغ لگا دیا ہے اور نہ ایسے غافل درویشوں اور گوشہ گزینوں کی طرح جن کو اسلامی ضرورتوں کی کچھ بھی خبر نہیں۔ اور اپنے بھائیوں کی ہمدردی سے کچھ بھی غرض نہیں اور بنی نوع کی بھلائی کے لئے کچھ جوش نہیں بلکہ وہ ایسے قوم کے ہمدرد ہوں کہ غریبوں کی پناہ ہو جائیں ۔ یتیموں کے لئے بطور باپوں کے بن جائیں اور اسلامی کاموں کے انجام دینے کے لئے عاشق زار کی طرح فدا ہونے کو تیار ہوں اور تمام تر کوشش اس بات کے لئے کریں کہ ان کی عام برکات دنیا میں پھیلیں اور محبت الٰہی اور ہمدردی ء بندگانِ خدا کا پاک چشمہ ہر یک دل سے نکل کر اور ایک جگہ اکٹھا ہو کر ایک دریا کی صورت میں بہتا ہوا نظر آئے۔۔۔ خدا تعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور اپنی قدرت دکھانے کے لئے پیدا کرنا اور پھر ترقی دینا چاہا ہے تا دنیا میں محبت الٰہی اور توبہ نصوح اور پاکیزگی اور حقیقی نیکی اور امن اور صلاحیت اور بنی نوع کی ہمدردی کو پھیلا دے۔ سو یہ گروہ اس کا ایک خاص گروہ ہو گا اور وہ انہیں آپ اپنی روح سے قوت دے گا اور انہیں گندی زیست سے صاف کرے گا۔ اور ان کی زندگی میں ایک پاک تبدیلی بخشے گا۔ اور وہ جیسا کہ اس نے اپنی پاک پیشینگوئیوں میں وعدہ فرمایا ہے اس گروہ کو بہت بڑھائے گا اور ہزارہا صادقین کو اس میں داخل کرے گا۔ وہ خود اس کی آب پاشی کرے گا اور اس کو نشوونما دے گا ۔ یہاں تک کہ ان کی کثرت اور برکت نظروں میں عجیب ہو جائے گی اور وہ اس چراغ کی طرح جو اونچی جگہ رکھا جاتا ہے دنیا کے چاروں طرف اپنی روشنی کو پھیلائیں گے اور اسلامی برکات کے لئے بطور نمونہ کے ٹھہریں گے۔ وہ اس سلسلہ کے کامل متبعین کو ہر یک قسم کی برکت میں دوسرے سلسلہ والوں پر غلبہ دے گا اور ہمیشہ قیامت تک ان میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کو قبولیت اور نصرت دی جائے گی اس ربِّ جَلیل نے یہی چاہا ہے وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ہر یک طاقت اور قدرت اسی کو ہے۔‘‘

(اشتہار ’’گزارش ضروری بخدمت ان صاحبوں کے جو بیعت کرنے کے لئے مستعد ہیں‘‘ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 196 تا 198)

اسی اشتہار میں ہی آپ نے بیعت کرنے والوں کو لدھیانہ محلہ جدید میں 20مارچ کے بعدبیعت کے لیے تشریف لانے کا فرمایا۔

23مارچ کا دن نہایت اہم دن ہے کیونکہ آج سے 130سال قبل23مارچ 1889ء کوقادیان جیسی گمنام بستی کے خدا کےایک عاجز بندے حضرت اقدس مسیح موعودؑنے حکمِ الہی کے تحت ایک عظیم جماعت کی بنیاد رکھی جس نے ایمان کو ثریا سے لکر دوبارہ احیائے اسلام کا موجب بننا تھا۔ پس خدائی منشاء کے مطابق مہینہ بھی ایسا چنا گیا جس میں زمین کی ظاہری حالت كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ کی مانندتھی اور روحانی تخم ریزی اور ایمان کی کونپلیں بھی مارچ کی 23 تاریخ کو پھوٹنی شروع ہوئیں۔ جنہوں نے آئندہ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ (الفتح:30) کا مصداق بننا تھا۔ چنانچہ حضرت صوفی احمد جان کے مکان کی کچی کوٹھری جو اَب ’’دار البیعت‘‘ کہلاتی ہے میں اس موعودہ روحانی جماعت کی بنیاد رکھی گئی۔

حضرت عبداللہ سنوریؓ کی روایت کے مطابق بیعت کے ریکارڈ کے لئے ایک رجسٹر ’’بیعت توبہ برائے تقویٰ و طہارت‘‘ تیار کیا گیا۔ جس میں بیعت کنندگان کے نام درج کئے گئے۔

بیعت کا طریق اور الفاظ

حضرت مسیح موعودؑ نے بیعت لینے کا طریق کار یہ مقرر فرمایا کہ ہر ایک کو الگ الگ کمرے میں بلایا جاتا اور ان سے بیعت لی جاتی۔

حضرت مسیح موعودؑ نے بیعت لینے والے کمرے کے دروازے پر حافظ حامد علیؓ کو مقرر کرکے ہدایت فرمائی کہ جس کا میں نام لیتا جاؤں، اسے بلاتے جائیں۔ مردوں میں سے سب سے پہلے حضرت حکیم مولوی نور الدینؓ کا نام بولا گیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے مولوی صاحب کا ہاتھ کلائی سے پکڑ کر بڑی لمبی بیعت لی۔ پھر دیگر احباب کی بیعت لینے کے بعد گھر میں عورتوں میں سے سب سے پہلے حضرت مولوی نور الدیؓن کی اہلیہ محترمہ حضرت صغرٰی بیگمؓ کی بیعت لی اور یوں اس روز چالیس افراد کو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

حضرت مرزا بشیر احمدؓ پہلی بیعت کے الفاظ اور اس کے طریق کے بارہ میں یہ روایت بیان فرماتے ہیں کہ

’’بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوریؓ نے کہ جب حضرت صاحب نے پہلے دن لدھیانہ میں بیعت لی تو اس وقت آپ ایک کمرہ میں بیٹھ گئے تھے اور دروازہ پر شیخ حامد علی کو مقرر کر دیا تھا۔ اور شیخ حامد علی کو کہہ دیا تھا کہ جسے میں کہتا جاؤں اسے کمرہ کے اندر بلاتے جاؤ چنانچہ آپ نے پہلے حضرت خلیفہ اوّلؓ کو بلوایا ان کے بعد میر عباس علی کو پھر یہاں محمد حسین مراد آبادی خوش نویسی کو اور چوتھے نمبر پر مجھ کو اور پھر ایک یا دو اور لوگوں کو نام لیکر اند ربلایا پھر اس کے بعد شیخ حامد علی کو کہہ دیا کہ خود ایک ایک آدمی کو اندر داخل کرتے جاؤ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اوائل میں حضورؑ ایک ایک کی الگ الگ بیعت لیتے تھے لیکن پھر بعد میں اکٹھی لینے لگ گئے۔ اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ پہلے دن جب آپؑ نے بیعت لی تو وہ تاریخ 20رجب1306ھ مطابق 23مارچ 1889ء تھی اور اس وقت بیعت کے الفاظ یہ تھے:

’’آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں اور خراب عادتوں سے توبہ کرتا ہوں جن میں مَیں مبتلا تھا اور سچے دل اور پکے ارادہ سے عہد کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے اپنی عمر کے آخری دن تک تمام گناہوں سے بچتا رہوں گا اور دین کو دنیا کے آراموں اور نفس کے لذات پر مقدم رکھونگا اور 12جنوری کے دس شرطوں پر حتی الوسع کاربند ہونگا اور اب بھی اپنے گذشتہ گناہوں کی خدا تعالیٰ سے معافی چاہتا ہوں۔

اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّی اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّی اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ اَشْھَدُاَنْ لَّا اِٰٰلِہ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ رَبِّ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی وَ اعْتَرَفْتُ بِذَنْبِی فَا غْفِرْلِی ذُنُوْبیِ فَاِنَّہُ لَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔‘‘

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر مصافحہ کے طریق پر بیعت کنندگان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے تھے لیکن بعض لوگوں سے آپؑ نے پنجہ کے اوپر کلائی پر سے بھی ہاتھ پکڑ کر بیعت لی ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اوّلؓ فرماتے تھے کہ میری بیعت آپ نے اسی طرح لی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتاہے کہ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کی بیعت اولیٰ کے دن مولوی عبدالکریم صاحب بھی وہیں موجود تھے مگر انہوں نے اس دن بیعت نہیں کی۔

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 98صفحہ70 ,71)

حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کنندگان کو قیمتی نصائح

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :
’’یہ بیعت جو ہے اس کے معنے اصل میں اپنے تئیں بیچ دینا ہے۔ اس کی برکات اور تاثیرات اسی شرط سے وابستہ ہیں جیسے ایک تخم زمین میں بویا جاتا ہے تو اس کی ابتدائی حالت یہی ہوتی ہے کہ گویا وہ کسان کے ہاتھ سے بویا گیا اور اس کا کچھ پتہ نہیں کہ اب وہ کیا ہو گا۔ لیکن اگر وہ تخم عمدہ ہوتا ہے اور اس میں نشوونما کی قوت موجود ہوتی ہے تو خدا کے فضل سے اور اس کسان کی سعی سے وہ اُوپر آتا ہے اور ایک دانہ کا ہزار دانہ بنتا ہے۔ اسی طرح سے انسان بیعت کنندہ کو اوّل انکساری اور عجز اختیار کرنی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتا ہے تب وہ نشوونما کے قابل ہوتا ہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتاہے اسے ہرگز فیض حاصل نہیں ہوتا۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 454 ,455)

حضرت اقدسؑ بیعت لینے کے بعد بیعت کنندگان کو کچھ نصائح فرمایا کرتے تھے۔جو حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اپنی کتاب ذکر حبیب کے تیئسویں باب میں بھی درج فرمائی ہیں۔

آپؑ فرمایا کرتے تھے:

’’اس جماعت میں داخل ہو کر اوّل زندگی میں تغیر کرنا چاہئے کہ خدا پر ایمان سچا ہو اور وہ ہر مصیبت میں کام آئے۔ پھر اس کے احکام کو نظر خِفّت سے نہ دیکھا جائے بلکہ ایک ایک حکم کی تعظیم کی جائے اور عملاً اس تعظیم کا ثبوت دیا جائے۔‘‘

’’ہمہ وجوہ اسباب پر سرنگوں ہونا اور اسی پر بھروسہ کرنا اور خدا پر توکل چھوڑ دینا یہ شرک ہے اور گویا خدا کی ہستی سے انکار۔ رعایت اس حد تک کرنی چاہئے کہ شرک لازم نہ آئے۔ ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم رعایت اسباب سے منع نہیں کرتے مگر اس پر بھروسہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔ دست درکار دل بایا روالی بات ہونی چاہئے۔‘‘

(البدر 8دسمبر1903ء)

نیز فرمایا:

’’اگر کوئی شخص بیعت کرکے یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ہم پر احسان کرتا ہے تو یاد رہے کہ ہم پر کوئی احسان نہیں۔بلکہ یہ خدا کا اس پر احسان پر کہ اس نے یہ موقعہ اسے نصیب کیا۔سب لوگ ایک ہلاکت کے کنارہ پر پہنچے ہوئے تھے۔دین کا نام ونشان نہ تھا اورتبارہ ہورہے تھے۔خدا نے ان کی دستگیری کی کہ یہ سلسلہ قائم کیا۔اب جو اس فائدہ سے محروم رہتا ہے وہ بے نصیب ہے لیکن جو اس کی طرف آوے اسے چاہئے کہ اپنی پوری کوشش کے بعد دعا سے کام لیوے۔جو شخص اس خیال سے آتا ہے کہ آزمائش کرے کہ فلاں سچا ہے یا جھوٹا۔وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے۔آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ایسی نظیر نہ پیش کرسکو گے۔کہ فلاں شخص فلاں نبی کے پاس آزمائش کے لیے آیا اور پھر اسے ایمان نصیب ہوا ہو۔پس چاہیے کہ انسان خدا کے آگے روئے اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر گریہ و زاری کرے۔کہ خدا اسے حق دکھاوے۔وقت خود ایک نشان ہے اور وہ بتلارہا ہے کہ اس وقت ایک مصلح کی ضرورت ہے۔‘‘

(البدر)

’’نرا بیعت کاا قرار کوئی شے نہیں۔دعا کرو اور سستی ہرگز نہ کرو۔جو تعلیم تم کو دی جاتی ہے اس کے موافق اپنے آپ کو بناؤ۔پھر یہ چند روزہ زندگی ہے ایک دن آنا ہے کہ نہ ہم ہوں گے اور نہ تم۔‘‘

’’دیکھو تم لوگوں نے جو بیعت کی ہے اور اس وقت اقرار کیا ہے اس کا زبان سے کہہ دینا تو آسان ہے لیکن نباہنا مشکل ہے۔ کیونکہ شیطان اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ انسان کو دین سے لاپرواہ کر دے۔ دنیا اور اس کے فوائد کو تو وہ آسان دکھاتا ہے اور دین کو بہت دور۔ اس طرح دل سخت ہو جاتا ہے اور پچھلا حال پہلے سے بدتر ہو جاتا ہے۔ اگر خدا کو راضی کرنا ہے تو اس گناہ سے بچنے کے اقرار کو نبھانے کے لئے ہمت اور کوشش سے تیار رہو۔‘‘

فرمایا:

’’فتنہ کی کوئی بات نہ کرو۔ شر نہ پھیلاؤ۔ گالی پر صبر کرو۔ کسی کا مقابلہ نہ کرو۔ جو مقابلہ کرے اس سے بھی سلوک اور نیکی کے ساتھ پیش آؤ۔ شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ۔ سچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا راضی ہو جائے۔ اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کر کے یہ شخص وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ مقدمات میں سچی گواہی دو۔ اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ پورے دل ، پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جائے۔‘‘

29مارچ 1904ء کو فرمایا:

’’استقامت کے یہ معنے ہیں کہ جو عہد انسان نے کیا ہے اسے پورے طور پر نبھائے۔یادرکھو کہ عہد کرنا آسان ہے مگر اس کا نبھانا مشکل ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ باغ میں تخم ڈالنا آسان ہے مگر اس کی نشونما کے لیے ہر ایک ضروری بات کو ملحوظ رکھنا اور آبپاشی کے اوقات پر اس کی خبرگیری کرنی مشکل ہے۔ایمان بھی ایک پودا ہے جسے اخلاص کی زمین میں بویا جاتا ہے اور نیک اعمال سے اس کی آبپاشی کی جاتی ہے۔اگر اس کی ہروقت ہر موسم کے لحاظ سے پوری خبرگیری نہ کی جائے تو آخرکار تباہ اور برباد ہوجاتا ہے…ایمان کا پودا اپنے نشوونما کے لیے اعمال صالحہ کو چاہتا ہے…بیعت توبہ اور بیعت تسلیم جو تم نے آج کی ہے اور اس میں جو اقرار کیا ہے اسے سچے دل سے بہت مضبوط پکڑو اور پختہ عہدکرو کہ مرتے دم تک تم اس پر قائم رہو گے۔سمجھ لو کہ آج ہم نفس کی خودرویوں سے باہر آگئے ہیں اور جوجو ہدای ہوگی اس پر عمل کرتے رہیں گے۔‘‘

نیزبیعت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’خدا تعالیٰ یا اس کے رسول پر صرف زبانی ایمان لے آنا یا ایک ظاہری رسم کے طور پر بیعت کرلینا بالکل بے سود ہے۔ج تک کہ انسان پوری طاقت سے خدا تعالیٰ کی راہ میں نہ لگ جائے۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ آپ نے جو تعلق مجھ سے پیدا کیا ہے اس کو بڑھانے اور مضبوط کرنے کی فکر میں ہروقت لگے رہیں۔ جس شاخ کا تعلق درخت سے قائم نہیں رہتا۔ وہ گرکر خشک اور بیکار ہوجاتی ہے اور یاد رہے کہ صرف اقرار ہی کافی نہیں جب تک کہ عملی رنگ سے اپنے آپ کو رنگین نہ کیا جائے۔ بیعت سے مراد خدا تعالیٰ کو جان سپرد کرنا ہے کہ آج ہم نے اپنی جان خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دی۔ یہ بالکل غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں چل کر انجام کار کوئی شخص نقصان اٹھائے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدق سے قدم اٹھاتا ہے۔اس کو عظیم الشان طاقت اور خارق عادت قوت دی جاتی ہے۔ مومن کے دل میں جذب ہوتا ہے۔اس جذب کے ذریعہ وہ دوسروں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔‘‘

(ذکر حبیب جلد اول صفحہ 436 تا 438)

حضرت مسیح موعودؑ نے جس عظیم الشان جماعت کی بنیاد رکھی اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوجاتا ہے کہ اسی جماعت نے آخرین کو اوّلین سے ملانا تھا اور ایمان کو دوبارہ دنیا میں قائم کرکے اسلام کی نشأة ثانیہ کا ذریعہ بننا تھا۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ بیعت کرنے والوں نے اپنے ان عہدوں کو نبھایا اوردور اولین کے صحابہ رسول ﷺ کی طرح اپنی جانوں و مالوں اور عزتوں کو دین اسلام کی خاطر قربان کردیا اور زمانہ نبویؐ کی یاد تازہ کردی۔ ؎

مبارک وہ جو اب ایمان لایا
صحابہؓ سے ملا جب مجھ کو پایا

ان قربانیوں کے ثمرات ہی ہیں کہ یہ جماعت جس کا بیج ایک چھوٹی سی بستی قادیان میں بویا گیا آج دنیا کے 212ممالک میں اپنی شاخیں پھیلائے بابرگ و بار ہے اور مخالفین کی شدید مخالفت کے باوجود ہر چڑھتے دن کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنےخاص فضل سے جماعت احمدیہ کو غیر معمولی ترقیات عطا فرماتا چلاجا رہا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ ہم سب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات پر عمل کرنے اور ان کی روشنی میں اپنے عہد بیعت کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


(باسل احمد بشارت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ