• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

حضرت مسیح موعود ؑ کی صحبت نے میری روح کو صاف کردیا

حضرت مسیح موعود ؑ کی صحبت نے میری روح کو صاف کردیا اور سینہ دھو دیا صحبت امام کی تاثیرات اور پیدا کردہ انقلاب کے متعلق دلگداز داستان

(حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی ؓ)

حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹیؓ نے خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1899ء میں فرمایا:۔

میں نے بہت غور کی ہے اور میری عمر کا بہت بڑا حصہ اسی غوروفکر میں گزرا ہے اور اللہ علیم اس بات کا گواہ ہے کہ مجھے ہوش کے زمانہ سے یہی شوق دامنگیر رہا کہ خدا کی رضا کی راہیں حاصل کروں اور میری بڑی خواہش اور سب سے بڑی آرزو یہی رہی ہے کہ کسی طرح پر اپنے مولیٰ کریم کو راضی کروں۔

حضرت مولوی نورالدین (خداتعالیٰ ان پر اپنا بے حد فضل کرے) سے مجھے اللہ تعالیٰ نے ملا دیا اور اس طرح پر مجھے دین کی طرف اور قرآن کریم کے معارف اور حقائق کی طرف توجہ ہوئی۔ مگر بایں ہمہ بعض اخلاق ردیہ کی اصلاح نہ ہوئی اور طبیعت معاصی کی طرف اس طرح جاتی جیسے ایک سرکش جانور رسا تڑا کر بے اختیار دوڑتا ہے اور قابو سے نکل جاتا ہے اور میری روح میں وہ سیری اور لذت نہ ہوئی جس کا میں جویاں تھا۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف میں نے حضرت مولانا صاحب کے منہ سے سنے اور بہت فیض اٹھایا اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ پختہ … اور غیور بن گیا لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کیا بات تھی جس سے روح میں ایک بیقراری اور اضطراب محسوس ہوتا تھا اور سکون اور جمعیت خاطر جس کے لئے صوفی تڑپتے ہیں میسر نہ آتی تھی اور اس اثنا میں، میں ایک بڑی ناسزا بات اور ناشدنی گردن زدنی عقیدہ کی پرورش میں بڑا متوجہ تھا اور گو یا بغل میں ایک بعل اور لات کو رکھتا تھا اور دل میں سمجھتا تھا کہ یہ خدا کی رضا کی راہ ہے مگر خداتعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے اختیار کرنے میں بھی نیت نیک تھی۔ ابھی میں 17یا 18 برس کی عمر کا سادہ لڑکا تھا کہ سید احمد خان کے خیالات کے پڑھنے کا مجھے موقع ملا یعنی تہذیب اخلاق جو سید کے خیالات اور معتقدات کا آئینہ تھا میں اسے شروع اشاعت سے پڑھنے لگا اور تیس برس کی عمر تک اس میں متوغل رہا۔ سید صاحب کے قلم سے کوئی ایسا لفظ نہیں نکلا الاماشاء اللّٰہ جو میں نے نہ پڑھا ہو ان کی تفسیر کو بڑے عشق سے پڑھتا برابر بیس بائیس برس کا زمانہ تھوڑا نہیں ایک بڑی مدت ہے۔ اس عرصہ میں بھی میری روح کو طمانیت اور سکینت حاصل نہ ہوئی اور وہی اضطراب اور بیقراری دامنگیر رہتی بلکہ بعض بعض اوقات میں اپنی تنہائی کی گھڑیوں میں ہلاک کرنے والی بے چینی محسوس کرتا اور میں آخر اس نتیجہ پر پہنچتا کہ ہنوز اگر خدا تعالیٰ کو خوش کیا ہوتا اور واقعی خداتعالیٰ سے سچا تعلق پیدا ہوگیا ہوتا تو ضرور تھا کہ سکینت اور طمانیت کا سرد پانی میرے ابلتے ہوئے کلیجہ کو ٹھنڈا کرتا۔ اس خیال سے تردد، تذبذب اور پریشانی اور بھی بڑھتی گئی۔

میرے مخدوم مولوی صاحب بھی سید صاحب کی تصانیف منگواتے اور صفات الٰہی کے مسئلہ میں ہمیشہ سید صاحب سے الگ رہے اور میں ان کے ساتھ ہو کر بھی سید صاحب کی ہر بات کی پچ کرتا اور کبھی مولوی صاحب مجھ سے الجھ بھی پڑتے مگر میں اقرار کرتا ہوں کہ وہ میرے اس جن کے نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے۔ فتوحات ابن عربی اور امام غزالی کی احیاء العلوم کو میں نے کئی بار پڑھا اور خوب غور اور تدبر سے پڑھا مگر میں سچ کہتا ہوں کہ

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

کا ہی معاملہ رہا شاید میری روح ہی ایسی تھی کہ تسلی نہ پاسکتی تھی یا وہ خیالات واقعی طمانیت کا موجب نہ تھے۔ مگر اب کہوں گا کہ وہ خیالات ہی یقیناً یقیناً تسلی بخش راہ نہ دکھا سکتے تھے۔

بہرحال میں اس کو گناہ نہ سمجھتا تھا دل بیقرار رہتا تھا اور ایک دھڑکا لگا ہوا تھا۔ میں نے کئی بار رؤیا میں دیکھا کہ بڑے جلتے ہوئے شعلے مارتی ہوئی آگ کے بھٹوں میں اور کوندتی ہوئی بجلیوں میں ڈالا گیا ہوں اور پھر کئی بار بصیرت کی آنکھ سے دیکھا کہ بہشت میں ڈالا گیا ہوں۔ مگر میں وجوہات اور اسباب کو نہ سمجھتا تھا۔ اسی بیقراری اور اضطراب میں میری عمر کا ایک بڑا حصہ گزر گیا یہاں تک کہ حضرت مولوی نورالدین کے طفیل سے امام الزمان، نورٌ مرسل اور خلیفۃ اللہ کی صحبت نصیب ہوئی۔ حضرت مولانا نورالدین کو تو بہت برس پیشتر براہین احمدیہ کے اشتہار کے ایک پرچہ نے اس نور کا پتہ دے دیا تھا اور اس وقت ہمارے آقا حضرت مسیح موعودؑ ابھی گوشہ گزیں تھے اور کجدار و مریز دنیا میں ہنوز قدم نہ رکھا تھا۔

غرض مولوی صاحب نے مجھے امام الزمان کے متعلق فرمایا چونکہ مولوی صاحب کے ساتھ ایک خاص محبت اور ان پر اعلیٰ درجہ کا حسن ظن تھا میں نے مان لیا۔ مگر وہ بصیرت اور معرفت نصیب نہ ہوئی۔

مارچ 1889ء کا ذکر ہے کہ حضرت امام نے بیعت کا اشتہار شائع کیا اور مولوی صاحب لدھیانہ تشریف لے گئے اور مجھے بھی ساتھ لے گئے میں صاف کہوں گا کہ میں اپنی خوشی سے نہیں گیا بلکہ زور سے ساتھ لے گئے۔ ان دنوں میں بیعت کرنے کا اول فخر مولوی صاحب کو ہوا۔ مگر میں اس وقت بھی اڑ گیا اور روح میں کشائش اور سینہ میں انشراح نہ دیکھ کر رکا۔ مولوی صاحب کے اصرار اور الحاح سے بیعت کرلی۔ یہ سچا اظہار ہے شاید کسی کو فائدہ پہنچے اس کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ میری دل و روح میں ایک تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوئی۔ میں نے اس دوا کو جس کا میں ایک عرصہ دراز سے جویاں تھا قریب یقین کیا۔ میرے دل میں ایک سکینت اترتی ہوئی محسوس ہوتی تھی اور دل میں ایک طاقت اور لذت آتی معلوم ہونے لگی۔ یہاں تک کہ 1890ء میں مسیح موعودؑ کے دعوے کا اعلان ہوا اور اس سال کے آخر میں حضور نے مجھے خط لکھا کہ میں ازالہ اوہام تصنیف کررہا ہوں اور بیمار ہوں کاپیاں پڑھنی، پروف دیکھنے، خطوط لکھنے کی تکلیف کا متحمل نہیںہوسکتا جس طرح بن پڑے آجائیں۔ ادھر سے مولوی نورالدیؓن کا خط آیا کہ حضرت کو تکلیف بہت ہے لدھیانہ جلدی جاؤ۔ اس وقت میں مدرسہ میں مدرس تھا وہاں سے رخصت لے کر لدھیانہ پہنچا اور میں اقرار کرتا ہوں کہ ہنوز دنیا اور ہوائے دنیا سے میرا دل سیر اور نوکری سے قطعاً بیزار نہ ہوا تھا اور جو دس پندرہ روپے ملتے تھے انہیں غنیمت سمجھتا تھا اور عزم تھا کہ اختتام پر پھر اس سلسلہ کو اختیار کروں گا۔

مگر جب میں تین ماہ تک حضرت اقدس کی صحبت میں رہا اور یہ پہلا موقعہ اتنی دراز صحبت کا ملا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ خیال اور وہ آرزو کدھر گئی۔ اس قسم کے خیالات سے میری روح کو صاف کردیا گیا اور میرا سینہ دھو دیا گیا اور اندر سے آواز آئی کہ تو دنیا کے کام کا نہیں۔ بس پھر کیا تھا۔ تین ماہ کی رخصت کے پورے ہوتے ہوتے یہ سب خیالات جاتے رہے اور پھر نہ واپس نہ استعفیٰ خداتعالیٰ نے دنیا کی دلدل سے مجھے بالکل نکال دیا اس وقت سے لے کر 1893ء تک مجھ کو 6،6 مہینے اور برس تک بھی حضرت اقدس کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا اور اب تو ایک سیکنڈ اور طرفۃ العین کے لئے بھی میری روح جدائی گوارا نہیں کرتی اور ایک خوبصورت امید میرے سینہ میں ہے کہ انشاء اللہ میرا جینا میرا مرنا ان ہی پاؤں میں ہوگا اور اگر میں اب یہاں سے چند روز کے لئے کہیں جاتا ہوں تو دل کی آرزو کے خلاف مجبوراً پکڑا جاتا ہوں۔

غرض پھر مجھے آپ کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا اور اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ وہ بڑا ایمان جس کو سید احمد خان کے خیالات سے اقتباس کیا تھا وہ روح کو تقویٰ و طہارت بخشنے والی اور سچی سکینت دینے والی شے نہ تھی وہ ایک فلسفیانہ اور مترددانہ اور متوہمانہ خوابہائے پریشان کا سرجوش ایمان یا جذبہ تھا ایک ایک وقت میں ان خیالات پر غور کرنے سے میری روح تڑپ تڑپ گئی ہے اور جسم پر لرزہ پڑ گیا ہے کہ میں کبھی جس کو صراط مستقیم سمجھتا تھا وہ خدا سے دور ڈالنے والی خطرناک راہ تھی میں راستی سے کہتا ہوں اور خدا گواہ ہے کہ ان خیالات کے متعلق حضرت اقدس سے کبھی کوئی مباحثہ نہیں ہوا بلکہ صرف اس کے منہ سے پاک باتیں سنتا رہا اور صفات الٰہی اور قرآن کریم کی عظمت اور خوبیوں کے تذکرے سنتا رہا۔ پھر آپ کی زندگی اور تعلیم و عمل نے بتایا کہ خدا کا متصرف اور زندہ ہونا اور متکلم خدا ہونا نہ کسی پہلے زمانہ میں تھا بلکہ اب بھی اسی طرح پر وہ حی، قیوم، متکلم اور متصرف خدا ہے۔ ان باتوں کو جب سنا، نہیں نہیں دیکھا تو جیسے ایک گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چراغ کے آجانے سے ہر ایک چیز قرینہ سے رکھی ہوئی اور سجی ہوئی نظر آتی ہے۔ میں نے اپنے اندرایک روشنی دیکھی اور معرفت کا نور اور بصیرت کا چراغ میرے سینہ میں نظر آنے لگا۔ میں سمجھتا تھا کہ سید احمد خان کے خیالات میرے دل سے نہ نکل سکیں گے لیکن آخر خداتعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ان کو ایسا نکالا کہ گویا کبھی تھے ہی نہیں اور اب میں خداتعالیٰ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ محض امام الزمان کی صحبت کے طفیل سے ان خیالات سے، مجھے اس سے کہیں زیادہ نفرت اور بیزاری ہے جیسے اور مردار کھانے سے۔

اور میں پھر کہتا ہوں کہ یہ شہادت اپنی تبدیلی کی محض اس لئے پیش کی ہے کہ تاکہ کسی سوچنے والے دل اور غور کرنے والی طبیعت کو ہدایت اور نور کی طرف رہبری کرسکے اور یہ بتلایا جاوے کہ … شرک سے شدید بغض اور نفرت جو ایمانی غیرت کا تقاضا اور نور اور توحید سے محبت یہ اس ایک ہاں اسی ایک انسان کے پاک انفاس کا نتیجہ ہے۔ میں اللہ کے لئے یقین دلاتا ہوں کہ کفر اور لوازم کفر سے بغض رکھنا اور اسے دل میں مردار اور سور سمجھنا یہ ہر ایک انسان کا خاصہ اور ہر ایک کا دل گردہ نہیں اور جب تک ایک ہادی اور مرشد ایسا نہ ہو کہ اسے قلباً شرک سے بیزاری ہو اور اس کے انفاس طیبہ میں کفر سے بیزاری بخشنے والی پوری تاثیر نہ ہو جب تک انسان معاصی اور کفر اور فسق کی راہوں سے بچ نہیں سکتا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے آقا مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعودؑ …کی صحبت اور آپ کے کلام سے مستفید ہونے والا بھی کفر سے واقعی بیزار ہو جاتا ہے اور کوئی گدی اور کوئی سلسلہ ایسا نہیں جو گناہ سے سچی نفرت دلاسکے اور جسے کفر و شرک سے لڑائی رہتی ہو اگر کوئی ہے تو ازراہ کرم بتاؤ۔

میرے دوستو ایک ہی انسان ہے جس کی صحبت میں آج گناہ سے نفرت، خدا سے الفت، رسول سے الفت پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ ہے میرا حال اور اس کو اس لئے بیان کیا ہے تاکہ میرے دوستوں اور بھائیوں کو فائدہ اور دوسروں کو سبق ملے۔ باوجود اس کے کہ میں تا باستطاعت قرآن، فقہ، حدیث اور دین کی ضروری کتابیں پڑھتا مگر خودبخود بلا مدد دستگیرے اس منزل تک نہ پہنچ سکا جہاں مجھے پہنچنا تھا اور جو میری روح کی تسلی اور اطمینان کے لئے ضروری تھی جب تک کہ مجھے صحبت کا شرف حاصل نہیں ہوا۔

اکثر کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کے ہوتے ہوئے کس امام کی ضرورت تھی۔ وہ احمق ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ باوجودیکہ آنکھوں میں نور اور کانوں میں شنوائی کے پردے موجود ہیں لیکن پھر بھی آفتاب اور ہوا کے بدوں وہ سن نہیں سکتے اور نہ دیکھ سکتے ہیں۔ لاریب قرآن کریم ایک نور اور معرفت کی شمع روشن ہے لیکن ایک زندہ نمونہ درکار ہے جو قرآن کی طرف لے جاسکے اور قرآن سمجھا سکے۔ … تقویٰ اللہ اور ایمان کی حقیقت معلوم کرنی چاہئے بلکہ اپنی زندگی اور روح میں اس کے اثروں کو محسوس اور اس کی کیفیتوں سے محظوظ ہونا چاہتے ہو تو امام کی صحبت کا شرف حاصل کرو اور چونکہ سب کے سب نہیں آسکتے اس لئے ایسا ہونا چاہئے کہ ہر محلہ اور ہر شہر میں سے ایک یا دو آدمی جو سمجھدار اور فراست اور ملکہ رکھتے ہوں اور خدا کی پاک باتوں کے سننے کا مذاق رکھتے ہوں وہ آئیں اور آسمانی علوم سے حصہ لیں۔

عزیزو! بڑی ضرورت ہے امام کے پاس بیٹھنے کی اور اس کی باتوں کو سننا بڑی بات ہے اگر کوئی اس امر سے بے نیازی ظاہر کرتا ہے تو وہ یاد رکھے کہ خداتعالیٰ اس سے بے نیاز ہے بے نیاز ہے۔

(الحکم31۔اکتوبر 1899ء)


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ