• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

براہین احمدیہ کا اثر

حضرت سید ولی اللہ شاہؓ تحریر فرماتے ہیں:۔

’’والد حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ سابقہ تحصیل رعیہ ضلع سیالکوٹ (حال تحصیل وضلع نارووال) کے شفاخانہ میں انچارج ڈاکٹر تھے جن دنوں کا واقعہ بیان کرنے لگا ہوں ان دنوں میری عمر چھ سات برس سے زیادہ نہ تھی۔ تحصیل کے افسران تحصیلدار، نائب تحصیلدار ناظر اور انچارج تھانہ سبھی حضرت والد صاحب کی بہت عزت کرتے اور ان سے حسن عقیدت رکھتے۔ ان کی مستورات کا ہمارے گھر آنا جانا تھا۔ خواہ مسلم ہوں یا ہندو یا عیسائی۔ ان میں سے ایک ناظر حضرت والد صاحب کے بڑے عقیدت مند تھے۔ لیکن ان کا اپنا حال یہ تھا کہ راگ و ساز کے شیدائی اور ان کے لوازمات میں کھوئے ہوئے تھے۔ ایک دن ان کے بچوں سے ملنے ان کے ہاں گیا۔ ڈھولکی اور سارنگی کی آواز سن کر باہر کے ایک کمرے میں جھانکا۔ ساری مجلس مست ومگن تھی۔ لیکن ناظر صاحب کچھ شرمائے۔ سیدوں کی بڑی قدر کرتے تھے۔ گانا بجانا تو کچھ دیر کیلئے بند ہو گیا اور مجھے اندرون خانہ بھجوا دیا۔ ان کی دنیا کی رنگ رلیوں سے شغف میں ان کی ہر خاص و عام میں شہرت تھی۔ اب تک ان کی شکل نہیں بھولتی۔ بڑی بڑی مونچھیں اور داڑھی صاف۔ جب میں قادیان آیا تو ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب سجدہ میں سرنگوں ہیں اور نہ معلوم اپنے مولا سے کس قسم کے رازونیاز کی کیفیت میں غائب۔ ان کے لمبے سجدوں اور طول طویل نماز کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا۔چہرے پر داڑھی تھی میں پہچان نہ سکا۔ نماز سے فارغ ہونے پر انہوں نے مجھے خود ہی گلے لگا یا اور بتایا کہ وہ وہی مولا بخش بھٹی ہیں جو رعیہ میں ناظر تھے اور جس کی شہرت جیسی تھی سب کو معلوم ہے اور مجھے ان سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی کوئی کتاب غالباً براہین احمدیہ پڑھنے کے لئے والد صاحب نے انہیں دی اور جب وہ رعیہ سے تبدیل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق بخشی اور یہ وہ مشہور صحابی ہیں جن کی اولاد سے ہمارے نہایت مخلص دوست ڈاکٹر شاہ نواز ہیں جنہوں نے ملازمت کے بعد اپنے آپ کو خدمت دین اور اشاعت اسلام کے لئے وقف کیا۔‘‘

(حضرت سید ولی اللہ شاہ، ص77)


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ