• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کے نشانات اور اثرات

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

مَاکَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤمِنِیْنَ مَا اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ اللّٰہُ الْخبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَشَآئُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ

(آل عمران:180)

یارو مسیحِ وقت کہ تھی جن کی انتظار
راہ تکتے تکتے جن کی کروڑوں ہی مر گئے
آمد تھی ان کی یا کہ خدا کا نزول تھا
صدیوں کا کام تھوڑے سے عرصے میں کر گئے

کلی چٹکتی ہے، پھول کھلتا ہے، بند پنکھڑیوں کی مہک خوشبو کا روپ دھار کر عالم کو ایک پیغام دیتی ہے کہ خوابیدہ آنکھیں کھولو، بہار آئی ہے۔ دنیا کے اس چمن میں انبیاء کی آمد اس گلاب کی مانند ہے جو خزاں کے لمبے دور کے بعد بہار جانفزا کا مژدہ سناتا ہے۔

خاکسار رحمۃ للعالمین حضرت سید ولد آدم خاتم النبیّن ﷺ کے روحانی فرزند جلیل حضرت مسیح پاک مہدی موعود علیہ السلام کی صداقت پر کچھ لکھنا چاہتا ہے۔ مجھے اُس عظیم وجود کی صداقت پر بات کرنی ہے جس کی آمد عالمِ روحانیت میں انقلاب کا باعث بنی۔ مجھے اُس باغ و بہار شخصیت کی بات کرنی ہے جس کے آنے سے رنگ و نور کا سیلاب امڈ آیا اور عالمِ روحانی کشتِ زعفران ہوگئی۔ جس نے انسانی روح کو سیراب کرنے والا پیغام دیا، جس عشقِ الٰہی کی جستجو رکھنے والوں کو ایک نہایت پیارے خزانے، ایک زندہ خدا کا پتہ دیا۔ جس نے انسان کو بتایا کہ خدا اب بھی انسان سے بات کرتا ہے اورثبوت کے لئے اپنے وجود کو پیش کیا۔ فرماتے ہیں

وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم
اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار
گلشنِ احمد بنا ہے مسکنِ بادِ صبا
جس کی تقریروں سے سنتا ہے بشر گفتارِ یار

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ ایسا نہیں کہ مومنوں کو اس حال میں چھوڑ دے جس پر تم ہو، یہاں تک کہ خبیث کو طیب سے نتھار کر الگ کردے اور اللہ کی یہ سنت نہیں کہ تم (سب) کو غیب پر مطلع کرے بلکہ اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے چُن لیتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اگر تم ایمان لے آؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارے لئے بہت بڑا اجر ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ جب بھی یہ حالات پیدا ہوں کہ پتا نہ چلے کون پاک ہے اور کون ناپاک۔کون اچھا ہے اور کون بُرا،اور کون طیب ہے اور کون خبیث۔ تو اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہے جس پر ایمان لانے والے پاک اور طیب ہوتے ہیں۔ اس امت یعنی امتِ محمدیہ میں بھی یہی ہونے والا تھا۔ چنانچہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے آخری زمانہ کے حالات نہایت تفصیل سے بیان فرمادیئے تھے۔ آپؐ نے آخر زمانہ کے حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا تھا۔

’’عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اس زمانہ کے لوگوں کی مسجدیں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔‘‘

(مشکوٰۃ، کتاب العلم الفصل الثالث صفحہ 38 صفحہ43)

اسی طرح فرمایا اے مسلمانو! تم پہلی قوموں کے حالات کی پیروی کرو گے جس طرح ایک بالشت دوسری بالشت کے مشابہ ہوتی ہے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے مشابہ ہوتا ہے اسی طرح تم پہلی قوموں کے نقشِ قدم پر چلو گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا یہودونصاریٰ کے نقشِ قدم پر چلیں گے؟ آپؐ نے فرمایا اور کس کے؟

(بخاری کتاب الاعتصام)

نیز فرمایا تھا بنی اسرائیل کے بہتر فرقے ہوگئے تھے اور میری اُمت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے۔ ان تہتر میں سے سوائے ایک فرقے کے باقی سب دوزخ میں جائیں گے۔

(ترمذی ابواب الایمان باب افتراق ہذہ الامۃ)

عصر حاضر میں انسانیت کے گم کردہ راہ قافلے نے جس طرح اللہ تعالیٰ کے برگزیدوں اور فرستادوں کی تعلیم کو فراموش کر دیا اس کی نظیر بہت کم ملتی ہے عوام سے لے کر علماء تک کے سبھی طبقے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو بلاتفریق امت مرحومہ کے مرثیہ خواں نظر آتے تھے اور بزرگان حال و قال کہہ رہے تھے کہ جو تاریکی چھٹی صدی عیسوی میں جہالت نے پھیلائی تھی جبکہ اسلام کا ظہور ہوا تھا ویسی ہی روحانی تاریکی اور ظلمت آج پھر پوری شدت سے عود کر آئی ہے۔اخلاق و تمدن، معیشت واقتصاد اور عقائداور روحانیت کا کوئی ایسا خوفناک مرض نہیں جو انسانیت کو لاحق نہ ہو۔ خاص طور پر احادیث مذکورہ میں جو نقشہ آنحضرت ﷺ نے امت محمدیہ کا کھینچا ہے وہ من و عن پورا ہو گیا اس صورتحال کانقشہ ایک معروف عالم دین جناب نواب صدیق حسن خانؒ ان الفاظ میں کھینچتے ہیں۔’’اب اسلام کا صرف نام قرآن کا صرف نقش باقی رہ گیا ہے۔ علماء اس امت کے بدتر ان کے ہیں جو نیچے آسمان کے اور اوپر زمین کے ہیں۔ انہی سے فنتے نکلتے ہیں اور انہی کے اندر پھر کر جاتے ہیں۔‘‘

(اقتراب الساعۃ ص12)

مولانا الطاف حسین حالی اُمّت کو ایک باغ سے تشبیہ دے کرلکھتے ہیں۔

پھر اک باغ دیکھے گا اُجڑا سراسر
جہاں خاک اُڑتی ہے ہر سُو برابر
نہیں زندگی کا کہیں نام جس پر
ہری ٹہنیاں جل گئیں جس کی جل کر
نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل
ہوئے رُوکھ جس کے جلانے کے قابل

نیز لکھا

نہیں دین باقی نہ اسلام باقی
اک اسلام کا رہ گیا نام باقی

علامہ اقبال مسلمانوں کی حالت کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں۔

رہ گئی رسمِ اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواہ ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہے
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

جماعتِ اسلامی کے بانی مولانا مودودی لکھتے ہیں۔

’’یہ انبوہِ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا یہ حال ہے کہ اُس کے 999فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہے۔ نہ اُن کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔ باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آرہا ہے اس لئے یہ مسلمان ہے۔‘‘

(موجودہ سیاسی کشمش حصہ سوم صفحہ130مطبوعہ آرمی پریس دہلی)

عزیز دوستو! اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے

وَ اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ وَھُوَا لْعَزِیْزُا لْحَکِیْم

(الجمعۃ :4)

ترجمہ ۔اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی (وہ اسے بھیجے گا) جو ابھی تک ان سے ملی نہیں اور وہ غالب اور حکمت والا ہے ۔

بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ رسول کریم ﷺ نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ !یہ آخرین کون ہیں؟

رسول کریم ﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا کہ ِان میں سے ایک شخص ہوگا جو اُس وقت اگر ایمان ثریا سیارہ پر بھی چلا گیا ہوگا تو وہ اسے واپس زمین پر لائے گا۔

رسول کریم ﷺ نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارہ میں پیشگوئی فرمائی تھی کہ امت پر ایک ایسا دور آئے گا کہ دین میں بگاڑ آجائے گا جسے امام مہدی کے سوا کوئی او ر دور نہ کرسکے گا۔

23مارچ 1889ء کو اللہ تعالیٰ کے حکم اور آنحضور ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے جماعت احمدیہ کا مبارَک آغاز کیا اور فرمایا ’’کہ میر ااس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنا محض مسلمانوں کی اصلاح کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں تینوں قوموں کی اصلاح منظور ہے۔‘‘

وقت تھا وقتِ مسیحا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا

حضرت مسیح موعود ؑ نے جماعت کو یہ خوشخبری سنائی۔

’’تم خدا کے ہاتھ کا بیج ہو جو دنیا میں بویا گیا۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک درخت ہوجائے گا۔‘‘

(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد20 ص309)

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاماً فرمایا۔ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق حضور کی زندگی میں کثرت سے لوگ جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے ا ِس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ دنیا کے دو سَو سے زائد ممالک میں قائم ہوچکی ہے۔ اب دنیا بھر میں احمدیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضور کے الہام کے مطابق دنیا کے کناروں تک پہنچ چکی ہے۔ جو جماعت احمدیہ کے شاندار مستقبل کی علامت ہے۔

میں وہ پانی ہوں جوآیا آسماں سے وقت پر
میں ہوں وہ نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار

اے کاروان احمدیت کے مسافرو! کسی بھی قوم یا جماعت کے مستقبل کا اندازہ اس کے ماضی اور حال کے آئینہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔جماعت احمدیہ کے زندہ ماضی اور تابندہ حال کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا ۔اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام دنیا میں پھیلائے گا …اور خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈھیں گے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے مسیح کو خبر دی تھی کہ وہ اس الہٰی سلسلہ کو بہت ترقی دے گا ۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں۔ اے تما م لوگو سن رکھو! کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا۔

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20صفحہ66)

اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے آثار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ہی دیکھ لئے تھے۔ جن سے آپ کا دل خدا تعالیٰ کی حمدوثناء سے بھر گیا اور آپ کی زبانِ مبارک نے یہ اقرار کیا۔ ؎

اک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیا
میں خاک تھا اُسی نے ثریا بنادیا

قرآن کریم قیامت تک کے لئےایک جامع اور کامل شریعت ہے جس میں قیامت تک پیدا ہونے والے تمام مسائل کا حل بتایا گیاہے۔ ہر مسئلہ کے بارہ میں نہ صرف ہدایت دی ہیں بلکہ اس کے دلائل اورحکمتیں بھی بیان کر دی گئی ہیں۔ ایک نبوت کے دعویدار کی صداقت کو پہچاننے کا مسئلہ بھی نہایت ضروری اور اہم مسئلہ ہے۔ اس لئے سب سے پہلے خاکسار قرآن کریم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت کرے گا۔

آنحضور ﷺ کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اے نبی تو ان سے کہ دے فَقَد لَبِثتُ فِیکُم عُمُراً مِنْ قَبلِہٖ اَفَلا تَعقِلُون اس سے پہلے میں ایک عرصہ دراز تم میں گزار چکا ہوں کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ میں دعویٰ نبوت سے قبل تم میں ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں کیا تم نے مجھے کبھی جھوٹ بولتے دیکھا ہے۔ اگر میں نے اپنی چالیس سالہ زندگی میں جو دعویٰ نبوت سے قبل کی ہے کسی ایک معاملہ میں بھی جھوٹ نہیں بولا تو کیا تمہاری عقل اس بات کو تسلیم کرے گی کہ آج اچانک میں خدائے تعالیٰ کے بارے میں جو احکم الحاکمین ہے جھوٹ اور افترا سے کام لینے لگا ہوں۔

انسانی فطرت تو یہ ہے کہ ہر عادت خواہ نیکی کی ہو یا بدی کی آہستہ آہستہ پڑتی ہے یہ تو فطرت کے ہی خلاف ہے کہ چالیس سال تک انسان سچ بولتا رہا ہو اور اچانک ایسا تغیر پیداہو جائے کہ انسان خدا کے بارے میں جھوٹ بولنے لگ جائے۔

رسول کریم ؐنے اپنا دعویٰ نبوت پیش کرنے سے پہلے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے دریافت کیا کہ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر جرار چھپا ہوا ہے تو کیا تم اس بات کو مان لو گے ؟تو انہوں نے کہا َاجَرَّبْنَاعَلَیْکَ اَلاَّصِدْقًا یعنی ہم نے آپ سے سوائے سچ کے کسی اور چیز کا تجربہ نہیں کیا۔ تب آپ نے فرمایا کہ میں خدا کی طرف سے نبی ہو کر آیا ہوں اور ایک خطرناک عذاب سے تمہیں ڈراتا ہوں۔ یہ بات سن کر حاضرین میں سے ابولہب اٹھا اور اس نے کہا تَبّاًلَکَ یعنی تیرے لئے ہلاکت ہو تو نے یہ کیا بات کہی ہے۔

اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی دوست اور دشمن سب کے تجربہ کی رو سے نہایت پاک اور صاف ہوتی ہے اور وہ جھوٹ بولنے کا قطعاً عادی نہیں ہوتا۔ درحقیقت اس کی دعویٰ نبوت سے بعد کی زندگی بھی پاک اور صاف ہوتی ہے لیکن دلیل ہے جو فطرت ِانسانی کے عین مطابق ہے اور جاہل سے جاہل بھی اس کو سمجھ سکتاہے۔ اسی دلیل کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی سچے قرار پاتے ہیں۔ دیکھئے حضور اپنی پاکیزہ زندگی کے بارہ میں کیسی تحدی سے فرماتے ہیں۔‘‘اب دیکھو خدا تعالیٰ نے اپنی حجت کو تم پر اس طرح پورا کر دیا کہ میرے دعویٰ پرہزار دلائل قائم کر کے تمہیں موقع دیا تاکہ تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے خود کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب، افترایا دغا کا یاجھوٹ کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جوشخص پہلے سے جھوٹ اورافتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ ہی بولا ہو گا۔ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے ۔پس یہ خدا کا فضل ہے جو اس نے مجھے ابتداء سے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔‘‘

اس چیلنج کو پیش کئے آج سو سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے لیکن کوئی شخص حضور کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی پر نکتہ چینی نہیں کر سکا۔پس اگر دعویٰ نبوت سے قبل کی پاکیزہ زندگی حضور ؐکی صداقت کی دلیل ہے تو یقیناحضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کی بھی دلیل ہے کیونکہ آپ نے بھی دنیا کے سامنے خدائی مرسل ہونے کا دعویٰ پیش کیا تھا۔

وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آیا ہوتا توکوئی اورہی آیا ہوتا

کسی نے کیا خوب کہا ہے الفضلُ مَا شہدت بہ الاعداء۔ فضیلت تو وہ ہوتی ہے جس کی گواہی دشمن بھی دینے پر مجبور ہوجائے۔

حضرت بانئ سلسلہ احمدیہ کے دعویٰ سے پہلے کی پاکیزہ زندگی کے متعلق کئی غیروں کی شہادتیں ملتی ہیں۔ چنانچہ مشہور اہلحدیث لیڈر مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ ‘‘اشاعۃ السنہ‘‘ حضرت اقدس کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’براہین احمدیہ‘‘ پر ریویو کرتے ہوئے آپ کے متعلق لکھتا ہے۔ ’’مؤلف براہین احمدیہ مخالف و موافق کے تجربے اور مشاہدے کی رو سے (واللّٰہ حسیبہ) شریعت محمدؐیہ پر قائم و پرہیز گار و صداقت شعار ہیں۔‘‘

(رسالہ ’’اشاعتہ السنہ‘‘ جلدنمبر7 ص 6)

مشہورصحافی جناب منشی سراج الدین صاحب بانی ‘‘زمیندار‘‘ اخبار لاہور نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے حق میں اپنی چشم دید گواہی دی کہ
’’ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔ ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا عوام سے کم ملتے تھے۔ 1877ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے یہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی ان دنوں میں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر محو و مستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی بہت کم گفتگو کرتے تھے۔‘‘

(اخبار ’’زمیندار‘‘ 8جون 1908ء)

مولانا ابوالکلام آزاد فرماتے ہیں۔ ’’کیریکٹر کے لحاظ سے مرزا صاحب کے دامن پرسیاہی کا چھوٹے سے چھوٹا دھبہ بھی نظر نہیں آتا وہ ایک پاکباز کا جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی غرضیکہ مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے پچاس سالوں نے بلحاظ اخلاق و عادات اور کیا بلحاظ خدمت و حمایت دین مسلمانان ہند میں ان کو ممتازو برگزیدہ اور قابل رشک مرتبہ پر پہنچا دیا۔‘‘

(اخبار ’’وکیل‘‘ امرتسر30 مئی1908ء)

حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف نے فرمایا:۔’’حضرت مرزا غلام احمد قادیانی حق پر ہیں اور اپنے دعویٰ میں راست باز اور صادق ہیں اور آٹھوں پہر اللہ تعالیٰ حق سبحانہٗ کی عبادت میں مستغرق رہتے ہیں۔ا ور اسلام کی ترقی اور دینی امور کی سربلندی کے لئے دل و جان سے کوشاں ہیں میں ان میں کوئی مذموم اور قبیح چیز نہیں دیکھتا۔ اگر انہوں نے مہدی اور عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو یہ بھی ایسی بات ہے جو جائز ہے۔‘‘

(اشارات فریدی جلد نمبر3 ص79۱ ترجمہ از فارسی)

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی صداقت اور سچائی کے جو بھی معیار بیان فرمائے ہیں وہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کو بھی اظہر من الشمس کی طرح ثابت کر رہے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

کَتَب اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ

(المجادلہ:22)

اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر فرض کردیا ہے کہ وہ اور اُس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے وہ قوت والا اور غالب ہے۔

اسی طرح فرمایا اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْھَادُ

(المومن:52)

ہم ضرور اپنے رسولوں کی اور اُن لوگوں کی جو ہمارے رسولوں پر ایمان لائے ہیں دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی مددکیا کرتے ہیں اور اگر مدعی کا دعویٰ جھوٹا ہو تواللہ تعالیٰ سزا بھی دیتا ہے جیسے کہ فرمایا

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلَ لَاَخَذْنَا مِنْہُ بَالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ فَمَا مِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزیْنَ

(الحاقۃ: 45 تا 48)

یعنی اگر یہ رسول جان بوجھ کر ہم پر جھوٹ باندھ رہا ہوتا تو ہم اس کادایاں ہاتھ پکڑ لیتے اوراس کی رگِ جان کاٹ ڈالتے اور تم میں کوئی اسے بچا نہ سکتا۔

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قانون جاری ہیں ایک یہ کہ وہ اپنے رسولوں کی نصرت کرتا ہے اُن کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے اور دوسرا یہ کہ جو لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر افتراء کررہے ہوتے ہیں اور ایک بات کو جھوٹ بنا کر پیش کرتے ہیں تو اُن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نہیں ملتی۔ بلکہ وہ ہلاک کئے جاتے ہیں۔

اب آپ ان آیات کے مطابق سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کو ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا تھا کہ آپ اللہ کی طرف سے ہیں۔ اگر آپؑ اس دعویٰ میں مفتری ہوتے اور جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہوتے توآپ کو ہلاک ہوجانا چاہئے تھا کہ اللہ تعالیٰ کی سُنت ہے کہ وہ مفتری کو ہلاک کرتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آپ کو محفوظ رکھا بلکہ باوجود شدید مخالفت کے آپ کامیاب ہوئے ۔اپنے دعویٰ کو لوگوں سے منوایا ، دشمنوں کے حملوں سے بچ گئے اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات آپ ؑ کے لئے نازل ہوئیں۔

کبھی نصرت نہیں ملتی درِ مولا سے گندوں کو
کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو

قرآن کریم کے بعد ہم اپنے پیارے آقا کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ کی احادیث سے کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سچائی پر روشنی پڑتی ہے۔

ہمارے آقاومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اسلام کے آخری دور میں ضعفِ اسلام کے وقت اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لئے مسیح موعودؑ کی بعثت کی خبر دی اور مسیح موعود کی شناخت اور پہچان کے لئے بھی قدم قدم پر رہنمائی فرمائی۔ کہیں زمانے کی نشاندہی فرمائی، کہیں مسیح موعود کا حلیہ بیان فرمایا، کہیں آپ کی خاطر رونما ہونے والے معجزات کی پیشگوئیاں فرمائیں اور کہیں آپ ؑ کے مقابل آنے والی اقوام کے حالات اوردجال اور یاجوج ماجوج کی خبر یں دیں۔ غرض ہر انداز اور ہر جہت سے آپ ؐ نےحضرت مسیح موعودؑ کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت فرمائی۔


حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کا ایک عظیم المرتبت اور بلند شان نشان جوہر انسانی دخل کے بغیر اور قدرت الٰہی کا شاہکار نشان ہے اور جورسول اللہﷺ نے بہت روشن اورواضح بیان فرمایاہے۔آپؐ فرماتے ہیں۔

اِنَّ لمہدینا ایٰتینِ لم تکونا مُنذُ خلقِ السماواتِ والارضَ ینکَسِفُ القمر لِاَوّلِ لیلۃِِ من رَّمَضَانَ و تنکَسِفُ الشِمْسُ فیِ النِصفِ منہ

(دارقطنی صفحہ 188)

یعنی ہمارے مہدی کی صداقت کے لئے دو ایسے عظیم نشان ظاہر ہوں گے کہ زمین وآسمان کی تخلیق سے لے کر آج تک کبھی ایسے نشان کسی کے لئے رونما نہیں ہوئے۔اور وہ نشان یہ ہیں کہ مہدی موعودؑکے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کو اس کی گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات کو گرہن لگے اور اسی رمضان میں سورج بھی امام مہدی کی صداقت کے لئے گہنا یا جائے گا اور اسے اس کی گرہن کی تاریخوں میں سے درمیانے دن گرہن لگے گا۔

حضرت مسیح موعودؑ و مہدی موعودؑ کی صداقت کی جانچ کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ کا بیان فرمودہ یہ نشان بہت بلند اور روشن معیار صداقت ہے۔جو کسی انسان کے بس میں نہیں کہ اسے ظاہر کرسکے۔حضرت مسیح موعودؑ نے 1882ء میں ماموریت کا دعویٰ فرمایا۔ 1889ء میں لوگوں نے آپ پر ایمان لانا شروع کیا کچھ لوگ یقینا چاند اور سورج گرہن کے اس نشانِ صداقت کے رونما ہونے کے منتظر بھی تھے۔چنانچہ خدا کی تقدیر نے جلوہ نمائی کی اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی یہ پیشگوئی 1894ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی خاطر پوری ہوئی ۔ جب 1894ء کے رمضان کی 13 تاریخ کو چاند کا حسن مسیح موعودؑ کی خاطر ماند پڑا اور اسی رمضان کی 28تاریخ کو آپ کے واسطے سورج بھی گہنا گیا اور آپ کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر گیا۔

آپ کیا خوب فرماتے ہیں۔

آسمان میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ
چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک وتار

میرے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ولَیُترکُنَّ القِلاصُ فَلا یُسْعیٰ عَلَیھا کی پیشگوئی فرما کے مسیح موعودؑ کے زمانے کی بھی خبر دی۔ اور حضرت سلمان فارسیؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر امام مہدی کی قوم کی نشاندہی بھی فرما دی۔ پھر دجال اور یاجوج ماجوج کے واقعات و نشانات اور ان سے مسیح موعودؑ کے مقابلہ کا ذکر فرما کے آپ نے مسیح موعودؑ کے زمانے کی پہچان کو ہمارے لئے آسان تربنا دیا۔

صاف دل کو کثرت ِاعجاز کی حاجت نہیں
اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف ِکردگار

آپ اپنے روحانی مشن کے لحاظ سے انتہائی کامیاب زندگی گزار کر26 مئی 1908ء برو ز منگل لاہور میں وفات پا کر اس دارفانی سے کوچ کرکے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اور 27مئی 1908ء کو قادیان ضلع گورداسپور میں بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

آپ علیہ السلام کی رحلت جہاں ہر احمدی کے لئے ایک دل سوز واقعہ تھی وہاں غیرازجماعت لیکن اہل عقل و دانش کے لئے بھی کسی صدمہ سے کم نہ تھی۔ آپ کے وصال پر بہت سے اہل قلم نے غم و اندوہ کا اظہار کرتے ہوئے آپ علیہ السلام کے فضائل کا بھی ذکر کیا۔ چنانچہ جناب مولانا ابوالکلام آزاد ایڈیٹر اخبار وکیل امرتسر حضور کی وفات پر ’’موت عالم‘‘ کے عنوان سے رقمطراز ہیں۔ ’’وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر اور زبان جادو…… وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان بنا رہاجو شور قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا خالی ہاتھ دنیا سے اٹھ گیا…… مرزا غلام احمد قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے۔ ایسے شخص جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تودنیا میں ایک انقلاب پیدا کرکے دکھا جاتے ہیں۔ مرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ،ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کر ا دیا ہے کہ ان کا ایک بہت بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہیں مجبورکرتی ہے کہ اس احسان کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے…… میرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابل پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جب وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے…… آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو۔‘‘

(اخبار وکیل امرتسر30مئی 1908ء)

جناب مولانا ابوالنصر غلام یٰسین برادر مولانا ابوالکلام آزاد۔ اپریل 1905ء میں قادیان تشریف لائے اور واپسی پر اپنے تأثرات اخبار وکیل امرتسر میں بدیں الفاظ میں شائع فرمائے۔ ‘‘میرزا صاحب کی صورت نہایت شاندار ہے جس کا اثر بہت قوی ہوتا ہے آنکھوں میں خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے۔ طبیعت منسکر مگر حکومت خیز، مزاج ٹھنڈا مگر دلوں کو گرما دینے والا بردباری کی شان نے انکساری کی کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیا ہے۔ گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے گویا متبسم ہیں۔ رنگ گورا ہے بالوں کو حنا کا رنگ دیتے ہیں۔ جسم مضبوط اور محنتی ہے۔ سر پر پنجابی وضع کی سفید پگڑی باندھتے ہیں پاؤں میں جراب اور دیسی جوتی ہوتی ہے۔ عمر تقریباً 66سال کی ہے۔ مرزا صاحب کے مریدوں میں مَیں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں خوش اعتقاد پایا۔‘‘

(اخبار وکیل امرتسر 1905ء)

(علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ1908ء بحوالہ تشحیذ الاذہان جلد3 نمبر8صفحہ322۔ 1908ء)

حضرت اقدس بانئ سلسلہ احمدیہ کے مشہور لیکچر ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے متعلق اخبار جنرل و گوہر آصفی کلکتہ نے جلسہ مذاہب عالم لاہور 1896ء کے اختتام پر لکھا:۔ ’’حق تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر اس جلسہ میں حضرت مرزاصاحب کا مضمون نہ ہوتا تو اسلامیوں پر غیر مذاہب والوں کے روبرو ذلت و ندامت کا قشقہ لگتا ہے۔ مگر خدا کے زبردست ہاتھ نے مقدس اسلام کو گرنے سے بچا لیا۔ بلکہ اس کو مضمون کی بدولت فتح نصیب ہوئی۔‘‘

(اخبار جنرل وگوہر آصفی کلکتہ مورخہ24 جنوری 1897ء)

اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافتِ خامسہ کے بابرکت دَور میں جماعتِ احمدیہ خیرِ اُمت بنتے ہوئے دنیا بھر میں تبلیغِ اسلام، مساجد کی تعمیر، قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم، ہسپتالوں اور سکولوں کا قیام کررہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب تمام دنیا پر احمدیت کا جھنڈا لہرائے گا اُ س وقت ایک خدا ،ایک رسول اور ایک قِبلہ ہوگا۔ تب ایک نیا آسمان ہوگا اور نئی زمین ہوگی۔ یہی جماعت ِ احمدیہ کا شاندار مستقبِل ہے۔

جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا۔ اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔ اور میرے فرقہ کے لوگ اِس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا مُنہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔ بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلا آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھادے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔ اور خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ مَیں تجھے برکت پربرکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔

سو اے سُننے والو! اِن باتوں کو یاد رکھو۔ اور اِن پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ کرلو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔‘‘

(تجلیاتِ الٰہیہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ409)

علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ نے لکھا۔ ‘‘مرحوم ایک مانے ہوئے مصنف اور مرزائی (احمدی) فرقہ کے بانی تھے آپ کی پیدائش 40-1839میں ہوئی آپ نے علوم شرقیہ میں کمال حاصل کیا۔ اپنی زندگی کے آخری دن تک کتابوں کے عاشق رہے اور دنیوی پیشوں سے پرہیز کرتے رہے۔ 1874ء تا 1876ء عیسائیوں، آریوں، برہموں کے خلاف شمشیر قلم خوب چلایا۔ آپ نے 1880ء میں تصنیف کا کام شروع کیا۔ آپ کی پہلی تصنیف (براہین احمدیہ) اسلام کے ڈیفنس میں تھی جس کے جواب کے لئے آپ نے دس ہزار روپے کا انعام رکھا۔ آپ نے انیسویں صدی کے لئے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ 1889ء میں بیعت لینی شروع کی… آپ نے اپنی تصنیف کردہ اسی 80 کتابیں پیچھے چھوڑیں جن میں سے بیس 20عربی زبان میں ہیں بے شک مرحوم اسلام کا ایک بڑا پہلوان تھا۔‘‘

چودھری افضل حق صدر جمیعۃ الاحرار رقمطراز ہیں۔

’’آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسد بے جان تھا جس میں تبلیغی حِس مفقود ہو چکی تھی۔ سوامی دیانند کی مہذب اسلام کے متعلق بدظنی نے مسلمانوں کو تھوڑی دیر کے لئے چوکنا کر دیا مگر حسب معمول جلدی خواب گراں طاری ہو گئی…… مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی ہاں ایک دل (حضرت مسیح موعودؑ مرادہیں۔ ناقل) مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اٹھا۔ ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کرکے اسلام کی نشرو اشاعت کے لئے بڑھا اور اپنی جماعت میں اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے بلکہ دنیا کی تمام جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔‘‘

(فتنۂ ارتداد اورپولیٹیکل قلا بازیاں ص46)

خواجہ حسن نظامی دہلوی صاحب کا بیان اخبار ’’منادی‘‘ میں یوں شائع ہوا۔ ’’مرزا غلام احمدصاحب اپنے وقت کے بہت بڑے فاضل بزرگ تھے …… آپ کی تصانیف کے مطالعہ اور آپ کے ملفوظات کے پڑھنے سے بہت فائدہ پہنچ رہا ہے اور ہم آپ کے تبحر علمی اور فضیلت و کمال کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔‘‘

(اخبار ’’منادی‘‘ 27 فروری 4 مارچ1930ء)

مولوی عبدالماجد دریا آبادی لکھتے ہیں۔ ‘‘مرزا صاحب تو بہرحال اپنے تئیں مسلمان اور خادم اسلام کہتے ہیں اور مسیحیوں، آریوں، ملحدوں کے جواب میں سینکڑوں ہزاروں صفحے لکھ گئے ہیں۔‘‘

(اخبار ‘‘سچ‘‘ بحوالہ پیغام صلح 22 جنوری 1926ء)

اخبار ’’جیون تت‘‘ میں دیو سماج کے سیکرٹری نے لکھا۔ ’’وہ اسلام کے مذہبی لٹریچر کے خصوصیت سے عالم تھے، سوچنے اور لکھنے کی اچھی طاقت رکھتے تھے۔ کتنی ہی بڑی بڑی کتابوں کے مصنف تھے۔‘‘

(بحوالہ البدر2جولائی 1908ء)

شاعرمشرق علامہ اقبال نے اپنے بعض انگریزی مضامین میں حضرت اقدس کی زندگی میں صاف صاف لکھا کہ

’’آپ جدید ہندی مسلمانوں میں سب سے بڑے دینی مفکر ہیں۔‘‘

(انڈین انکوائری جلد29ستمبر1900ء ص237
بحوالہ الفرقان جون 1955ء)

نواب محسن الملک۔آپ سر سید مرحوم کے سیاسی جانشین اور آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے جنرل سیکرٹری تھے۔ حضور کی خدمات کو سراہتے ہوئے 2 اکتوبر 1895ء کو بمبئی سے مندرجہ ذیل مکتوب لکھا۔ ’’درحقیقت دینی مباحثات و مناظرات (میں) جو دل شکن اور جیسی درد انگیزی باتیں لکھی اور کہی جاتی ہیں وہ دل کو نہایت بے چین کرتی ہیں اور اسے ہر شخص کو جسے ذرا بھی اسلام کا خیال ہو گا روحانی تکلیف پہنچتی ہے۔ خدا آپ کو اجر دے کہ آپ نے ایک دلی جوش سے مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہا ہے۔ یہ کام بھی آپ کا منجملہ او ربہت سے کاموں کے ہے جو آپ مسلمانوں کے بلکہ اسلام کے لئے کرتے ہیں۔‘‘

(الحکم 7اگست1934ء)

شمس العلماء سید میر مہدی حسن مرحوم استاد علامہ اقبال۔ اپنے ایک مکتوب میں حضور کے زمانہ قیام سیالکوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’ادنیٰ تأمل سے بھی دیکھنے والے پر واضح ہو جاتا تھا کہ حضرت اپنے ہر قول و فعل میں دوسروں سے ممتاز ہیں۔‘‘

(بحوالہ سیرۃ المہدی حصہ اول ص270)

پھر ایک ملاقات میں چشم پُر آب ہو کر فرمایا۔ ’’افسوس ہم نے ان کی قدر نہ کی۔ ان کے کمالات روحانی کو بیان نہیں کر سکتا۔ ان کی زندگی معمولی انسان کی زندگی نہ تھی بلکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو خداتعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں اور دنیا میں بھی کبھی آتے ہیں۔‘‘

(الحکم 17 اپریل 1934ء)

علامہ اپنے ایک بیان میں لکھتے ہیں۔

’’آپ عزلت پسند اور پارسار اور فضول و لغو سے مجتنب اور محترز تھے۔‘‘

نیز لکھا۔

’’کچہری سے جب تشریف لاتے تھے تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے۔ بیٹھ کر کھڑے ہو کر ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے اور زار و قطار رویا کرتے تھے۔ ایسی خشوع اور خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اول ص 270۔272)


(عبدالقدیر قمرؔ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ