• 19 اپریل, 2021

حضرت مسیحِ موعودؑ اور تعلیمِ قرآن کا بیان

یہ زمانہ اس لحاظ سے بہت مبارک زمانہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانے میں امام مہدی اور مسیح موعود کا ظہور مقدر تھا۔ چنانچہ اس زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے یہ دعوٰی فرمایا کہ میں ہی مسیحِ موعود اور امام مہدی ہوں کیوں کہ یہ زمانہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے۔

وقت تھا وقتِ مسیحا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا

پھر آپ فرماتے ہیں۔

میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر
میں ہوں وہ نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار

آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی

آنحضرتؐ نے آخری زمانے کی علامات میں سے فرمایا تھا کہ
یوُ شک ان یاتی علی الناس زمان لا یبقیٰ من الاسلام الاّ اسمہ ولا یبقیٰ من القرآن الّا رسمہ مساجد ھم عامرۃ وھی خراب من الھدیٰ و علما ء ھم شر من تحت ادیم السماؔءِ من عندھم تخرج الفتنۃ وفیھم تعود۔

یعنی لوگوں پر وہ زمانہ آتا ہے کہ اسلام کا محض نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے محض الفاظ رہ جائیں گے (یعنی عمل جاتا رہے گا) اس زمانے کے لوگوں کی مساجد تو بظاہر آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہونگی اور اُن کے علماء آسمان کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے۔ اُن سے ہی فتنہ پیدا ہوگا اور انہی میں لوٹ جائے گا۔

(مشکوۃ کتاب العلم۔ شعیب الایمان از امام بیہقی۔ بحارلانوار)

اس حدیث میں بیان کردہ اسلام کی حالتِ زار کی ساری پیشگوئیاں من و عن پوری ہو چکی ہیں۔ اور ہرروز پوری ہوتی ہم مشاہدہ کر رہے ہیں۔

ترمذی ابواب الایمان میں بھی ایک اور حدیث یوں بیان ہوئی ہے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہودی اکہتر (71) یا بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اسی طرح نصاریٰ کا حال ہوا۔ اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔

اور پھر ترمذی کتاب الایمان ہی میں ایک اور وضاحت بھی بیان کی گئی ہے کہ اِن 73 فرقوں میں صرف ایک فرقہ ناجیہ ہو گا اور پھر اسکی بھی اہم علامت یہ بیان فرمائی کہ ’’ما انا وعلیہ واصحابی‘‘ کہ وہ جماعت میرے اور میرے صحابہ کے نمونہ اور نقشِ قدم پر چلنے والی ہو گی۔

چنانچہ حکومتِ پاکستان کی قومی اسمبلی نے 4 ستمبر 1974 کو فیصلہ کر کے بتا دیا کہ وہ ناجی فرقہ جو رسول اللہ ﷺ اور آپ ؐ کے صحابہ کے نقشِ قدم پر چلنے والی جماعت احمدیہ ہی ہے۔ الحمداللہ علیٰ ذالک۔ کیوں کہ اس میں سارے مسلمان فرقے ایک طرف اور جماعت احمدیہ ایک طرف۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہی جماعت احمدیہ ایک جماعت ہے جو اللہ اور اسکے رسولؐ کی خاطر جان و مال اور وقت و عزت کی قربانیاں دے رہی ہے۔ یہ وہی منفرد جماعت ہے جو آج کلمہ لاالہ الااللّٰہ محمدؐ رسول اللّٰہ، اذان، تبلیغ، حج، نماز اوراسلامی شعار کو اپنانے سے جسے روکا گیا اور روکا جا رہا ہے جیسے آپؐ اور آپؐ کے صحابہ روکے گئے تھے۔ اور یہ جماعت ایک امام خلیفۃ المسیح کے ہاتھ پر ایسی متحد ہے کہ جس کی نظیر دنیا میں تلاش کرنے سے مل نہیں سکتی۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ’’یداللّٰہ فوق الجماعۃ‘‘ کہ خدا کی تائید و نصرت اسکے شاملِ حال ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کے آنے کا مقصد اور مشن

مناسب ہو گا کہ آپ کے آنے کا مقصد اور آپ کے مشن کے بارے میں آپ ہی کے الفاظ میں لکھا جائے۔ ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں:
’’انبیاء علیہم السلام کے دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور اُن کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا کو شناخت کریں اور اس زندگی سے جو انہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے اور جس کو گناہ آلود زندگی کہتے ہیں نجات پائیں ۔۔۔ پس اس وقت بھی جو خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم کیا ہے اور اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے تو میرے آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی یعنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے؟ بلکہ دکھانا چاہتا ہوں اور گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف راہبری کرتا ہوں۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم)

پھر فرماتے ہیں: ’’یہ عاجز تو محض اس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا دے کہ دنیا کے مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن لایا ہے اور دارالنجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لاالہ اللہ محمدؐ رسول اللہ ہے۔‘‘

(حجۃ الاسلام)

فرماتے ہیں: ’’میں آسمان سے اترا ہوں اُن پاک فرشتوں کے ساتھ جو مرے دائیں بائیں تھے جن کو مرا خدا جو مرے ساتھ ہےمرے کام کو پورا کرنے کے لئے ہر ایک مستعد دل میں داخل کرے گا بلکہ کر رہا ہے اور اگر میں چپ بھی رہوں اور میری قلم لکھنے سے رکی بھی رہے تب بھی وہ فرشتے جو مرے ساتھ اترے ہیں اپنا کام بند نہیں کر سکتے اور اُن کے ہاتھ میں بڑی بڑی گرزیں ہیں جو صلیب توڑنے اور مخلوق پرستی کے ہیکل کچلنے کے لئے دئے گئے ہیں۔‘‘

(فتح اسلام)

پھر آپؑ فرماتے ہیں: ’’ایساہی یہ عاجز بھی اسی کام کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا قرآن شریف کے احکام بہ وضاحت بیان کر دیوے‘‘

قرآن کریم کے متعلق فرماتے ہیں: ’’ہمارے نزدیک تو مومن وہی ہے جو قرآن شریف کی سچی پیروی کرے اور قرآن شریف کو خاتم الکتب یقین کرے اور اس شریعت کو جو آنحضرت ﷺ دنیا میں لائے تھے اُسکو ہمیشہ تک رہنے والا مانے اور اس میں ایک ذرہ بھر اور ایک شعشہ بھی نہ بدلے اور اسکی اتباع میں فنا ہو کر اپنا آپ کھو دے اور اپنے وجود کا ہر ذرہ اسی راہ میں لگائے ۔ عملاً اور علماً اسکی شریعت کی مخالفت نہ کرے، تب پکا مسلمان ہوتا ہے۔‘‘

(الحکم 6 مئی 1908 صفحہ5)

اپنی آمد کا مقصد بیان کرتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح علیہ السلام جیسے اپنی کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ توریت کو پورا کرنے آئے تھے اسی طرح پر محمدی سلسلہ کا مسیح اپنی کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ قرآن شریف کے احیاءکے لئے آیا ہے اور اسکی تکمیل کے لئے آیا ہے جو تکمیل اشاعت ِہدایت کہلاتی ہے‘‘

(ملفوظات جلد دوم صفحہ361۔ نیا ایڈیشن)

پھر فرماتے ہیں:
’’مجھے بھیجا گیا ہے تا کہ میں آنحضرت ﷺ کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں اور یہ سب کام ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اسکو دیکھ نہیں سکتے‘‘۔

(ملفوظات جلد سوم صفحہ9۔ نیا ایڈیشن)

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کےآنے کا ایک بڑا مقصد قرآن شریف کی تعلیمات کا احیاء، ترویج اور اشاعت تھی تا کہ لوگ سمجھیں کہ قرآن کریم میں کیا ہے اور اس پر عمل کرنے سے کتنا ثواب اور پھر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے اسکے لئے آپ نے قرآن شریف کی تعلیمات کو بار بار بیان فرمایا ہے۔

اسلامی اصول کی فلاسفی ہی پڑھ لیں۔ قرآن کریم کی تعلیمات کا ایک ختم نہ ہونے والا سمندر ہے۔

آپ نے قرآن کریم کی تعلیمات کا مقابلہ کرنے کا چیلنج بھی دیا۔

اور آپ کی کتب براہینِ احمدیہ اس پر شاہد ہیں۔ لیکن آج تک کوئی بھی میدا ن میں نہیں آیا۔

اسی لئے آپ نے فرمایا:

کل العلم فی قرآن لکن۔ تقاصر عنہ افھام الرجال

اور فرمایا:

جمال و حسنِ قرآں نور جانِ ہر مسلماں ہے
قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے
نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا
بھلا کیوں کر نہ ہو یکتا کلامِ پاک رحماں ہے

قرآنی تعلیمات

حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے ایک موقعہ پر قرآن کریم کی تعلیمات کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں یوں بیان فرمایا:

1۔ تم خدا کو اپنے جسموں اور روحوں کا رب سمجھو۔ جس نے تمہارے جسموں کو بنایا۔ اسی نے تمہاری روحوں کو پیدا کیا۔ وہی تم سب کا خالق ہے۔ اس بن کوئی چیز موجود نہیں ہوئی۔

2۔ آسمان اور زمین اور سورج اور چاند اور جتنی نعمتیں زمین آسمان میں نظر آتی ہیں۔ یہ کسی عمل کنندہ کے عمل کی پاداش نہیں ہیں۔ محض خدا کی رحمت ہے۔ کسی کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا کہ میری نیکیوں کے عوض میں خدا نے سورج بنایا زمین بچھائی یا سورج پیدا کیا۔

3۔ تو سورج کی پرستش نہ کر۔ تو چاند کی پرستش نہ کر۔ تو آگ کی پرستش مت کر۔ تو پتھر کی پرستش مت کر۔ تو مشتہری ستارے کو مت پوجا کر۔ تو کسی آدم زاد یا اور کسی جسمانی چیز کو خدا مت سمجھ کہ یہ سب چیزیں تیرے ہی نفع کے لئے میں نے پیدا کی ہیں۔

4۔ بجز خدا تعالیٰ کے کسی چیز کی بطور حقیقی تعریف مت کر۔ کہ سب تعریفیں اسی کی طرف راجع ہیں۔ بجز اس کے کسی کو اس کا وسیلہ مت سمجھ کہ وہ تجھ سے تیری رگ جان سے بھی زیادہ نزیک تر ہے۔

5۔ تو اس کو ایک سمجھ کہ جس کا کوئی ثانی نہیں۔ تو اس کو قادر سمجھ جو کسی فعل قابل تعریف سے عاجز نہیں۔ تو اس کو رحیم اور فیاض سمجھ کہ جس کے رحم اور فیض پر کسی عامل کے عمل کو سبقت نہیں۔

دوم: حالت موجودہ دنیا کے مطابق گناہوں کی مخالفت

1۔ تو سچ بول اور سچی گواہی دے۔ اگرچہ اپنے حقیقی بھائی پر ہو یا باپ پر ہو یا ماں پر ہو یا کسی اور پیارے پر ہو اور حقانی طرف سے الگ مت ہو۔

2۔ تو خون مت کر۔ کیونکہ جس نے ایک بے گناہ کو مار ڈالا وہ ایسا ہے۔ کہ جیسے اس نے سارے جہان کو قتل کر دیا۔

3۔ تو اولاد کشی اور دختر کشی مت کر۔ تو اپنے نفس کو آ پ قتل نہ کر تو کسی قاتل یا ظالم کا مددگار مت ہو۔ تو زنا مت کر۔

4۔ تو کوئی ایسا فعل نہ کر جو دوسرے کا نا حق باعثِ آزار ہو۔

5۔ تو قماربازی نہ کر تو شراب مت پی تو سود مت لے۔ اور جو اپنے لئے اچھا سمجھتا ہے۔ وہی دوسرے کے لئے کر۔

6۔ تو نا محرم پر ہر گز آنکھ مت ڈال نہ شہوت سے نہ خالی نظر سے کہ یہ تیرے لئے ٹھوکر کھانے کی جگہ ہے۔

7۔ تم اپنی عورتوں کو میلوں اور محفلوں میں مت لیجو۔ اور ان کو ایسے کاموں سے بچاؤ۔ کہ جہاں وہ ننگی نظر آویں۔ تم اپنی عورتوں کو زیور چھنکاتے ہوئے خوش اور نظر پسند لباس میں کوچوں اور بازاروں اور میلوں کی سیر سے منع کرو۔ اور ان کو نا محرموں کی نظر سے بچاتے رہو۔ تم اپنی عورتوں کو تعلیم دو۔ اور دین اور عقل اور خدا ترسی میں ان کو پختہ کرو۔ اور اپنے لڑکوں کو علم پڑھاؤ۔

8۔ تو جب حاکم ہو کر کوئی مقدمہ کرے۔ تو عدالت سے کر اور رشوت مت لے۔ اور جب تو گواہ ہو کر پیش ہو تو سچی گواہی دیدے۔ اور جب تیرے نام حاکم کی طرف سے بغرض ادا کسی گواہی کے حکم طلبی کا صادر ہو۔ تو خبردار حاضر ہونے سے انکار مب کیجو۔ اور عدول حکمی مت کریو۔

9۔ تو خیانت مت کر تو کم وزنی مت کر اور پورا پورا تول۔ تو جنس ناقص کو عمدہ کی جگہ مت بدل۔ تو جعلی دستاویز مت بنا۔ اور اپنی تحریر میں جعل سازی نہ کر۔ تو کسی پر تہمت مت لگا۔ اور کسی کو الزام نہ دے۔ کہ جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں۔

10۔ تو چغلی نہ کرے۔ تو گلہ نہ کر۔ تو نمانی نہ کر اور جو تیرے دل میں نہیں۔ وہ زبان پر مت لا۔

11۔ تیرے پر تیرے ماں باپ کا حق ہے۔ جنہوں نے تجھے پرورش کیا۔ بھائی کا حق ہے۔ محسن کا حق ہے۔ سچے دوست کا حق ہے۔ ہمسایہ کا حق ہے۔ ہموطنوں کا حق ہے۔ تمام دنیا کا حق ہے۔ سب سے رتبہ بہ رتبہ ہمدردی سے پیش آ۔

12۔ شرکاء کے ساتھ بد معاملکی مت کر۔ یتیموں اور ناقابلوں کے مال کو خوردبردمت کر۔

13۔ اسقاط حمل مت کر۔ تمام قسموں زنا سے پرہیز کر۔ کسی عورت کی عزت میں خلل ڈالنے کے لئے اس پر بہتان مت لگا۔

14۔ روبخدا ہو اور روبدنیا نہ ہو کہ دنیا ایک گذر جانے والی چیز ہے۔ اور وہ جہان ابدی جہان ہے۔ بغیر ثبوت کامل کے کسی پر نالائق تحمت مت لگا۔ کہ دلوں اور کانوں اور آنکھوں سے قیامت کے دن مواخذہ ہو گا۔

15۔ کسی سے کوئی جبراً چیز مت چھین۔ اور قرض کو عین وقت پر ادا کر۔ اور اگر تیرا قرض دار نادار ہے تو اس کو قرض بخش دے۔ اور اگر اتنی طاقت نہیں ۔ تو قسطوں سے وصول کر۔ لیکن تب بھی اس کی وسعت و طاقت دیکھ لے۔

16۔ کسی کے مال میں لاپرواہی سے نقصان مت پہنچا۔ اور نیک کاموں میں لوگوں کو مدد دے۔

17۔ اپنے ہم سفر کی خدمت کر۔ اور اپنے مہمان کو تواضع سے پیش آ۔ سوال کرنے والے کو خالی مت پھیر اور ہر ایک جاندار بھوکے پیاسے پر رحم کر۔»

(حیاتِ احمد صفحات274-277 از حضرت یعقوب علی عرفانی)

آخر میں کشتئ نوح ۔ ہماری تعلیم سے ایک حصہ درج کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود ؑ قرآنی تعلیمات کے بارے میں فرماتے ہیں:
«تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔ «

پس آج اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت پانی ہے تو اس کا ایک ہی واحد علاج ہے کہ اس زمانے کے امام مسیح موعود بانی جماعت احمدیہ کی جماعت میں شامل ہو۔ اور آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کی اصل تشریح و توضیح جو آپ ؑ نے فرمائی ہے اسکے مطابق عمل کرے۔ اور رسول کریم ﷺ پر شکرانے کے طور پر درود شریف پڑھے کہ ہمیں وہ زمانہ دیکھنے کو ملا کہ جس کو دیکھنے کے لئے ہم سے پہلے قومیں ترستی اس جہان سے گذر گئیں۔

آئیے آج کے دن عہد کریں۔ کہ ہم قرآن کو مقدم کریں گے قرآن کو عظمت دیں گے۔ اس کی روزانہ تلاوت کریں گے۔ اور اس پر سوچ سمجھ کر پوری طرح عمل پیرا ہوں گے۔ یہی پیغامِ احمدیت ہے۔ یہی پیغامِ مسیحِ موعود ہے۔ اور اسی پیغام کو لے کر آج جماعتِ احمدیہ خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کی قیادت میں دن بدن آگے ہی آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ الحمدللہ علیٰ ذالک۔

(سید شمشاد احمد ناصر، مبلغ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 مارچ 2021