• 19 اپریل, 2021

دیار مسیح موعود ؑ(قادیان) کے بابرکت تاریخی و طبعی خدوخال

قادیان کا خیال دل ودماغ میں آتے ہی چشم تصور میں اس کا حسین نقشہ ابھرنے لگتا ہے۔یہ وہ بابرکت بستی ہے جس کا ذکر گزشتہ نوشتوں میں بھی مسیح کی آمد ثانی کے ساتھ ہوا ہے یعنی مسیح ثانی کا کدعہ میں نزول ہونا تھا۔ پھر مینارہ بیضا ء بھی نزول مسیح کے ساتھ اپنی ایک لازمی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے دجال اور یاجوج ماجوج کی تباہی کا ببانگ دہل اعلان ہونا تھا اور اسلام کی آخری اور حقیقی فتح کا جھنڈا اورعلم بلند ہوتے ہوئے آسمانی نقارہ بجنا تھا۔ جو خدائی قدرتوں اور الٰہی وعدوں کے ساتھ بہشتی مقبرہ کے قیام اور قدرت ثانیہ کے ظہور کا منبع ہونا تھا۔ یہاں کی تبلیغ نے زمین کے کناروں تک پہنچنا تھا اور دنیا کے ہر قسم کے باسیوں نے دور دارز کے اونچے نیچے، برفیلے راستوں سے لمبا سفر طے کرکے مسیح محمدی اور مہدی کو محمد عربی ﷺ کا سلام پہنچانا تھا۔

اس کرمانوالی اوچی بستی کی ابتدائی آباد کاری کو دیکھیں تو تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے آباء میں سے حضرت مرزا ہادی بیگ صاحب جو مغل برلاس، فارسی الاصل تھے سمر قند سے آکر یہاں آباد ہوئے۔ 1530ء کے قریب دریائے بیاس کے کنارے یہ گاؤں آباد ہوا تھا اور اس کا نام ’’اسلام پور‘‘ تھا جو بعد میں اسلام پور قاضی ماجھی اور پھر قاضیاں سے قادیان بن گیا۔ دریا کنارے آباد یہ لوگ بھینسیں بھی پالنے میں مشہور تھے اور علاقے میں قاضی کے طور پر بھی فرائض انجام دیتے تھے۔

قادیان میں جائے سکونت حضرت مسیح موعودؑ ’’دارالمسیح‘‘ کے نام سے منسوب ہے۔ یہی مکان انی احافظ کل من فی الدار کا ظاہری مقام تھا اور ’’امن اس درمکان محبت سرائے ما‘‘ کا زندہ ثبوت تھا۔ طاعون جیسی وبا کے پھوٹنے پرجس ’’الدار‘‘ کی حفاظت کا خدائی وعدہ تھا۔ خاندان مسیح موعود ؑ کے علاوہ کئی اصحاب احمد بھی ان دنوں وہاں رہے تھے مگر مجال ہے انسان تو کیا کسی چوہے تک کی بھی موت نہ ہوئی تھی اور بطور نشان اپنے لئے اور ان سب کے لئے جو اس گھر کی چاردیواری میں رہ رہے تھےحفاظتی ٹیکہ کی بھی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔یتزوج و یولد لہ جیسی عظیم الشان پیشگوئی کو نہایت شان سے پورا کرنے والی شادی اور پھر مصلح موعود کی پیشگوئی کی خبر کے مطابق پیدا ہونے والے ولد عظیم اور مبارک نسل سیدہ کی جائے پیدائش بھی اسی چار دیواری میں ہوئی تھی۔یعنی دوسری زوجہ مبارکہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ، المعروف حضرت اماں جان ؓسے، دس بچوں یعنی پانچ لڑکوں اور پانچ لڑکیوں کاجائے پیدائش ہے (یہ اولاد بالترتیب: صاحبزادی عصمت صاحبہ ، بشیر اول، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ صاحب، صاحبزادی شوکت صاحبہ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ؓ ایم اے، حضرت صاحبزادہ شریف احمد صاحبؓ، حضرت صاحبزادی نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ، مرزا مبارک احمد صاحب، صاحبزادی امۃ النصیر صاحبہ، صاحبزادی امۃ الحفیظ بیگم صاحبہؓ تھی۔ ان میں سے پانچ خط کشیدہ صغر سنی میں وفات پاگئے تھے)۔

آپؑ کی پہلی شادی (بعمر 15سال مع ماموں زاد حرمت بی بی صاحبہ جو بعد میں علیحدہ ہوکر خاندانی شرکاء سے جاملی تھیں اورحضورؑ کے خلاف ان کی سازشوں میں بھی ساتھ دیتی رہیں مگر حضور ؑ ہمیشہ اس زوجہ سے حسن سلوک فرماتے تھے) سے دو فرزندوں (حضرت مرزا سلطان احمد صاحب ؓ، جو حضرت مصلح موعودؓ کے عہد خلافت میں حضور ؓ کے ہاتھ پر بیعت کرکے ’’تین کو چار کرنیوالا‘‘ کے مصداق ٹھہرے اور مرزا فضل احمد، جو حضرت اقدس ؑ کی زندگی میں ہی وفات پاگئے تھے)۔

آپ ؑ کے خسر ثانی حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ جو دہلی کے ایک مشہور خاندان سادات سے تعلق رکھتے تھے اور ننھیالی سلسلہ حضرت خواجہ میر دردؒ سے جاملتا ہے۔ ان کی رہائش کا گول کمرہ بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ حضرت اقدس ؑ نے یہ کمرہ خود تعمیر کروایا تھا اور اس کو بطور مہمان خانہ استعمال فرماتے تھے۔ حضور ؑ کے ارشاد پر اسی میں شیخ نور احمد صاحب مالک ریاض ہند پریس امرتسر نے ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ کی طباعت کے لئے لاکر اپنا پریس نصب کردیا تھا۔

’’تائی آئی‘‘ کے الہام میں جو خبر دی گئی تھی وہ بھی اسی دار کے مسکین کے متعلق تھی جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے دورخلافت میں پورا ہوا۔ آپؑ کی بھاوج (حضور ؑ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی اہلیہ )، مصلح موعود ؓ کو بچپن میں ’’جیہو جیا کاں اوہو جئی کوکو‘‘ کا طعنہ دینے والی تائی کامسکن بھی یہی تھا اور وہ کنواں جہاں سے تائی نے پانی بھی بھرنے سے روک دیا تھا اسی دارالمسیح میں ہے۔ بیت الفکر، بیت الذکر اور بیت الدعا جیسے مقامات بھی اسی الدار کا حصہ ہیں۔ پھردالان حضرت اماں جان ؓ جہاں حضور ؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ وہ بھی بیت الفکر کی طرح برکتوں سے مامور تھا بلکہ اسی کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔حضرت مسیح موعودؑ ابتداء میں بیت الفکر میں تالیف و تصنیف کا کام فرماتے تھے۔ بیت الدعاء ایک چھوٹا سا حجرہ تھا جو حضور ؑ نے اس غرض سے تعمیر کروایا تھا کہ جس میں سوائے دعا کے اور کوئی کام نہ ہو۔ یہ مارچ 1903ء میں تیار ہواتھا۔یہ بھی دالان حضرت اماں جان ؓ کی مغربی جانب تھا۔پھر بیت الریاضت بھی ہے جس میں حضورؑ نے آٹھ نو ماہ کے روزے رکھے تھے اور براہین احمدیہ بھی تصنیف فرمائی تھی۔

ایک مقدمہ قتل میں جب سرکاری سپاہی الدار کی تلاشی کے لئے آئے اور ان کو ناکام و نامراد واپس نکلنا پڑا تو وہ چوکھٹ جس سے اس حواس باختہ افسر کاسر ٹکرایا تھا وہ بھی اسی درکی تھی۔

اس کے بعد وہ مقامات جہاں دشمنان سلسلہ اور خاندانی شریک چچازاد مرزا نظام دین اور امام دین، امام الزمان ؑ کی زیارت اور بیعت کے لئے آنیوالوں کو بیٹھ کر ورغلاتے اور ناپاک منصوبے بناتے تھے اسی دارالامان کے گرد تھے۔ یحسرۃ علیٰ العباد۔ انہوں نے حضرت اقدسؑ سے مطالبہ اور اصرار بھی کیا تھا کہ ہمیں کوئی نشان دکھلاؤ تو اس کے مطابق حضورؑ نے ایک پیشگوئی فرمائی تھی کہ اکتیس ماہ تک ان پر کوئی ایسی مصیبت پڑے گی کہ ان کے اہل وعیال میں سے کسی مرد یا کسی عورت کا انتقال ہوجائے گا۔لہذا ٹھیک اس عرصہ سے اکتیسویں مہینہ کے درمیان میں مرزا نظام الدین کی بیٹی اور مرزا امام الدین کی بھتیجی بعمر 15سال ایک بہت چھوٹا بچہ چھوڑ کر فوت ہوگئی۔ پھر محمدی بیگم والی پیشگوئی میں بھی اول مخاطب یہی خاندان تھا جنہیں آیات اللہ کی تکذیب اور استہزاء سے باز کرکے توبہ و استغفار کی طرف رجوع کروانا مقصود تھا۔

پھر جس دیوار سے متعلق ’’مقدمہ دیوار‘‘ کا جو مشہور واقعہ گزرا تھا وہ مقام بھی قابل توجہ ہے۔ جماعتی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ذکر ملتا ہے کہ دیوار کا ایک مقدمہ بڑا مشہور مقدمہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں لڑا گیا جس میں 1900ء کے آغاز میں آپ کے خاندان کے مخالفین نے مسجد کے راستے پہ دیوار کھڑی کر دی اور راستہ بند کر دیا۔ یہ اتنا تکلیف دہ امر تھا کہ تاریخ میں لکھا ہے کہ حضور ؑ نے سنت انبیاء جانتے ہوئے اصحاب سےہجرت کرنے کے لئے بھی مشورہ کرلیا تھا مگر پھر فرمایا کہ اچھا وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔جہاں اللہ لے جائے گا وہیں جائیں گے۔حضرت اقدس ؑ کی مطہر زندگی میں جتنے بھی مقدمات دشمنان سلسلہ اپنوں اور غیروں کی طرف سے کئے گئے مگر خدا تعالیٰ نے اپنے اس فرستادہ کو ہمیشہ سرخرو فرمایا اور آپ کی عزت و عصمت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔

اس مقدمہ دیوارکے بارے میں بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’میں بچہ تھا لیکن مجھے خوب یاد ہے کہ یہاں ہمارے ہی بعض عزیز راستہ میں کیلے گاڑ دیا کرتے تھے تا کہ جب مہمان نماز پڑھنے آئیں تو رات کی تاریکی میں ان کیلوں کی وجہ سے ٹھوکر کھائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا اور اگر کِیلے اکھاڑے جاتے تو وہ لڑنے لگ جاتے۔ اسی طرح مجھے خوب یاد ہے کہ مسجد مبارک کے سامنے دیوار مخالفوں نے کھینچ دی تھی۔ بعض احمدیوں کو جوش بھی آیا اور انہوں نے دیوار کو گرا دینا چاہا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارا کام صبر کرنا اور قانون کی پابندی اختیار کرنا ہے۔ پھر مجھے یاد ہے میں بچہ تھااور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچپن سے ہی مجھے رؤیائے صادقہ ہوا کرتے تھے۔ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ دیوار گرائی جا رہی ہے اور لوگ ایک ایک اینٹ کو اٹھا کر پھینک رہے ہیں۔ اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کچھ بارش بھی ہو چکی ہے۔ اسی حالت میں مَیں نے دیکھا (خواب میں) کہ مسجد کی طرف سے حضرت خلیفہ اول تشریف لا رہے ہیں۔ (آپ فرماتے ہیں کہ) جب مقدمے کا فیصلہ ہوا اور دیوار گرائی گئی تو بعینہٖ ایسا ہی ہوا۔ اس روز کچھ بارش بھی ہوئی اور درس کے بعد حضرت خلیفہ اول جب واپس آئے تو آگے دیوار توڑی جا رہی تھی۔ مَیں بھی کھڑا تھا چونکہ اس خواب کا مَیں آپ سے پہلے ذکر کر چکا تھا اس لئے مجھے دیکھتے ہی حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے فرمایا۔ میاں دیکھو آج تمہارا خواب پورا ہو گیا۔‘‘

(خطبات محمود جلد15 صفحہ206-207)

پھر آپ اسی دَور کی بات کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’ایک وہ بھی زمانہ تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں مخالفین نے مسجد کا دروازہ بند کر دیا اور آپ علیہ السلام کئی دفعہ گھر میں پردہ کرا کر لوگوں کو مسجد میں لاتے۔ (یعنی گھر کے اندر سے گزار کے لانا پڑتا تھا) اور کئی لوگ اوپر سے ہو کر آتے (لمبا چکر کاٹ کر)۔ سال یا چھ ماہ تک یہ راستہ بند رہا۔ آخر مقدمہ ہوا اور خدا تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ دیوار گرائی گئی۔‘‘

(خطبات محمود جلد20 صفحہ574-575)

جب دارالمسیح کے احاطہ میں داخل ہوں تو سامنے مسجد مبارک پر نظر پڑتی ہے۔ اس پر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس حصہ میں داخل ہوا جاتا ہے جو بعد از توسیع کی ہے مگر جو ابتدائی تعمیر شدہ مسجد ہے اور جس میں کھڑے ہو کر حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ غیرمبایعین و منکرین خلافت کے اعتراضات کے جوابات دیا کرتے تھے اس کھڑکی والی جگہ کی طرف ہے جہاں البیت سے حضرت مسیح موعودؑ بیت الفکر اور بیت الدعا کی طرف سے بیت الذکر مسجد مبارک میں نماز کے لئے تشریف لاتے تھے۔ابتداء میں یہ مسجد اتنی چھوٹی تھی کہ ایک صف میں چھ کے قریب نمازی کھڑے ہوسکتے تھے اور کل تیس بتیس نمازی جمع ہوسکتے تھے۔ اس دوران پھر بیت الفکراور مشرقی صحن بھی نماز کے وقت استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کی توسیع 1907ء میں عمل میں آئی تھی۔ سجد مبارک جس کی تعمیر1882-83ء ہوئی۔ اس کی تعمیر کے بعد حضرت اقدس ؑ یہیں نماز ادا کرتے تھے۔ شروع میں آذان اور امامت بھی خود ہی کرواتے تھے۔ اس کے متعلق حضورؑ کو الہام ہوا تھا کہ ’’مُبَارِکٌ وَّمُبَارَکٌ وَّکُلُّ اَمْرٍ مُّبَارَکٍ یُّجْعَلُ فِیْہِ‘‘ یعنی یہ مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے اور ہر ایک امرِمبارک اس میں کیا جائے گا۔‘‘

(تذکرہ صفحہ 83 ایڈیشن چہارم)۔

اس کی پہلی مرتبہ توسیع 1907ء میں ہوئی تھی۔ اسی کی چھت پر حضرت اقدسؑ اپنے اصحاب خاص کے ساتھ شہ نشین میں پاک مجالس کا نعقاد فرماتے تھے۔ اسی کی چھت پر کھڑے ہوکر نشان کسوف و خسوف میں سورج گرہن ملاحظہ فرمایا اور نماز کسوف و خسوف کا اہتمام فرمایا تھا۔ اسی کا دوسرا نام بیت الذکر بھی ہے۔

سرخ چھینٹوں کے نشان والا وہ غسل خانہ کا کمرہ بھی جو اب مسجد کا ہی حصہ ہے۔جہاں خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ کشفًا ایک اور محبت بھرا سلوک کیا تھا اور رجسٹر پر دستخط کرتے ہوئےقلم کی سرخ سیاہی کے گرانے والے متبرک نشان حضور ؑکے جسم مبارک کے علاوہ کرتہ پر بھی گرے تھے۔ حضور ؑکی طرف سے وہ کرتا تبرک کے طور پر حضرت عبداللہ سنوری صاحب جو اس وقت حضرت اقدس کے پاس بطور خادم موجود تھے، کو عطا ہوگیا تھا اور حسب وعدہ و نصیحت ووصیت ان کی وفات پر ان کے ساتھ ان کی قبر میں ہی مدفون ہوگیا تھا تا شرک کا باعث نہ ٹھہرے۔

پھر مسجد اقصیٰ کی اپنی تاریخی حیثیت ہے ۔تاریخ احمدیت کا پہلا جلسہ سالانہ جو 1891ء میں منعقد ہوا تھا اور اس میں کل پچہتر (75) احباب شامل ہوئے تھے، اسی مسجد میں منعقد ہواتھا۔ اورجہاں خطبہ الہامیہ ہوا تھا ۔ دو سو لوگوں نے اس وقت حضور ؑ کی اس الہامی کیفیت کو دیکھا اور اسے سنا تھا۔یہ ایک زبردست علمی نشان اور معجزہ تھا۔ 11؍اپریل 1900ء کو عید اضحی کے دن صبح کے وقت حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا کہ آج تم عربی میں تقریر کرو تمہیں قوت دی گئی۔ جب حضرت اقدس عربی خطبہ پڑھنے کے لئے تیار ہوئے تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کو حکم دیا کہ وہ قریب تر ہو کر اس خطبہ کو لکھیں۔ جب حضرات مولوی صاحبان تیار ہو گئے تو حضور نے یَاعِبَادَ اللّٰہ ِکے لفظ سے عربی خطبہ شروع فرمایا۔ اثناء خطبہ میں حضرت اقدس نے یہ بھی فرمایا کہ ’’اب لکھ لو پھر یہ لفظ جاتے ہیں‘‘ (یعنی ساتھ ساتھ لکھتے جاؤ۔ اگر کوئی لفظ سمجھ نہیں آیا تو ابھی پوچھ لینا)۔ جب حضرت اقدس خطبہ پڑھ کر بیٹھ گئے تو اکثر احباب کی درخواست پر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب اس کا ترجمہ سنایا تھا۔ یہ خطبہ اگست 1901ء میں شائع ہوا۔ حضور نے نہایت اہتمام سے اسے کاتب سے لکھوایا۔ فارسی اور اردو میں ترجمہ بھی خود کیا اور اعراب بھی خود لگائے۔ اصل خطبہ کتاب کے (جو خطبہ الہامیہ کتاب ہے اس کے) اڑتیسویں صفحہ پر ختم ہو جاتا ہے جو کتاب کے باب اول کے تحت درج ہے۔ اگلا حصہ آخر تک عام تصنیف ہے جس کا اضافہ حضور نے بعد میں فرمایا۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ 11؍ اپریل 2014ء میں اس کی پوری تفصیل بیان فرمائی تھی۔

مینارۃ المسیح بھی پیشگوئیوں کے مطابق آمد مسیح ثانی ؑ کا ببانگ دہل اعلان کر تا ہے ۔28 مئی 1900ء کو حضرت اقدس ؑ نے احادیث نبویﷺ کی روشنی میں مسجد اقصیٰ کے شرقی جانب اس مینار کی تعمیر کی تجویز فرمائی تھی کہ مؤذن پنجوقت بانگ دے جو تبلیغ کا کام ہو پھر مینارہ کی دیوار میں اونچے حصہ پر لالٹین کی تنصیب ہوتا لوگ آسمانی روشنی کو پہچانیں اوراس پر گھنٹہ کی تنصیب کی جائے تا لوگ وقت کی حقیقت سے روشناس ہوں کہ یہ وہ زمانہ ہے جب آسمان کے دروازے کھل چکے ہیں۔ حضورؑ نےاس کا سنگ بنیاد 1903ء میں رکھاتھا مگر مخالفوں کی بعض شکایات کہ اردگرد بے پردگی ہوتی ہے حکومتی مداخلت پر اس کاکام رک گیا اور خلافت ثانیہ میں یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔

مسجد اقصیٰ جس کی قادیان کے وسط میں تعمیر کا سنگ بنیاد حضرت مسیح موعودؑ کے والد بزرگوار حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب برلاس رئیس قادیان نے رکھا تھا اور تعمیر مکمل ہوہی چکی تھی کہ ان کی وفات ہوگئی اور اس کے صحن میں ہی آخری آرامگاہ بھی ہے جو ان کی وصیت کے مطابق نشان زدہ جگہ پر تیار کی گئی تھی۔حضورؑ کی والدہ ماجدہ حضرت چراغ بی بی صاحبہ جن کی قبر آبائی قبرستان میں ہے۔

قادیان کے باہر شمالی جانب ڈھاب اور وہ پل ہےجس کا ذکرحضرت مسیح موعود ؑ نے رسالہ الوصیت میں شرائط وصیت میں بھی فرمایاہے۔

دار المسیح کے باہر کے مقامات دیکھیں توان میں سب سے پہلے تو بہشتی مقبرہ اور اس میں روضہ مبارک حضرت مسیح موعود ؑ ہے۔ بہشتی مقبرہ جس کے متعلق خدا نے خبر دی تھی کہ انزل فیہا کل رحمۃ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں۔قطعہ خاص کے سامنے کھڑے ہوکر جنگلے کے اس پار عین اس جگہ جو مسیح موعود ومہدی معہود ؑ کو خواب میں چاندی سے زیادہ چمکتی ہوئی دکھائی گئی تھی بلکہ اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی اور کہا گیا تھاکہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے، السلام علیکم ورحمہ اللہ کہہ کر فاتحہ کے لئے بارگاہ ایزدی میں ہاتھ بلند کئے۔دل اور دماغ اس رب جلیل کی حمد سے معمور اور شکرانہ سے لبریز تھے اور زبان بھی ورد کررہی تھی اور اس نبی خاتم النبیین ﷺ پر درود بھیج رہی تھی کہ جس نے اپنے مہدی کو ماننے ، اس کو سلام پہنچانے کی توفیق دی جو محض اور محض اس کے فضل سے ہی ممکن ہوا تھا۔

پھر باغ احمدؑ کے احاطہ میں اصحاب احمد ؑ کی قبریں ہیں ۔جن کی قبروں کی جگہ حضور ؑ کو اسی خواب میں دکھا دی گئی تھی اور جس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا تھا اور ان تمام برگزیدہ اصحاب کی قبریں بتلایا گیا تھا جو بہشتی ہیں۔جن کے لئے حضرت مسیح پاک ؑ نے دعا بھی کی تھی کہ یہ جماعت کے پاک دل لوگوں کی خواب گاہ بنے۔ پھر یہ بھی دعا کی کہ اے میرے قادر خدا اس زمین کو میری جماعت میں سے ان پاک دلوں کی قبریں بنا جو فی الواقع تیرے لئے ہوچکے اور دنیا کی اغراض کی ملونی ان کے کاروبار میں نہیں۔ آمین یا رب العالمین۔

ان میں سے وہ بھی تھےجو قادیان میں آکر ایسے آباد ہوئے کہ مہدی دوراں ؑ کے قدموں میں ہی ہمیشہ کے لئے ڈھیر ہوگئے اور اپنے وطن کا خیال تک بھی دل میں دوبارہ نہ آنے دیا ۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ جن کی وفات 11اکتوبر 1905ء میں ہوئی تھی اور امانتًا عام قبرستان میں جو آبادی کے جانب شرق ڈھاب کے قریب تھا میں دفن کئے گئے تھے، جلسہ سالانہ 1905ء کے ایام میں جب بہشتی مقبرہ کے لئے زمین مختص ہو چکی تھی ، حضور ؑ نے 27دسمبر کو خود ایک مجمع کثیر کے ساتھ ان کی نمازہ جنازہ ادا کرکے بہشتی مقبرہ میں تدفین فرمائی اور یہ وہاں سب سے پہلی قبر تھی۔ اس بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے لئے حضور نے چند شرائط بھی رکھی تھیں اور اس کے انتظام کے لئے ایک انجمن بھی قائم فرمائی جس کا نام ’’انجمن کارپردازان مصالح قبرستان‘‘ رکھا۔ اس کے صدر حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحبؓ مقرر فرمائے۔ پھر جب کام پھیلنا شروع ہوگیا تو مختلف انتظامات اور امور کے یکجائی صورت میں چلانے کے لئے احباب کی تجویز پر ایک واحد مرکزی کمیٹی کا قیام منظور فرمایا اوریوں صدر انجمن احمدیہ کا وجود سامنے آیا۔اس کے بعد تینوں انجمنیں جو اس سے پہلے تعلیم الاسلام ہائی سکول اور ریویو آف ریلیجنز اور مقبرہ بہشتی کے انتظام کے لئے علیحدہ علیحدہ مقرر تھیں اس مرکزی انجمن کے ماتحت آگئیں۔ جنوری 1906ء میں اس کے قواعد مرتب کرکے شائع ہوئے اور صدر حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ؓ کو ہی مقرر فرمایا جبکہ سیکرٹری مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو بنایا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ جو ابھی چھوٹے تھے اس انجمن کے ممبر مقرر فرمائے۔

لنگر خانہ اور مہمان خانہ حضرت اقدسؑ نے براہ راست اپنے ماتحت ہی رکھا تھاتا مہمان نوازی میں کسی قسم کی کمی نہ رہےاور مہمانوں کا بھی براہ راست آپ کے ساتھ تعلق ہو۔ وہ لنگر خانہ اور مہمان خانہ بھی قادیان میں ہے۔

پھر قادیان کے اسی باغ میں جو بہشتی مقبرہ سے ملحقہ شہ نشین ہے جہاں اب بارہ دری تعمیر ہوچکی ہے ۔ اس چبوترا نما جگہ پر حضور ؑ باغ میں اپنے اصحاب کے ساتھ مجلس لگاتے تھے۔ کانگڑہ کے 4اپریل 1905ء کے زلزلہ کے بعدحضرت اقدس ؑ کچھ عرصہ کے لئے بہشتی مقبرہ سے متصل اس باغ میں ٹھہرے تھے۔ اس باغ میں تو گویا ایک چوٹی سی بستی ہی آباد ہوگئی تھی۔ بعض اصحاب کی رہائش کے ساتھ اخبارات اور انجمن کے دفاتر بھی یہیں منتقل ہوگئے تھے۔ کوئی عرصہ تین ماہ یہیں قیام فرمایا۔2جولائی 1905ء کو حضور واپس قادیان تشریف لائے تھے اور احمدی محلہ پھر سے آباد ہوگیا۔ جو طاعون جیسی مہلک وبا کے ایام میں بھی ’’امن است درمقام محبت سرائے ما‘‘ کا مصداق تھا۔

اس کے بعدمقام ظہور قدرت ثانیہ ہے۔ جہاں 26 مئی 1908ء کواحمدیہ بلڈنگس لاہور میں وفات پاجانے اور تجہیز وتکفین کے بعد وہاں موجود احباب نے حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ؓ کی امامت میں جنازہ اداکرکے حضرت اقدس ؑ کا جسد اطہر باوجود مخالفین سلسلہ کی ہر طرح کی سازشوں کے اگلے روز صبح 27 مئی 1908ء کو بغرض تدفین لاکر مکان حضرت اماں جان ؓ میں رکھا گیا تھا۔ وہیں احباب جماعت نے اپنے آقا کےآخری دیدار کا شرف پایا۔ آم کے درخت کے نیچے انتخاب خلافت کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاول مولوی حکیم نورالدین صاحب ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی تھی جو اب جنازہ گاہ کے نام سے جانی جاتی ہے اور پھر بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔

حضرت اقدس ؑ نے رسالہ الوصیت میں جماعت کے نظام کو چلانے کے لئے دو چیزوں کو ضروری قرار دیا تھا یعنی قدرت ثانیہ اور انجمن کویعنی صدر انجمن احمدیہ ۔انجمن حضور کی زندگی میں قائم ہوچکی تھی مگر قدرت ثانیہ یعنی نظام خلافت کا قیام حضورؑ کی وفات کے بعد ہی مقدر تھا۔ اس وقت جماعت کی کل بارہ سو کی تعداد پر مشتمل تجنید تھی جو وہاں حاضر بھی تھے۔ جماعت قادیان نے حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ؓ کی خدمت میں تحریری درخواست پیش کی اوربالاتفاق ان کے بطورخلیفہ انتخاب کو ’’مطابق رسالہ الوصیت‘‘ قرار دے کرسب نےبیعت کرلی تھی۔جبکہ بعد میں کچھ لوگوں نے اس کی حقیقت کو نہ سمجھا اور سلسلہ خلافت سے انکار کرکے منکرین خلافت و غیر مبایعین کہلائے اور لاہوری فرقہ کے طور پر مشہورہوئےاور یوں حضرت اقدس ؑ کے مقام نبوت کے بھی منکر ہوگئے۔

پھر مسجد نور بھی ہےجہاں خلافت ثانیہ کا انتخاب عمل میں آیا تھا۔یہ مسجد تعلیم الاسلام اسکول اور کالج کے احاطہ میں تھی۔حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے خلیفہ اولؓ کا جنازہ ہائی اسکول کے میدان میں پڑھایا تھا۔خلافت احمدیہ کی تاریخ کے حوالہ سے اس مسجد کی اپنی اہمیت ہے۔تعلیم الاسلام کالج کی زمین صدر انجمن احمدیہ کی ملکیت ہے مگر اب وہاں سکھ نیشنل کالج قائم ہے۔ بورڈنگ تحریک جدید بھی ہے جو صدر انجمن احمدیہ کی ملکیت ہے مگر وہاں اب خالصہ ہائی اسکول ہے۔ محلہ دارالعلوم میں حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ آف مالیر کوٹلہ جن کو حضرت اقدسؑ کی دامادی کا بھی شرف عطا ہوا تھایعنی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓ کے شوہر تھے اور حضرت نواب امۃ الحفیظ صاحبہ ؓ کے رشتہ میں خسر بھی تھے کیونکہ حضرت نواب عبداللہ خاں صاحب ؓ جو حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کے بیٹے تھے، کی شادی حضرت نواب امۃ الحفیظ صاحبہ ؓسے ہوئی تھی جو حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓ کی چھوٹی بہن تھیں۔ پھر قصر خلافت، دفاتر صدرانجمن احمدیہ، سرائے وسیم، گیسٹ ہاؤسز اور نورہسپتال بھی ہیں۔

جامعہ احمدیہ قادیان کی وسیع و عریض عمارت ’’سرائے طاہر‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ وہی درسگاہ ہے جس کے ربوہ میں قائم شاخ کے ہم بھی فارغ التحصیل ہیں۔قادیان میں حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں دو مدرسوں کی بنیاد پڑی تھی ۔1898ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ شروع ہوا۔ قادیان میں ابتداء میں احمدی بچوں کو آریہ سکول میں بھیجنے کی بجائے حضور ؑ نے یہ اپنا اسکول جاری کرنے کا فیصلہ فرمایاتھا۔جو بعد میں ترقی کرکے مڈل اور پھر ہائی بن گیا تھا۔
مارچ 1900ء میں اسی مدرسہ میں ایک شاخ دینیات کی کھولنے کی تجویز ہوئی تھی۔ دوبزرگان و علماء سلسلہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ اور حضرت برہان الدین جہلمی صاحب ؓ کی وفات کے بعد 1905ء جلسہ سالانہ میں حضرت اقدسؑ نے اپنی تقریر کے دوران اسی تجویز کو دوبارہ پیش فرمایا کہ موجودہ انگریزی مدرسہ کے علاوہ ہمیں ایک ایسی درسگاہ کی بھی ضرورت ہے جس میں ایسے علماء پیدا کئے جائیں جو علوم عربی کے ساتھ ساتھ کسی قدر انگریزی اور دیگر علوم سے بھی واقفیت رکھتے ہوں۔حضور کی تقریر میں اتنا سوز اور درد تھا کہ کہا جاتا ہے کہ سامعین پھوٹ کر رونے لگے اور تقریر کے بعد اس کو عملی جامہ پہنانے پر غور شروع ہوگیا۔اور یہ طے پایا کہ علماء اور مبلغ پیدا کرنے کے لئے الگ شاخ قائم کی جائےجو 1906ء سے جاری کردی گئی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ نے سلسلہ احمدیہ جلد اول میں اس کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ ‘‘حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد 1908ء کے جلسہ سالانہ میں یہ سوال پھر جماعت کے مشورہ کے لئے پیش کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی یادگار میں دینیات کی شاخ کو تعلیم الاسلام ہائی سکول سے کاٹ کر ایک مستقل مدرسہ کی صورت میں قائم کردیا جائے۔چنانچہ اس وقت سے یہ شاخ ایک مستقل مدرسہ کی صورت میں قائم ہوگئی اور یہی وہ درسگاہ ہے جو اس وقت مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی صورت میں قائم ہے۔‘‘

پھردرویشان قادیان جو تقسیم ہند کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے ارشاد پر حفاظت مرکز پر مامور ہوئے تھے ان کی رہائش گاہیں بھی ہیں۔ خاکسار کے آبا ؤاجداد بھی قادیان کے قریب ایک گاؤں پیروشاہ کے رہنے والے تھے اور عہد خلافت ثانیہ کے آغاز میں سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے تھے۔

آغاز میں علم(لواء) کا ذکر چلا تھا تو موقع کو غنیمت جانتے ہوئے قارئین کے علم کے لئے اس کی بھی مختصرًا تاریخ پیش ہے کیونکہ یہ بھی پہلی بار اسی سرزمین پر لہرایا گیا تھا جو ’’لوائے ما پناہ ہر سعید خواہد بود‘‘ کا مصداق ہے۔ 1939ء کا سال جو کہ جماعت احمدیہ کے پچاس سالہ قیام اور خلافت ثانیہ کے عہد کا پچیسواں سال تھا۔ اس سال جلسہ سالانہ کو خلافت جوبلی کے لئے مخصوص کردیا گیا اور جلسہ سالانہ کے موقع پر ہی لوائے احمدیت بناکر لہرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لہذا اس کام کی تکمیل کے لئے حضور ؓ نے ایک کمیٹی مقرر فرمائی جس میں جھنڈے کا ڈیزائن اور پیمائش کے علاوہ صحابہؓ و صحابیات ؓ حضرت مسیح موعود ؑ سے اس کے اخراجات کے لئے چندہ وصول کرنا اور ان سے کپڑا تیارکروانا نیز پول کی تیاری اور جھنڈے کے نصب کرنے اور لہرانے جیسے امور شامل تھا۔ اس کمیٹی کی نگرانی حضرت چوہدری سرظفر اللہ خان صاحب ؓ کے ذمہ تھی مگر ان کی مصروفیات میں ان کی غیر موجودگی میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ صدارت کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔

تمام کوشش کے بعد ایک سو تیس روپے کے قریب جمع ہوئے۔اس سے روئی کی خرید کی باری آئی تو حضرت مصلح موعود ؓ کی منشائے مبارک تھی کہ وہ کپاس خریدی جائے جو صحابہ ؓ نے کاشت کی ہو۔اس کے لئے سندھ کی خبر ملی مگر ایسی کپاس نہ مل سکی۔مگر حضور ؓ کی خواہش کو خدا تعالیٰ نے اس طرح پورا کردیا کہ حضرت میاں فقیر محمد صاحبؓ امیر جماعت ونجواں ضلع گورداسپور جو مشہور صحابی تھے، قادیان تشریف لائے اور کچھ سوت حضرت ام المومنین ؓ کی خدمت میں پیش کیااور عرض کیا کہ میں نے حضرت مرزابشیر احمد صاحب ؓ کے ارشاد کی تعمیل میں اپنے ہاتھ سے بیج بویا اور پانی دیتا رہا اور پھر چنا اور صحابیوں ؓ سے دھنوایا اور اپنے گھر میں اس کو کتوایا ہے۔یہ سوت پہنچنے پر ان سے درخواست کی گئی کہ گھر پر اس کا بچا کوئی اور سوت بھی ہے تو بھجوادیں تو حضرت بھائی عبدالرحمٰن صاحب قادیانیؓ کے ذریعہ مزید آٹھ دس سیر روئی قادیان پہنچی جو حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ ؓ سیکرٹری لجنہ اماء اللہ کی خدمت میں اس درخواست کے ساتھ بھیجی گئی کہ حضورؓ کے ارشاد کے ماتحت صحابیات ؓ سے اس روئی کا سوت تیارکروادیں۔ اس امر کی تعمیل کے بعد صحابی بافندگان کے ذریعہ قادیان اور تلونڈی میں کپڑا بنوایا گیا۔پھر جھنڈے کا سائز طے ہونے پر کپڑا کو مطلوبہ سائز جو اٹھارہ فٹ لمبا اور نو فٹ چوڑا تھا صحابی درزیوں کی خدمات سے تیار کروایا گیا۔پھر اس پر جھنڈے کی شکل نقش کروائی گئی۔اس کے نصب کرنے اور لہرانے کے لئے پائپ کرائے پر لیا گیا کیونکہ مطلوبہ سائز 62فٹ کی سیدھی اور خوبصورت لکڑی ملنا مشکل تھی۔

حضور ؓ نے جلسہ سالانہ 1939ء میں 28 دسمبر کے روز اپنی تقریر میں اسلامی تاریخ کے حوالہ سے جھنڈا کی اہمیت اور ضرورت پر نہایت پرحکمت ارشادات فرمائے اور فرمایا کہ جھنڈا لوگوں کے جمع ہونے کی ظاہری علامت ہے اور اس سے نوجوانوں کے دلوں میں ایک ولولہ پیدا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا ہے کہ ’’لوائے ما پنہ ہر سعید خواہد بود‘‘ یعنی میرے جھنڈے کی پناہ ہر سعید کو حاصل ہوگی۔ ا س لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنا جھنڈا نصب کردیں ۔۔۔ پس جھنڈا نہایت ضروری ہے اور بجائے اس کے کہ بعد میں آکر کوئی بادشاہ اسے بنائے۔یہ زیادہ مناسب ہے کہ یہ صحابہؓ حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھوں اور موعودہ خلافت کے زمانہ میں بن جائے۔ اگر اب کوئی جھنڈا نہ بنے تو بعد میں کوئی جھنڈا کسی کے لئے سند نہیں ہوسکتی۔چینی کہیں گے ہم اپنا جھنڈا بناتے ہیں اور جاپانی کہیں گے اپنا۔اور اسطرح ہر قوم اپنا اپنا جھنڈا ہی آگے کرے گی ۔۔۔ اور اس لئے آج جو جھنڈا نصب ہوگا اس میں سب قومیں شامل سمجھی جائیں گی۔اور وہ جماعت کی شوکت کا کا نشان ہوگا اور یہی مناسب تھا کہ جھنڈا ابھی بن جاتا۔تا بعد میں اس کے متعلق کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔تقریر کے اخیر پر حضورؓ نے ایک اقرار نامہ بھی پڑھ کرسنایا اور سامعین کو دہرانے کا ارشاد فرمایا۔ پھر حضور ؓنے رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ کی رقت بھری دعا کے ساتھ جھنڈے کی رسی کو کھینچا اور اس کو ہوا میں لہرادیا۔ اس موقع پرحضور ؓ نے لوائے خدام الاحمدیہ بھی جو تیار ہوچکا تھا لہرایا ۔حضور ؓ نے فرمایا اب لوائے احمدیت کی حفاظت کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ بارہ آدمی پہرہ پر مقرر کرے اور کل جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد اسے دوناظروں کے سپرد کردے جو اس کی حفاظت کے ذمہ دارہوں گے ۔ وہ نہایت مضبوط تالہ میں رکھیں جس کی دوچابیاں ہوں اور وہ دونوں مل کر اسے کھول سکیں۔بعد ازاں حضور ؓ زنانہ جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے اور لجنہ اماء اللہ کا لواء بھی لہرایا۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ کی دعا کے ساتھ ہی اس مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ یہ نافع الناس ہو۔آمین

(از(لقمان احمد کشور، لندن))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 مارچ 2021