• 19 جون, 2024

اسکاٹ لینڈ میں جماعت احمدیہ کا قیام

اسکاٹ لینڈ میں جماعت احمدیہ کا قیام
اور الہام ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاوٴں گا‘‘ کے آئینہ میں مختصر تاریخ

حضرت مسیحِ موعود ؑ کی پیشگوئی ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ کے مصداق جب خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا نفوذ اسکاٹ لینڈ میں کیا تو اس وقت یہاں مقیم چند احبابِ جماعت کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ آنے والا وقت جماعت کے لئے عظیم الشان کامیابیوں اور تبلیغ کے دروازے کھولے گا۔ یقیناً جماعت احمدیہ اسکاٹ لینڈ کی روزافزوں ترقی حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت ہر آنے والے خلیفة المسیح کی دعاؤں کا ثمر ہے، جس میں حضرت مصلح موعودؓ کی 16 ستمبر 1945ء والی رؤیا قابلِ ذکر ہے۔ اور اسی رؤیا کے نتیجے میں مولانا بشیر احمد آرچرڈ مرحوم جیسے داعی الی اللہ کو فروری 1949ء میں اسکاٹ لینڈ میں تعینات کیاگیا اور جماعت کو اپنی آنے والی عظیم الشان کامیابیاں افق پر چمکتی ہوئی نظر آنے لگیں جس کی شاہد ہم آنے والی اگلی نسلیں ہیں۔

جب 1969ء میں اسکاٹ لینڈ کا پہلا نماز سنٹر خریدا گیا تو ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کے اس الہام ’’وَسِّعْ مَکَانَکَ‘‘ کو اس شان سے پورا ہوتے دیکھا کہ کسی مکان کو وسعت دی اور پھر وہ مکان چھوٹا رہ گیا، پھر وسعت دی اور پھر چھوٹا رہ گیا۔ چنانچہ آنے والے وقتوں میں اس چھوٹی سی جماعت کواللہ تعالیٰ نے گلاسگو اور ڈنڈی میں اپنی مساجد قائم کرنے کی توقیق عطا کی اور جماعت اسکاٹ لینڈ کی تعداد جو چند احباب پر مشتمل تھی کو ساڑھے چھ سو سے زیادہ کردیا، الحمدللہ۔ جماعت کی یہ ترقی اصل میں حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ کی اس خبر کا نتیجہ تھی جو آپ نے اپنے معرکة الاراء خطاب میں کی تھی۔ چنانچہ جب مسجد بیت الرحمٰن گلاسگو کا رسمی افتتاح آپ نے 10 مئی 1985ءکواپنے خطبہ جمعہ کے ساتھ کیا تو فرمایا:
’’مجھے کسی احمدی نے بتایا کہ ہم گلاسگو میں دوچار آدمی ہیں اتنی بڑی عمارت کا کیا کریں گے؟ میں نے جواب دیا کہ اگر دوچار ہیں تو خدانے آپ کو دوچار رہنے کے لئے تو نہیں بنایا۔ اوّل تو یہ کہ اگر دوچار بھی ہیں تو اتنی بڑی عمارت کا حق پھر یوں ادا کریں کہ اس کے کونے کونے میں خدا تعالیٰ کو سجدے کریں، کونے کونے میں دعائیں کریں اور اللہ کا ذکر بلند کریں۔ پھر یہ عمارت آپ کو دوچار نہیں رہنے دے گی، یہ اپنے نمازی خود پیدا کرے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہے جو جماعت احمدیہ کے ساتھ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے۔ بہت بڑی چھلانگ ماری اور کوئی بہت بڑی عمارت تعمیر کردی تو دیکھتے ہی دیکھتے یہ محسوس ہوا کہ وہ عمارت چھوٹی تھی اور اس کے آباد کرنے والے اس کی وسعت سے کہیں زیادہ آگے نکل گئے۔‘‘

چنانچہ آج سالوں بعد حضور رحمہ اللہ کی بات صد فی صد اس طرح پوری ہو رہی ہے کہ گلاسگو کے احباب کے لئے یہ مسجد یقیناً چھوٹی ہے اور جماعت اپنے لئے اور بڑی عمارت خریدنے کے لئے کوشاں ہے۔

جہاں اسکاٹ لینڈ جماعت کی ان کامیابیوں کا ذکر کرنے سے ہماری گردن عاجزی اور تشکر کے جذبات سے سجدہ ریز ہوتی ہے وہیں ہر فردِ جماعت کو حضور رحمہ اللہ کی ان نصائح کو اپنی زندگی کا اوّلین مقصد بنانا چاہئے جو آپ نے اپنے اس تاریخی خطبہ جمعہ میں ہمیں ارشاد فرمائیں۔ طوالت کی وجہ سے ان نصائح کی تفصیل نہیں لکھتا مگر آپ رحمہ اللہ نے ہمیں تبلیغ، اپنی باجماعت نمازوں میں باقاعدگی اور اپنے عملی نمونہ کو اسکاٹش لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی تلقین کی تھی۔ اسکاٹ لینڈ کی زمین پر تین خلفاء احمدیت کے مبارک قدم پڑے ہیں، اس لحاظ سے بھی یہ جماعت تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ کی اسکاٹ لینڈ والی رؤیا کے متعلق جماعت کے مشہور شاعر جناب عبدالکریم قدسی صاحب کی ایک نظم کے چند اشعار یوں ہیں کہ:

جو خواب مصلح موعودؓ نے کبھی دیکھا
اسکاٹ لینڈ کے بارے گلاسگو کے بارے
شمال مغربی انگلینڈ کا مقام کوئی
روانہ ہوں گے جہاں سے خدا کے ہرکارے
گلاسگو کی زمین خوش نصیب ہے کتنی
کہ دینِ حق کے اڑیں گے جہاں سے طیارے
اشارے قدرتِ ثانی کے ہیں لطیف بہت
کہ اونچے ہوں گے یہاں دینِ حق کے مینارے
خدا تعالیٰ وہ گھڑیاں بھی جلد لائے کہ جب
یہیں سے پھوٹیں گے تعبیر خواب کے دھارے

اسکاٹ لینڈ کا محلِ وقوع اور مختصر تعارف

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ کے اس اہم خطہ اور اس کے شہروں کا مختصر تعارف کروادیا جائے تاکہ احباب یہاں کے محل وقوع اور تاریخ سے واقف ہوجائیں۔ گلاسگو یہاں کا سب سے بڑا شہر ہے البتہ دارالخلافہ ایڈنبرا کا شہر ہے۔ گلاسگو اپنی تجارتی، صنعتی، سیاسی اور سماجی اہمیت کے لحاظ سے پورے برطانیہ میں چوتھا بڑا شہر ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا شہر ہے۔ تقریباً دس لاکھ آبادی والا یہ شہر اپنی جہازسازی اور بھاری مشینری بنانے کے لئے بہت مشہور ہے۔ گلاسگو شہر لندن سے شمال مغرب کی طرف تقریباً 440 میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اسکاٹ لینڈ کا سب سے بڑا اور اہم شہر ہے۔ یہاں گلاسگو یونیورسٹی کا قیام 1491ء میں ہوا جو یہاں کی پہلی اور مشہور ترین یونیورسٹی ہے۔ لندن کے بعد گلاسگو واحد شہر ہے جہاں زمین دوز ریل چلتی ہے اور شہر کے اہم مقامات کو جوڑتی ہے۔ یہاں کا مشہور دریا کلائڈ ہے جو شہر کے بیچوں بیچ چلتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کا دوسرا بڑا شہر ایڈنبرا ہے جو یہاں کا دارالخلافہ ہے۔ یہ شہر اسکاٹ لینڈ کے بادشاہوں کا مسکن رہا ہے جو اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کی دلچسپی کا موجب ہے۔ یہاں کی پرنسس اسٹریٹ کو یورپ کی خوبصورت ترین اسٹریٹ کہا جاتا ہے جس کے ایک طرف بڑے بڑے اسٹور اور دوسری طرف پہاڑی قلعہ (ایڈنبرا کاسل) سے نیچے خوبصورت وادی ہے۔

اسکاٹ لینڈ کا بڑا مذہب عیسائیت ہے مگر دوسرے مذاہب کو اپنی عبادات اور تبلیغ کی مکمل آزادی ہے۔ گلاسگو میں مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ ہے اور ان کی 20 سے زیادہ مساجد ہیں جن میں گلاسگو سینٹرل مسجد نمایاں ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ کی اسکاٹ لینڈ کے متعلق رؤیا

سیّدنا حضرت مصلح موعود ؓ نے 16 اور 17 ستمبر 1945ء کی درمیانی شب ایک مبارک رؤیا دیکھی جس کو بیان فرمانے کے بعد فرمایا:
’’میں سمجھتا ہوں شائید اللہ تعالیٰ اسکاٹ لینڈ میں احمدیت کی اشاعت کے سامان کرے اور شاید کوئی ایسی تحریک پیدا ہو جو گلاسگو سے دو سو میل جنوب کی طرف سے شروع ہوکر گلاسگو تک جاری ہو۔‘‘

حضرت مصلح موعودؓ کی یہ رؤیا روزنامہ الفضل قادیان کے 21 ستمبر 1945ء کے صفحہ نمبر 2 پر شائع ہوئی۔

جماعت احمدیہ اسکاٹ لینڈ کےابتدائی حالات

خدا تعالیٰ نے یہ رویاء ایسے وقت میں حضورؓ کو دکھائی جب کہ میری تحقیق کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں صرف دواسکاٹش احمدی احباب کے نام مجھے ملے ہیں جو تقریباً 1940ء میں یہاں رہائش پذیر تھے

•Miss Whitlow
•Mr. Forshaw

اس رویاء کو پورا کرنے کے سامان خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں کئے کہ مکرم بشیر احمد آرچرڈ صاحب نے احمدیت قبول کی اور اپنی زندگی وقف کردی۔ سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کا تقرر اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں فرمایا جہاں آپ نے پہلی دفعہ فروری 1949ء تا 1951ء تک خدمت کی توفیق پائی اور پھر دوبارہ آپ 1966ء تا اکتوبر 1983ء میں بطور مبّلغ تعینات رہے۔ غالب خیال ہے کہ سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی اس رؤیا کو مدِنظر رکھتے ہوئےآرچرڈ صاحب کا تقرر فرمایا کیونکہ آپ کی پہلی دفعہ گلاسگو میں آمد براہِ راست مرکز ربوہ پاکستان سے ہوئی اور دوسری دفعہ جب آپ تشریف لائے تو آپ لندن مرکز کے ماتحت تھے۔

جماعت اسکاٹ لینڈ کا پہلا اجلاس 6 مئی 1949ء کو گلاسگو میں ہوا اور 17 اگست 1949ء کو ایڈنبرا میں ہوا۔ اسکاٹ لینڈ کے ابتدائی دورہ جات کرنے والے بزرگوں میں مکرم نسیم سیفی صاحب اور ملک عمر علی صاحب کے نام ملتے ہیں جنہوں نے 1950ء میں ربوہ سے گلاسگو کا دورہ کیا۔ علاوہ ازیں صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم نے بھی 1985ء میں قادیان سے اسکاٹ لینڈ کا دورہ کیا۔

اس دور کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جماعت اسکاٹ لینڈ نے مختلف وقتوں میں درج ذیل نماز سنٹر عارضی طور پر حاصل کئے۔

•379 Langside Road Glasgow
•36 Mansion House Road Glasgow

مسٹر عبدالله اسکاٹ کا قبول احمدیت کا تذکرہ

تاريخ میں ہمیں عبداللہ اسکاٹ صاحب اسکاٹش دوست کے قبول احمدیت کا تذکرہ بھی ملتا ہے جو گلاسگو میں پیدا ہوئے اور یہیں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ فوج میں بطور ٹیلی گرافسٹ کے کام شروع کیا اور 1919ء میں عراقی فوج کے شعبہ تاراور مواصلات میں ملازمت شروع کی۔ عراق میں ہی ایک سال کے بعد اسلام قبول کیا اور 1925ء میں آپ کواحمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ آپ انگریزی کے علاوہ عربی، کردش اور ترکی زبان بھی جانتے تھے۔ آپ کی پرجوش طبیعت کی وجہ سے عراق میں کئی اور دوستوں کو بھی احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ آپ نے خواب میں حضرت مسیحِ موعود ؑ اور حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کا دیدار کیا اور اس کے علاوہ بھی کئی ایمان افروز واقعات آ پ کو خواب میں دکھائے گئے۔ چنانچہ اسی طرح آپ کودکھایا گیا کہ آپ قادیان کی سیر کررہے ہیں جب آپ قادیان سےبہت دوررہتے تھے چنانچہ آپ نے اس خواب کو پورا کرنے کیلئے 1931ء میں قادیان کا دورہ کیا اور اپنے مشاہدات پر مبنی انگریزی میں ایک تفصیلی مضمون لکھا جوریویوآف رلجن قادیان کے اگست 1931ء کے شمارہ میں شائع ہوا تھا۔ آپ کا درج بالا تعارف اور فوٹوبھی اسی رسالہ میں شائع ہوئی ہیں۔

مکرم آرچرڈ صاحب کے تقرر 1949ء کے وقت ایک اور دوست مکرم عبدالحق پندار صاحب کا نام بھی ریکارڈ میں درج ہے۔ اسکے علاوہ 1951ء سے لے کر 1963ء تک یہ احمدی احباب گلاسگو میں مقیم تھے۔

  • مکرم چوہدری منصور احمد صاحب بی ٹی (والد صاحب جناب لارڈ طارق احمد صاحب آف ومبلڈن)
  • مکرم منصور احمد شرما صاحب
  • مکرم مرزا مسعود احمد خان صاحب

ابتدائی جماعت 1950ء کے احباب گلاسگو میں مکرم چوہدری منصور احمد صاحب بی ٹی کے فلیٹ پر ہی لمبے عرصہ تک نمازیں اور دوسرے جماعتی پروگرام کرتے رہے (اور یہاں ہی لارڈ آف ومبلڈن مکرم طارق احمد بی ٹی صاحب پیدا ہوئے)۔ البتہ مختلف وقتوں میں دو فلیٹ کرایہ پر بھی حاصل کئے گئے جن کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ یہ اواخر 1963ء کی بات ہے کہ جماعت کو قائم کرنے کے لئے لندن مرکز سے محترم مولانا بشیر احمد رفیق صاحب امام مسجد فضل دورے پر تشریف لائے اور محترم چوہدری منور احمد صاحب بی ٹی مرحوم پہلے صدر جماعت گلاسگو منتخب ہوئے۔ چوہدری صاحب کے پاکستان چلے جانے کے بعد جلد ہی 1964ء میں مکرم ایوب احمد خان صاحب دوسرے صدر جماعت گلاسگو منتخب ہوگئے اور انہیں کے ایک دوسرے بڑے فلیٹ 8 Morris Place Glasgow میں نمازیں اور اجلاسات ہونے لگے۔ جب حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب ؓ 1966ء میں ایک دورے پر گلاسگو تشریف لائے تو انہیں درخواست کی گئ کہ یہاں ایک مبلغ کی ضرورت ہے، چنا نچہ آپ ؓ کی کوشش سے اسکاٹ لینڈ کے پہلے مبلغ مکرم بشیر احمد آرچرڈ صاحب اپنے دوسرے دور میں 1966ء میں گلاسگو تعینات ہوئے اورمکرم ایوب خان صاحب کے اسی فلیٹ میں قیام پذیر رہے۔ یہ بات خاکسار کی تحقیق سے ثابت ہوتی ہے کہ 1966ء سے لے کر 1975ء تک کوئی باقاعدہ صدر جماعت اسکاٹ لینڈ یا گلاسگو نہیں تھے بلکہ مولانا بشیر احمد آرچرڈ صاحب مرحوم ہی انتظامی امور کی نگرانی کرتے تھے۔ اس دوران 1970ء سے لے کر 1975ء تک مکرم ملک حفیظ الرحمٰن صاحب قریبی معاون کے طور پر آرچرڈ صاحب کے ساتھ کام کرتے رہے۔ اس وقت تک کل اسکاٹ لینڈ ایک جماعت کے طور پر جانا جاتا تھا اور گلاسگو اور ایڈنبرا اس کا حصہ تھے، نیز اسکاٹ لینڈ جماعت ناردرن ریجن کا حصّہ تھی جہاں اسکاٹ لینڈ جماعت کے سالانہ پروگرام اس ریجن کے مختلف شہروں میں منعقد ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کئی سالوں تک ناردرن ریجن کے مربیان مانچسٹر سے گلاسگو اپنے دورہ جات میں آتے رہے۔

(ڈائری ملک حفیظ الرحمٰن آف ایڈنبرا سے تصدیق شدہ)

جماعت ہائے اسکاٹ لینڈ کا قیام

1980ء کے اوائل میں اسکاٹ لینڈ جماعت کے پہلے صدر کا انتخاب عمل میں آیا جس میں مکرم ملک حفیظ الرحمٰن صاحب کو صدر اسکاٹ لینڈ منتخب کیا گیا۔ اس وقت کے اصول کے مطابق انتخاب کی کاروائی وکالتِ تبشیر ربوہ کو بھجوائی گئی جہاں سے یکم مارچ 1980ء سے تین سال کے لئے مکرم ملک صاحب کی منظوری آئی۔

(بحوالہ اخبار احمدیہ مارچ 1980ء بمعہ تصاویر ممبران ایڈوائزری کونسل)

اس جگہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس وقت اسکاٹ لینڈ الگ ریجن نہیں تھا۔ اسکاٹ لینڈ برطانیہ کے ناردن ریجن کا حصّہ تھا جس میں کچھ جماعتیں انگلینڈ کی بھی شامل تھیں۔ اس وقت اسکاٹ لینڈ میں دو جماعتیں موجود تھیں ایک ایڈنبرا میں جس کے نامزد صدر مکرم چوہدری نور احمد صاحب تھے جو کہ 6 جولائی 1977ء کو قائم ہوئی تھی اور دوسری گلاسگو کی جماعت جس کا اس وقت کوئی صدر نہیں تھا، ہاں انتظامی لحاظ سے سارے اسکاٹ لینڈ کے لئےمکرم بشیر احمد صاحب آرچرڈ کی سربراہی میں ملک حفیظ الرحمٰن منتخب سیکٹری تھے اور دونوں جماعتیں اسی انتظام کے اند ر آتی تھیں۔

جماعت اسکاٹ لینڈ کی پہلی باقاعدہ منتخب عاملہ

مجلس عاملہ کا پہلا اجلاس: مؤرخہ 6 دسمبر 1980ء

صدر جماعت اسکاٹ لینڈ:مکرم ملک حفیظ الرحمٰن صاحب حال مقیم ایڈنبرا

جنرل سیکرٹری: مکرم جلیل میاں صاحب اور بعد میں مکرم عبدالغفار عابد صاحب حال مقیم گلاسگو

سیکرٹری مال: مکرم حبت الرحمٰن صاحب، داماد مولانا بشیر احمد آرچرڈ صاحب مقیم گلاسگو (حال لندن)

سیکرٹری تعلیم: مکرم ڈاکٹر نعیم احمد طاہر صاحب مقیم گلاسگو (حال جرمنی)

سیکرٹری تبلیغ: مکرم چوہدری منور احمد صاحب بی ٹی مرحوم مقیم گلاسگو

11 جولائی 1984ء کو لند ن سے مولانا عطاء المجیب راشد صاحب، امیر و مشنری انچارچ برطانیہ گلاسگو تشریف لائے۔ اسی روز گلاسگو اور ایڈنبرا کے لئےعلیحدہ علیحدہ صدران کا انتخاب عمل میں آیا چنانچہ گلاسگو کے لئےعبدالغفار عابد صاحب اور ایڈنبرا کے لئےملک حفیظ الرحمٰن صاحب صدر منتخب ہوئے۔ اس وقت گلاسگو کی تجنید تقریباً ایک سو کے قریب اور ایڈنبرا جماعت تقریباً پچپن افراد پر مشتمل تھی۔ اسکاٹ لینڈ کومورخہ 28 فروری 2001ء کو علیحدہ ریجن بنایا گیا تو مکرم عبدالغفار عابد صاحب اس کے پہلے ریجنل امیر مقرر کیے گئے۔

(ڈائری ملک حفیظ الرحمٰن آف ایڈنبرا سے تصدیق شدہ)

اسکاٹ لینڈ جماعت کے پہلے نماز سنٹر کی خرید

1964ء سے مکرم ایوب خان صاحب صدر جماعت گلاسگو کا فلیٹ 8 Morris Place Glasgow نماز اور اجلاسات کے لئے استعمال ہور ہا تھا نیز مولانا بشیر احمد آرچرڈ صاحب نے بھی اسی فلیٹ میں قیام کیا۔ یکم اگست 1967ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ نے اسکاٹ لینڈ کا پہلا دورہ فرمایا اور احبابِ جماعت سے ملاقاتیں بھی فرمائیں۔ آپ رحمہ اللہ نے جماعت کو اپنا سنٹر خریدنے کا ارشاد بھی فرمایا۔ بعد میں اس حکم کی تعمیل میں حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب ؓ نے 1969ء میں جماعت کے لئے مبلغ پانچ ہزار پاؤنڈ سے پانچ کمروں پر مشتمل فلیٹ 152 Nithsdale Road Glasgow خرید نے کا انتظام فرمایا۔ مکرم بشیر احمد آرچرڈ صاحب بعد میں اسی فلیٹ میں منتقل ہو گئے اور ایک بڑا کمرہ بطور مسجد استعمال ہونے لگا جو آج کل حلقہ پولک شیلڈ گلاسگو کا نماز سنٹر اور جماعت کے گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہورہا ہے۔

پہلی مسجد اور مشن ہاؤس کی خرید

اسکاٹ لینڈ میں مشن ہاؤس اور مسجد کے حصول کے لئے عرصہ دراز سے کوششیں جاری تھیں۔ محترم امام بشیر احمد رفیق صاحب مرحوم نے بتایا کہ انہوں نے غالباً 1963ء میں ایڈنبرا کے علاقہ Granton میں اس غرض کے لئے فلیٹ خریدا تھا لیکن اس علاقہ میں رہنے والوں کے اعتراض کی وجہ سے کونسل نے اس کی منظوری نہ دی۔ اس کے بعد مکرم شیخ مبارک احمد صاحب امام مسجد لندن کے زیرِ نگرانی گلاسگو میں جگہ کی تلاش شروع ہوئی۔ مکرم آرچرڈ صاحب نے ملک حفیظ الرحمٰن صاحب کو ہدایت کی کہ ایڈنبرا میں بھی ساتھ ساتھ کوشش جاری رکھی جائے۔ جس شہر میں بھی جگہ ملے وہ لینے کی کوشش کی جائے، چونکہ جماعت کے ممبران کی تعداد گلاسگو میں زیادہ تھی اس لئے زیادہ توجہ گلاسگو پر ہی مرکوز رہی چنانچہ چھ مختلف عمارات یا زمینیں دیکھی گئیں جن میں (Masonic Hall, 8 Haugh Road Glasgow) بھی شامل تھی۔

یہ عمارت دسمبر 1984ءمیں خریدی گئی جو گلاسگو یونیورسٹی کے قریب ہے۔ یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے جو دو بڑے ہال، سات کمرے، چار سٹور، ایک تہہ خانہ نیز چار کمروں کے ایک مربی ہاؤس پر مشتمل ہے۔ بعد ازاں اس میں 9 عدد طہارت خانے، چار غسلخانے، باورچی خانہ اور وضو کی جگہوں کا اضافہ کیا گیا۔ مسجد بیت الرحمٰن گلاسگو کی خرید اور تعمیر نو کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ورنہ وہ بھی ایک ایمان افروز واقع ہے کہ کیسے یہ عمارت اللہ تعالیٰ نے جماعت کو عطا کی۔ مئی 1985ء کو حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ کے ساتھ اس مسجد کا، مرمت کے کام سے پہلے، رسمی افتتاح فرمایا۔

جماعت احمدیہ ایڈنبرا کا قیام

محترم امام بشیر احمدخان رفیق صاحب مرحوم امام مسجد فضل لندن نے اندازاً 1963ء میں ایڈنبرا کے علاقہ Granton میں نماز سنٹر کے لئےایک فلیٹ خریدا تھا لیکن اس علاقہ میں رہنے والوں کے اعتراض کی وجہ سے کونسل کی جانب سے اس کی منظوری نہ مل سکی اور بات التوا میں پڑ گئی۔ ایڈنبرا میں جماعت کی تعداد چونکہ بہت تھوڑی تھی اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد کوشش ہی نہیں کی گئی۔ گلاسگو میں چونکہ جماعت کی تعداد زیادہ تھی اور پولک شیلڈ میں مشن ہاؤس بھی موجودتھا اس لئے ایڈنبرا کے افرادِ جماعت جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے گلاسگو جایا کرتے تھے۔ اندازاً اکتو بر 1985ء میں نماز جمعہ ملک حفیظ الرحمٰن صاحب کے مکان پر ادا کی جانے لگی جو اکتوبر 2015ء تک قریباً تیس سال جاری رہی۔ جماعتی مہمان بھی اندازاً 1980ء سے 1990ء تک قریباً دس سال ملک صاحب کے مکان پر ہی قیام فرماتے رہے۔ پھر جب مسجد بیت الرحمٰن و مشن ہاؤس گلاسگو قائم ہوگیا اور پولک شیلڈ والے مشن ہاؤس کو گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کردیا گیا تو ایڈنبرا کے جماعتی مہمان بھی عموماً وہیں پر ہی قیام کرنے لگے۔

مورخہء 6 جولائی 1977ء کو مولانا بشیر احمد خان رفیق صاحب دو روزہ دورے پر ایڈنبرا تشریف لائے جس کے دوران انہوں نے مکرم چوہدری نور احمد صاحب کو ایڈنبرا کا پہلا صدر نامزد کیا۔ اس کے بعد 11 جولائی 1984ء میں جماعت ایڈنبرا کا باقاعدہ انتخاب عمل میں آیا جس میں ملک حفیظ الرحمٰن صاحب صدر جماعت احمدیہ ایڈنبرا منتخب ہوئے۔

جماعت احمدیہ ڈنڈی کا قیام اور مسجد کی خرید

ڈنڈی شہر گلاسگو سے شمال مشرق کی طرف تقریباً 82 میل کے فاصلے پر ایک خوبصورت چھوٹا سا شہر ہے اور یہاں جماعت کے قیام کی صورت ایسے نکلی کہ تقریباً 2001ء سے احمدی طالبِ علم یہاں تعلیم اور بعد میں نوکری کی غرض سے آنا شروع ہوگئے۔ ان میں مکرم ڈاکٹر غلام کبیر صاحب، مکرم طارق احمد صاحب اور مکرم نفیس احمد خان صاحب قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے بعد تقریباً 2006ء میں کافی احمدی طالبعلم پاکستان، افریقہ اور دوسرے ممالک سے ڈنڈی یونیورسٹی میں تعلیم کی غرض سے وارد ہوئے۔ اسی دوران کچھ ڈاکٹری پیشہ اور دوسرے احمدی احباب کا آنا جانا اس شہر میں ہوتا رہا اور ان میں سے کافی دوستوں نے اس شہر کو اپنا وطن بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ دوست ایک دوسرے کے گھروں میں نماز اور دوسرے جماعتی کاموں کے لئے اکٹھے ہوتے رہے، تقریباً 2013ء میں اس بات کی شدت سے کمی محسوس ہوئی کہ ایک مسجد خریدی جائے جہاں احباب نمازوں کے لئے اکٹھے ہوسکیں۔ جب قابلِ ذکر احباب یہاں جمع ہوگئے تو ڈنڈی کو علیحدہ جماعت کے طور پر منظور کیا گیا اور بعد ازاں جماعت کے انتخابات ہوئے اور جنوری 2014ء کو یہ جماعت وجود میں آئی اور مکرم محمد احسان احمد صاحب اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

برطانوی قانون کے مطابق اگر کسی شہر کی کونسل کے پاس کوئی ایسی عمارت ہو جو surplus ہو تو ایسی عمارت کو گورنمنٹ کی ایک سکیم جس کا نام Asset transfer to community کے تحت کسی رفاعی ادارہ کو دیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ڈنڈی میں بھی کونسل سے رابطہ کیا گیا اور ایسی عمارت کی تفصیل اور خریدنے کے طریقہء کار کی معلومات لیں گئیں اور ایک باقاعدہ درخواست جمع کروا دی گئی۔ اس اثنا میں ایک عمارت کے متعلق علم ہوا جو اس کونسل کی طرف سے اسی مقصد کے لئے لی جا سکتی تھی۔

اس دوران حضورِ اقدس خلیفة المسیح الخامس ایدة اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دعا اور راہنمائی کے لئے خط لکھا گیا اور آپ ایدۃ اللہ تعالیٰ کا شفقت بھرا جواب موصول ہوا جس میں لکھا تھا ’’لےلو‘‘ اور اس عمارت کی خرید کے بعد حضور اقدس نے اس عمارت کا نام ’’مسجد محمود‘‘ تجویز فرمایا۔ اس جواب سے احباب جماعت ڈنڈی کو ڈھارس بندھی اور انہوں نے جماعت احمدیہ برطانیہ کے شعبہ جائیداد سے قانونی مدد لی اور تیاری کے بعد 2015ء میں ڈنڈی کونسل میں دوسرے مرحلہ کے لئے بھی درخواست دے دی۔ اس دوران ڈنڈی شہر کے ممبر پارلیمنٹ برطانیہ، ممبر پارلیمنٹ سکاٹش پارلیمنٹ، کونسلرز اور دوسرے اہم لوگوں سے رابطہ بھی کیا گیا اور ضروری کاغذی کارروائی بھی جاری رہی۔ کونسل کی ایک عمارت منتخب کی گئی اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور خلیفة المسیح الخامس ایدة اللہ تعالیٰ کی دعاؤں کے طفیل تقریباً اوائل 2016ء میں کاغذی کارروائی مکمل ہوئی اور یہ عمارت محض ایک برطانوی پاؤنڈ کے عوض جماعت احمدیہ ڈنڈی کے نام منتقل ہوگئی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

یہ 31 جولائی 2016ء اور جمعہ کا مبارک دن تھا جب اس عمارت کی چابیاں جماعت کو عطا ہوئیں اور اسی دن جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے ساتھ مسجد محمود ڈنڈی کا رسمی افتتاح ہوا۔ اس عمارت کو قابلِ استعمال بنانے اور ضروری تبدیلیوں کے لئے زیادہ تر کام وقارِ عمل کے ذریعہ آہستہ آہستہ جاری رہا جس میں خصوصی طور پر ڈنڈی جماعت کے احباب نے حصہ لیا اور عمومی طور پر گلاسگو اور ایڈنبرا کے احباب نے بھی حصہ لیا۔

خاکسار یہاں اسکاٹ لینڈ ریجن کے قیام اور ابتدائی حالات کا ذکر ختم کرتا ہے اور آئندہ کبھی اسی سلسلہ کی دوسری قسط میں کچھ اور واقعات جن کا تعلق الہٰی تائیدات سے ہے پیش کروں گا۔ ان شاءاللّٰہ

(ارشد محمود خان۔ گلاسگو)

پچھلا پڑھیں

بمؤرخہ 04 مارچ 2022ء This Week With Huzoor

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ