• 6 مئی, 2021

خدا تعالیٰ کی پہچان کے مرتبے

حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کی پہچان کے کئی مرتبے ہیں۔ مگر سب سے اعلیٰ مرتبہ قرب الٰہی کا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی صحیح رنگ میں پہچان ہوتی ہے۔ اس لئے صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ میں نے سچی خوابیں دیکھ لی ہیں یا کوئی کشف مجھے ہو گیا یا الہام ہو گیا۔ الہام تو بلعم کو بھی ہو گیا تھا لیکن اس نے اس کے باوجود ٹھوکر کھائی۔ اس لئے قرب کی تلاش کرو اور قرب خدا تعالیٰ کے برگزیدہ سے جڑ کر ہی ملتا ہے جس سے مسلسل اللہ تعالیٰ اس کو اپنے نور سے فیضیاب فرماتا رہتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی رضا بندے کا مقصود ہو جاتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ
’’خدا نور ہے جیسا کہ اس نے فرمایا اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (النور: 36)۔ پس وہ شخص جو صرف اس نور کے لوازم کو دیکھتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے جو دور سے ایک دھوا ں دیکھتا ہے مگر آگ کی روشنی نہیں دیکھتا اِسلئے وہ روشنی کے فوائد سے محروم ہے…‘‘ (روشنی کے فوائد تو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا میں ڈوب جانے سے ملتے ہیں)۔ فرمایا کہ ’’… اور نیز اس کی گرمی سے بھی جو بشریّت کی آلودگی کو جلاتی ہے۔…‘‘ فوائد سے بھی محروم ہے اور نیز اس کی گرمی سے بھی جو بشریت کی آلودگی کو جلاتی ہے۔ انسان کے بشری تقاضے ہونے کے جو بعض گند ہیں جنہوں نے اس کو گھیرا ہوا ہے، اس گرمی سے بھی محروم رہتا ہے، اس آگ سے محروم رہتا ہے جو ان گندوں کو جلاتی ہے۔ فرمایا کہ ’’… پس وہ لوگ جو صرف منقولی یا معقولی دلائل یا ظنّی الہامات سے خدا تعالیٰ کے وجود پر دلیل پکڑتے ہیں جیسے علماء ظاہری یا جیسے فلسفی لوگ اور یا ایسے لوگ جو صرف اپنے روحانی قویٰ سے جو استعداد کشوف اور رؤیا ہے خدا تعالیٰ کی ہستی کو مانتے ہیں مگر خدا کے قرب کی روشنی سے بے نصیب ہیں …‘‘ (اب اس میں یہ فرمایا کہ ان کے پاس منقولی اور عقلی دلائل بھی ہیں۔ الہامات پر یا بعض دفعہ خوابوں پر ظن کرتے ہوئے ان کو خدا تعالیٰ کی ہستی پر اور وجود پر یقین بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے۔ علماء ظاہری اسی چیز کی وجہ سے خدا کو مانتے ہیں یا ایسے فلسفی یا وہ لوگ جن کی روحانیت اس حد تک ہے کہ ان میں بعض کشف اور رؤیا صالحہ کی استعدادیں بھی موجود ہوتی ہیں اور اس وجہ سے خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں مگر ان سب چیزوں کے باوجود وہ خدا تعالیٰ کے قرب کی روشنی سے بے نصیب ہیں۔ فرمایا کہ) ’’… وہ اس انسان کی مانند ہیں جو دور سے آگ کا دھواں دیکھتا ہے مگر آگ کی روشنی کو نہیں دیکھتا اور صرف دھوئیں پر غور کرنے سے آگ کے وجود پر یقین کر لیتا ہے‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ14)

(خطبۂ جمعہ فرمودہ 2 مئی 2014ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اپریل 2021