• 15 اگست, 2022

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال شجاعت

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہو رہی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس غار کی تلاشی کرو کیونکہ نشانِ پا یہاں تک ہی آ کر ختم ہو جا تا ہے۔ لیکن اُن میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گزر اور دخل کیسے ہوگا مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے۔ کبوتر نے انڈے دئیے ہوئے ہیں۔ اس قسم کی باتوں کی آوازیں اندر پہنچ رہی ہیں۔ اور آپؐ بڑی صفائی سے اُن کو سن رہے ہیں۔ ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ وہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور دیوانے کی طرح بڑھتے آئے ہیں۔ لیکن آپؐ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپؐ اپنے رفیق صادق صدیقؓ کو فرماتے ہیں لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (التوبہ: 40) یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہرکرتے ہیں کہ آپؐ نے زبان ہی سے فرمایا کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں۔ اشارہ سے کام نہیں چلتا۔ باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم و مخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس امر کی پروا نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔ خداتعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کے لئے تو یہ نمونہ کافی ہے‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ250-251 ایڈیشن 1988ء)

پچھلا پڑھیں

ریجنل فٹ بال لیگ

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جون 2022