• 15 اگست, 2022

ہر ایک دل ہے دُکھی جان اک عذاب میں ہے

ہر ایک دل ہے دُکھی جان اک عذاب میں ہے
اجل تلاش میں امتحاں نصاب میں ہے

اٹھائے پھرتا ہے ہر کوئی یاں صلیب اپنی
دکھوں کا بوجھ سدا عالم شباب میں ہے

کہانی حضرت انساں کی کیا سناؤں تمہیں
کبھی ثواب میں ہے اور کبھی عذاب میں ہے

یہ کیا طلسم ہے دنیا میں جو بھی آؤے ہے
ہر ایک لمحہ ہر اک سال اک سراب میں ہے

کریں ہیں جان فدا حسن بے مثال پہ جس
ہزار داغ اس ہی حسن ماہ تاب میں ہے

میں خوب جانوں ہوں واعظ کی ہر نصیحت کو
ہر ایک نیکی محض خواہش ثواب میں ہے

عبث ہے شکوہ کوئی آسماں سے مت کیجو
یہاں سکون فقط مستئ شراب میں ہے

ہمارے زخم جگر حسن نو بہار بنے
اگرچہ شوخئ رنگ پتئی گلاب میں ہے

چہار سمت نئی ابتلاؤں کا گھیرا
کوئی علاج بھی اسکا تیری کتاب میں ہے

پلک جھپکتے بدلتا ہے زیست کا منظر
یہ ہی تو ایک سبق ہستئ حباب میں ہے

تمام نامے میرے نامہ بر نے کھول لیے
رقیب کس لیے کس کار کے عتاب میں ہے

کبھی نہ بھول کے خود آپ ہم کو یاد کیے
یہی تو ایک فرق ہم میں اور جناب میں ہے

کبھی تو آپ بھی ملنے کو آئیے صاحب
غریب خانہ بھی دولت کدے کے ساتھ میں ہے

خوشا نصیب کسی نے ہے ہم کو یاد کیا
خوشی سے جشن طرب روح اضطراب میں ہے

کہا تھا تم نے کبھی حال دل سنایا کرو
سو آج ساری غزل آپ کے حساب میں ہے

(محمد امجد خان۔ آسٹریلیا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جون 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ