• 18 اکتوبر, 2021

حضرت حسین بی بیؓ (چوہدرانی)

اُذْکُرُوْ امَحَاسِنَ مَوْتَاکُمْ
حضرت حسین بی بیؓ (چوہدرانی)

ابتدائی حالات

آج میں اپنے خاندان کی جس شخصیت کے بارے میں مضمون لکھ رہی ہوں وہ میری پر دادی حسین بی بی صاحبہ ہیں۔آپ احمدیت کی فدائیت اورجان نثار ی میں اپنی مثال آپ تھیں۔اس زمانہ کے دستور کے مطابق میری پردادی جان کی دنیاوی تعلیم پرائمری تھی مگر آپکو قرآن وحدیث پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔ آپ کی دینداری ہی وہ خاص وجہ تھی جس کی بدولت آپ کو اول احمدیت کوقبول کرنے اورپھر امام الزمان حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا دیدار کرنیکی سعادت نصیب ہوئی۔اگرچہ کہ آپ نے بعض خاندانی مجبوریوں کے باعث باقاعدہ بیعت کا اقرار (میرے علم کے مطابق) حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کے دور خلافت میں کیا تھا مگر اس بات کے بھی نہا یت ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے علم ہوتا ہے کہ آپ کو ایمان کی دولت اس سے بہت پہلے نصیب ہوچکی تھی جس کو آپ نے مخصوص حالات کے باعث خفیہ رکھا ہوا تھا۔ ان حالات کا مفصل ذکر آگے بیان ہوگا۔

خاندانی حالات و شادی

پردادی جان تحصیل پھالیہ ضلع گجرات کے ایک معزز تارڑ گھرانہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کی شادی اندازاً 1890ء میں میرے پردادا چوہدری خان محمد صاحب نمبردار قوم جٹ وڑائچ، ساکن سعداللہ پور، تحصیل پھالیہ ضلع گجرات سے سرانجام پائی۔ میرے پردادا جان اپنے والد کی اکلوتی اولاد تھے۔ ان کی پیدائش اپنے والد چوہدری عبداللہ خان صاحب نمبردار(جن کا ذکر حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنی خود نوشت حیات قدسی میں سعداللہ پور کے حوالہ سے کیا ہے کہ وہ چوہدری اللہ داد صاحب کے چچا تھے) آپ کی وفات کے پانچ ماہ بعد اندازاً 1868ء میں ہوئی تھی۔(پر دادی محترمہ حسین بی بی صاحبہ کا سن پیدائش معلوم نہیں ہو سکا۔)

آپ کی اولاد

محترمہ حسین بی بی صاحبہ کو خدا تعالیٰ نے چار بیٹوں اور ایک بیٹی سے نواز تھا۔سب سے بڑے بیٹے مکرم سردار خان صاحب، دوسرے مکرم نذر محمد صاحب، تیسرے مکرم غلام احمد صاحب، چھوٹے مکرم عنایت اللہ صاحب اور مکرمہ سردار بی بی صاحبہ بیٹی تھی۔مکرم غلام احمدچھوٹی عمر ہی میں فوت ہوگئے۔ میرے دادا مکرم نذر محمد صاحب دوسرے بیٹے تھے۔

قبولیت احمدیت

میرے والد صاحب کے سب سے بڑے تایا مکرم سردار خان صاحب جب پانچویں جماعت کے طالب علم تھے اور ان کے استاد مولوی غلام علی صاحب رضی اللہ عنہ آف راجیکی جو کہ حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے۔ (ان کی شادی مولوی غلام غوث رضی اللہ عنہ امام مسجد سعداللہ پور کی بیٹی مکرمہ رابعہ بی بی صاحبہ سے ہوئی تھی جو بعد میں خدا کے فضل اور حضرت مولوی راجیکی صاحب رضی اللہ عنہ کی تبلیغ کی بدولت احمدی ہوئے اور صحابی ہونے کا اعزاز پایا) مولوی غلام علی صاحب رضی اللہ عنہ کو پتہ تھا کہ سردار خان گاؤں کے نمبر دار مکرم چوہدری خان محمد صاحب کا بیٹا ہے۔ ان کی دلی تمنا تھی کہ یہ خاندان احمدی ہو جائے تو اس طرح خدا کے فضل سے احمدیت کی ترقی کے اس گاؤں میں دروازے کھلیں گے۔چنانچہ انہوں نے تایا جی مکرم سردار خان صاحب کو کہا کہ آپ قادیان میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو خط لکھیں کہ‘‘دعا فرمائیں کہ میں سنٹر کے پرائمری کے امتحان میں اوّل آجاؤں۔’’اور اگر تم اوّل آگئے تو اپنی والدہ سے کہنا کہ میں نے احمدیت قبول کرنی ہے۔ چونکہ ہمارے پردادا جان تو بڑے سخت مزاج اور دبدبہ والے انسان تھے اور ان کے سامنے ایسی بات کرنے کی کسی کی جرأت نہ تھی لہٰذا تایا جی نے اپنی والدہ مکرمہ حسین بی بی صاحبہ سے مولوی غلام علی رضی اللہ عنہ راجیکی صاحب ہیڈ ماسٹر پرائمری سکول سعداللہ پور (جو کہ بمع اپنے سسرال احمدیت کو قبول کر چکے تھے) کا تذکرہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خط لکھنے کی اجازت مانگی اور ساتھ شرط بھی بتائی۔ میری پردادی نے کہا: بیٹا! خط ضرور لکھو اور میں بھی دعا مانگتی ہوں تم بھی دعا کرو کہ ’’اللہ تعالیٰ ہم کو اس عہد کو نبھانے کی توفیق دے۔‘‘ لہٰذا تایا جی مکرم سردار خان صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں خط تحریر کیا اور پرائمری کا امتحان دیا۔ خدا کے فضل سے جوکالیاں امتحانی سنٹر جس میں تقریباً 10سکولوں کے بچوں نے امتحان دیا تایاجی مکرم سردار خان صاحب سارے سنٹر میں اوّل آئے اور وظیفہ بھی حاصل کیا۔خدا کے اس فضل کو دیکھ کر اور خدا کے مسیحؑ کی دعا کا معجزہ دیکھ کرتایا جی اورپر دادی جان کے لئے اب کوئی دوسرا راستہ نہ تھا، لہٰذا دلی طور پر تودونوں ماں بیٹا احمدی ہو گئے مگر باقاعدہ طور پہ بیعت نہ کی کیونکہ میرے پر دادا جان جو کہ گاؤں سعداللہ پور اور مسیت والی کے نمبردار اور ظاہری جاہ وجلال کے مالک تھے، ان سے میری پردادی جان نے وقتی طور پر قبولیت احمدیت کو مخفی رکھا مگر چندہ دینا شروع کر دیا جو کہ بسا اوقات اناج، چاول، مکھن وغیرہ کی صورت میں ہوا کرتا تھا۔ تایا جی مکرم سردار خان صاحب کے بارے میں ایک تبدیلی کا ذکر کرنا چاہوں گی جو اُن میں قبولیت احمدیت کی بدولت رونما ہوئی تھی۔اس زمانے میں زمیندار اور صاحب حیثیت گھرانوں کے لوگوں میں عام رواج تھا کہ اپنی حیثیت کے اظہار کے طور پر مرد و زن عام طور سے زیورات پہنا کرتے تھے۔اسی طرح سردار خان صاحب نے بھی کانوں میں مندریاں (بالیاں) پہن رکھی تھیں۔آپ چونکہ مولوی غلام علی صاحب رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے اور انہی کی تبلیغ سے احمدی بھی ہوئے تھے۔وہ آپ کو اکثر کہا کرتے تھے کہ مردوں کے لئے سونا پہننا حرام ہے لہٰذا قبولیت احمدیت کے ارادہ کے بعد جو سب سے پہلا کام آپ نے کیا وہ یہ تھا کہ سونے کی وہ بالیاں جو کانوں میں پہن رکھی تھیں فورا ً گھر جا کر والدہ صاحبہ سے کہا کہ ان کو کاٹ دیں۔

میری پردادی جی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہلم تشریف لائے تو گھر والوں کے علم میں لائے بغیر دیدار کے لئے اس وقت کی سفر کی کٹھن صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے گھوڑی پر طویل مسافت طے کرکے جہلم پہنچیں، اور غالباً (کیونکہ اسکی کوئی شہادت نہیں مل سکی مگر یہ بات مسلم ہے کہ آپ زیارت کے لئے تشریف لے گئیں تھیں) اپنے بیٹے کے ساتھ حضرت اقدس علیہ السلام سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کیا۔ جہلم کے سفر سے واپسی پر تو اس قدر بیتاب رہنے لگیں کہ جلد وہ وقت آئے کہ میں ظاہری بیعت بھی کر لوں۔مگرپر داداجان کی سخت گیری کا خوف ہمہ وقت دامن گیر رہتا تھا۔ خدا کے حضور مسلسل دعائیں کرتی تھیں۔ روزانہ جب دودھ سے مکھن نکالتیں تو ایک علیحدہ برتن میں مکھن ڈالتی جاتی تھیں اور جب جمع ہو جاتا تو مولوی غلام غوث رضی اللہ عنہ امام مسجد سعداللہ پورجو کہ احمدیوںکی مسجد کے امام تھے ان کے گھر دے دیتی اور فصل کی آمدمیں سے بھی ملازموں کو کہہ رکھا تھا کہ حصہ باہر سے ہی جنس کی مد میں میانوں کے گھر دے آنا۔ اگر چوہدری کو پتہ چل گیا تو ہماری خیر نہیں۔ ان تمام احتیاطوں کے باوجود حق کا نور آخر کب تک باقی گھر والوں کی نظروں سے اوجھل رہ سکتا تھا۔ بالآخر میرے پر داداجان کو اس بات کا علم ہوگیا کہ ماں بیٹا احمدی ہو چکے ہیں اور میرے خوف کی وجہ سے بیعت نہیں کر رہے۔ یہ جان کر پردادا جان نے اپنا رویہ مزید سخت کرلیا اور ہر اس حربہ کو اختیار کیا جس سے آپ اپنی بیوی اور بیٹے کو احمدیت سے برگشتہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے۔ آئے دن کی لڑائیوں جھگڑوں کی وجہ سے گھر کا سکون تباہ ہوچکا تھا۔ پردادی جان ناراض ہو کر اپنے میکے پھالیہ چلی گئیں، میکے والے بھی الگ ناراض تھے کہ تم کیوں احمدیت کے پیچھے اپنا گھر برباد کر رہی ہو؟ پر داداجان مولوی غلام علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی برا بھلا کہنے لگے کہ تم نے میرے بیٹے اور بیوی کو خراب کیا ہے۔ لیکن میری پردادی کے پایۂ استقلال میں لغزش نہ آئی اور ہر صعوبت برداشت کی مگر خدا کے گھر سے نا امید نہ ہوئیں اور دعا کرتی رہیں کہ اے خدا! چوہدری صاحب کو صراطِ مستقیم دکھا۔

باقاعدہ بیعت

پردادا جان کی تمام کوششوں کے باوجود جب دونوں ماں، بیٹا نے احمدیت سے منہ نہ موڑا تو آخر وہ خود مجبور ہوگئے اور بیٹے اور بیوی کے کامل استقلال کے آگے جھک گئے کیونکہ آپ کو اپنے بڑے بیٹے مکرم سردار خان صاحب سے بے پناہ محبت تھی اور آپ ان کی جدائی کو برداشت نہیں کرسکتے تھے چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں اندازاً 1910ء میں بفضل تعالیٰ سب گھر والوں نے باقاعدہ بیعت کر لی۔

اوصاف حمیدہ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وابستگی

میری پر دادی حسین بی بی صاحبہ واقعتاً ایک نہایت حسین اور بارعب شخصیت کی مالکہ تھیں۔ سعداللہ پور میں سب ان کو ’’چوہدرانی‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ نام سے بہت کم لوگوں کی وا قفیت تھی۔ خدا کے فضل سے بہت مخیر اور نیک خاتون تھیں۔ گھر میں اور پرداداجان کے ڈیرہ پر جو کام کرنے والے ملازمین تھے انکا خاص خیال رکھتی تھیں۔ غریب لڑکیوں کی شادیوں پر بلاامتیاز قوم و مذہب اخراجات برداشت کرتی تھیں۔چندہ کی بے حد پابند تھیں۔ فصل کے علاوہ گھر میں جو گھی بنتا تھا اس کا بھی چندہ دیتی تھیں۔ہر سال باقاعدگی سے بچوں کو ساتھ لیکر قادیان جاتی تھیں۔ ہر سال نیا بستر بنا کر لے جاتیں اور واپسی پر قادیان چھوڑ آتی تھیں۔ اسی طرح ہر مرتبہ سرسوںکا ساگ، مکھن اور سرسوں کا تیل بڑے شوق سے خود اپنی نگرانی میں کولہو سے بنوا کر اماں جا ن حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے بطور تحفہ لیکر جاتی تھیں۔ اس بات کا انکشاف حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے (میرے والد کی تائی جان) مکرمہ نیک بی بی صاحبہ سے پردادی جان کی وفات کے بعد 1940ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک ملاقات میں کہا :
’’آپ کی ساس بڑی نیک خاتون تھیں۔ سلسلہ کی بڑی فدائی اور پرکشش شخصیت کی حامل تھیں اور میرے لئے ہر سال ساگ، مکھن اور سرسوں کاتیل لاتی تھیں۔‘‘

بنی نوع انسان سے ہمدردی

سعداللہ پور میں جس کسی کو کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو وہ چوہدرانی کے پاس آتی تھیں۔ اس وقت کے رواج کے مطابق گھر یلو سامان زندگی، بڑے سائز کے دستی پنکھے، چارپائیاں، بستر جو کہ اس وقت کے رواج کے مطابق اور ضروری تھے، میری پر دادی سے ملتے تھے، اور گاؤں میں ہمارا گھرانہ بڑا اور صا حب حیثیت سمجھاجاتا تھا، جہاں اللہ کے فضل سے ضروریات زندگی کی ہر شئے میسر تھی۔ اور یہ سب کچھ احمدیت کی برکت اور میری پردادی کی عقل و دانش کی بدولت تھا کہ ہر کوئی (چوہدرانی) پردادی جی سے مشورہ کرتا تھا۔ اڑوس، پڑوس میں اگر کسی عورت کی زچگی ہوتی تو گھر سے دودھ، کپڑے اور دال بناکر دیتی تھیں اور اس بات کاکسی کو کانوں کان پتہ بھی نہ چلتا تھا۔ غریبوں کے علاوہ سفید پوشوں کا بھی خیال رکھتی تھیں۔ ایک سفید پوش کی بچی کی شادی تھی۔ سارا جہیز بنایایہاں تک کہ جواس بچی کو مہندی لگائی گئی اس کی رقم بھی پر داد ی جی نے ادا کی۔جماعتی کاموں کو دنیاداری پر بہت ترجیح دیتی تھیں اور جو شخص جماعت کا مخالف ہوتا خواہ وہ کتنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو اس سے ہرگز بات کرنا پسند نہ کرتی تھیں، بہت مہمان نواز تھیں، کھانے بہت خوش ذائقہ پکاتی تھیں۔ ہمارے پردادا جان نمبردار تھے اور اس وجہ سے مہمانداری کافی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ سرکاری اہل کار،تحصیل دار، تھانیدار،پٹواری ہر وقت آتے جاتے رہتے تھے۔چونکہ کشتی کے ذریعہ زیادہ تر آمدورفت ہوا کرتی تھی اس لئے بسا اوقات دریا میں طغیانی کی وجہ سے کئی کئی دن کشتی نہ چل سکتی تھی اور مہمان ہمارے ڈیرہ پر رہتے تھے۔ پردادی جان ہمیشہ خندہ پیشانی سے ان کی خدمت اور مہمان نوازی کرتیں۔ایک دفعہ رات کو دس بارہ مسافر مہمان آگئے۔ گھر میں آٹا نہ تھا۔ آپ نے خود چکی پر آٹا پیس کر مہمانوں کو روٹی کھلائی اور ساتھ میں دیر ہونے کی معذرت بھی بھجوائی۔مرکز سے آنے والے مہمانوں کی بہت قدر اور خاطر مدارات کرتی تھیں۔کیونکہ خود خواندہ تھیں اس لئے ناخواندہ خواتین کو ا ن کے خطوط پڑھ کر سناتی تھیں۔آپ کو درثمین کے بے شمارا شعار زبانی یاد تھے۔اسی طرح پنجابی اشعار جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حمد میں تھے زبانی یاد تھے۔اکثر بچیاں آپ سے قرآن کریم ناظرہ پڑھتی تھیں۔

بچوں کی تعلیم و تربیت

میری پر دادی جی نے بچوں کی بہترین رنگ میں دینی تربیت کی۔ آپ رضی اللہ عنھا کے بڑے بیٹے سردار خان فدائی احمدی تھے۔ بیٹی کی چھوٹی عمر میں شادی کر دی تھی۔بڑے بیٹے سردار خان صاحب نے جیسا کہ اوپر ذکر ہے اعلیٰ نمبروں سے میٹرک پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا اوراسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوگئے۔ اس وقت ضلع گجرات کی تحصیل پھالیہ کے صرف دو لڑکے اسلامیہ کالج میں پڑھتے تھے۔ اس زمانہ میں بچوں کو لاہور میں پڑھانابہت مشکل اور مہنگا تھا، لیکن میری پردادی جان کو تحصیل علم کا شوق تھا، اس لئے آپ نے اپنے بڑے بیٹے کو لاہور داخل کرادیا اور F.A کرایا جس کی پورے علاقے میں بڑی دھوم مچی۔ میرے دادا جان مکرم نذر محمد صاحب مڈل تک پڑھ سکے۔ آپ اپنے والدصاحب کے ساتھ زمینداری میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ میرے والد صاحب کے چھوٹے چچا نے 1945ء میں میٹرک کا امتحان شادی کے بعد دیا۔ میرے والد کے تایا جان مکرم سردارخان صاحب اورچچا مکرم عنایت اللہ صاحب دونوں بھائی کو اپریٹو ڈیپار ٹمنٹ میں ملازم تھے۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ آپ نے بچوںکی دینی تعلیم و تربیت کا بھی بے حد خیال رکھاکہ جس کی بدولت تمام بچے ناصرف خوددینی لحاظ سے بہت فعال اور جماعت کے فدائی تھے بلکہ آج چوتھی نسل جاری ہے جو خدا کے فضل سے سلسلہ کے ساتھ ایک مضبوط تعلق رکھتی ہے۔

مسجد احمدیہ کا قیام

احمدی احباب جو 1910ء تک مولوی غلام غوث صاحب رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہی نماز ادا کیا کرتے تھے۔پرداداجان کی بیعت کے بعد گاؤں کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے لگے۔اس مسجد کے آدھ حصہ میں جماعت احمدیہ اور آدھ حصہ میں جماعت اہل سنت نماز ادا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ خدا کے فضل سے 1981ء تک یعنی 71سال اس طرح جاری رہاکہ اگر احمدی احباب نے پہلے نماز شروع کی ہے تو اہل سنت انتظار کرتے اور اگر نماز اہل سنت نے شروع کی تو احمدی احباب انتظار کرتے اور جمعہ کی نماز صرف جماعت احمدیہ ادا کرتی۔ اہل سنت جمعہ کی نماز دوسری مسجدمیں ادا کرتے۔ 1953ء اور 1974ء کے نامساعد حالات میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا اوربفضل تعالیٰ کوئی ایساناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا کہ احمدیوں کو نماز سے روکا گیا ہو۔ 1980ء میں مسجد کی حالت کافی خستہ ہو گئی اور اس کو شہید کر کے دوبارہ تعمیر کا ارادہ کیاگیا۔ ساری برادری نے میرے والد صاحب کے چچا مکرم چوہدری عنایت اللہ صاحب کو انچارج مقرر کیا کہ جو مرضی فیصلہ کریں۔ انہوں نے دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے اکٹھے مسجد بنانے کی تجویز کو منظور نہ کیا اور فیصلہ ہوا کہ ایک پارٹی زمین رکھ لے اور دوسری پارٹی ملبہ،میٹریل لے لے۔ہمارے پاس کیونکہ ایک مشترکہ جگہ موجود تھی جس پر قبضہ بھی ہمارے خاندان کا تھا اور ساتھ والا گھر میرے دادا مکرم نذر محمدصاحب کا تھا، اس لئے وہاں پر ایک عالیشان مسجد تعمیر کر لی گئی۔ 1980ء میں اس مسجد کا افتتاح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ جو اس وقت ابھی منصب خلافت پر متمکن نہ تھے اور (حضرت) مرزا طاہر احمد صاحب کے نام سے معروف تھے، نے اپنے دست مبارک سے کیا۔ ضلع گجرات کے قرب و جوار سے سینکڑوں احمدی اس بابرکت تقریب میں شامل ہوئے۔ دوپہر کا کھانا اور 4بجے چائے کا انتظام میرے والد صاحب کے چچا اور ان کے بیٹے کی زیرنگرانی تھا۔ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے کھانے کی بہت تعریف کی اور وہ اس تقریب سے بے حد خوش تھے۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسجد کی آبادی کے لئے لمبی دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ اس مسجد کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ (آمین۔) مسجد احمدیہ کی تعمیر کے لئے میرے والد صاحب کے چچا جان مکرم چوہدری عنایت اللہ صاحب نے مالی قربانی کرتے ہوئے اپنی زرعی زمین بیچ کر مسجد پر لگائی۔ اور اس سلسلہ میں انہوں نے مخیر حضرات سے بھی اس مسجد کے لئے چندہ وصول کیا اور تقریباً 85ہزار کی خطیر رقم اکٹھی کر کے دی۔ آج وہاں الحمد للہ ایک عظیم الشان مسجد موجود ہے۔

احمدیہ قبرستان کا قیام

جس طرح معجزاتی طور پر مسجد تیار ہوئی، اسی طرح وہاں پر احمدیوں کا قبرستان بننا بھی ایک معجزہ ہے۔ ہمارا گاؤں دریائے چناب کے کنارے پر واقع ہے۔ وہاں ایک وڑائچوں کا قبرستان تھا جو عین دریا کے کنارہ پر تھا۔ اس کے ساتھ 1965ء میں ہیڈ خانکی سے ہیڈ قادرآباد تک ایک بہت بڑا بند بنادیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہر سال دریا میں طغیانی سے قبر ستان میں پانی آجاتا تھا۔ میرے پرداداجان جو 28جون 1966ء کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے نے وصیت کی تھی کہ میری قبر سڑک کے کنارے فلاں جگہ بنانا۔ لہٰذا 1966ء میں میرے پردادا جان مکرم چوہدری خان محمد صاحب کی اکیلی قبر تھی جو اس وقت انکی ذاتی زمین پربنائی گئی تھی۔ 1966ء میں ہی دو اور احمدی بھی اس قبرستان میں دفن ہوئے۔ قصہ مختصر وہ قبرستان جو میرے پردادا جان کی خواہش پر بنا تھا آج جماعت احمدیہ کا قبرستان کہلاتا ہے۔ ضیاء الحق کے زمانہ میں جب احمدیوں پر ہر جانب زمین تنگ کر دی گئی اور خفیہ ہاتھ بھی سر اٹھانے لگے توتھوڑی بہت اس قبرستان کی بھی مخالفت کی گئی مگر الحمد للہ کہ ہر سازش ناکام ہوئی۔

عید گاہ اور مربی ہاؤس کا قیام

اسی طرح جماعت کی اپنی عید گاہ بھی ہے جس کیلئے میرے پر دادا جان نے گاؤں کے بالکل ساتھ 2کنال زمین جماعت کو پیش کی تھی جس کو بیچ کر چاردیواری بنائی گئی۔ اسی طرح مکرم سردار خان صاحب کی بیٹیوں کو اللہ تعالیٰ نے مربی ہاؤس بنانے کی توفیق عطا کی چنانچہ آج گاؤں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کا اپنا مربی ہاؤس، عید گاہ، مسجد اور قبرستان موجود ہے۔ محترمہ پردادی جان اللہ کے فضل سے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھیں۔ آپ کا نمبر 03143 ہے۔ پرانی فہرست میں آپ کا نام سہواً ’’سردار بی بی اہلیہ محمد خان‘‘ درج ہے۔ ریکارڈ میں درست کروا دیا گیا ہے۔

وفات

میری پردادی صاحبہ نے 1940 ء میں وفات پائی اور پر دادا جان 1966ء میں فوت ہوئے۔ آج ہم سوچتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ اگر ہماری پردادی اس وقت دینی جرأت کا مظاہرہ نہ کرتیں اور خدا کے مسیح کو نہ مانتیں توآج ہم بھی تاریکی کے گڑھوں میں ڈوبے ہوتے۔ یہ میری پر دادی جی کی دعاؤں اور ان کی جرأت ایمانی کا پھل ہے جو ہم کھارہے ہیں۔ آج ان کی اولاد ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور سب نظام جماعت اور خلافت سے گہری وابستگی رکھتے ہیںاور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری پر دادی نے اپنی اولاد کی نیک تربیت کی، جماعت سے محبت کا درس دیااور جماعت کے ساتھ مضبوطی کا رشتہ قائم رکھنے کی عادت ڈالی اور مخلص احمدی گھرانوں میں بچوں کی شادیاں کیں جس کی بدولت آج سو سال بعد بھی ہم سب بڑی مضبوطی کے ساتھ جماعت سے وابستہ ہیں۔میری پر دادی جان کہا کرتی تھیں کہ اگر میں غیراحمدی اور غیر مخلص خاندان کی لڑکیاں بیاہ کر لاؤں گی تو میری اگلی نسل جماعت سے دور ہو جائے گی۔ اور غیر احمدی رشتہ داروں سے رشتہ طے ہونے کے باوجود رشتہ ختم کردیا۔ یہ آپ کی زیرک نگاہ اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند کرے۔ ہمیں اور ہماری اولادوں کو ان کی نیکیاں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

(یہ تمام واقعات مجھ تک میرے تایا محترم سیف اللہ وڑائچ صاحب کے ذریعے سے پہنچے ہیں اور انہیں یہ واقعات محترمہ رابعہ بی بی صاحبہ اہلیہ مولوی غلام علی صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبانی معلوم ہوئے۔)

(درثمین احمد ۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جولائی 2021