• 23 اکتوبر, 2020

سائے میں تیرے دھوپ نہائے بصد نیاز

سائے میں تیرے دھوپ نہائے بصد نیاز
اے چھاؤں چھاؤں شخص تیری عمر ہو دراز

اے اپنے ربّ کے عشق میں دیوانے آدمی
دیوانے تیرے ہم کہ ہؤا تو خدا کا ناز

کیوں کر کھلے خدا جو نہ دیکھو وہ آدمی
سجدہ کرے زمیں پہ تو ہو عرش پر نماز

آیا زباں پہ اسم گرامیؐ کہ بس ادھر
پرنم ہوئی وہ آنکھ وہ سینہ ہؤا گداز

اتنی ہی اس چراغ کی لو تیز ہو گئی
جتنی بڑھی ہوائے مخالف میں سازباز

اس پر ہے ختم اس سے ہی جاری ہے روشنی
اک درخدا نے بند کیا سو کئے ہیں باز

ہر جام عشق اس کے ہی لب سے ہے لب بہ لب
شائد ابھی یہ راز ہے شائد رہے نہ راز

دیتا ہے بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
ہر دور کو ہے ساقی کوثر پہ اپنے ناز

(یہ زندگی ہے ہماری۔ نگارِصبح کی اُمید میں صفحہ33۔34)
(عبید اللہ علیم ؔ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 ستمبر 2020