• 29 نومبر, 2020

امانت و دیانت اور عہد کی پابندی

آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوہ کے جس پہلو کا مَیں ذکر کرنے لگا ہوں وہ ہے امانت و دیانت اور عہد کی پابندی۔ یہ ایک ایسا خُلق ہے جس کی آج ہمیں ہر طبقے میں، ہر ملک میں، ہر قوم میں کسی نہ کسی رنگ میں کمی نظر آتی ہے اور اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ بظاہر جو ایماندار نظر آتے ہیں، عَہدوں کے پابند نظر آتے ہیں، جب اپنے مفاد ہوں تو نہ امانت رہتی ہے نہ دیانت رہتی ہے، نہ عہدوں کی پابندی رہتی ہے۔ دو معیار اپنائے ہوئے ہیں لیکن ہمارے ہادیٔ کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے، اپنے اسوہ سے، اپنی امت کو ان باتوں کی پابندی کرتے ہوئے عمل کرنے کی نصیحت فرمائی ہے اور امانت و دیانت اور عَہدوں کی پابندی کے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔ اب وہی معیار ہیں جن پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب پا سکتا ہے۔ اس سے باہر کوئی چیز نہیں۔ یہ آیت جومَیں نے تلاوت کی اس میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی نگرانی کرنے والے ہیں۔ اس پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے ہمارے آقاومولیٰ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تبھی تو حضرت عائشہؓ نے کہا تھا کہ آپؐ کے اخلاق کے لئے قرآن کریم کی تعلیم دیکھ لو۔ یعنی آپؐ کا ہر فعل قرآنی تعلیم کے مطابق تھا۔

اب دیکھیں آج کل بھی جنگیں ہوتی ہیں۔ اپنے آپ کو بڑی پڑھی لکھی اور مہذب کہنے والی قومیں کمزور قوموں کو نیچا دکھانے کے لئے ایسے حربے استعمال کر رہی ہوتی ہیں کہ انسانیت کو شرم آئے۔ جنگوں کی و جہ سے بغض اور کینے کی آگ اس قدر بھڑک رہی ہوتی ہے کہ مقصد صرف اور صرف دوسری قوم کو ذلیل و رسوا کرنا اور تباہ کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپؐ نے اسلام پھیلانے کے لئے جنگیں کیں یااپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے جنگیں کیں۔ یہ سب الزام اور بہتان ہیں، اس وقت مَیں اس موضوع پر تو بات نہیں کر رہا لیکن ایک جنگ کے دوران کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حالت میں، جبکہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح دشمن کو ایسی حالت میں لایا جائے جس سے وہ مجبور ہو کر ہتھیار ڈال دے، آپؐ نے امانت و دیانت کے کیا اعلیٰ نمونے دکھائے اور تاریخ اس کی گواہ ہے۔ جب اسلامی فوجوں نے خیبر کو گھیرا تواس وقت وہاں کے ایک یہودی سردار کا ایک ملازم، ایک خادم، ایک جانورچرانے والا جانوروں کا نگران جانوروں سمیت اسلامی لشکر کے علاقے میں آ گیا اور مسلمان ہو گیا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا :یا رسول اللہ! مَیں تو اب مسلمان ہو گیا ہوں، واپس جانا نہیں چاہتا، یہ بکریاں میرے پاس ہیں، ان کا اب میں کیا کروں۔ ان کا مالک یہودی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان بکریوں کا منہ قلعے کی طرف پھیر کر ہانک دو۔ وہ خود اس کے مالک کے پاس پہنچ جائیں گی۔ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا اور قلعہ والوں نے وہ بکریاں وصول کر لیں، قلعے کے اندر لے گئے۔ تو دیکھیں یہ ہے وہ امانت و دیانت کا اعلیٰ نمونہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا۔ کیا آج کوئی جنگوں میں اس بات کا خیال رکھتا ہے۔ نہیں، بلکہ معمولی رنجشوں میں بھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی، ایک دوسرے کا پیسہ مارنے کی اگر کسی نے کسی سے لیا ہو تو، کوشش کی جاتی ہے۔

(خطبہ جمعہ 15؍ جولائی 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020