• 29 نومبر, 2020

ہم نے خدا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پایا ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پھر اس بات کا ذکر فرماتے ہوئے کہ ہم نے خدا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’اُس قادر اور سچے اور کامل خدا کو ہماری روح اور ہمارا ذرّہ ذرّہ وجود کا سجدہ کرتا ہے جس کے ہاتھ سے ہر ایک روح اور ہر ایک ذرّہ مخلوقات کا مع اپنی تمام قویٰ کے ظہور پذیر ہوا اور جس کے وجود سے ہر ایک وجود قائم ہے۔ اور کوئی چیز نہ اُس کے علم سے باہر ہے اور نہ اُس کے تصرف سے، نہ اُس کے خَلق سے۔ اور ہزاروں درود اور سلام اور رحمتیں اور برکتیں اُس پاک نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوں جس کے ذریعہ سے ہم نے وہ زندہ خدا پایا جو آپ کلام کر کے اپنی ہستی کا آپ ہمیں نشان دیتا ہے اور آپ فوق العادت نشان دکھلا کر اپنی قدیم اور کامل طاقتوں اور قوتوں کا ہم کو چمکنے والا چہرہ دکھاتا ہے۔ سو ہم نے ایسے رسول کو پایا جس نے خدا کو ہمیں دکھلایا اور ایسے خدا کو پایا جس نے اپنی کامل طاقت سے ہر ایک چیز کو بنایا۔ اُس کی قدرت کیا ہی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے جس کے بغیر کسی چیز نے نقشِ وجود نہیں پکڑا اور جس کے سہارے کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔ وہ ہمارا سچا خدا بے شمار برکتوں والا ہے اور بے شمار قدرتوں والا اور بیشمار حسن والا احسان والا۔ اُس کے سوا کوئی اور خدا نہیں‘‘۔

(نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ 363)

پھرحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے جو کچھ بھی ملا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملا ہے۔ تم لوگ کہتے ہو کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو گراتا ہوں۔ مجھے تو آپؐ کے دَر سے ہی ملا ہے جوکچھ ملا ہے۔ یہ منن الرحمن کی عربی عبارت ہے، ترجمہ پڑھتا ہوں۔ فرماتے ہیں کہ:
’’یہ میری کامیابی میرے ربّ کی طرف سے ہے۔ پس میں اس کی تعریف کرتا ہوں اور نبی عربی پر درود بھیجتا ہوں۔ اسی سے تمام برکتیں نازل ہوئیں اور اسی سے سب تانا بانا ہے۔ اسی نے میرے لئے اصل اور فرع کو میسر کیا اور اس نے میرے بیج اور کھیت کو اُگایا۔ اور وہ بہتر ہے سب اگانے والوں سے۔‘‘

(منن الرحمن۔ روحانی خزائن جلد 9صفحہ 187-186)

مجھے جو کچھ ملا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملا، اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے پھر فرماتے ہیں کہ:
’’مَیں اُسی کی (یعنی اللہ تعالیٰ کی) قَسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اُس نے ابراہیم سے مکالمہ مخاطبہ کیا اور پھر اسحاق سے اور اسماعیل سے اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسیٰ سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی، ایسا ہی اُس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا۔ مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا۔ اگر مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی مَیں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے کلام کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ سے بولنا، یہ مقام کبھی نہ ملتا، ’’کیونکہ اب بجز محمدی نبوّت کے سب نبوّتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو‘‘۔

(تجلیات الٰہیہ۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 412-411)

اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درُود

پھر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درُود کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ:
’’الٰہی تیرا ہزار ہزار شکر کہ تُو نے ہم کو اپنی پہچان کا آپ راہ بتایا۔ اور اپنی پاک کتابوں کو نازل کرکے فکر اور عقل کی غلطیوں اور خطاؤں سے بچایا اور درود اور سلام حضرت سید الرسل محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کی آل و اصحاب پر کہ جس سے خدا نے ایک عالم گم گشتہ کو سیدھی راہ پر چلایا۔ وہ مربّی اور نفع رسان کہ جو بھولی ہوئی خَلقت کو پھر راہ راست پر لایا۔ وہ محسن اور صاحب احسان کہ جس نے لوگوں کو شرک اور بتوں کی بلا سے چھوڑایا۔ وہ نور اور نور افشان کہ جس نے توحید کی روشنی کو دنیا میں پھیلایا۔ وہ حکیم اور معالج زمان کہ جس نے بگڑے ہوئے دلوں کا راستی پر قدم جمایا۔ وہ کریم اور کرامت نشان کہ جس نے مُردوں کو زندگی کا پانی پلایا۔ وہ رحیم اور مہربان کہ جس نے اُمّت کے لئے غم کھایا اور درد اٹھایا۔ وہ شجاع اور پہلوان جو ہم کو موت کے منہ سے نکال کر لایا۔ وہ حلیم اور بے نفس انسان کہ جس نے بندگی میں سر جھکایا اور اپنی ہستی کو خاک میں ملایا۔ وہ کامل موحّد اور بحر عرفان کہ جس کو صرف خدا کا جلال بھایا اور غیر کو اپنی نظر سے گرایا۔ وہ معجزہ ٔقدرت رحمن کہ جو اُمّی ہوکر سب پر علوم حقّانی میں غالب آیا اور ہریک قوم کی غلطیوں اور خطاؤں کو ملزم ٹھہرایا‘‘۔

(براہین احمدیہ ہرچہار حصص۔ روحانی خزائن جلد1صفحہ 17)

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ایک مومن مسلمان کے لئے لازمی امر ہے جس کے بغیر وہ محبت کے معیار پورے نہیں ہوتے اور نہ ہو سکتے ہیں جو ایک مومن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونی چاہئے۔ نہ ہی کوئی دعا قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے یا کر سکتی ہے جس میں درود شامل نہ ہو۔ لیکن یہ بھی ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے درود کی بھی اصل غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری محبت ہونی چاہئے اور اس کو ہر چیز پر حاوی ہونا چاہئے۔

درود شریف کی اس غرض کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’جیسا کہ مَیں نے (پہلے زبانی سمجھا رہے تھے، مجلس میں ذکر ہو رہا ہے۔) زبانی بھی سمجھایا تھا (کہ درود شریف) اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ تا خداوندکریم اپنی کامل برکات اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کرے اور اُس کو تمام عالَم کے لئے سرچشمہ برکتوں کابنا وے اور اُس کی بزرگی اور اس کی شان و شوکت اِس عالَم اور اُس عالَم میں ظاہر کرے۔ یہ دعا حضورِتامّ سے ہونی چاہئے جیسے کوئی اپنی مصیبت کے وقت حضورِتامّ سے دعا کرتا ہے‘‘۔ (ایک دلی گہرائی کے ساتھ پوری طرح یہ درودشریف کی دعا ہونی چاہئے جیسے تم اپنے لئے دعا کرتے ہو۔ ) فرمایا ’’بلکہ اُس سے بھی زیادہ تضرع اور التجا کی جائے اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے‘‘ (بلکہ اپنے لئے انسان جو دعائیں کرتا ہے اُس سے بھی زیادہ بڑھ کر تضرع اور التجا ہو ان دعاؤں میں اور اس میں اپنا کچھ حصہ نہ ہو۔ ) فرمایا کہ ’’اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے کہ اس سے (یعنی درود شریف پڑھنے سے) مجھ کو یہ ثواب ہوگا یا یہ درجہ ملے گا بلکہ خالص یہی مقصود چاہئے کہ برکاتِ کاملہ الٰہیہ حضرت رسولِ مقبول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوں اور اُس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے اور اسی مطلب پر انعقاد ہمّت چاہئے۔ اور دن رات دوام توجہ چاہئے یہاں تک کہ کوئی مراد اپنے دل میں اس سے زیادہ نہ ہو۔‘‘ (مکتوبات احمد۔ جلد اول۔ صفحہ 523) یہ ہے عشقِ رسول۔

(خطبہ جمعہ یکم فروری 2013ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020