• 23 نومبر, 2020

حضرت مسیح موعودؑ کے توکل علی اللہ کے واقعات

توکل کی تعریف کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ ایک جگہ فرماتے ہیں۔

’’خدا شناسی اور خدا پر توکل اسی کا نام ہے کہ جو حدّیں لوگوں نے مقرر کی ہوئی ہیں اُن سے آگے بڑھ کررجا پیدا ہو‘‘

(ملفوظات جلد چہارم ص299)

آپؑ کے توکل علی اللہ کے چند نادرواقعات پیش خدمت ہیں۔

جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو

حضرت مسیح موعودؑ بچپن سے ایک روحانی شخصیت تھے آپ کو دنیا سے کوئی سروکار نہ تھا ہمہ وقت خدا تعالیٰ کی عبادت اور ریاضت اور قرآن کریم کی تلاوت اور غرباء کی خدمت کرتے رہتے تھے۔ آپ کے والد صاحب اکثر فکر مند رہتے تھے کہ آپ کوئی ہنر سیکھیں ،کوئی نوکری کریں تاکہ مستقبل میں اپنے بیوی بچوں کی کفالت کر سکیں اس زمانے کے لوگوں کا متفقہ بیان ہے: ’’مرزا غلام احمد اپنے بچپن کے زمانہ سے اب تک جو چالیس (برس) سے زیادہ ہوئے نیک بخت اور صالح تھےاکثر گوشہ نشیں رہتے تھے۔ سوائے یاد الٰہی اور کتب بینی کے آپ کو کسی سے کوئی کام نہ تھا۔ کھانا بھیج دیا تو کھالیا کپڑا بنا کے دے دیا تو پہن لیا اور اپنے والدین کے دنیاوی معاملات و امور میں فرمانبردار اور ان کے ادب اور احترام میں فروگزاشت نہیں کرتے تھے بچپن میں جو کبھی بچوں میں کھیلتے تو کوئی شرارت یا جھوٹ یا فریب نہ کرتےنہ مارپیٹ اور شور کرتے۔ ہاں کئی بار ایسا ہوا کہ کسی لڑکے کی بھوک محسوس کرتے تو والدہ سے روٹی لا کر دے دیتے خود حضرت اقدس نے ایک بار اپنی زباں سے یہ فرمایا ایک لڑکا بھوک سے مضطرب تھا اور روٹی کا وقت بھی گزر چکا تھا والدہ صاحبہ گھر نہیں تھیں ہم نے چپکے سے سیر بھر کے قریب دانے (غلّہ) نکال کر اس کو دے دئیے تا کہ وہ بُھنا کر اپنا پیٹ بھرے ‘‘

(بحوالہ تذکرۃ المہدی مرتبہ حضرت پیر سراج الحق نعمانی ص298)

ایک معمر ہندو جو آپ کے والد صاحب کے دوست تھے ۔حضرت مسیح موعودؑ کے ماموریت کے زمانہ میں قادیان آئے اور کہا ’’میں ان کی پیدائش کے زمانہ سے پہلے کا ہوں اور میں نے ان کو گود میں کھلایا ہے جب سے اس نے ہوش سنبھالا ہے بڑا ہی نیک رہا۔دنیا کے کسی کام میں نہیں لگا۔بچوں کی طرح مکمل کھیل کود میں مشغول نہیں ہوا۔ شرارت فساد جھوٹ گالی کبھی اس میں نہیں۔ہم اور ہمارے ہم عمر اس کوسُست اور سادہ لوح اور بے عقل سمجھا کرتے تھے کہ یہ کس طرح گھر بسائے گا۔سوائے الگ مکان میں رہنے کے اور کچھ کام ہی نہیں تھا۔نہ کسی کو مارا نہ آپ مار کھائی۔نہ کسی کو برا کہانہ آپ کو کہلوایا۔ ایک عجیب پاک زندگی تھی مگر ہماری نظروں میں اچھی نہیں تھی۔نہ کہیں آنا نہ جانا نہ کسی سے سوائے معمولی بات کے بات کرنا اگر ہم نے کہیں کوئی بات کہی کہ میاں دنیا میں کیا ہورہا ہے تو تم بھی ایسے رہو اور کچھ نہیں تو کھیل تماشہ کے طور پر ہی باہر آیا کرو تو کچھ نہ کہتے ہنس کے چپ ہورہتے۔ تم عقل پکڑو، کھاؤ کماؤکچھ تو کیا کرو۔یہ سن کر خاموش ہو رہتے۔

آپ کے والد مجھے کہتے نمبردار! جا غلام احمد کو بلا لاؤ اسے کچھ سمجھا دیں گے۔میں جاتا،بلاتا ۔والد کا حکم سن کر اسی وقت آجاتے اور چپ چاپ بیٹھ جاتے اور نیچی نگاہ رکھتے۔

آپ کے والد صاحب فرماتے ۔بیٹا غلام احمد !ہمیں تمہارا بڑا فکر اور اندیشہ رہتا ہے تم کیا کرکے کھاؤ اسی طرح سےکب تک گزارو گے تم روزگار کرو کب تک دُلہن بنے رہو گے خورو نوش کا فکر کرنا چاہئے۔ دیکھو دنیا کماتی کھاتی پیتی ہے کام کاج کرتی ہے تمہارا بیاہ ہوگا بیوی آوے بالک بچے ہوں گے وہ کھانے پینے پہننے کے لئے طلب کریں گے ان کا تعہد تمہارے ذمہ ہوگا اس حالت میں تو تمہارا بیاہ کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے کچھ ہوش کرو۔اس غفلت اور اس سادگی کو چھوڑ دو۔میں کب تک بیٹھا رہوں گا بڑے بڑے انگریزوں افسروں حاکموں سے میری ملاقات ہے وہ ہمارا لحاظ کرتے ہیں۔میں تم کو چٹھی لکھ دیتا ہوں تم تیار ہوجاؤ یا کہو میں خود جا کر سفارش کروں تو مرزا غلام احمد کچھ جواب نہ دیتے۔وہ بار بار اسی طرح کہتے آخر جواب دیتے تو یہ دیتے کہ ’’ابّا! بھلا بتلاؤ تو سہی کہ جو افسروں کے افسر اور مالک الملک احکم الحاکمین کا ملازم ہو اور اپنے ربّ العالمین کا فرمانبردار ہو اس کو کسی کی ملازمت کی کیا پرواہ ہے ویسے میں آپ کے حُکم سے کبھی باہر نہیں‘‘

مرزا غلام مرتضیٰ صاحب یہ جواب سن کر خاموش ہوجاتے اور فرماتے اچھا بیٹا جاؤ اپنا خلوت خانہ سنبھالو۔ جب یہ چلے جاتے تو ہم سے کہتے کہ یہ میرا بیٹا ملّا ہی رہے گا میں اس کے واسطے کوئی مسجد ہی تلاش کر دوں جو دس بیس من دانے ہی کما لیتا مگر میں کیا کروں یہ تو ملّا کے بھی کام کا نہیں۔ ہمارے بعد یہ کس طرح زندگی بسر کرے گا۔ ہے تو یہ نیک صالح مگر اب زمانہ ایسوں کا نہیں چالاک آدمیوں کا ہے۔ پھر آبدیدہ ہو کر کہتے کہ جو حال پاکیزہ غلام احمد کا ہے وہ ہمارا کہاں ہے یہ شخص زمینی نہیں آسمانی، یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے۔

(تذکرۃ المہدی ص302،301)

آپ کو اپنے پیدا کرنے والے رب پر پورا توکل تھا اور جیسا کہ آپ کو الہام بھی ہوا ’’جے تو میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو‘‘

(تذکرہ ایڈیشن چہارم ص390)

آپ کہتے تھے کہ خدا تعالیٰ خود آپ کا کفیل ہوگا۔ چنانچہ جب آپ کے والد صاحب کی وفات ہوگئی تو بشری تقاضے کے تحت آپ کچھ فکر مند ہوئے تو آپ کو آسمان کے خُدا نے مخاطب ہو کر فرمایا

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ یعنی کہ کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟

چنانچہ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ کے تقویٰ اور توکل نے آپ کے والد صاحب کے سارے خدشات کو غلط ثابت کر دیا اور آپ کر دیا اور آپ کی غیب سے مدد فرمائی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَىِّ الَّذِى لاَ يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ (الفرقان:59)

اور تُو اس پر توکل کر جو زندہ ہے (اور سب کو زندہ رکھتا ہے) کبھی نہیں مرتا اور اس کی تعریف کے ساتھ ساتھ اس کی تسبیح بھی کر۔

وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجاً وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق:3 تا 4)

اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ نکال دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اس کو خیال بھی نہ ہوگا۔

اور جو کوئی اللہ پر توکل کرتا ہے وہ (اللہ) ہی کے لئے کافی ہے۔

حضرت مسیح موعودؑکے ساتھ بعینہٖ اسی طرح ہوا جیسا کہ ان آیات میں فرمایا گیا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں ’’پس مجھے اُس خدائے عزّوجل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُس نے اپنے مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر کے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفل نہیں ہوگا‘‘

(کتاب البریہ بحوالہ تذکرہ ایڈیشن چہارم ص25)

طاعون کا ٹیکہ

حضرت مسیح موعودؑ کی تکذیب کے نتیجہ میں آپ کی پیشگوئی کے مطابق پنجاب میں 1902ء میں طاعون زوروں پر تھی حکومت وقت نے حفاظتی ٹیکہ لگوانا ضروری قرار دیا لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی تھی اِنّیِ اُحافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الّدٰرِ یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر رہ رہے ہیں اس کو بچاؤں گا۔

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 ص10)

اس لئے آپ نے اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کرنے کے نتیجے میں ٹیکہ لگوانے سے انکار کر دیا اور فرمایا ’’اگر ہمارے لئے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکہ کراتے اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانہ میں انسانوں کے لئے ایک رحمت کا نشان دکھا دے ۔سو اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تُو اور جو شخص تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہوگا وہ سب طاعون سے بچائےجا ئیں گے‘‘

(کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد17 ص2،1)

اس پر مصر کے ایک جریدہ نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ آپ نے ٹیکا کی ممانعت کر کے ترک اسباب کیا ہے اور دوا نہ کرنے کو مدارِ توکل قرار دیا اور یہ امر قرآن مجید کے مخالف اور آیت لاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرہ:196) اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو کے منافی ہے اور توکل کے بھی خلاف ہے۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعودؑ نے عربی زبان میں ایک کتاب ’’مذاہب الرحمٰن‘‘ کے نام سے تصنیف فرمائی اور ایڈیٹر کو مدلل جواب دیا اور اپنے دعاوی سے بھی مطلع کیا آپ نے فرمایا کہ اسباب چند مراتب کے بعد ختم ہوجاتے ہیں اور خالص اور الٰہی رہ جاتا ہے۔

آپ کے توکل علی اللہ کا یہ غیر معمولی واقعہ ہے آپ نے واضح طور پر کشتی نوح میں فرمایا کہ یہ معصیت ہوگی کہ خدا کے اس نشان کو ٹیکا کے ذریعہ سے مشتبہ کردوں نیز ٹیکہ کرانے سے لازم آئے گا کہ گویا میں خدا کے اس وعدہ پر ایمان نہیں لایا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں ’’ہمارے حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کسی کو خوشی ہے کہ میرے پاس مال ہے کسی کو توخوشی ہے کہ میری اولاد بہت زیادہ ہے اور کسی کو خوشی ہے کہ میرا جتّھا بہت ہے پر میں خوش ہوں کہ میرا خدا جو ہے وہ قادر مطلق ہے ‘‘

(حقائق الفرقان جلد دوم ص171)

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو اور سچے پیروؤں کو اس موذی مرض سے خارق عادت طور پر محفوظ رکھا۔

(انجینئر محمود مجیب اصغر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020