• 29 نومبر, 2020

مبارک وہ جو اب ایمان لایا

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو پیدا فرمایا تو اس کے لئے روحانی اور جسمانی نظام مقرر فرمائے۔ ان دونو ں نظام کے گرد انسانی زندگی کا مدار ہے۔ جسمانی نظام میں ایک سورج پیدا کیا تو روحانی نظام کو بھی اس سے محروم نہ رکھا اور روحانی نظام میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو سراج منیر بیان فرمایا۔ اسی طرح جسمانی نظام میں اگر چاند پیدا کی تو روحانی نظام میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو روحانی چاند قرار دیا۔ پھر جسمانی نظام کو جہاں سماء الدنیا کے لاکھوں ستاروں سے مزیّن کر کے ان میں تاثیرات رکھیں، وہاں پرعالم روحانی کو بھی صحابہ رضوان اللہ علیہم کے وجودوں سے معطر کیا،جو پروانہ وار اڑ کر آئے اور شمع ہدایت پر قربان ہوگئے۔

حیف در چشم زدن صحبتِ یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد

یعنی ہائے افسوس کہ آنکھ کے جھپکتے جھپکتے یار کی صحبت ختم ہوگئی، پھول کا چہرہ ابھی اچھی طرح نہ دیکھا تھا کہ بہار ختم ہوگئی ۔

پھر آپؑ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں:

مبارک وہ جو اب ایمان لایا
صحابہؓ سے ملا جب مجھ کو پایا
وہی مَے ان کوساقی نے پلادی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِی

آپؑ فرماتے ہیں :
اسی وجہ سے اللہ جلّ شانہٗ نے اس آخری گروہ کو مِنْھْمْ کے لفظ سے پکارا تا یہ اشارہ کرے کہ معائنہ معجزات میں وہ بھی صحابہؓ کے رنگ میں ہی ہیں۔ سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا۔ اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔ وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے دیکھا۔ وہ خدا تعالےٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے پایا۔ وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دلآزاری اور بدزبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے اٹھایا۔ وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے حاصل کی۔ بہتیرے اْن میں سے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔ بہتیرے اْن میں ایسے ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔ بہتیرے اْن میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لیے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ اْن میں ایسے لوگ کئی پاؤگے کہ جو موت کو یاد رکھتے اور دلوں کے نرم اور سچی تقوٰی پر قدم ماررہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔ وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن اْن کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے اْن کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے جیسا کہ صحابہؓ کو کھینچتا تھا۔ غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو اٰخَرِیْنَ مِنْھْمْ کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں۔ اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا !!!‘‘

(ایّام الصلح، روحانی خزائن جلد14 صفحہ306و307)

ایک اور جگہ آپؑ فرماتے ہیں:
’’لیکن ایک بات بڑی غور طلب ہے کہ صحابہؓ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو، جو پہلے گزر چکے بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے۔ وہ بھی صحابہ میں داخل ہے جو احمدؑ کے بروز کے ساتھ ہوں گے، چنانچہ آپ نے فرمایا: وَ آخَرِیْنَ مِنْھْمْ لَمَّا یَلْحَقْوْا بِھِم (الجمعہ:4) یعنی صحابہؓ کی جماعت کو اسی قدر نہ سمجھو، بلکہ مسیح موعودؑ کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہؓ ہی ہوگی‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ431)

حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اور خدا تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو کہ اس نے آدم کو پیدا کیا اور اس سے بہت مخلوق پھیلائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام والبرکات پر اس کا خاص فضل ہوا اور ابراہیم کو اس قدر اولاد دی گئی کہ اس کی قوم آج تک گنی نہیں جاتی اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے امام کو بھی آدم کہا اور بَثَّ مِنْھْمَا رِجَالًا کَثِیْرًا کی آیت ظاہر کرتی ہے کہ اس آدم کی اولاد بھی دنیا میں اس طرح پھیلنے والی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ بڑے خوش قسمت وہ لوگ ہیں جن کے تعلّقات اس آدم کے ساتھ ہوں گے کیونکہ اس کی اولاد میں اس قسم کے رجال اور نساء پیدا ہونے والے ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص طور پر منتخب ہوکر اْس کے مکالمات سے مشرّف ہوں گے، مبارک ہیں وہ لوگ

(حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ4)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ بھی احباب جماعت کو یہ تلقین فرماتے رہتے تھے کہ وہ صحابہؓ کے مبارک زمانہ کو غنیمت سمجھیں، ان سے فیضِ صحبت اٹھائیں۔ چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا:
’’یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہزاروں نشانوں کا چلتا پھرتا ریکارڈ تھے ، نہ معلوم لوگوں نے کس حد تک ان ریکارڈ کو محفوظ کیا ہے مگر بہرحال خدا تعالیٰ کے نشانات کے وہ چشمدید گواہ تھے ان ہزاروں نشانات کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ اور آپ ؑ کی زبان اور آپؑ کے کان اور آپؑ کے پاؤں وغیرہ کے ذریعہ ظاہر ہوئے……..پس ایک صحابی جو فوت ہوتا ہے وہ ہمارے ریکارڈ کا ایک رجسٹر ہوتا ہے جسے ہم زمین میں دفن کر دیتے ہیں اگر ہم نے ان رجسٹروں کی نقلیں کرلی ہیں تو یہ ہمارے لیے خوشی کا مقام ہے اور اگر ہم نے ان کی نقلیں نہیں کیں تو یہ ہماری بدقسمتی کی علامت ہے‘‘

(الفضل 28 اگست 1941صفحہ 8)

بزرگان کے حالات زندگی اکٹھے کرنے کی ضرورت

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صحابہ فوت ہورہے ہیں، پچھلے لوگوں کو دیکھو باوجود یہ کہ ان لوگوں میں اتنا علم نہیں تھا انہوں نے اس چیز کی بڑی قدر کی اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حالات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں دس دس جلدوں میں لکھیں۔ ہمارے ہاں بھی صحابہؓ کے حالات محفوظ ہونے چاہیئں …….. آپ لوگ قدر نہیں کرتے جس وقت یورپ اور امریکہ احمدی ہوا تو انہوں نے آپ کو برا بھلا کہنا ہے کہ حضرت صاحب کے صحابہؓ اور ان کے ساتھ رہنے والوں کے حالات بھی ہمیں معلوم نہیں …….. وہ غصہ میں آکے تم کو بددعائیں دیں گے کہ ایسے قریبی لوگوں نے کتنی قیمتی چیز ضائع کر دی۔ ہم نے اب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت بھی مکمل نہیں کی۔ بہرحال صحابہ کے سوانح محفوظ رکھنے ضروری ہیں، جس جس کو کوئی روایت پتا لگے اس کو چاہیے کہ لکھ کر اخباروں میں چھپوائے، کتابوں میں چھپوائے ……….. صحابہؓ میں جو رنگ تھا اور ان لوگوں میں جو قربانی تھی وہ ہمارے اندر نہیں ہے، مگر ہمارے اندر بھی وہ طبقہ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت پائی تھی بڑا مخلص تھا اور ان میں بڑی قربانی تھی اگر وہی اخلاص آج کل نوجوانوں میں پیدا ہوجائے تو جماعت ایک سال میں کہیں سے کہیں نکل جائے ……

(الفضل 16 فروری 1956ء صفحہ.3,4)

حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃالمسیح الثالث رحمۃ اللہ علیہ نے قبل از خلافت ایک موقع پر فرمایا:
’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ کرام ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انہی کی طرح ہمیشہ دین کی خدمت پر کمر بستہ رہنے کا تہیہ کرے اور یہ تبھی ممکن ہے جبکہ ہمیں ان کے تفصیلی حالات کا علم ہو اور ہم یہ جانتے ہوں کہ کس طرح انہوں نے ہر آن اپنے تئیں خدمتِ دین کے لیے وقف رکھا اور دین کے لیے ہر قسم کی قربانیاں کیں۔‘‘

(اصحاب احمدؑ جلد سیزدہم صفحہ 316)

فیض پالو خدا کے پیاروں سے
باغِ احمدؑ کے لالہ زاروں سے
آسمانِ محمدی کے اِن
جگمگاتے ہوئے ستاروں سے
رہ گئے اب تو ہم میں چند اصحاب
مردِ فارس کی یاد گاروں سے
وقت ہے اب بھی برکتیں پالیں
قومِ احمد کے جاں نثاروں سے
سیکھ لیں خُلق و تقویٰ و ایثار
آپؑ کے خاص خاص یاروں سے
بچ گئے ڈوبتے ہوئے کتنے
خیر و برکت کے اِن سہاروں سے
ان کا عالی مقام ہے بڑھ کر
ساری دنیا کے تاجداروں سے
دن مبارک یہ پھر نہ آئیں گے
مل سکے گا نہ کچھ مزاروں سے

(جناب مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری الفرقان اپریل 1967ء)

(حسان محمود)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020