• 23 نومبر, 2020

’’روک سکو تو آسمان سے فضل کی بارش کو روکو‘‘

’’روک سکو تو آسمان سے فضل کی بارش کو روکو‘‘
الفضل نئے روپ میں اپنی نئی آب وتاب سے جاری ہے

یہ مجموعی طور پر انسانی المیہ ہے یا صرف حساس انسان کا کہ کسی کے چلے جانے کے بعد اس کی یاد بہت ستاتی ہے۔اور کھو جانے والی چیز کو دوبارہ پانے کے لئے تصورات اور حقیقت کی شدید کشمکش ایسے انسان کے لئے بیک وقت اذیت اور لذّت کا سامان کرتی رہتی ہے۔اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔چیزیں وجود پکڑتی ہیں اور فنا ہوجاتی ہیں۔پھول کھلتے ہیں خوشبو بکھیرتے ہیں اور پھر سوکھ جاتے ہیں۔ موسم بدلتے ہیں عشق و محبت کے جذبات پر مصلحت غالب آجاتی ہے اور کبھی ایسی مثالیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں کہ عشق و محبت کا سیلاب رسم ورواج کی دیواروں کو اپنے ساتھ بہا کے لے جاتا ہے۔ مجبوری اور حالات کا جبر مظلوم انسان سے جینے کا حق چھین لیتا ہے۔حاکموں اور بادشاہوں کی اخلاقی قدروں کو ارض کھا جاتی ہے۔ایک کے بعد دوسرا حاکم جبر کرتا چلا جاتا ہے۔ابن الوقت اور حاشیہ بردار اُسے ظلم و تعدی کا بازار گرم رکھنے پر مجبور کر لیتے ہیں۔ ظلم کے پردے میں اقتدار کا نشہ گویا کتنا ہی ناپائیدار کیوں نہ ہو،بدبخت حاکم وقت ایسے مکروہ فعل سے بھی احتراز نہیں کرتے۔اپنی حکومت کو دوام دینے کے لئے ایک طرف تو لوگوں کو پابند سلاسل کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کے اخبارات ،کتب اور جرائد پر بھی قدغن عائد کرتے ہیں۔ وطن عزیز کی ہر حکومت احمدیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے لئے اپنا حصہ ڈالتی چلی آئی ہے۔ 1974ء اور 1984ء کی تاریخ دیکھیں یا آج کی،جبر بڑھتا جارہا ہے۔ نفرتوں کے بوئے گئے بیج تناور درخت بن چکے ہیں گو کہ ایسے درختوں کے سائے لمبے نہیں ہوتے اور ان کی جڑوں کو دیمک لگ جاتی ہے۔ان پر لگنے والے پھل پکنے سے پہلے ہی گر جاتے ہیں اور خس و خاشاک میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

کتنے ہی معتبر ادارے ہیںجوان درختوں کی نگہداشت میں مصروف عمل رہے۔ایک منصوبہ بندی کے تحت ایسے باغ اگائے گئے اور ایک مقصد کے تحت ان کی دیکھ بھال کی گئی۔زمانہ گزرتا گیا ان کے منصوبے ناکام ہوتے رہے، ان کی سازشیں بڑھتی رہیں لیکن بدنصیبوں کو مکمل نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ ایک دفعہ جماعتی لٹریچر کو بند کیا گیا لیکن وہ جلدہی بحال ہو گیا۔ دشمن کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔ دشمن نے اپنی لگائی آگ کو ٹھنڈا ہوتا دیکھا تو دوبارہ دوڑ دھوپ کرنے لگا۔احمدیوں کے قرآن مجید پڑھنے پر اعتراض ہونے لگے۔ ’’ختم نبوت‘‘ اور ’’ناموس رسالت‘‘ کے نام پر عدالتیں اور حکومتی ادارے خاموش رہے۔ چیرہ دست دشمن نے خوشیاں منائیں، جلوس نکالے۔ عدالتی حکم کو پس پُشت ڈالتے ہوئے جماعتی رسائل اور الفضل ربوہ کو بند کر دیا گیا۔ ہماری کتب، رسائل اور الفضل کو ’’ختم نبوت‘‘ کے لئے خطرہ قرار دیا گیا۔ دشمن کا یہ حملہ اپنی ذات میں شدید ہوا۔ جماعت کو الفضل ربوہ اور دیگر جماعتی رسائل سے محروم ہونا پڑا۔ آج صبح جب پُرانی یادوں سے گزر ہوا تو الفضل ربوہ کی یاد آگئی۔ اس کی یاد نم ہوا کی طرح تھی لیکن اپنےاندر تلخی اور گھٹن کا احساس لئے تھی۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ اس کے متبادل کے طور پر خدا تعالیٰ نے انتظام کردیا ہے لیکن روزنامہ الفضل ہمیں بڑا محبوب تھا جو ملکی حبس کی بھینٹ چڑھ گیا۔

الفضل کا پاکستان میں دوبارہ جاری ہونا اگرچہ خواب کی باتیں نہیں ہیں لیکن اس کا بند ہوجانا خواب پریشان سے کم نہیں۔ بدطینت دشمن یہ وار کر کے سراکی بھٹیاری کی طرح بہت خوش ہے لیکن نہیں جانتا کہ الفضل لندن آن لائن اسی رنگ و بو پر اپنے پڑھنے والوں کی پیاس بجھارہا ہے۔بلکہ اس سے بڑھ کر حریف بیچارے کے لئے ذلت کا سامان کر رہا ہے۔

یہ لوگ نہ ہماری ترقی کو روک سکے اور نہ ہمارے اخبارات کو۔ حضرت محمدﷺکے فیض سے ہمارے چشمے ابلتے رہے اور ان کے سکڑتے رہے۔ ان پر برق گرتی رہی ہم پر رحمت برستی رہی۔ ان کی زمین کم ہوتی رہی اور ہمارا رعب اور دبدبہ حضرت خلیفۃ المسیح کے وجود کی برکت سے ملکوں میں پھیلتا چلا گیا۔ ہم آگ میں پڑکر کندن بن گئے اور وہ اپنی آگ میں جل کر خاکستر ہوگئے۔ وطن عزیز میں تو ہمارے بات کرنے پر پابندی ہے لیکن میں الفضل لندن کے پلیٹ فارم سے ان کو کہتا ہوں:

؎ روک سکو تو آسماں سے فضل کی بارش کو روکو
ورنہ نعرے تو گو بجیں گےیہ ہے نعروں کی مجبوری

٭…٭…٭

(سعید فطرت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020