• 23 نومبر, 2020

امریکہ میں خون کے عطیات دینے کی جماعت احمدیہ کی مساعی

امریکہ میں 9/11 کا واقعہ جو 19 سال پہلے ہوا تھا یقیناً ایک سانحہ عظیمہ تھا جس میں ہزاروں جانیں تلف ہوئیں اور بے شمار لوگ زخمی ہوئے۔ جماعت احمدیہ کے امیر مکرم مرزا مظفر احمد صاحب مرحوم نے اس وقت امریکہ کے صدر جناب بُش صاحب اور سیکرٹری خارجہ کو تعزیت کا ایک خط لکھا تھا۔ جس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جماعت احمدیہ اس موقعہ پر تمام زخمیوں کو جان بچانے کے لئے خون کے عطیات نیویارک اور واشنگٹن میں دینے کو تیار ہے۔

9/11کے بعد کئی سال تک ملک میں یہ برسی منائی جاتی رہی ہے اور جماعت احمدیہ نے اس کے بعد سے اب تک خون کےعطیات دینے کے لئے ایک مہم بھی چلائی۔

چنانچہ امسال 9/11/2020 کو ڈیٹرائٹ میں مکرم امجد محمود خان صاحب نیشنل سیکرٹری امور خارجیہ نے ایک پروگرام بنایا۔ اس پروگرام کے تحت مسجد محمود ڈیٹرائیٹ میں خون کےعطیات دینے کے لئے ہماری ٹیم نے ریڈ کراس والوں کےساتھ مل کر اس کی تشہیر کی اور امریکن ریڈ کراس نے اپنی ٹیم کے ساتھ مسجد محمود کے ہال میں اس کا انتطام کیا۔ کوڈ 19 کی وجہ سے پروگرام تو ایک جگہ نہ ہو سکا لیکن حاضرین نے بذریعہ Zoom اس میں شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن مجید اور اس کے ترجمہ سے ہوا جو ڈاکٹر خالد منہاس صاحب آف میامی نے کی۔ اس کے بعد مکرم امجد محمود خان صاحب نیشنل سیکرٹری امور خارجیہ امریکہ نےسب حاضرین کو خوش آمدید کہااور پروگرام کا تعارف کرایا۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وہ کیلیفورنیا سے اس میں شامل ہوئے ہیں جبکہ اس سٹیٹ میں اور اردگرد کی دوسری سٹیٹس میں اس وقت بدترین آگ لگی ہوئی ہے اور قریباً 15 ہزار فائرفائٹر آگ کو بجھانے کے لئے لگے ہوئے ہیں۔

9/11 کے سانحہ کی بھی تفصیل انہوں نے بتائی اور کہا کہ یہ سب کے لئے اس وقت بہت مشکل وقت تھا۔

ان کے بعد کانگرس وومین Norma Torres کیلیفورنیا نے اس میٹنگ اور خون کے عطیات کے انتظام پر شکریہ کہا اورجماعت کی ملک و قوم کے لئے خدمات کو سراہا کہ اس معاملہ میں آپ کی لیڈر شپ بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مکرم امیر صاحب امریکہ جناب مرزا مغفور احمد صاحب کا بھی شکریہ ادا کیا۔

محترمہ کانگرس وومین نے کہا کہ آپ کی جماعت نے گوئٹے مالا میں بھی ہسپتال کھول کر وہاں کےعوام کی خدمت کی ہے اورمیرے ڈسٹرکٹ میں بھی آپ لوگ ہر ہفتہ غرباء میں کھانا تقسیم کر رہے ہیں اور ریفیوجیز کے لئے بھی آپ کی خدمات بہت اہم ہیں۔ میں یہ بھی کہتی ہوں کہ آپ لوگ اسلام کی تعلیم پر صحیح طور پر عمل کر رہے ہیں جبکہ ملک میں کئی قسم کے چیلنجز ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے۔ ان کی تقریر کے بعد مکرم مربی سلسلہ واشنگٹن یحییٰ لقمان صاحب نے تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں خدمت انسانیت کے حوالہ سے اسلامی تعلیمات کا بیان اور آنحضرت ﷺ اور جماعت احمدیہ کے رفاہی کاموں کو بیان کیا۔

اس کے بعد Mr. Paul Sullivan وائس پریذیڈینٹ ریڈ کراس امریکہ نے اپنے ریمارکس دیئے اور ریڈ کراس کی خدمات سے لوگوں کو آگاہی دی۔ ان کی تقریر کے بعد مسٹر تھامس رائس TX کانگرس مین نے شکریہ ادا کیا اور جماعت احمدیہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کے بعد کیلیفورنیا کے کانگرس مین Pete Agilar نے پروگرام میں شمولیت کی۔ انہوں نے بھی خون کے عطیات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ کی بے لوث خدمات پر میں آپ کی ساری جماعت احمدیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور آپ لوگوں نےجو مجھے عزت دی ہے اس پر میں آپ سب کا بے حد شکر گزار ہوں اور میرے لائق کوئی خدمت ہو تو مجھے آپ ہر وقت تیار پائیں گے۔

اس کے بعد 5منٹ کی ایک ویڈیو کلپ دکھائی گئی جس میں مختلف مواقع پر جماعت کے رفاہی کاموں کی ایک جھلک تھی اور امریکہ کے مختلف ہائی آفیشلز، کانگرس مین اور کانگرس وومین نے بھی جماعت کی خدمات کو سراہا تھا۔ یہ Muslim for life. کی بھی دسویں سالگرہ تھی۔

اس کے بعد مکرم امجد محمود خان صاحب نے خاکسار کا تعارف کرایا۔ خاکسار نے مسجد محمود ڈیٹرائٹ سے اس پروگرام میں شرکت کی۔ خاکسار نے 9/11 کے حادثہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت کی یہ روایت نہیں ہے کہ وہ برسی منائے نیز یہ کہ جماعت احمدیہ شروع دن سے ہی دہشت گردی کے خلاف اعلان جہاد کرتی چلی آئی ہے۔ یہ دہشت گردی خواہ انفرادی ہو، یا کسی ملک کی دوسرے ملک کے خلاف ہو، یا کسی گروپ کی گروپ کے خلاف ہو۔

اسلام میں دہشت گردی کی بالکل گنجائش نہیں ہے بلکہ اسلام امن والا اور امن دینے والا مذہب ہے، اسلام تو پیار اور محبت کا نام ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ محبت سب کے لئے اور نفرت کسی سے نہیں۔ دوسرے یہ کہ جماعت احمدیہ خدائی جماعت ہے اور اس زمانے میں اسلام کی صحیح تعلیمات کے لئے لوگوں کی راہنمائی کر رہی ہے۔ خاکسار نے بتایا کہ 2008ء میں لاہور میں جماعت احمدیہ کی دو مساجد پر حملہ ہوا جس میں 90 سے زائد لوگ موقع پر ہی مارے گئے، سو سے زائد زخمی ہوئے۔ پھر مونگ رسول میں فجر کے وقت ہماری مسجد پر حملہ ہوا اور 9 آدمی مارے گئے۔ ہمارے خلیفہ اور روحانی پیشوا نے ہمیں صبر کی تعلیم دی ہم نے اسلامی تعلیمات کے مطابق صرف انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ کسی کی برسی نہیں منائی۔

اس وقت بھی ہم برسی نہیں منا رہے بلکہ جیسا کہ ہمارے اس وقت کے امیر نے پریس ریلیز ایشو کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ہم خون کے عطیات دیں گے اس وقت سے ہم خون کے عطیات دے رہے ہیں۔ یہ بات ہماری کسی دن سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ کام ہم اج بھی کریں گے، کل بھی کریں گے اور آئندہ بھی کریں گے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ کسی کو بھی ہماری مدد کی کسی وقت بھی ضرورت ہو تو ہمیں بتائیں، ہم حاضر ہیں۔

ہم نے اس وقت بھی 19 سال پہلے انٹرفیتھ میٹنگز کیں اور دعائیں کیں اب بھی ملک و قوم کی حفاظت کے لئے دعا کرتے ہیں۔ خاکسار نے وہ خط جو محترم امیر صاحب امریکہ مرزا مظفر احمد صاحب نے لکھا تھا بھی پڑھ کر سنایا۔

اس کے بعد مکرم ناصر بخاری صاحب آف ڈیٹرائٹ نے جو لوکل سیکرٹری اور امور خارجیہ ہیں اور نیشنل ٹیم میں بھی خدمات بجا لاتے ہیں نے مسجد محمود کا تعارف کرایا اور ہال ہی میں جو مسجد محمود کا مینارہ بنا ہے اسے دکھایا کیونکہ اس سارے پروگرام کی لائیو سٹریمنگ (Live Streaming) ہو رہی تھی اور مسجد محمود کے ہال میں جہاں ریڈ کراس والوں نے خون کے عطیات کے لئے اپنے بیڈز لگائے ہوئے تھے اس جگہ کو دکھایا۔

اس موقعہ پر مکرم ماجد خان صاحب نے بھی امریکہ کی ہیومینیٹی فرسٹ کی کارکردگی بیان کی۔ کانگریس وومین جیکی سپیر نے بھی اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کی خدمات اور خصوصاً خون کے عطیہ جات دینے پر پروگرام کو سراہا اور اس قسم کے پروگراموں کو جاری رکھنے کی تلقین کی۔ مکرم امجد محمود خان صاحب نے بھی سب کا شکریہ ادا کیا۔

الحمد للہ کہ یہ پروگرام ہر لحاظ سے کامیاب ہوا۔

٭…٭…٭

(رپورٹ مرتبہ: سید شمشاد احمد ناصر۔ ڈیٹرائٹ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020