• 26 جنوری, 2022

This week with Huzoor (24ستمبر 2021ء قسط اول)

This week with Huzoor
24ستمبر 2021ء
قسط اول

اس ہفتے لجنہ اماء للہ فن لینڈ اورمجلس انصار اللہ جرمنی کی نیشنل مجالس ِعاملہ کو حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے آن لائن ملاقات کا شرف حاصل ہوا جس میں شاملین نے مختلف سوالات کے ذریعہ رہنمائی حاصل کی۔ اس کے علاوہ مجلس خدام الاحمدیہ انگلستان کے نیشنل اجتماع کے موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اختتامی خطاب کی کچھ جھلکیاں بھی اس ہفتے کے This week with Huzoor پروگرام میں پیش کی گئیں۔

ممبرات نیشنل عاملہ لجنہ اماء اللہ فن لینڈ کی ملاقات

ہفتہ کے روزلجنہ اماء للہ فن لینڈ کی نیشنل عاملہ کی حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ سے آن لائن ملاقات ہوئی اس میں

حضور نے سیکرٹری صا حبہ تبلیغ سے تبلیغ کا پلان دریافت فرمایا جس پر موصوفہ نے جواب دیا کہ حضور! اس سال ہم نے شعبہ تبلیغ کے تحت دو Campaigns کی ہیں جس میں ہم نے ہمسایوں اور ٹیچرز کو اسلام احمدیت کا تعارف پیش کیا ہے۔ حضور کے اس استفسار پر کہبیعتوں کا ٹارگٹ کیا رکھا ہوا ہے؟ سیکرٹری صاحبہ تبلیغ نے عرض کیا کہ حضور! ابھی بیعتوں کا کوئی ٹارگٹ تو سیٹ نہیں کیا ہوا۔ حضور انور نے اس پرفرمایا:کیوں؟جب تک ٹارگٹ نہ ہو کام ہی نہیں ہوتا۔ٹارگٹ رکھیں گی تو پھر ہی (کام )ہو گا ۔آپ یہ ٹا رگٹ رکھیں کہ ہم نے ایک سال میں 50 بیعتیں حاصل کرنی ہیں۔تو پھر اس کو حاصل کرنے کے لیے کام(بھی ) کریں گی ۔لیکن اگر صرف اس لیے بیٹھی ہوئی ہیں کہ جو مل گیا الحمد للہ۔اگر کوشش نہیں کرنی تو پھر اس کاکوئی فائدہ نہیں۔

سیکرٹری صاحبہ تربیت کو توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا: آپ نے لجنہ کی کتنی تربیت کر لی ہے ؟تو انہوں نے جواب دیا کہ حضور! کوشش کر رہی ہوں۔ آپ دعا کریں۔ حضور انور ایدہ اللہ نے اس پر فرمایا:اگر آپکی عاملہ ہر لیول پر،نیشنل لیول اور مقامی لیول پر تربیت کے لحاظ سے Active ہوں تو 48،49فیصد لجنہ کی تربیت تو ہو گئی۔ٹوٹل تجنید کی 50 فیصد تو عاملہ ممبران (ہیں)۔اگر وہ Active ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ باقی توان کے حصے میں ایک ایک آتی ہےتو وہ ان کی بھی تربیت کر سکتی ہیں۔یہاں تو تربیت بڑی آسان ہے ۔مسئلہ ہی کوئی نہیں۔عاملہ کو ٹھیک کر لیں تو آپ کی حاضری 100 فیصد ہو جائے گی۔ موصوفہ نے عرض کیا کہ حضور! میں ہر ماہ جائزہ فارم سے ان کو یاد دہانی کرواتی ہوں۔ حضور انور نے فرمایا:پہلے عاملہ سے شروع کریں ۔پہلے عاملہ کو تیز کر لیں ۔باقی لوگ خود ہی تیز ہو جائیں گے۔عاملہ 5 نمازیں پڑھنے والی ہوں۔ باقا عدہ تلاوت کرنے والی ہوں۔عاملہ کا پردہ صحیح ہو۔لباس صحیح ہو۔عاملہ کے اخلاق صحیح ہوں۔غصہ کم کرنیوالی ہوں۔ پھر باقی ساری خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی ۔

*سیکرٹری صاحبہ امور طالبات سے استفسار کرتے ہو ئے فرمایا۔آپ خود بھی پڑھتی ہیں ؟ موصوفہ نے عرض کیا :جی حضور! حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا ۔کیا پڑھ رہی ہیں؟موصوفہ نے جواب دیا کہ حضور میں پروٹین سائنس اور بائیو ٹیکنالوجی میں ماسٹر کر رہی ہوں۔ حضور انورنےاس پر استفسار فرمایا: کتنی طالبات ہیں جو یونیورسٹی جانے والی ہیں؟ تو سیکرٹری صاحبہ نے بتایا کہ حضور ٹوٹل اٹھارہ Students ہیں جو مختلف پروگرام میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ حضور نے مزید استفسار فرمایا کہ پی ایچ ڈی کتنی کر رہی ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حضور! تین۔اس پر حضور انورنے فرمایا کہ کس فیلڈ میں(پی ایچ ڈی) کر رہی ہیں۔ سیکرٹری صاحبہ نے جواب دیا کہ ایک Mechanical Engineering میں کر رہی ہیں۔ ایک Bio informatics میں کر رہی ہے اور ایک Human Resources میں Phd کر رہی ہے۔اس پر مسکراتے ہوئے حضور انور نے فرمایا۔آپ کی لڑکیاں تو بڑی ہوشیار ہیں۔اس پر سیکرٹری صاحبہ نے عرض کیا کہ دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ بہتر رنگ میں خدمت کی تو فیق دے۔ آمین۔ تو حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔ (آمین)

اس ملاقات کے آخر میں لجنہ ممبرات نے مختلف سوالات پوچھےجن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

سوال: حضور !آپ نے حال ہی میں ایک ملاقات میں فرمایا تھا کہ اگر لجنہ بھی باقی تنظیموں کے ساتھ اسلام کا پیغام پہنچائے تو (اسلام) کا پیغام جلدی سب تک پہنچ سکتا ہے۔حضور! میرا سوال یہ ہے کہ مرد باہر نکل کر brochures (پمفلٹس) تقسیم کر لیتے ہیں۔ تولجنہ اس میں کس طرح شامل ہوسکتی ہیں؟

فرمایا: کیوں؟ لجنہ کو کیا تکلیف ہے؟ آپ بازار جاتی ہو۔ سودا لے کر آتی ہو۔ groceries خریدتی ہو۔ سارا دن پھرتی ہو ۔سیریں کرتی ہو۔ پارکوں میں جاتی ہو۔ناصرات کو ساتھ لیکر جاؤ۔ اسکول بھی جاتی ہیں تو دو دو، تین تین کا گروپ بنا کر جائیں اور brochures (پمفلٹ) تقسیم کریں۔ زیادہ سے زیادہ عورتوں کے ساتھ واقفیت پیدا کریں ۔عورتوں کو تبلیغ کریں تواس میں کیا حرج ہے؟اگر پرانے زمانے میں عورتیں جنگوں میں حصہ لے سکتی تھیں تو آپ brochures (پمفلٹس) کیوں نہیں تقسیم کر سکتیں۔ابھی کل ہی میں نے خطبہ میں بتایا ہے کہ عورتیں جنگ میں حصہ لیتی تھیں۔ اس زمانے کی جنگ یہی ہے۔ تبلیغ کرنا۔ تو پھر تبلیغ کرو۔اس وقت تو یہی ہے کہ لٹریچر تقسیم کرو۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اکیلی اکیلی نہ جائیں۔ دو دو، تین تین کا گروپ بنا کر جائیں۔ اور ایک آدھ ناصرات بیچ میں ہو تا کہ ان کی بھی ٹریننگ ہو جائے۔پھر اس کے علاوہ عورتوں کے ساتھ تعلقات پیدا کریں۔ ان کو زیادہ سے زیادہ تبلیغ کریں۔

سوال: نوجوان بچیاں خاص کر چھوٹی بچیاں اکثر اپنے لباس کو لے کر احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔حضور! آپ نصیحت فرمائیں کہ کیسے اپنے بچوں میں پردہ اور کلچر کے لباس کی محبت اور confidence کوپیدا کیا جائے؟

فرمایا: دین کو اوّلیت ہے۔ لباس چاہے کوئی بھی ہو۔ کسی بھی قسم کا ہو لیکن حیا دار لباس ہونا چاہیے۔قرآن کریم میں یہ نہیں لکھا کہ تم نے شلوار قمیض پہننی ہے یا لمبا چوغہ پہننا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ تمہارا حیا دار لباس ہونا چاہیے ۔تمہاری زینت نظر نہیں آنی چاہیئے۔ تو یہ لڑکیوں میں تربیت کے شعبے کا کام ہے۔ ناصرات کے شعبے کا کام ہے اور ماں باپ کا بھی کام ہے کہ وہ بچپن سے ہی (یہ چیز) پیدا کریں۔تربیت کا شعبہ یہ کام ماں باپ کے ذریعہ سے کرے۔ ناصرات کا شعبہ اپنی تنظیم کے لحاظ سے کام کرے۔ ماں باپ اپنے طور پر تربیت کریں کہ ہم احمدی مسلمان ہیں ۔اس لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے جو حکم ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حیا دار لباس پہنو۔ بعض مسلمان ہیں بلکہ بعض غیر احمدی عرب مسلمان بھی میں نے دیکھے ہیں جو Jeans اور Blouse پہن کر حجاب لے لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ ہم نے بڑا پردہ کر لیا ہے ۔تو اُس پردے کا تو کوئی فائدہ نہیں جب کہ اس کا لباس ننگا ہے۔اور لباس سے ساری زینت ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔یا باہر جاتے ہوئے چوغہ پہن لیا اور گھر میں اپنے رشتہ داروں کےسامنے ایسا لباس ہوتا ہے جو صحیح نہیں ہوتا تو وہ بھی غلط ہے۔ حدیث ہے ’’حیا ایمان کا حصہ ہے‘‘۔ اس لیے بچپن سے ہی بچیوں کے ذہنوں میں یہ ڈالنا ہو گا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے اور ہم احمدی مسلمان ہیں۔ ہمیں اپنے نمونے بھی دکھانے چاہیے۔ ہماری دو عملی نہیں ہونی چاہیے۔اگر ہمارا لباس حیا دار ہو گا تو ہماری حیا بھی قائم رہے گی اور پھر وہ بڑے ہو کر بھی اس حیا دار لباس کے مطابق اپنے لباسوں کو ڈھالیں گی اورپھر پردہ بھی کریں گی، اور حجاب (سے) بھی نہیں شرمائیں گی،اور کمپلیکس بھی نہیں ہو گا۔ اپنے آپ میں یہ احساس پیدا کریں کہ ہم نے دنیا کی اصلاح کرنی ہے دنیا کو اپنے پیچھے چلانا ہے نا کہ ہم نے دنیا کے پیچھے چلنا ہے۔ جب یہ احساس اور confidence پیدا ہو جائے گاتو پھر (سب) ٹھیک ہو جائے گا۔اور اگر مائیں ہی بے حوصلہ ہو جائیں گی، ان میں اعتماد نہیں ہو گا،باہر نکلیں گی تو ان مغربی لوگوں کو دیکھ کے ڈر جائیں گی۔جس نے انگریزی کے دو لفظ بو ل دئیے یا مقامی زبان کے لفظ بول دئیے تو ڈر کے چپ کر گئیں۔ ایسی بات نہیں ہے۔ان کو بتائیں کہ ہم باہر آئے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسکی وجہ سے ہم باہر نکلے ہیں ورنہ ہم نہیں نکل سکتے تھے۔ اللہ کے فضل کا اور شکر گزاری ادا کرنے کا ہی یہ ذریعہ ہے کہ ہم اسلام کی تبلیغ اور تعلیم کو لوگوں تک پہنچائیں۔اور اس کے لیے اپنے نمونے قائم کریں اور صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالیں۔ جب آپ لوگ شعبہ تربیت بھی ،شعبہ ناصرات بھی، اور ماں باپ بھی مل کے یہ اعتماد پیدا کریں گے تو کوئی کمپلیکس نہیں ہوگا۔اور جو یہاں رہنے والی لڑکیاں ہیں، اگر ان کاجماعت سے باقاعدہ رابطہ ہو ،تعلق ہو،اور باقاعدہ میرے خطبات بھی سنتی ہوں۔یا میری لجنہ سے تقریریں بھی سنتی ہوں۔یا آپ لوگوں سے ان کا رابطہ ہو تو ان میں کوئی کمپلیکس نہیں ہوگا۔ وہ لوگ جوجماعت سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں انہی میں کمپلیکس پیدا ہو جاتا ہے۔یا پھر ایسے لوگ جن کے ماں باپ بالکل ہی ان پڑھ ہیں اور لڑکیوں کی باتوں کی طرف، ان کے جواب دینے میں توجہ نہیں دیتے تو پھر ایسی لڑکیاں جن کے ماں باپ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں، چاہیے کہ لجنہ میں سے پڑھی لکھی لڑکیاں ان سے دوستی پیدا کریں۔16 سے 20 سال کی نو جوان لجنہ بھی تو ہیں۔ ان کو احساس دلائیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ ہر ایک اپنے ساتھ ایک ایک لڑکی کو لگا لے تو کمپلیکس دور ہو جائے گا۔ تھوڑی سی تو (آپ کی) تعداد ہے۔

سوال: ایک سال سے لجنات کو نمازوں میں باقاعدگی کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے مگر سستی دور نہیں ہو رہی۔ ایسی لجنات کو کیسے توجہ دلائی جائے؟

فرمایا: ہمارا کام ہے مستقل توجہ دلاتے رہنا اور رسول کریم ﷺ کو بھی یہی حکم تھا کہ نصیحت کرتے جاؤ۔اور یہی ہم نے کرتے جانا ہے یہاں تک کہ عادت پڑ جائے۔ نماز کی اہمیت کا احساس دلائیں کہ ہم نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ صرف یہ کہہ دینا کہ نماز پڑھو ورنہ اللہ میاں ناراض ہو جائے گا۔ اتنی بات تو کافی (نہیں)۔ یہاں کی دنیا مادیت پسند ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے بات نہیں بنے گی۔ نماز کا فلسفہ بیان کریں۔ نماز ہم کیوں پڑھتے ہیں؟ اور نماز کیوں پڑھنی چاہیے؟ نماز کے کیا کیا فائدے ہیں؟ اور نہ پڑھنے کے کیا کیا نقصانات ہیں؟۔ہمیں اگر احمدی مسلمان کہلانا ہے تو پھر ہمیں کس طرح عمل کرنا چاہیے؟ ہماری باتوں میں دو عملی نہیں آنی چاہیے۔ یہ منافقت ہو جاتی ہے۔ جو نیک کام ہم نے کرنے ہیں وہ پوری توجہ سے کرنے چاہئیں۔ یہ نہیں کہ دکھلانے کے لیے ہم کہیں کہ ہم احمدی مسلمان ہیں اور ہمارے عمل وہ نہ ہوں۔ تو بڑوں کو بھی نمازوں کےاپنے نمونے دکھانے چاھئیں۔ اگر ماں باپ گھروں میں نمازیں پڑھ رہے ہوں گے اورعبادت کی طرف توجہ ہو گی تو بچوں کی بھی توجہ ہو جائے گی۔ یہ تو ہر شعبے کو ،ہر طبقے کو اپنی تربیت کرنی ہو گی۔ تبھی تربیت کا صحیح نتیجہ نکلے گا۔

(ٹرانسکرئیب و کمپوزنگ: ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

کعبہ پر پہلی نظر