• 4 دسمبر, 2021

کتاب تعلیم کی تیاری (قسط 20)

کتاب تعلیم کی تیاری
قسط 20

اس عنوان کے تحت درج ذىل تىن عناوىن پر حضرت مسىح موعود علىہ السلام کے ارشادات اکٹھے کئے جا رہے ہىں۔

  1. اللہ تعالىٰ کے حضور ہمارے کىا فرائض ہىں؟
  2. نفس کے ہم پر کىا حقوق ہىں؟
  3. بنى نوع کے ہم پر کىا کىا حقوق ہىں؟

اللہ تعالىٰ کے حضور ہمارے کىا فرائض ہىں

٭ ’’صوفى کہتے ہىں جس شخص پر چالىس دن گذر جائىں اور خدا کے خوف سے اىک دفعہ بھى اس کى آنکھوں سے آنسُو جارى نہ ہوں تو ان کى نسبت اندىشہ ہے کہ وہ بے اىمان ہو کر مَرے۔ اب اىسے بھى بندگانِ خدا ہىں کہ چالىس دن کى بجائے چالىس سال گذر جاتے ہىں اور ان کى اس طرف توجّہ ہى نہىں ہوتى۔ دانشمند انسان وہ ہے جو بَلا آنے سے پہلے بَلا سے بچنے کا سامان کرے۔ جب بَلا نازل ہو جاتى ہے۔ تو اُس وقت نہ سائنس کام دىتى ہے اور نہ دولت۔ دوست بھى اس وقت تک ہىں جب تک صحت ہے۔ پھر تو پانى دىنے کے لئے بھى کوئى نہىں مِلتا۔ آفات بہت ہىں۔ ہمارے نبى کرىم صلے اللہ علىہ و سلم نے فرماىا جلدى توبہ کرو۔ کہ انسان کے گرد چىونٹىوں سے بڑھ کر بَلائىں ہىں۔ جن لوگوں کا تعلق خدا تعالىٰ سے ہے جس طرح وہ بَلاؤں سے بچائے جاتے ہىں دوسرے ہر گز نہىں بچائے جاتے۔ تعلّق بڑى چىز ہے کہ

؎بہ زىر سلسلہ رفتن طرىق عىارى است

کوئى انسان نہىں جس کے لئے آفات کا حصہ موجود نہىں۔ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ ىُسۡرًا (الم نشرح: 7)۔ انسان کو ماىوس بھى نہىں ہونا چاہىئے

؎بر کرىماں کارہا دشوار نىست
اىک منٹ مىں کچھ کا کچھ کر دىتا ہے
؎نو مىد ہم مباش کہ رندان بادہ نوش
ناگاہ بىک خردش بمنزل رسىدہ اند

امن اور صحت کے زمانہ کى قدر کرو۔ جو امن و صحت کے زمانہ مىں خدا تعالےٰ کى طرف رجوع کرتا ہے خدا تعالےٰ اس کى تکلىف و بىمارى کے زمانہ مىں مدد کرتا ہے۔ سچے دل سے تضرّع اىک حصار ہے جس پر کوئى بىرونى حملہ آورى نہىں ہو سکتى۔‘‘

(بدر جلد 7 نمبر 19-20 صفحہ 4 تا 7 مؤرخہ 24 مئى 1908ء)

(ملفوظات جلد 10 صفحہ380 تا 381، اىڈىشن 1984ء مطبوعہ لندن)

’’پس ىاد رکھو کہ خدا تعالىٰ سے الگ ہو کر صرف اپنے علم اور تجربہ کى بناء پر جتنا بڑا دعوىٰ کرے گا اتنى ہى بڑى شکست کھائے گا۔ مسلمانوں کو توحىد کا فخر ہے۔ توحىد سے مراد صرف زبانى توحىد کا اقرار نہىں بلکہ اصل ىہ ہے کہ عملى رنگ مىں حقىقتًا اپنے کاروبار مىں اس امر کا ثبوت دے دو کہ واقعى تم مؤحّد ہو اور توحىد ہى تمہارا شىوہ ہے۔ مسلمانوں کا اىمان ہے کہ ہر اىک امر خدا تعالےٰ کى طرف سے ہوتا ہے۔ اس واسطے مسلمان خوشى کے وقت اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور غمى اور ماتم کے وقت اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَىۡہِ رٰجِعُوۡنَ کہہ کر ثابت کرتا ہے کہ واقع مىں اس کا ہر کام مىں مرجع صرف خدا ہى ہے جو لوگ خدا تعالىٰ سے الگ ہو کر زندگى کا کوئى حظّ اُٹھانا چاہتے ہىں وہ ىاد رکھىں کہ ان کى زندگى بہت ہى تلخ ہے کىونکہ حقىقى تسلّى اور اطمىنان بجُز خدا مىں محو ہونے اور خدا کو ہى ہر کام کا مرجع ہونے کے حاصل ہو سکتا ہى نہىں۔ اىسے لوگوں کى زندگى تو بہائم کى زندگى ہوتى ہے۔ اور وہ تسلّى ىافتہ نہىں ہو سکتے۔ حقىقى راحت اور تسلّى انہىں لوگوں کو دى جاتى ہے جو خدا سے الگ نہىں ہوتے اور خدا تعالىٰ سے ہر وقت دل ہى دل مىں دعائىں کرتے رہتے ہىں۔

مذہب کى صداقت اس مىں ہے کہ انسان خدا تعالىٰ سے کسى حالت مىں بھى الگ نہ ہو۔ وہ مذہب ہى کىا ہے اور زندگى ہى کىسى ہے کہ تمام عمر گذر جائے مگر خدا تعالےٰ کا نام درمىاں کبھى بھى نہ آوے۔ اصل بات ىہ ہے کہ ىہ سارے نقائص صرف بے قىدى اور آزادى کى وجہ سے ہىں۔ اور ىہ بے قىدى ہى ہے کہ جس کى وجہ سے مخلوق کا بہت بڑا حصّہ اس طرز زندگى کو پسند کرتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد10 صفحہ345-346، اىڈىشن 1984ء مطبوعہ لندن)

نفس کے ہم پر کىا حقوق ہىں

’’تورىت اور سارى آسمانى کتابوں سے پاىا جاتا ہے کہ خدا تعالےٰ متقى کو ضائع نہىں کرتا اس لئے پہلے اىسى دعائىں کرنى چاہئىں جن سے نفس امّارہ، نفس مطمئنہ ہو جاوے۔ اور اللہ تعالےٰ راضى ہو جاوے۔ پس اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِىۡمَ (الفاتحہ: 6) کى دعائىں مانگو کىونکہ اس کے قبول ہونے پر جو ىہ خود مانگتا ہے خدا تعالےٰ خود دىتا ہے۔

سىد عبد القادر جىلانى رضى اللہ تعالےٰ عنہ اىک جگہ لکھتے ہىں کہ جب انسان سچى توبہ کرتا ہے تو پھر اللہ تعالىٰ ىہ دىتا ہے، ىہ دىتا ہے۔ آخر کہتے ہىں کہ بىوى بھى دىتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ىہ سب واقعات وہ اپنے بىان کرتے ہىں اور ىہ ہے بالکل سچ کہ خدا تعالىٰ خود متعہد ہو جاتا ہے اس کے موافق مىرا بھى اىک الہام ہے۔

ہر چہ باىد نو عروسے راہماں سامان کنم

غرض جب متولى اور متکفل خدا ہو تو پھر کىا ہى مزا آتا ہے۔‘‘

(الحکم جلد 8 نمبر 8 صفحہ 5 تا 7 مؤرخہ 10 مارچ 1904ء)

(ملفوظات جلد 6 صفحہ386 تا387، اىڈىشن 1984ء مطبوعہ لندن)

٭ ’’دنىا مىں دو قسم کے دُکھ ہوتے ہىں بعض دکھ اس قسم کے ہوتے ہىں کہ ان مىں تسلّى دى جاتى ہے اور صبر کى توفىق ملتى ہے۔ فرشتے سکىنت کے ساتھ اُترتے ہىں۔ اس قسم کے دُکھ نبىوں اور راست بازوں کو بھى ملتے ہىں اور وہ خدا تعالىٰ کى طرف سے بطور ابتلا آتے ہىں جىسا کہ اُس نے وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَىۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ (البقرۃ: 156) مىں فرماىا ہے۔ ان دکھوں کا انجام راحت ہوتا ہے اور درمىان مىں بھى تکلىف نہىں ہوتى کىونکہ خدا کى طرف سے صبر اور سکىنت ان کو دى جاتى ہے۔ مگر دوسرى قسم دُکھ کى وہ ہے جس مىں ىہى نہىں کہ دکھ ہوتا ہے بلکہ اُس مىں صبر و ثبات کھوىا جاتا ہے۔ اس مىں نہ انسان مرتا ہے نہ جىتا ہے اور سخت مصىبت اور بلا مىں ہوتا ہے۔ ىہ شامت اعمال کا نتىجہ ہوتا ہے۔ جس کى طرف اس آىت مىں اشارہ ہے وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِىۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَىۡدِىۡکُمۡ (الشورىٰ: 31) اور اس قسم کے دکھوں سے بچنے کا ىہى طرىق اور علاج ہے کہ وہ اللہ تعالےٰ سے ڈرتا رہے کىونکہ دنىا کى زندگى چند روزہ ہے اور اس زندگى مىں شىطان اس کى تاک مىں لگا رہتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کو خدا سے دُور پھىنک دے اور نفس اس کو دھوکہ دىتا رہتا ہے کہ ابھى بہت عرصہ تک زندہ رہنا ہے لىکن ىہ بڑى بھارى غلطى ہے۔ اگر انسان اس دھوکے مىں آ کر خدا تعالىٰ سے دُور جا پڑے اور نىکىوں سے دستکش ہو جاوے۔ موت ہر وقت قرىب ہے اور ىہى زندگى دار العمل ہے۔ مرنے کے ساتھ ہى عمل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور جس وقت ىہ زندگى کے دَم پُورے ہوئے پھر کوئى قدرت اور توفىق کسى عمل کى نہىں ملتى خواہ تم کتنى ہى کوشش کرو مگر خدا تعالےٰ کو راضى کرنے کے واسطے کوئى عمل نہىں کر سکو گے اور ان گناہوں کى تلافى کا وقت جاتا رہے گا اور اس بد عملى کا نتىجہ آخر بھگتنا پڑے گا۔‘‘

٭ ’’خوش قسمت وہ شخص نہىں ہے جس کو دنىا کى دولت ملے اور وہ اس دولت کے ذرىعہ ہزاروں آفتوں اور مصىبتوں کا مورد بن جائے بلکہ خوش قسمت وہ ہے جس کو اىمان کى دولت ملے اور وہ خدا کى ناراضگى اور غضب سے ڈرتا رہے اور ہمىشہ اپنے آپ کو نفس اور شىطان کے حملوں سے بچاتا رہے کىونکہ خدا تعالےٰ کى رضا کو وہ اس طرح پر حاصل کرے گا۔ مگر ىاد رکھو کہ ىہ بات ىونہى حاصل نہىں ہو سکتى۔ اس کے لئے ضرورى ہے کہ تم نمازوں مىں دعائىں کرو کہ خدا تعالےٰ تم سے راضى ہو جاوے۔ اور وہ تمہىں توفىق اور قوت عطا فرمائے کہ تم گناہ آلود زندگى سے نجات پاؤ۔ کىونکہ گناہوں سے بچنا اس وقت تک ممکن نہىں جب تک اس کى توفىق شامل حال نہ ہو اور اس کا فضل عطا نہ ہو اور ىہ توفىق اور فضل دُعا سے ملتا ہے۔ اس واسطے نمازوں مىں دعا کرتے رہو۔ کہ اے اللہ ہم کو ان تمام کاموں سے جو گناہ کہلاتے ہىں اور جو تىرى مرضى اور ہداىت کے خلاف ہىں بچا اور ہر قسم کے دُکھ اور مصىبت اور بلا سے جو ان گناہوں کا نتىجہ ہے بچا اور سچے اىمان پر قائم رکھ (آمىن) کىونکہ انسان جس چىز کى تلاش کرتا ہے وہ اس کو ملتى ہے اور جس سے لا پروائى کرتا ہے اس سے محروم رہتا ہے۔ جوئندہ ىا بندہ مثل مشہور ہے مگر جو گناہ کى فِکر نہىں کرتے اور خدا تعالىٰ سے نہىں ڈرتے وہ پاک نہىں ہو سکتے۔ گناہوں سے وہى پاک ہوتے ہىں جن کو ىہ فِکر لگى رہتى ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد6 صفحہ393 تا 395، اىڈىشن 1984ء مطبوعہ لندن)

بنى نوع کے ہم پر کىا کىا حقوق ہىں

٭ ’’بہت سے آدمى اس دنىا مىں اىسے ہىں کہ اُن کى زندگى اىک اندھے آدمى کى سى ہے کىونکہ وہ اس بات پر کوئى اطلاع ہى نہىں رکھتے کہ وہ گناہ کرتے ہىں ىا گناہ کسے کہتے ہىں عوام تو عوام بہت سے عالموں فاضلوں کو بھى پتہ نہىں کہ وہ گناہ کر رہے ہىں حالانکہ وہ بعض گناہوں مىں مبتلا ہوتے ہىں اور کرتے رہتے ہىں۔ گناہوں کا علم جب تک نہ ہو اور پھر انسان اُن سے بچنے کى فِکر نہ کرے تو اس زندگى سے کوئى فائدہ نہ اس کو ہوتا ہے اور نہ دوسروں کو۔ خواہ سو برس کى عمر بھى کىوں نہ ہو جاوے لىکن جب انسان گناہ پر اطلاع پا لے اور ان سے بچے تو وہ زندگى مفىد زندگى ہوتى ہے مگر ىہ ممکن نہىں ہے جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے اور اپنے حالات اور اخلاق کو ٹٹولتا نہ رہے کىونکہ بہت سے گناہ اخلاقى ہوتے ہىں جىسے غصہ، غضب، کىنہ، جوش، رىا، تکبر، حسد وغىرہ ىہ سب بد اخلاقىاں ہىں جو انسان کو جہنّم تک پہنچا دىتى ہىں۔ انہى مىں سے اىک گناہ جس کا نام تکبّر ہے شىطان نے کىا تھا۔ ىہ بھى اىک بد خلقى ہى تھى جىسے لکھا ہے اَبٰى وَ اسۡتَکۡبَرَ (البقرۃ: 35)۔ اور پھر اس کا نتىجہ کىا ہوا وہ مردود خلائق ٹھہرا۔ اور ہمىشہ کے لئے لعنتى ہوا۔ مگر ىاد رکھو کہ ىہ تکبر صرف شىطان ہى مىں نہىں ہے بلکہ بہت ہىں جو اپنے غرىب بھائىوں پر تکبّر کرتے ہىں اور اس طرح پر بہت سى نىکىوں سے محروم رہ جاتے ہىں۔ اور ىہ تکبّر کئى طرح پر ہوتا ہے کبھى دولت کے سبب سے، کبھى علم کے سبب سے، کبھى حُسن کے سبب سے اور کبھى نسب کے سبب سے، غرض مختلف صورتوں سے تکبر کرتے ہىں اور اس کا نتىجہ وہى محرومى ہے اور اسى طرح پر بہت سے بُرے خُلق ہوتے ہىں جن کا انسان کو کوئى علم نہىں ہوتا اس لئے کہ وہ اُن پر کبھى غور نہىں کرتا اور نہ فکر کرتا ہے۔ انہىں بد اخلاقىوں مىں سے اىک غصہ بھى ہے۔ جب انسان اس بد اخلاقى مىں مبتلا ہوتا ہے تو وہ دىکھے کہ اس کى نوبت کہاں تک پہنچ جاتى ہے۔ وہ اىک دىوانہ کى طرح ہوتا ہے۔ اس وقت جو اس کے منہ مىں آتا ہے کہہ گذرتا ہے اور گالى وغىرہ کى کوئى پروا نہىں کرتا۔ اب دىکھو کہ اسى اىک بد اخلاقى کے نتائج کىسے خطرناک ہو جاتے ہىں۔ پھر اىسا ہى اىک حسد ہے کہ انسان کسى کى حالت ىا مال و دولت کو دىکھ کر کُڑھتا اور جلتا ہے اور چاہتا ہے کہ اُس کے پاس نہ رہے اس سے بجُز اس کے کہ وہ اپنى اخلاقى قو توں کا خون کرتا ہے کوئى فائدہ نہىں اُٹھا سکتا۔ پھر اىک بد اخلاقى بُخل کى ہے۔ باوجودىکہ خدا تعالىٰ نے اس کو مقدرت دى ہے مگر ىہ انسانوں پر رحم نہىں کرتا۔ ہمساىہ خواہ ننگا ہو بھوکا ہو مگر اس کو اس پر رحم نہىں آتا۔ مسلمانوں کے حقوق کى پروا نہىں کرتا۔ وہ بجُز اس کے کہ دنىا مىں مال و دولت جمع کرتا رہے اور کوئى کام دوسروں کى ہمدردى اور آرام کے لئے نہىں رکھتا۔ حالانکہ اگر وہ چاہتا اور کوشش کرتا تو اپنے قوىٰ اور دولت سے دوسروں کو فائدہ پہنچا سکتا تھا۔ مگر وہ اس بات کى فِکر نہىں کرتا۔

غرضکہ طرح طرح کے گناہ ہىں جن سے بچنا ضرورى ہے۔ ىہ تو موٹے موٹے گناہ ہىں جن کو گناہ ہى نہىں سمجھتا۔ پھر زنا، چورى، خون وغىرہ بھى بڑے بڑے گناہ ہىں۔ اور ہر قسم کے گناہوں سے بچنا چاہىئے۔

گناہوں سے بچنا ىہ تو ادنےٰ سى بات ہے اس لئے انسان کو چاہىئے کہ گناہوں سے بچکر نىکى کرے اور اللہ تعالےٰ کى عبادت اور اطاعت کرے جب وہ گناہوں سے بچىگا اور خدا کى عبادت کرے گا تو اس کا دل برکت سے بھر جائے گا اور ىہى انسان کى زندگى کا مقصد ہے۔ دىکھو اگر کسى کپڑے کو پاخانہ لگا ہوا ہو تو اس کو صرف دھو ڈالنا ہى کوئى خوبى نہىں ہے بلکہ اُسے چاہىئے کہ پہلے اُسے خوب صابن سے ہى دھو کر صاف کرے اور مَىل نکال کر اُسے سفىد کرے اور پھر اُس کو خوشبو لگا کر معطر کرے تاکہ جو کوئى اُسے دىکھے خوش ہو۔ اسى طرح پر انسان کے دل کا حال ہے وُہ گناہوں کى گندگى سے ناپاک ہو رہا ہے اور گھناؤنا اور متعفن ہو جاتا ہے۔ پس پہلے تو چاہىئے کہ گناہ کے چرک کو توبہ و استغفار سے دھو ڈالے اور خدا تعالىٰ سے توفىق مانگے کہ گناہوں سے بچتا رہے۔ پھر اس کى بجائے ذکر الہٰى کرتا رہے اور اس سے اس کو بھر ڈالے۔ اس طرح پر سلوک کا کمال ہو جاتا ہے اور بغىر اس کے وہى مثال ہے کہ کپڑے سے صرف گندگى کو دھو ڈالا ہے لىکن جب تک ىہ حالت نہ ہو کہ دل کو ہر قسم کے اخلاق ردّىہ و رذىلہ سے صاف کر کے خدا کى ىاد کا عطر لگاوے اور اندر سے خوشبو آوے اس وقت تک خدا تعالےٰ کا شکوہ نہىں کرنا چاہىئے لىکن جب اپنى حالت اس قسم کى بناتا ہے تو پھر شکوہ کا کوئى محل اور مقام ہى نہىں رہتا۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ395 تا397، اىڈىشن 1984ء مطبوعہ لندن)

٭ اىک احمدى نے حضرت اقدس کى خدمت مىں عرض کى کہ تعدد ازدواج مىں جو عدل کا حُکم ہے کىا اس سے ىہى مراد ہے کہ مرد بحىثىت اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ (النساء: 35) کہ خود اىک حاکم عادل کى طرح جس بىوى کو سلوک کے قابل پاوے وىسا سلوک اُس سے کرے ىا کچھ اور معنے ہىں۔

حضرت اقدس علىہ الصلوٰۃ والسّلام نے فرماىا کہ
’’محبت کو بالائے طاق رکھ کر عملى طور پر سب بىوىوں کو برابر رکھنا چاہىئے۔ مثلًا پارچہ جات۔ خرچ خوراک۔ معاشرت حتٰى کہ مباشرت مىں بھى مساوات برتے۔ ىہ حقوق اس قسم کے ہىں کہ اگر انسان کو پُورے طور پر معلوم ہوں تو بجائے بىاہ کے وہ ہمىشہ رنڈوا رہنا پسند کرے۔ خدا تعالےٰ کى تہدىد کے نىچے رہ کر جو شخص زندگى بسر کرتا ہے وہى اُن کى بجا آورى کا دم بھر سکتا ہے۔ اىسے لذّات کى نسبت جن سے خدا تعالےٰ کا تازىانہ ہمىشہ سر پر رہے۔ تلخ زندگى بسر کر لىنى ہزار ہا درجہ بہتر ہے تعدّد ازدواج کى نسبت اگر ہم تعلىم دىتے ہىں تو صرف اس لئے کہ معصىت مىں پڑنے سے انسان بچا رہے اور شرىعت نے اسے بطور علاج کے ہى رکھا ہے کہ اگر انسان اپنے نفس کا مىلان اور غلبہ شہوات کى طرف دىکھے اور اس کى نظر بار بار خراب ہوتى ہو تو زنا سے بچنے کے لئے دوسرى شادى کر لے لىکن پہلى بىوى کے حقوق تلف نہ کرے۔ تورات سے بھى ىہى ثابت ہے کہ اُس کى دلدارى زىادہ کرے کىونکہ جوانى کا بہت سا حصہ اُس نے اس کے ساتھ گذارا ہوا ہوتا ہے اور اىک گہرا تعلق خاوند کا اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ پہلى بىوى کى رعاىت اور دلدارى ىہانتک کرنى چاہىئے کہ اگر کوئى ضرورت مرد کو ازدواج ثانى کى محسوس ہو لىکن وہ دىکھتا ہے کہ دوسرى بىوى کے کرنے سے اس کى پہلى بىوى کو سخت صدمہ ہوتا ہے اور حد درجہ کى اُس کى دلشکنى ہوتى ہے تو اگر وہ صبر کر سکے اور کسى معصىت مىں مبتلا نہ ہوتا ہو اور نہ کسى شرعى ضرورت کا اُس سے خون ہوتا ہو تو اىسى صورت مىں اگر اُن اپنى ضرورتوں کى قربانى سابقہ بىوى کى دلدارى کے لئے کر دے اور اىک ہى بىوى پر اکتفا کرے۔ تو کوئى حرج نہىں ہے اور اُسے مناسب ہے کہ دوسرى شادى نہ کرے۔‘‘

(ملفوظات جلد7 صفحہ63 تا64، اىڈىشن 1984ء مطبوعہ لندن)

(ترتىب و کمپوزنگ: فضل عمر شاہد۔ خاقان احمد صائم- لٹوىا)

پچھلا پڑھیں

مضمون نگاروں سے اىک ضرورى درخواست

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 نومبر 2021