• 5 دسمبر, 2022

مغربی ممالک میں عائلی تنازعات کی وجوہات

خاکسار کو بطور نىشنل سىکرىٹرى امور عامہ اىک طوىل عرصہ سے خدمت کى توفىق مل رہى ہے۔ اس دوران جماعت آسٹرىلىا مىں روز بروز بڑھتے ہوئے گھرىلو تنازعات کى وجوہات پر غور کرنے کا موقع ملتا رہا ہے۔مىں نے اپنے اس مضمون مىں ان مسائل کى وجوہات اور ممکنہ حل مختصر طور پر پىش کرنے کى کوشش کى ہے۔ اس مضمون کا مقصد کسى طبقہ کى حماىت ىا دلآزارى نہىں بلکہ صرف اتنا ہے کہ شاىد اسطرح کسى کا بھلاہو جائے۔بدقسمتى سے ہمارے ہاں معمولى سى وجہ سے شروع ہونے والے اختلافات اسلامى تعلىمات کى آگاہى نہ ہونے ىا ان پر عمل پىرا نہ ہونے کے باعث مقدمات، طلاق اور خلع پرمنتج ہو رہے ہىں۔ عائلى زندگى سے متعلق قرآن وحدىث۔حضرت اقدس مسىح موعود علىہ السلام کى تعلىمات اور خلفاء سلسلہ کے ارشادات سے روگردانى تو ىقىناً سب سے اہم اور بنىادى وجہ ہے۔ مگر تنگئى داماں کے باعث صرف چند دنىاوى حقائق اور وجوہات مثال کے طور پر آپکے سامنے رکھوں گا۔

(CENTRELINK PAYMENTS) سوشل سکىورٹى الاؤنس

بعض گھروں مىں جھگڑوں کا باعث حکومت کى جانب سے ملنے والا سوشل سىکورٹى الاؤنس ہے۔اس معاملے کى ابتداء عموماً تب ہوتى ہے جب خواتىن اپنا اور بچوں کے الاؤنس کوتو خود لىنا اور اپنى مرضى سے خرچ کرنا چاہتى ہىں اور گھر کے تمام اخراجات پورا کرنے کى ذ مہ دارى گھر کے سربراہ پر ڈال دىتى ہىں اس مىں خاص طور پر تلخى اس وقت پىدا ہوتى ہے جب خواتىن Centrelink Payments کو گھرىلو اخراجات کى بجائے ذاتى طور پر خرچ کرتى ہىں۔ اس موضوع پر حضرت خلىفۃ المسىح الرابعؒ کى ہداىت اور ارشاد انتہائى واضح ہے آپ نے فرماىا:
’’حقىقت ىہى ہے کہ عام حالات مىں حکومت کى طرف سے اىک خاندان کو (بىوى بچوں) کاجو سوشل الاؤنس ملتا ہے وہ دراصل اس خاندان کے سربراہ کى اپنى آمدنى ہوگى جسے وہ اپنى مرضى سے خرچ کرتا ہے‘‘

اگر حضور انور کے اس ارشاد پر عمل پىرا ہو کر بىوى مجموعى الاو ئنس مىں سے شوہرکى مرضى اور اجازت سے کچھ خرچ کرے توجھگڑے کى ىہ وجہ ختم ہو سکتى ہے نىز اگر گھر کا سر براہ گھرىلو اخراجات کے لئے سوشل سىکورٹى پر انحصار کرنے کى بجائے باقائدہ ٹىکس ادا کرے تو معمولى آمدنى مىں بھى بىحد برکت ہوتى ہے۔ حکومت سے قول سدىد سے کام نہ لىنے والے گھرانے تقوىٰ اور اسلامى تعلىمات پر کس طرح عمل کر سکتے ہىں۔

بلا کفو شادىاں اور امىگرىشن کے مسائل

زىادہ تر احمدى لڑکوں کا وزٹ وىزہ ىا سٹوڈنٹ وىزہ پر آسٹرىلىا مىں نقل مکانى کا مقصد آسٹرىلوى شہرىت کا حصول ہوتا ہے۔ ان آنے والوں کے ذہن مىں دو ہى راستے ہوتے ہىں کہ ىا تو Protection وىزہ حاصل کىا جائے ىا پھر کسى آسٹرىلىن سٹىزن لڑکى سے شادى کر کے اپنے اس خواب کو عملى جامہ پہناىا جائے۔ اس مقصد کے لئے اس پربىرونِ ملک مقىم والدىن کى طرف سے بھى کافى دباؤ اور امىدىں ہوتى ہىں۔چونکہ پروٹىکشن وىزہ کى درخواست پر فىصلہ آنے مىں کا فى عرصہ بھى لگ سکتا ہے اس لئے جلدبازى ىابے چىنى مىں لڑکا ىا اسکے والدىن بلا سوچے سمجھے بلا کفو رشتہ کر لىتے ہىں مگر جب PR مل جاتا ہے تو ہم کفو نہ ہونے کى وجہ سے باہمى پىار نکتہ چىنى مىں بدل جاتا ہے۔ جو لڑکے شادى کے وقت PR کى خواہش مىں اندھے ہوتے ہىں بعد مىں انکو لڑکى اور اس کے خاندان مىں خرابىاں نظر آنے لگتى ہىں۔ لڑکے کے رشتہ داربھى اس خىال کوہوا دىتے ہىں تاطلاق ىا خلع ہو جائے تو ہمارا کوئى اور رشتہ دار Spouse Visa پر آسٹرىلىا آ جائے۔ اور اىک پہلوىہ بھى ہے کہ جب لڑکا شادى کے بعد Spouse وىزہ پر آسٹرىلىا آ جائے تو باوجود اسکے کہ لڑکا اعلىٰ تعلىم ىافتہ ہوتا ہے اور اپنے ملک مىں اعلىٰ عہدہ پر ہوتا ہے مگر آسٹرىلىا آنے پر اسکو لڑکى کے والدىن کے گھر قىام کرناہوتا ہے۔ اسے معاشرے کى اقداراور طور طرىق اپنانے اور نوکرى کى تلاش کرنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔ بىگم، ساس سسر اور دىگر رشتہ دار بار بار نو کرى کے حصول کے بارے مىں سوال کرتے ہىں تو ان حالات مىں وہ ڈىپرىشن اور ماىوسى کا شکارہو جاتا ہے۔ اور ىوں بىوى اورر سسرال کے مشورے اسے طعنے لگتے ہىں۔ بعض اوقات وہ دوستوں اور رشتہ داروں مىں شکوہ شکاىت بھى شروع کر دىتے ہىں اىسے حالات لڑکے کے خىالات کوباغىانہ بنانے مىں مدد گار ہوتے ہىں اور وہ لڑکى والوں کے روىہ کا بدلہ لىنے کىلئے اپنى PR کا انتظار کرتا ہے اور جونہى اسے PR ملتى ہے تو سسرال سے بدلہ لىنے کا خىال اس کے ذہن مىں آتا ہے۔ نوبت طلاق تک آ جاتى ہے۔ بعض اوقات حالات PR سے قبل ہى اس نہج تک پہنچ جاتے ہىں اور ىا تو لڑکى خلع کى درخواست دائر کر دىتى ہے ىا لڑکا Protection Visa کى درخواست جمع کروا کر طلاق دے دىتا ہے۔

بد قسمتى سے آجکل ہمارے نوجوانوں کى اکثرىت اسلامى اقدار، قرآنى تعلىمات، آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ اور حضرت مسىحِ موعودؑ کے عائلى زندگى سے متعلق ارشادات سے بے بہرہ ہىں اور طلاق اور خلع جىسى قبىح شے کو معمولى خىال کرتے ہىں۔ اگر لڑکى اور اس کے والدىن ذرا سى سمجھدارى کا ثبوت دىں اور لڑکے کو اسکے تعلىمى فىلڈ مىں نوکرى کے حصول تک صبر کرلىں تو مىاں بىوى کى زندگى جنت بن سکتى ہے۔ بالآخر ہر آسٹرىلىا آنے والا معاشرتى اور معاشى لحاظ سے سىٹ ہو ہى جاتا ہے۔بعض گھروں مىں ابتداء مىں جب لڑکا اور لڑکى اکىلے رہ رہے ہوتے ہىں تو ان کا ہر دن عىد اور رات شب برات ہوتى ہے مگر جب لڑکے کے والدىن ىا کوئى بہن بھائى آسٹرىلىا آ کر ان کے ساتھ رہتے ہىں تو لڑکى کو ان کا اپنے ہاں رہنا نا گوار گزرتا ہے ىا لڑکا لڑکى سے اپنے والدىن کى خدمت سے متعلق کچھ زىادہ ہى توقعات رکھتا ہے۔ اىک اور افسوسناک بات ىہ ہے کہ ہمارى بعض عورتىں ان حالات مىں انتہائى منفى کردار ادا کرتى ہىں۔ وہ گھروں مىں فساد پھىلانے کے لئے اىندھن اور ماچس ساتھ لے کر گھومتى ہىں۔ اجلاسات کے بعد ىا نجى دعوتوں مىں بہوىں ساس سسر کے خلاف اور ساسىں بہوؤں کے خلاف بڑھ چڑھ کر پراپىگنڈہ اور غىبت کا بازار گرم کرتى ہىں۔ لڑ کىوں کو ىہ گر سکھاىا جاتا ہے کہ ساس سسر کى خدمت کرنا انکا کھانا وغىرہ پکانا اور بىمارى مىں دىکھ بھال تمہارا فرض ہرگز نہىں ہے۔شرىعت تمہىں علىحدہ گھر کاحق دىتى ہے وغىرہ وغىرہ مگر شرىعت کے وہ احکام نہىں بتائے جاتے جو والدىن کى خدمت کى فضىلت سے متعلق ہوتے ہىں۔خدمتِ خلق اور انسانىت پر دھواں دار تقارىر کرنے والوں کے نز دىک شوہر کے بوڑھے ماں باپ کى خدمت کو جرمِ عظىم سمجھا جاتا ہے۔ بعض صورتوں مىں اس کے بر عکس لڑکى تو اپنے شوہر اور اسکے والدىن کى خدمت مىں کوئى کسر نہىں اٹھا رکھتى مگر ساس سسر کى مىاں بىوى کے معاملات مىں بے جا مداخلت، معمولى معمولى باتوں پر نکتہ چىنى، طعنہ زنى اور حد سے زىادہ نصائح مىاں بىوى مىں جھگڑوں اور دورى کا باعث بنتے ہىں۔ لڑکا اگر بىوى کى طرفدارى کرے تو والدىن ناراض اور اگر والدىن کا خىال کرے تو گھر ٹوٹ جانے کا احتمال۔ اگرلڑکى چند سال صبر کرلے تو باآسانى گھر پر راج کرتى ہے اور شوہر اور اس کے والدىن اس کى دلى محبت اور عزت کرنے لگ جاتے ہىں۔ مگر چونکہ بد قسمتى سے فرىقىن اسلامى اقدار اور تعلىمات پر عمل نہىں کر پاتے اس لئے معاملے کا اىک ممکنہ حل ىہ ہے کہ ساس اور سسر کو بہو اور بىٹے کے ساتھ انکى مرضى کے بغىر اىک گھر مىں نہىں رہنا چاہئے۔

عائلى اختلافات پر تىسر ے فرىق سے رجوع

عا ئلى تنازعات کى اىک وجہ ىہ بھى ہے کہ مىاں بىوى اپنے مسائل اور اختلافات خود باہمى افہام و تفہىم سے حل کرنے کى بجائے تىسرے فرىق تک لے جاتے ہىں۔ ىہ خامى عورتوں مىں زىادہ ہوتى ہے روز مرہ کے معمولى معاملات اور شکاىات کى اطلاع باقائدگى سے والدہ۔ بہن اور سہىلىوں کو پہنچا کر ان کے مشوروں پر عمل کىا جاتا ہے جس سے حالات دن بدن مزىد گھمبىر ہوتے چلے جاتے ہىں۔ تىسرے فرىق کو رشتہ بچانے کے بجائے حقوق کے حصول، ہار جىت اور ذاتى انا کى تسکىن سے دلچسپى ہوتى ہے۔ اکثر نادان دوست حالات کو حکمت سے سلجھانے کى بجائے چسکوں اور سن گن کى عادت کے باعث اختلافات کى آگ کومزىد ہوا دىتے ہىں اور جانے ىا انجانے مىں گھروں کى بربادى کا باعث بنتے ہىں۔ مىاں اور بىوى کو اىک چھت کے نىچے رہ کر اپنے اختلافات حتى الوسع خود مِل بىٹھ کر حل کرنے چاہىں۔ جب تىسرا فرىق ملوث ہوتا ہے تو بعض اوقات وہ لڑکى کو مشورہ دىتا ہے کہ تمہارے بھى حقوق ہىں۔ تمہىں کس چىز کى کمى ہے فوراً گھر چھوڑکر ماں باپ کے پاس چلى آؤ۔ ان کو نہىں معلوم ہوتا کہ لڑکى اگر اىک بار لڑ کر گھر سے قدم باہر نکالتى ہے تواس کے لئے واپسى کے دروازے تقرىباًبند ہو جاتے ہىں ىا پھر دروازہ کھلنے اور بند ہونے کا اىسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو علىحدگى پر ختم ہوتا ہے۔

آنحضرتﷺ نے فرماىا شادى کرنے سے پہلے لڑکى کى عادات سے متعلق معلومات حاصل کر لىا کرو۔ بعض عورتوں مىں اىسى عادات ہوتى ہىں جو بعض مردوں کو برداشت نہىں ہوتىں۔ مگر وہ بچوں کے چھن جانے، جائىداد کى تقسىم اور سولہ سال تک بچوں اور ماں کے اخراجات کى ادائىگى کے خوف سے علىحدہ تو نہىں ہوتے مگر بىوى سے نفرت کے باعث ان کے گھر کا ماحول پر سکون نہىں رہتا۔ ىہ بھى اىک تلخ حقىقت ہے کہ پاکستان مىں مذہبى منافرت اور ظلم کے باعث بہت سے اىسے خاندان ہجرت کرکے آتے ہىں جو نہ تو علم کے زىور سے آراستہ ہوتے ہىں اور نہ ہى عائلى معاملات مىں اسلام کى حسىن تعلىم اور طرز معاشرت سے بہر ہ ور ہوتے ہىں۔ىہاں آکر بھى وہ حصول تعلىم کى بجائے آمدنى کى طرف زىادہ مائل ہوتے ہىں۔ ان کے خاندانى پسِ منظر مىں عورتوں پر ہاتھ اٹھانا اور گالم گلوچ بطور عادت کے شامل ہوتا ہے۔ لڑکىا ں اس طرح کے مظالم سے تنگ آکر جماعت سے مدد طلب کرتى ہىں اور جماعت اصلاح احوال کے لئے کوشش تو کرتى ہے مگر مشکل ىہ ہوتى ہے کہ نہ لڑکى شوہر سے زبان درازى سے باز آتى ہے اور نہ لڑکا اور اس کے والدىن اپنى جاہلانہ عادات کو تبدىل کرتے ہىں اور نوبت پولىس اور عدالت تک پہنچ جاتى ہے۔پھر بد قسمتى سے ملکى قوانىن۔ حقوق نسواں اور فلاحى ادارے عورت کو حقوق کى آڑ مىں پورى قوت سے علىحدگى کا رستہ دکھاتے ہىں۔بلکہ اگر ىہ کہا جائے کہ ملکى ادارے اور قوانىن گھر توڑنے اور بچوں کو باپ سے محروم کرنے کے علمبردار ہىں تو غلط نہىں ہوگا۔

گھرکے ٹو ٹنے کى طرف پہلا قدم
(پولىس کو کال کرنا)

ىہ بات تو درست ہے کہ بىوى پر ہاتھ اٹھانا اور گالم گلوچ کرنا انتہائى شرمناک اور اسلام کے منافى عمل ہے اور اىسا کرنے والے کى شکاىت نظام جماعت سے کرنى چاہئے۔ مگر معمولى تکرار پرنظامِ جماعت کو اصلاحِ احوال کا موقع دىئے بغىر پولىس کو بلوانا اىسا خطرناک تىرہے جو کبھى واپس نہىں ہو سکتا اور اکثر اوقات نتىجہ ہمىشہ کے لئے علىحدگى ہوا کرتا ہے اور ساتھ ہى بچے والدىن کى شفقت اور تربىت سے ہمىشہ کے لئے محروم ہو جاتے ہىں۔ بد قسمتى سے جماعت کے بعض لوگ بھى خواتىن کو پولىس بلوانے کا مشورہ دىتے ہىں۔سونے پر سہاگہ ىہ کہ ملکى قوانىن اورتعلىمى ادارے خواتىن کو اس بات پر اکساتے ہىں کہ اگر شوہر غصہ سے بولے، تمہارى پرائىوىسى مىں مداخلت کرے ىا تمہارى مرضى کے خلاف حقوق زوجىت کا مطالبہ کرے تو تم فوراً پولىس سے رابطہ کرو۔ افسوس کا مقام ىہ ہے کہ جماعت کى بعض مفسد عورتىں بھى دوسرى عورتوں کو ىہ پٹى پڑھاتى ہىں کہ تمہىں شوہر سے دبنے کى کىا ضرورت ہے تم اس کے پىسوں کى محتاج نہىں ہو۔ تمہارى اور تمہارے بچوں کى خوراک رہائش تعلىم اور علاج کى ذمہ دار تو حکومت ہے۔ تمہارى پولىس کو اىک کال تمہارے شوہر کو اىسا سبق سکھائے گى کہ سارى زندگى ىاد رکھے گا۔ پولىس کو صرف اىک بار بلوا کر تم اپنے شوہر پر Domestic Violance اور Common Assaul کے الزام لگا کر کرىمىنل رىکارڈ بنوا سکتى ہو۔ جب معاملات اصلاح احوال کے لئے عدالت اور پولىس کى سطح پر چلے جاتے ہىں تو نظامِ جماعت بھى ملکى قوانىن کے باعث مدد کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ عورت کے لئے نتائج اُس سبز باغ سے با لکل مختلف ہوتے ہىں جو اس کو مفسد لوگ دکھاتے ہىں۔ گورنمنٹ صرف چند روز Shelter House مىں رکھ کر ىہ کہہ کر نکال دىتى ہے کہ اب اپنا رہائش اور کھانے پىنے کا خود انتظام کرو۔ Centrelink سے اتنا معمولى لاؤنس ملتا ہے جس سے گذارہ مشکل ہو جاتاہے جبکہ مىاں کےساتھ پرآسائش گھر، گاڑى، شاپنگ، مىک اپ اور پارٹىوں مىں دن گذرتے تھے۔اب کسى اىک کمرے کى رہائش مىں کچن اور باتھ روم غىر از جماعت لوگوں کے ساتھ شىئر کرنا پڑتا ہے۔ وکلاء اور عدالتوں کى فىسىں نا قابلِ برداشت ہوتى ہىں۔ علاج اور خرىدارى کے لئے بسوں کے دھکے کھانے پڑتے ہىں۔ شوہر کے دل اور نظروں سے ہمىشہ کے لئے گر جاتى ہے۔ احساسِ محرومى، ڈىپرىشن اور نفسىاتى امراض زندگى کا حصہ بن جاتے ہىں۔ شوہر کى زندگى برباد کرنے کے چکر مىں پولىس اور وکلاء کے کہنے پر نتائج سے بے پرواہ ہو کر اپنے ہى شوہر پر Criminal Charges کے علاوہ زنا جىسا گھناؤنا الزام لگاىا جاتا ہے جو بعد مىں عورت کے اخراج از نظام جماعت کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر صرف چند سال صبر سے گذارےہوتے تو سارى زندگى گھر پر راج کر سکتى تھى۔

اگرچہ بعض لوگوں کو ہمارا ىہ تجزىہ بہت نا گوار گذرے گا مگر ىہ وہ تلخ حقىقتىں ہىں جن کا آئے روز عائلى تنازعوں مىں مشاہدہ کىا جا سکتا ہے۔

بلا ضرورت نوکرى ىا پڑھائى کا شوق

بعض اوقات گھروں مىں جھگڑوں کا باعث عورتوں کا بلا ضرورت نوکرى کرنے کى ضد ہوتى ہے۔محض اپنى مرضى سے فضول خرچى کے شوق مىں گھر کى دىکھ بھال، بچوں کى پرورش و تربىت اور بزرگوں کى خدمت سے روگردانى کى جاتى ہے جس کے باعث گھر مىں شوہر سے جھگڑوں اور ناراضگى کا آغاز ہوتا ہے اور شىطان جس کو مىاں بىوى کے جھگڑے سے سب سے زىادہ خوشى ہوتى ہے عورت کے دل مىں مظلومىت کا وسوسہ ڈالتا ہے اور اس مظلومىت کا اظہار ساتھ کام کرنے والے حضرات سے ہوتا ہے تو دکھ درد مىں شرىک اور محض اچھے دوست بننے کے دعوىداراس کا گھر برباد کروا دىتے ہىں۔ اىک مرتبہ حضور انور حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىد اللہ تعالىٰ بنصرِہ العز ىز سے واقفاتِ نوکى ملاقات کے دوران سوال کىا گىاکہ جو عورتىں کام کرنا چاہىں ىا پڑھائى کرنا چاہىں اور ان کے بچے بھى ہىں انکو کىا کرنا چاہئے؟ اس سوال کے جواب مىں حضور انور اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرِہ العزىز نے فرماىا ‘‘پہلى ذمہ دارى تو بچوں کى پرورش کى ہے اور اگر بھوکى مر رہى ہىں توکام کرلو۔ وقت سے کام پر جاؤ اور سىدھى واپس آؤ اور بچوں کو پالو۔ اتنى ہمت ہونى چاہئے۔ اگر صرف پىسہ کمانے کے لئے کام کر رہى ہو کہ فىشن کرنا ہے تو کام چھوڑ دو۔ اگر کسى پروفىشن مىں ہو مثلاً مىڈىکل ڈاکٹر ہو تو پھر انسانىت کى خدمت ہے ٹھىک ہے۔پھر اس کے لئے اپنے آپ کو اىڈجسٹ کرو کہ بچوں کو وقت دے سکو۔ تو بہر حال عورت کا اصل کام ىہ ہے کہ پڑھ لکھ کر بچوں کى صحىح تربىت کرے۔ جو اپنا علم ہے اس سے بچوں کو بھى فائدہ پہنچائے۔ باقى اگر مجبورى ہے تو اور بات ہے پھر بھى زىادہ سے زىادہ وقت اپنے بچوں کو دو۔‘‘

 طبّى وجوہات

بعض اوقات خواتىن کوعمر کے اىک خاص حصہ مىں بعض جسمانى اور نفسىا تى مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مرد اور عورت دونوں پر بعض نفسىاتى ادوىات کے ترک کرنے پر مزاج مىں منفى اثرات مرتب ہوتے ہىں۔ بد قسمتى سے اکثر گھرانوں مىں ان طبى وجوہات سے لا علمى گھرىلو اختلاف کو جنم دىتى ہے۔ اگر اس بارے مىں آگاہى ہو تو اس طرح کے لڑائى جھگڑوں سے بچا جا سکتا ہے۔ آسٹرىلىا مىں ڈاکٹر ہر دوسرے شخص کو ڈىپرىشن اور Anxiety کا مرىض قرار دے کر ادوىات تجوىز کردىتے ہىں۔ اپنى ادوىات کى فروخت بڑھانے کے لئے بڑى بڑى کمپنىاں اىسى دواؤں کا استعمال لازمى قرار دىتى ہىں حالانکہ ان کا استعمال نشہ کى حدتک مرىض کى کمزورى بن سکتاہے اور جونہى مرىض اس کا استعمال بند کرتا ہے اس کے مزاج مىں غصہ، جھنجلاہٹ، بىزارى اور لڑائى جھگڑے کا رجحان خطر ناک حد تک بڑھ جاتا ہے مگر ان اثرات سے لاعلمى مىاں بىوى کے درمىان ناراضگى اور نفرت کا باعث بنتا ہے۔ اول تو اىسى دواؤں کے استعمال سے حتى الوسع اجتناب ہى کر نا چاہئے بصورت دىگر مرىض اور اس کے گھر والوں کى ان دواؤں کے استعمال اور ترک استعمال کے اثرات سے واقفىت ضرورى ہے۔ اسى طرح خواتىن مىں عمر کے بعض حصوں مىں اور بعض حالات کے باعث ہارمونز کا عدم توازن انکے غصہ اور بىجا افسردگى مىں اضافہ کر دىتا ہے۔ شوہر اور اس کے گھر والوں کو اس کىفىت کو سمجھنا چاہئے اور خواتىن کے ساتھ اىسے مىں زىادہ حسن سلوک کا روىہ اختىار کرنا چاہئے چہ جائىکہ اس کىفىت کے جواب مىں لڑائى جھگڑے مىں اضافہ کرکے جلتى پر تىل کا کام کىا جائے۔ مثلاَ عورتوں مىں اىسى طبى وجوہات ہىں جن مىں

Polycystic Syndrome
Anxiety
Severe Postnatal Depression
Harmonal Imbalance

 وغىرہ عام ہىں۔ ان حالات کو سمجھتے ہوئے فہم و فراست، حکمتِ عملى اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہئے کىونکہ اىسے امراض مىں خواتىن کا طرز عمل جان بوجھ کر نہىں ہوتا وہ بے قصور ہوتى ہىں۔ عموماً ادوىات بنانے والى کمپنىاں بطور مافىا اپنا کاروبار چمکاتى ہىں۔

شعبہء تربىت کا فعال نہ ہونا

عائلى تنازعات مىں اضافہ کى اىک بڑى وجہ جماعت آسڑىلىا مىں گذشتہ تقرىباً چھ سال سے ملکى اور مقامى سطح پر اصلاحى کمىٹىوں کا فعال نہ ہونا ہے۔ حضور انور اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز نے مجلس انصار اللہ آسڑىلىا کى نىشنل عاملہ سے ملاقات کے دوران اس طرف خصوصى توجہ دىنے پر زور دىا تھا۔ ہم جب تک مسائل کى وجوہات اور انکے حل پر غور ہى نہىں کرىں گے تو ان مىں کمى کس طرح آئىگى اور اصلاح کىونکر ممکن ہوسکے گى۔ اگر اصلاحى کمىٹى قائم ہو اور قوائد کے مطابق اسکے باقائدہ اجلاسات منعقد ہوں تو کمىٹى کے فرائض مىں عائلى تنازعات کا حل اور انکا سد باب شامل ہے۔ جو باہمى رضا مندى سے مصالحت ىا ثالثى اور فرىقىن کو اسلام احمدىت کى تعلىمات کى روشنى مىں نصائح کے ذرىعہ حاصل کىا جاتا ہے۔ قوائد اور ضوابط تحرىک جدىد صدر انجمن احمدىہ کے قائدہ 340 تا 345 مىں اصلاحى کمىٹى کے فرائض اور طرىقہ کار کى تفصىل موجود ہے۔

طلاق ىا خاوند کى وفات پر جائىداد کى تقسىم

بعض لوگ جنکے دل مىں دنىاوى لالچ کے باعث مرض ہوتا ہے۔ وہ جائىداد کى تقسىم کے معاملے مىں جماعت کے پاس فىصلہ کرانے کىلئے آنے سے احتراز اسى وجہ سے کرتے ہىں کہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ اگر اسلامى قانون وراثت کے مطابق فىصلہ ہوگا تو ان کا نقصان ہوگا۔ مثال کے طور پر علىحدگى ىا شوہر کى وفات کى صورت مىں ملکى قوانىن کے مطابق زىادہ تر عورت کو جائىداد مىں سے نصف حصہ مل جاتا ہے اور دىگر ورثاء اپنے حقوق سے محروم ہوجاتے ہىں اسلئے عورتىں جائىداد کى تقسىم مىں ملکى عدالت اور رائج قوانىن کا سہارالىتى ہىں۔ اگر وہ اسلامى قوانىن کے مطابق اپنے حقوق لىں تو انکے لئے دنىا و آخرت کى بھلائى ہے وگرنہ وہ اللہ کے قانون کے مخالف چلنے والى ہىں۔ مومن اور مسلم مردوں اور عورتوں کو چاہىے کہ وہ اىسے مواقع پر اسلامى قوانىن وراثت کے مطابق ورثہ تقسىم کرکے خدا اور اسکے رسول ؐ کى خوشنودى حاصل کرىں جس پر عمل کر کے بہت مسائل اور نفرتوں سے بچا جا سکتا ہے۔ حضرت خلىفۃ المسىح الرابع ؒ تعالىٰ نے اپنے درس رمضان مىں سورۃ النساء کى آىا ت21 تا 51 مىں اسکى وضاحت مىں تفصىلى روشنى ذالى ہے۔

مىں نے انتہائى خلوص اور غىر جانبدارى سے عائلى تنازعات کى وجوہات کا مختصر موازنہ اپنى سمجھ اور تجربہ کى بنىاد پرکىا ہے اور ان کا حتى الوسع مناسب حل بھى بىان کر دىا ہے۔ اپنے اس مضمون کے آخر مىں حضرت سىدہ نصرت جہاں بىگم صاحبہ (حضرت امّاں جانؓ) کى چند نصائح پىش کرتا ہوں، اگر صرف اور صرف ان پر ہى عمل کر لىا جائے تو مذکورہ بالا تمام مسائل سے انتہائى آسانى سے اور احسن طرىق سے بچا جا سکتا ہے۔ حضرت اماں جان ؓفرماىا کرتى تھىں کہ ’’پہلے بىوى لونڈى بنے پھر مىاں غلام بنتا ہے‘‘۔ صاحبزادى فوزىہ شمىم صاحبہ نے جب حضرت نواب مبارک بىگم صاحبہ ؓ سے اس کى وضاحت چاہى تو آپ نے فرماىا:
’’اس کے معنىٰ ہىں در اصل نہ بىوى ہاتھ جوڑے مىاں کى کنىز اور لونڈى بنتى ہے اور نہ مىاں ہاتھ باندھے غلام بنتا ہے۔ بات صرف دونوں کى ہم آہنگى کى ہے جس مىں پہلا قدم بىوى کى طرف سے اٹھتا ہے۔‘‘

حضرت اماّں جانؓ نے اپنى صاحبزادى حضرت سىدہ نواب مبارک بىگم صاحبہ ؓ کو انکى شادى کے وقت درج ذىل زرّ ىں نصائح فرمائىں:
اپنے شوہر سے پوشىدہ ىا وہ کام جس کو ان سے چھپانے کى ضرورت سمجھو ہرگز نہ کرنا۔ شوہر نہ دىکھے مگر خدا دىکھتا ہے اور بات آخر ظاہر ہو کر عورت کى وقعت کو کھو دىتى ہے۔

 اگر کوئى کام انکى مرضى کے خلاف سرزدہو جائے تو ہرگز کبھى نہ چھپانا۔ صاف کہہ دىنا کىونکہ اسى مىں عزت ہے اور چھپانے مىں آخر کار بے عزتى اوربے وقعتى کا سامنا ہے۔

 کبھى انکے غصہ کے وقت نہ بولنا۔ تم پر ىا کسى نوکر ىا بچہ پر خفا ہوں اور تم کو معلوم ہو کہ وہ اس وقت حق پر نہىں ہىں جب بھى اس وقت نہ بولنا غصہ تھم جانے پر پھر آہستگى سے حق بات اور ان کا غلطى پر ہونا ان کو سمجھا دىنا۔ غصہ مىں مرد سے بحث کرنے والى عورت کى عزت باقى نہىں رہتى۔ اگر غصہ مىں کچھ سخت کہہ دىں تو کتنى ہتک کا موجب ہو گا۔

 انکے عزىزوں۔ عزىزوں کى اولاد کو اپنا جاننا۔ کسى کى برائى تم نہ سوچنا خواہ تم سے کوئى برائى کرے۔ تم دل مىں بھى سب کا بھلا ہى چاہنا اور عمل سے بھى بدى کا بدلہ بدى نہ کرنا دىکھنا پھر ہمىشہ خدا تمہارا بھلا کرے گا۔

 مىکے کى بات سسرال اور سسرال کى باتىں مىکے مىں نہ کرنا۔ تمہارے دل سے تو وہ بات مٹ جائے گى لىکن بڑوں کے دلوں مىں گرہ پڑ جائے گى۔

اسى طرح حضرت نواب مبارکہ بىگم صاحبہؓ لڑکىوں کو شادى سے قبل نصىحت فرماتىں:
بچىوں کو بچپن سے ہى دعا کرنى چاہئے کہ اللہ مىاں مىرا نصىب اچھا کر دے۔

مىاں بىوى کے رشتہ مىں جھوٹى انا نہىں ہونى چائے۔ اگر اپنى غلطى ہے تو بىوى مىاں کو منا لے اس مىں کوئى بے عزتى نہىں ہے۔

 لڑ کر کبھى گھر سے جانے کى دھمکى نہ دو۔ اگر مرد غصہ مىں آ کر کہ دے ’’اچھا چلى جاؤ‘‘ تو کتنى بے عزتى ہے اور مىکے مىں جا کر بىٹھنا تو اس وقت ہى ہے جب خدا نخواستہ واقعى نہ جانا ہو۔ ورنہ اىسى بات قدر کى بجائے بے عزتى کرواتى ہے۔

حضرت مسىح موعود علىہ السلام نے فرماىا:
’’جب لڑکى بىاہى جاتى ہے تو اس کے ہاتھ مىں دو چابىاں ہوتى ہىں۔ اىک صلح کے دروازے کى اور اىک لڑائى کے دروازے کى وہ جس دروازے کو چاہے کھول سکتى ہے۔خوش نصىب ہىں وہ عورتىں جنہوں نے صلح کا دروازہ کھولا‘‘۔

خاکسار اس ىقىن پر قائم ہے کہ اگر صرف اور صرف مندرجہ بالا نصائح پر ہى عمل کر لىا جائے تو عائلى تنازعات مىں غىر معمولى کمى آ سکتى ہے۔ اللہ کرے کہ ہر احمدى گھرانہ سکون اور خوشحالى کا گہوارہ بن جائے۔ (آمىن)

(محمد امجد خان۔نمائندہ روزنامہ الفضل آسٹریلیا)

پچھلا پڑھیں

مضمون نگاروں سے اىک ضرورى درخواست

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 نومبر 2021