• 26 جنوری, 2021

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں (قسط 15)

15۔ چرچوں کے ساتھ مختلف پروگرام
جس طرح پاکستان میں ایک فرقہ کے لوگ دوسرے فرقہ کی مساجد میں نہیں جاتے، نماز نہیں پڑھتے وغیرہ کی ذہنیت رکھتے ہیں یہی حال یہاں پر ہے کہ ایک فرقہ کے عیسائی دوسروں کی عبادت گاہوں میں نہیں جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو یہ توفیق دی کہ ہر ایک جگہ جا کر ان کی عبادت گاہوں کو دیکھا جائے اور یہ کس طرح عبادت کرتے ہیں۔ چنانچہ سب نے مل کر پروگرام بنایا کہ ہر ایک پادری اور اپنے فرقہ کے عالم 20-25 افراد کو لے کر دوسروں کی عبادت گاہوں میں جائیں۔ اس طرح 20 اکتوبر سے یہ پروگرام شروع ہوا۔ خاکسار چند دوستوں کے ہمراہ Presbyterian Church گیا۔ وہاں پر مزید 4 پادری بھی اپنے اپنے لوگوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ خاکسار نے بھی تقریر کی۔ خاکسار نے اپنی تقریر میں انسانیت کے ساتھ پیار اور انسانیت کا احترام کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ حاضری 80 کے قریب تھی۔ اسی طرح 20 اکتوبر کو شام کو ایک اور چرچ میں جانے کا موقع ملا۔

25 اکتوبر کو تمام چرچ والے پادری صاحبان اپنے اپنے لوگوں کو لے کر مسجد بیت الرحمن میں آئے۔ یہ دن ان کے لئے مشکل تھا۔ کیونکہ جمعہ کا دن اور جمعہ کا وقت تھا۔ لوگ کاموں پر ہوتے ہیں۔ تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے 45 سے 50 تک کی حاضری رہی۔ انہوں نے پورا وقت بیٹھ کر خطبہ سنا۔ خاکسار نے اسلام میں عبادت کا مفہوم، عبادت کا طریق اور عبادت کا فلسفہ سمجھایا۔ انہوں نے نماز بھی دیکھی۔ نماز جمعہ کے بعد پھر ان کے ساتھ سوال و جواب بھی ہوئے۔ جس میں مسیح کی آمد ثانی کے بارے میں جماعت احمدیہ کا نظریہ، جہاد، عورت کا مقام، نماز کا طریق، مسجد کے بارے میں مختلف سوالات تھے۔

اگرچہ پروگرام 2 ½ بجے ختم ہونا تھاخداتعالیٰ کے فضل سے اتنا دلچسپ تھا کہ 3 ½ بجے ختم ہوا۔ الحمد للہ۔ لوگ جماعت کے تعارف پر مشتمل لٹریچر بھی ساتھ لے کر گئے۔

اس کے بعد جمعہ کی شام 25 اکتوبر کو ہی ایک یہودیوں کی عبادت گاہ میں ہم گئے جبکہ دوسرے پادری صاحبان اپنے اپنے لوگوں کو لے کر پہنچے ہوئے تھے۔

قریباً 1 ½ گھنٹہ کی ان کی یہ سروس تھی۔ اس کے بعد سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ خاکسار نے ان کے ربائی سے چند سوالات کئے مثلاًآپ نے جتنی دعائیں تورات سے کی ہیں اس میں اسرائیل کا خدا اور صرف اسرائیل کا خدا کا ذکر تھا۔ ہمارا خدا کہاں ہے ؟ ہم تو اسرائیلی نہیں ہیں۔ یا افریقہ کےلوگوں کا خدا کہاں ہے؟ وغیرہ۔ اس ربائی نے کہا میرے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔

میں نے پوچھا آپ تبلیغ کرتے ہیں؟ کہنے لگا نہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر آپ کا مذہب سب کے لئے نہیں ہے۔ جس طرح خد اسب کے لئے نہیں ہے صرف اسرائیل کا ہے۔ اسی طرح آپ کا مذہب بھی سب کے لئے نہیں ہے۔

26 اور 27 اکتوبر کو بھی ہم اس طرح مختلف 4 چرچوں میں گئے اور ہر جگہ سوال و جواب کا موقع ملتا رہا اور جماعت احمدیہ یعنی حقیقی اسلام کا تعارف کا موقع ملا۔

27 اکتوبر کو شام کو ایک چرچ میں تاثرات بیان کرنے تھے کہ جو لوگ مختلف عبادت گاہوں میں گئے ہیں ان کے کیا تاثرات ہیں۔ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگوں نے جمعہ کےد ن کی مسجد بیت الرحمان میں عبادت کی اور پروگرام کی زیادہ تعریف کی۔ مثلاً

1۔ مسجد صاف ستھری تھی۔ 2۔ عبادت کے دوران خاموشی تھی۔ جس سے عبادت کرنے کا لطف آتا۔

3۔ دوستانہ ماحول رہا۔ 4۔ سوال و جواب زیادہ دلچسپ تھے۔ 5۔ ضیافت بہت اچھی تھی وغیرہ۔

16۔ کونٹی ایگزیکٹو کے آفس سے فون آیا کہ آج شام ایک چرچ میں Interfaith Prayer ہو رہی ہے اور پریس کانفرنس ہو رہی ہے۔ آپ بھی آئیں۔ خاکسار شام کو اس چرچ میں گیا۔ وہاں پر کونٹی کی اہم شخصیات سے ملاقات ہوئی۔ یہ پریس کانفرنس عالمی نوعیت کی تھی۔ اگرچہ لوکل اور نیشنل ٹی وی پر خبریں آئیں۔ مگر بی بی سی اور CNN کے نمائندگان بھی تھے۔ اس موقعہ پر بہت سے لوگوں کے ساتھ تعارف کا موقع ملا۔ یہ خبر ساری جگہ نیشنل ٹی وی پر شام کو لائیو آئیں۔ الحمد للہ

17۔ اخبارات میں انٹرویو۔ علاقہ کے تین لوکل اخبارات

The Gazette
Montgomery Journal
The Leader

میں ہمارے انٹرویو اور پروگراموں کے بارے میں اعلانات شائع ہوئے۔

18۔ کولمبیا یونین کالج کے ایک پروفیسر اپنے 11 طلباء لے کر مسجد بیت الرحمان میں آیا۔ نماز عشاء سے قبل 6:45 پر وہ تشریف لائے۔ نماز عشاء کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ جو خداتعالیٰ کے فضل سے 9بجے تک جاری رہا۔ بہت اچھا تاثر لے کر گئے۔ الحمد للہ۔ لٹریچر بھی لیا۔

19۔ یونین کولمبیا کالج کا ایک اور دوسرے پروفیسر بھی اپنے 16 طلباء کو لے کر مسجد بیت الرحمان میں 7 بجے تشریف لائے اور 8:45 تک رہے۔ اُن کے ساتھ بھی اچھا اور دلچسپ پروگرام رہا۔ لٹریچر بھی لے کر گئے۔

20۔ ایک امریکن ہماری ایک Interfaith میٹنگ میں آئے تھے۔ وہ میری لینڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ انہوں نے پھر یونیورسٹی میں خاکسار کو ’’اسلام کے تعارف‘‘ پر تقریر کرنے کی دعوت دی۔ چنانچہ خاکسار 3 احمدی دوستوں کو ساتھ لے کر گیا۔

90 سے زائد طلباء کو ایک گھنٹہ تک تقریر کے ذریعہ اسلام کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد 1 ½ گھنٹہ تک سوال و جواب ہوئے۔ سوال و جواب اتنے دلچسپ رہے کہ پروگرام ختم ہونے کے بعد بھی 12 افراد پر مشتمل ایک گروپ کےساتھ پون گھنٹہ مزید گفتگو اور سوال و جواب ہوتے رہے۔ ہم اس موقعہ کے لئے مختلف قسم کا لٹریچر لے کر گئے تھے۔

1۔ Understanding Islam
2۔Jihad and Peace
3۔ Why Islam
4۔What is Ahmadiyyat
5۔ریویو آف ریلجنز کی کاپیاں
6۔ جلسہ سالانہ کے سوینئرز
7۔مسجد کا بروشر
8۔Islam’ Response to Contemporary Issues

تمام پروفیسروں کو اہم اہم لٹریچر دیا گیا۔ طلباء نے بھی اپنی اپنی پسند کا لٹریچر از خود لیا۔

اس یونیورسٹی کا ایک اپنا ٹی وی چینل بھی ہے۔ اس کے لئے انہوں نے ہمارا سارا پروگرام ریکارڈ کیا اور براڈکاسٹ کیا۔

21۔ جلسہ پیشوایان مذاہب۔ 3 نومبر کو مسجد بیت الرحمان میں جلسہ پیشوایان مذاہب کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے لئے خاکسار نے مکرم صدر جماعت میری لینڈ اور مکرم جنرل سیکرٹری صاحب میری لینڈ اور مکرم سیکرٹری صاحب تبلیغ کے ساتھ مل کر پروگرام بنایا۔ قریباً علاقہ کے تمام چرچوں سے رابطہ کیا گیا۔ خطوط لکھے گئے اور اخباروں میں Ad دیا گیا۔ خداتعالیٰ کے فضل سے یہ پروگرام بہت کامیاب رہا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 225 سے زائد غیرمسلم شامل ہوئے۔ صرف ایک چرچ کے پادری 120 لوگ لے کر آئے تھے۔ باقی پادری صاحبان اور یہودی ربائی، سکھ نمائندے بھی اپنے اپنے لوگوں کے ساتھ تشریف لائے۔ اس پروگرام میں جو عیسائی پادریوں نے ایک ربائی، ایک بدھ مت، ایک سکھ نے تقریر کی۔ مسلمانوں کی نمائندگی میں خاکسار نے تقریر کی۔ اس موقعہ پر عنوان یہ تھا کہ ’’ہمسایوں کے حقوق‘‘

Duties towards neighbour according to my faith

خاکسار نے اپنی تقریر میں بعض سوالوں کو مدنظر رکھ کر بھی جواب دیئے کہ قرآن کریم کی تعلیمات بائبل سے نہیں لی گئیں اور پھولوں کی مثال دیتے ہوئے بیان کیا کہ ہر اچھی تعلیم جو دوسرے مذاہب میں ہے قرآن کریم اس کو بھی بیان کر دیتا ہے۔ لوگوں نے اس مثال کو بہت پسند کیا۔ خاکسار نے قرآن کریم اور حدیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمسائیگی کے حقوق کے بارے میں وضاحت سے تعلیم بیان کی۔ الحمد للہ
انفرادی طور پر پادریوں نے اور دیگر لوگوں نے بھی اس میٹنگ کی کامیابی پر ہمیں مبارکباد اور شکریہ کے خطوط بھی لکھے۔

22۔ ایک پاکستانی خاتون شاہدہ سلیمان صاحبہ بھی تشریف لائیں۔ یہ ایک احمدی ڈاکٹر کی کلاس فیلو رہی ہیں۔ اس وقت بالٹی مور کے علاقہ میں تھیں ان کے خاوند یونائیٹڈ نیشن میں کام کرتے ہیں۔ احمدیت سے متعلق لٹریچر لے کر گئیں۔

23۔ 2 امریکن مسجد تشریف لائے۔ آدھا گھنٹہ اسلام کے بارے میں مختلف سوالات کرتے رہے۔ لٹریچر بھی لے کر گئے۔

24۔رمضان المبارک میں وائس آف امریکہ کی ایک نمائندہ رپورٹر وقت لے کر تشریف لائیں۔ 5 بجے سے 8:15 تک رہیں۔ نمازوں میں، درس میں شمولیت کی۔ مختلف احباب کا انٹرویو بھی لیا۔ جس میں صدر جماعت میری لینڈ، چوہدری امجد صاحب، برادر پیر احمد صاحب اور خاکسار شامل تھے۔

ان کا یہ پروگرام دنیا کی مختلف 54 زبانوں میں ترجمے کے ساتھ نشر کیا گیا اور نمائندہ رپورٹر Ms Mausa Farreg کے مطابق ان پروگراموں کو 90 ملین لوگ سنتے ہیں۔ الحمد للہ کہ اس طرح اتنی بھاری تعداد میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔

اس رپورٹر سے رابطہ رکھا جارہا ہے تاکہ مستقبل میں بھی ان سے کام لیا جا سکے۔ زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وائس آف امریکہ کے نمائندہ کو ہمارا پتہ چرچ کے ایک عیسائی نے دیا۔ یہ عیسائی ہماری میٹنگ جلسہ پیشوایان مذاہب میں شامل ہوا تھا۔ وائس آف امریکہ کے نمائندہ ان کو جانتے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ رمضان کے بارے میں ہم نے ایک پروگرام کرنا ہے تو مسلمانوں کے نمائندہ اور ان کی کمیونٹی سے رابطہ کرنا ہے تو اس عیسائی نے فوراً ہمارا نام بتا دیا اور انہوں نے ہم سے رابطہ کیا اور پھر خداتعالیٰ کے فضل سے اس طرح سامان پیدا ہو گیا۔ الحمد للہ

25۔ مسلم کمیونٹی سینٹر کے صدر مسٹر صابر رحمان نے بھی بالٹی مور یونیورسٹی میں اسلام کے بارے میں تقریر کی تھی۔ خاکسار بھی موجود تھا۔ انہوں نے قرآن کریم کے بارے میں بڑا غلط تصور پیش کیا۔ خاکسار نے لوگوں کو اس بارے میں وضاحت کی۔ خاکسار نے پھر 4 صفحات پر مشتمل مسٹر صابر رحمان کو خط لکھا اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کی اور پھر حضرت مسیح موعودؑ کی کتب سے بعض حوالہ جات جن میں قرآن کریم کی عظمت بیان کی گئی تھی وہ انہیں بھجوائے۔ مزید احمدیہ لٹریچر بھی ارسال کیا گیا۔

26۔ ایک مقامی اخبار ’’دی گزٹ‘‘ کی نمائندہ نے بھی فون پر انٹرویو اور اس کے فوٹو گرافر نے آکر مسجد میں نمازیوں کی تصاویر لی اور شائع کی۔

27۔ اپنے علاقہ کے 5 کلرجی کے ساتھ میٹنگ کی۔ یہ میٹنگ ایک گھنٹہ تک رہی اس دفعہ موضوع تھا ’’مختلف مذاہب میں عبادت کا نقطہ نظر۔‘‘

28۔ اسی طرح ہمارے علاقہ کے ایک پادری نے Aspin Hill کے 4 پادریوں کو مسجد دکھائی اور پھر خاکسار کے ساتھ ان کی ایک میٹنگ ایک گھنٹہ تک ہوئی۔

چرچ میں آذان اور تلاوتِ قرآن کریم

29۔ گزشتہ سال منٹگمری کونٹی کے ناظم اعلیٰ نے مسجد بیت الرحمان میں ساتویں سالانہ دعائیہ تقریب کا انتظام کر دیا تھا۔ اس مرتبہ یہ تقریب ایک چرچ میں منعقد ہوئی۔ خاکسار کو اس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا تھا اور پروگرام میں بھی 2 جگہ خاکسار کا نام درج تھا۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ آپ نے Call for Worship کرنی ہے۔ میں نے بتایا کہ ہم تو مسجد میں 5وقت عبادت سے پہلے جو Call کرتے ہیں وہ آذان کہلاتی ہے۔ اگر آپ پسند کریں تو ہم آذان دیں گے اور پھر اس کا انگریزی میں ترجمہ پیش کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔

چنانچہ خاکسار اپنے ساتھ مکرم نسیم عارف صاحب کو لے کر گیا۔ یہ اچھی طرح خوش الحانی سے آذان دیتے ہیں۔ جب مجھے بلایا گیا تو نسیم عارف صاحب نے آذان دی اور خاکسار نے بعد میں انگریزی ترجمہ پیش کیا۔

اس کے بعد مختلف مذاہب کے لوگوں نے اپنے اپنے رنگ میں دعائیں کیں۔ دوبارہ جب خاکسار ڈائس پر گیا تو سورہ فاتحہ اور دیگر دعاؤں کے علاوہ عدل و انصاف کے بارے میں جو قرآنی آیات تھیں ان کی 4 منٹ تک تلاوت کی اور ترجمہ پیش کیا۔

بعد میں ایک پادری نے کہا کہ آذان کا ترجمہ مجھے دے دیں کیونکہ یہ تو بہت ہی اچھا ہے اور عالمگیر پیغام لگتا ہے میں اس کو اپنے بلٹن بورڈ پر لگواؤں گا۔

اس دعائیہ تقریب کے موقع پر لوکل حکومتی سطح کے نمائندے، مختلف مذاہب کے نمائندے، سکول کے طلباء موجود تھے۔ جن سے بعد میں تعارف ہوا اور تمام اہم شخصیات کو مسجد کا بروشر اور دیگر لٹریچر بھی دیا۔ یہاں ہر کونسل ممبر کے نئے منتخب شدہ صدر سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بھی مسجد آنے کا وعدہ کیا۔ الحمد للہ یہ ایک تاریخی بات تھی کہ چرچ میں آذان اور قرآن کریم کی تلاوت کی توفیق ملی۔ جو سب نے پسند کی۔ الحمد للہ

30۔ نومنتخب شدہ لیفٹیننٹ گورنر آف میری لینڈ کے اعزاز میں بالٹی مور میں ایک عشائیہ تھا۔ جس میں خاکسار کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ خاکسار اپنے ساتھ مکرم چوہدری امجد صاحب کو بھی ساتھ لے کر گیا۔ اس موقعہ پر بھی حکومتی سطح کی چند اہم شخصیات تھیں جن کےساتھ تعارف کا موقع ملا اور ان سب کو مسجد بیت الرحمن کا بروشر بھی دیا گیا۔

جب پروگرام شروع ہوا تو معززین کا تعارف بھی کرایا گیا۔ چنانچہ اس طرح جماعت احمدیہ کا بھی خداتعالیٰ کے فضل سے تعارف ہوا۔ الحمد للہ

31۔ ایک ایسٹ افریقن خاتون مسجد تشریف لائیں۔ ان کےساتھ تعارف اور ان کو سواحیلی زبان مین لٹریچر پیش کیا گیا اور خصوصاً نماز کے بارے میں بتایا گیا کہ ہم خداتعالیٰ کی کس طرح عبادت کرتے ہیں۔

دعوت الی اللہ اور رابطوں کے پھل

یہ جو دعوت الی اللہ ہو رہی ہے اور رابطے بڑھ رہے ہیں ان کے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھے نتائج نکل رہے ہیں۔ مثلاً

1۔ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے بارے میں رائے عامہ بہتر ہو رہی ہے۔

2۔ چرچ کے پادری اپنے چرچوں میں آنحضرت ﷺ کا نام عزت اور احترام کے ساتھ لیتے ہیں۔ نیز کہتے ہیں کہ جس طرح دیگر انبیاء پر الہام نازل ہوا اسی طرح بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا۔ اپنے چرچ میں دیگر عیسائیوں کے سامنے پادری صاحب کا یہ اعتراف بہت بڑی بات ہے۔

3۔ کونٹی کی سطح اور سٹیٹ آف میری لینڈ کی سطح پر حکومتی افسران کے ساتھ اور ان کے دفاتر میں رابطے بڑھے ہیں اور مضبوط ہوئے ہیں۔

4۔ پریس کے ساتھ رابطہ مضبوط ہوا ہے۔ کونٹی، لوکل، نیشنل سطح کے اخبارات میں ہماری بھی اب خبریں آنی شروع ہوئی ہیں۔ اب ٹی وی پر اور ریڈیو کے ساتھ رابطہ بڑھایا جارہا ہے۔

5۔کونٹی کی طرف سے جب پریس کانفرنس ہوتی ہے تو اسلام کی نمائندگی میں ہمیں بلاتے ہیں۔ کونٹی کا ایک اور ٹی وی چینل ہے جس پر اب تک ہمارے مختلف پروگرام جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کا پروگرام اور 2 پریس کانفرنس متعدد مرتبہ دکھا چکے ہیں۔

6۔ ایک موقعہ پر جماعت کے لوگ بھی تھے اور پاکستانی کمیونٹی کے لوگ بھی وہاں پر تعارف کرانے والے نے جماعت کے لوگوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ مسلم کمیونٹی کے نمائندے ہیں اور یہ پاکستانی کمیونٹی کے۔ جب 3-4 مربتہ وہ ایسا کہہ چکا تو پاکستانی کمیونٹی کے آدمی نے کہا کہ جناب ہم بھی مسلمان ہیں اور یہ بھی پاکستانی ہیں۔

7۔ پولیس کےساتھ بھی رابطہ بڑھا ہوا ہے۔

8۔ چرچوں میں جانے سے وہاں پر نہ صرف تقاریر کا موقع ملا بلکہ اسلام کے خلاف جو نفرت تھی اس میں کمی واقع ہوئی ہے اور ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا ہے۔ الحمد للہ۔

9۔ کالجوں، یونیورسٹیوں اور سکولوں کے طلباء کی آمد پہلے سے زیادہ ہوئی ہے اور اسی طرح ہمیں بھی طلباء کو خطاب کرنے کے لئے بلایا جارہا ہے۔

10۔ حکومتی سطح پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے (لوکل) امن کے بارے میں جماعت کی کوششوں کو سراہا جاتا ہے۔

11۔ ایک پادری نے لوکل اخبار میں بیان دیا کہ جماعت احمدیہ پرامن جماعت اور کمیونٹی ہے۔

12۔ جلسہ پیشوایان مذاہب کے لئے ہمیں سپیکر بھی بڑی مشکل سے ملتا تھا۔ اب خداتعالیٰ کے فضل سے نہ صرف سپیکر بلکہ یہ لوگ اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر آتے ہیں۔ جن کا بعد میں ہم Follow Up کر رہے ہیں۔

13۔ پادری صاحب اور علاقہ کے مذہبی لیڈر اپنے چرچوں اور عبادت گاہوں میں ہماری میٹنگز اور فنگشن کا اعلان کرتے ہیں اور اپنے نیوز لیٹر اور بلیٹن میں خبریں دیتے ہیں تاکہ ان کے لوگ ہماری مسجد میں آکر پروگراموں میں شامل ہو سکیں۔ اور جو لوگ شامل ہوتے ہیں وہ واپس جا کر دوسرے لوگوں کو ہمارے نظریات اور کردار کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ جس طرح خاکسار ذکر کر چکا ہے کہ وائس آف امریکہ کے نمائندہ کو ہمارے بارے میں کسی نے بتایا جو ہمارے پروگرام میں شامل ہو چکا تھا۔ الحمد للہ

اس ساری رپورٹ کو خاکسار نے لندن مکرم ایڈیشنل وکیل التبشیر عبدالماجد طاہر صاحب کی خدمت میں بھجوایا تھا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیشنل ہیڈکوارٹر میں قریباً 8 سال تک خدمت کی سعادت بجا لانے کے بعد خاکسار کا تبادلہ مکرم امیر صاحب امریکہ ڈاکٹر احسان اللہ ظفر صاحب نے لاس اینجلس کیلیفورنیا کیا۔ اس موقعہ کی رپورٹ احمدیہ گزٹ نے شائع کی۔ مکرم کلیم بن حبیب صاحب نے یہ رپورٹ لکھی جو احمدیہ گزٹ کی جولائی /اگست 2004ء کے صفحہ 49-50 پر شائع ہوئی۔ اس سے قبل یہاں کونٹی ایگزیکٹو نے اور کونٹی کے ممبران نے خاکسار کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ اس تقریب کی Live کورج کونٹی کے ٹی وی سٹیشن پر دکھائی گئی۔ اس میں کونسل کے ممبران اعلیٰ نے گزشتہ 8 سال میں اور خصوصیت کے ساتھ 9/11 کے بعد جماعت احمدیہ کی خدمات کو سراہا گیا۔

تقریب کے اختتام پر کونٹی ایگزیکٹو مسٹر ڈگ ڈنکن نے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے ساتھ ایک Proclamation بھی پڑھا۔ جس میں جماعت کی خدمات کو بیان کر کے 15 جون 2004ء کے دن کے بارے میں اعلان کیا کہ:
آج کا دن جو کہ 15 جون بروز منگل ہے کونٹی ایگزیکٹو اور کونسل کے صدر، امام شمشاد ناصر کے دن کا اعلان کرتے ہیں۔ اور ہم یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ کونٹی کے تمام مکین ہمارے ساتھ مل کر ان کو خراج تحسین پیش کریں اس دعا کے ساتھ کہ آئندہ بھی ان کو مزید کامیابیاں ملیں۔

احمدیہ گزٹ امریکہ کی رپورٹ جولائی اگست 2004ء صفحہ 49-50۔

مکرم کلیم بن حبیب لکھتے ہیں:
18 جولائی 2004ء کو مسجد بیت الرحمن میں ایک خاص دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا جو کہ امیر جماعت امریکہ ڈاکٹر احسان اللہ ظفر صاحب کی ہدایت کے مطابق سید شمشاد احمد ناصر مبلغ سلسلہ جنہوں نے میری لینڈ (مسجد بیت الرحمان) کے ریجن میں 8 سال تک خدمات بجا لائی ہیں اور اب اُن کا تبادلہ یہاں سے لاس اینجلس ہوا ہے۔ مکرم داؤد حنیف صاحب جو کہ نیویارک میں خدمات بجا لا رہے تھے وہ بطور نائب امیر اور مشنری انچارج ہیڈ کوارٹر میں خدمات بجا لائیں گے۔

گزٹ نے لکھا کہ ریجن کی چار جماعتوں کے لوگ مدعو کئے گئے تھے اور خاص دعوت نامہ علاقہ کے مذہبی لیڈروں کو بھجوایا گیا تھا جو کہ اس تقریب میں اپنے لوگوں کےساتھ شامل ہوئے۔ حکومتی سطح پر بھی نمائندے شامل ہوئے۔ 650 سے زائد لوگ اس الوداعیہ میں شامل ہوئے۔

تمام احباب کو دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا اور اس کے بعد پروگرام شروع ہوا تلاوت قرآن کریم کے بعد میری لینڈ کے صدر جماعت مکرم ڈاکٹر لئیق احمد صاحب نے سب کو خوش آمدید کہا۔ اور اس کے بعد لوگوں کو دعوت دی جو اس موقعہ پر کچھ کہنا چاہتے تھے چنانچہ ڈاکٹر ٹیڈ ڈوور Dr۔ Ted Durr سابقہ پادری پریسبیٹیرین چرچ نے کہا کہ ہمارا رابطہ امام شمشاد کے ساتھ 11/9 کے بعد ہوا۔ جس کی وجہ سے تعلقات میں اضافہ بھی ہوا اور مسجد میں انہوں نے جس طریق پر استقبال کیا وہ متاثر کرنے والا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ ایک لمبے عرصہ سے بیمار چلی آرہی ہیں۔ شمشاد نے جب بھی مجھے فون کیا ہمیشہ میری بیوی کی صحت کے بارے میں بھی پوچھا جس کی وجہ سے میری بیوی بھی ان سے متاثر ہیں۔

اگرچہ ان کا یہاں سے جانا ہمارے لئے Loss ہے۔ لیکن LA کے لئے بہتر ہی ہے اور فائدہ مند ہے۔

ایک اور پادری رچرڈ کو کاسکی نے کہا کہ مسلمانوں میں شمشاد واحد شخص ہے جس نے تمام چرچوں اور دیگر تنظیموں کے ساتھ سب سے پہلے رابطہ کیا اور ان سب کو دوستانہ ماحول میں بات کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ ان کی غیرحاضری یہاں بہت زیادہ محسوس کی جائے گی۔

ایک اور پادری مسٹر گائے کیری خود نہ آسکے مگر اپنے نمائندہ کو اس موقعہ پر اپنے پیغام کے ساتھ بھجوایا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ امام شمشاد نے محبت، یگانگت، باہمی افہام و تفہیم کا اس علاقہ کی کمیونٹی میں۔ بیج بونے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

پادری سٹیون اینڈرسن نے کہا (یہ ہمارے مسجد کے بہت اچھے ہمسایہ ہیں جنہوں نے جلسہ سالانہ کے ہمارے مہمانوں کو بھی اپنے گھروں میں ٹھہرایا) کہ ہم ایسے دوست کی موجودگی سے محروم ہو رہے ہیں جو کہ ہمیں متحد رکھنے کا بہت بڑا ذریعہ تھا۔ ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔

ایک اور پادری مسٹر میکائل نے کہا کہ میں اپنے چرچ میں نیا آیا ہوں لیکن مجھ سے پہلے پادری نے ہمارے چرچ میں امام شمشاد کے بارے میں بہت اچھی باتیں کی ہیں اس لئے میں بھی اب آپ کے نئے آنے والے امام (داؤد حنیف صاحب) سے رابطہ رکھوں گا۔

مس ربے کاویگنر Ms Rebecca Wagner جو کہ منٹگمری کونٹی میں کمیونٹی منسٹری کی ڈائریکٹر ہیں نے کہا کہ امام شمشاد نے جو ہماری کمیونٹی کو متحد کرنے میں خدمات کی ہیں ان کو آسانی سے نہیں بھلایا جا سکتا۔

بدھسٹ کمیونٹی کے صدر نے اس موقعہ پر کہا کہ میں اپنی تمام بدھ کمیونٹی کی طرف سے خیرسگالی کا پیغام لے کر آیا ہوں۔

Ms Becky Smith نے جو کہ کمیونٹی کے کوارڈینیٹر تھیں کہا کہ احمدیہ مسلم کمیونٹی نے یہاں کے غریب عوام اور لوگوں کو خدمت کرنے میں پہل کی ہے اور اسے خوب سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے امام شمشاد کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ہر وقت ہر قسم کی مدد کے لئے آمادہ رہتے تھے۔

سیرالیون ایمبیسی کے فرسٹ سیکرٹری شیخو مسالے نے سفیر سیرالیون کی طرف سے خیرسگالی کا پیغام دیا۔

چیف آف پولیس منٹگمری کونٹی Thomas Manager نے امام شمشاد کا پرخلوص شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بہت محنت کے ساتھ مخلصانہ ان تھک کوششیں کی ہیں جس سے یہاں کےتمام مذہبی کمیونٹی کے اندر اتحاد پیدا ہوا ہے۔ جس سے کمیونٹی میں امن کی فضا قائم ہوئی ہے۔ چیف پولیس نے محکمہ پولیس کی طرف سے شمشاد کو ایک ایوارڈ بھی دیا۔

گورنر آف میری لینڈ کے نمائندہ مسٹر الیشا پلوارتی نے امام شمشاد کی خدمات کو بیان کیا اور انہیں میری لینڈ کے گورنر کی طرف سے سرٹیفکیٹ دیا۔

منٹگمری کونٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (کونٹی کے ناظم اعلیٰ آنریبل ڈگلس ڈنکن کی طرف سے ان کے نمائندہ نے بھی امام شمشاد کے بارہ میں سپاسنامہ پڑھا اور انہیں سرٹیفکیٹ دیا جس میں بتایا گیا تھا کہ کونٹی نے 15 جون کا دن امام شمشاد کے نام کیا۔ امام الحاج بی اے فافونا آف سیرالیون نے مسلمانوں کی سیرالیونین کمیونٹی کی طرف سے امام شمشاد کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہماری کمیونٹی کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھا۔ انہوں نے اس موقعہ پر امام شمشاد کو تحفہ بھی دیا۔

منٹگمری کونٹی کونسل کے صدر سٹیو سلورمین نےا مام شمشاد کی خدمات کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مسجد بیت الرحمان کے دروازے تمام مذاہب کے لئے کھولے۔ انہوں نےا پنی فراخدلانہ حکمت عملی اور جوش جذبے کی وجہ سے جو ان کے اندر یہاں کے لوگوں کے لئے پایا جاتا ہے مشہور ہیں اور اس وجہ سے وہ یہاں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ جس دن کونٹی میں یہ پروگرام ہوا اسے ٹی وی پر بھی دکھایا گیا تھا۔

مہمانوں کے خطاب اور بیان کے بعد جماعت احمدیہ کی تنظیموں کے نمائندگان اور احباب نے بھی اپنے اپنے خیالات کا ذکر کیا جس میں لجنہ اماءاللہ، زعیم انصار اللہ، قائد خدام الاحمدیہ (لوکل اور ریجنل) سب نے شمشاد احمد کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اور ان کے لئے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی مکرم داؤد حنیف صاحب کو استقبالیہ دیا۔ اس موقعہ پر مکرم کلیم اللہ خان صاحب نے ایک نظم بھی لکھی تھی جو خود انہوں نے پڑھ کر سنائی۔ جس میں شمشاد احمد صاحب کی خدمات کا تذکرہ تھا اور مکرم داؤد حنیف صاحب کو خوش آمدید کہا گیا تھا۔

اس کے بعد شمشاد احمد نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ خداتعالیٰ کے فضل سے ہی خدمت کی توفیق ملی۔ انہوں نے احباب جماعت کا بھی ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا کہ جو کچھ ہوا آپس میں مل کر کام کرنے سے اور خداتعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے۔ کام کا طریق کار وہی رہے گا صرف آدمی تبدیل ہوا ہے۔ شیطان کے خلاف جنگ اسی طرح جاری رہے گی یہاں تک کہ کمیونٹی میں امن قائم ہو جائے۔ مکرم داؤد حنیف صاحب نے بھی احباب کا شکریہ ادا کیا۔

آخر میں مکرم امیر صاحب امریکہ ڈاکٹر احسان اللہ ظفر نے فرمایا کہ جماعت کے اندر یہ تبادلے روزمرہ کی روٹین ہے۔ جہاں مبلغین کو انہیں مقرر کیا جاتا ہے وہ اپنی طاقت کے مطابق اچھا کام کرتے ہیں۔ دعا پر یہ تقریب ختم ہو گی۔

الوداع مرحبا

قابل صد رشک ہے شمشاد خدمت آپ کی
یمن و برکت کی ضامن نیک فطرت آپ کی
اے مربی! طالع ور اے داعیٔ راہِ ہدیٰ!
نو بہ نو پھیلی زمن میں حسن دعوت آپ کی
وہ تکلم پُر معارف پُر امید و پُر یقین
دلپسند شستہ زباں میں وہ خطابت آپ کی
چشمِ الفت میں رہے توقیر سے سب ارجمند
دلربا انداز سے جھلکی فراست آپ کی
قوت جذب و تحمل خوب دیکھی چشم نے
مسکراتی جوش آرا وہ طبیعت آپ کی
درس و تدریس سے بھی حالِ دل ہے منعکس
آئینہ سی بن کے نکھری خوب طینت آپ کی
جاں نثارِ احمدیت، جاں گسل تبلیغ میں
دیں کی خاطر جان کاری بھی ہے راحت آپ کی
ہر کس و ناکس کے دل کو رام کرنا کام ہے
جھک کے ملنا، پیار کرنا، پیاری عادت آپ کی
اپنے بیگانوں میں عزت خیراندیشوں میں نام
ظاہر و باہر ہوئی سب پر لیاقت آپ کی
مشورے صائب میں مخفی عجز بھی تھا موجزن
دائرہ در دائرہ پھیلی وجاہت آپ کی
بزلہ سنجی، نکتہ دانی، وہ یقین افزا مزاح
مدتوں تک گدگدائے گی ظرافت آپ کی
محو دل سے ہو بھلا کیا وہ خلوصِ دلکشا
وہ سلوکِ مہرباناں وہ مروت آپ کی
الوداع شمشاد ناصر! ہو سدا تم شاد کام
ملک و قریہ سے نہیں مشروط خدمت آپ کی
ہر مربی عرصہ توحید میں ہے بے مثال
کاتب تحریر نے لکھ دی ہے نصرت آپ کی
خوش بیانی سے کہیں ہم مرحبا داؤد کو
دستگاہِ دین میں ہو گی رفاقت آپ کی
مرحبا! اے آنے والے، قابلِ صد احترام!
منتظر ہیں بارور ہو خوب محنت آپ کی
اے نصیحت گر! تمہیں کیا قافلے والے کہیں
ہر جرس پر یاد آئے گی قیادت آپ کی

(کلیم بن حبیب، میری لینڈ (18جولائی 2004ء))

یہاں قیام کے دوران جن اخبارات سے رابطہ رہا اور ان میں جماعتی خبریں شائع ہوئیں ان کی فہرست درج ذیل ہے:

Silver spring Maryland 2001-2002-2003-2004
The gazette Burtonsville
The Montgomery journal
The Washington times
Gazette community news
Express India
Gazette regional news
The Montgomery county sentinel
Pakistan post
The sun in Howard
The Muslim News

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 دسمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 دسمبر 2020