• بدھ 1 اپریل 2020   (8 شعبان 1441)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ مورخہ 21فروری 2020ء بمقام مسجدبیت الفتوح لندن کا خلاصہ

پیشگوئی مصلح موعود کی اہمیت، خصوصیات اور مختلف پہلوؤں کا پُر معارف بیان اور مخالفین کے اعتراضات کے سیر حاصل اور پُر اثر جواب

20 فروری کا دن پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے خاص طور پر یاد رکھا جاتا ہے

اس پیشگوئی میں موعود بیٹے کے بارے میں مختلف خصوصیات ایک خطبہ میں بیان کرنا ممکن نہیں

حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ تحریر فرمایا کہ خداوند کریم نے اس عاجز کی دُعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہے جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی

محترمہ مریم الزبتھ اہلیہ محترم ملک عمر علی کھوکھر اورعزیزم جاہدفارس کا ذکر خیر،حادثہ کی تفصیلات اور نماز جنازہ غائب

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح ا لخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نےمورخہ 21 فروری 2020ء کو مسجد بیت الفتوح لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اےانٹر نیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ حضور انور نے فرمایا: جماعت احمدیہ میں 20 فروری کا دن پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے خاص طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ پیشگوئی جو مختلف پہلو اور مختلف خصوصیات موعود بیٹے کے بارے میں اپنے اندر لئے ہوئے ہے، ایک خطبہ میں اس کے مختلف پہلو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے میں نے سوچا کہ وہ نکات جن کی تفصیلات حضرت مصلح موعود ؓ نے خود بیان کی ہیں ان میں سے بعض حوالے بیان کر دوں۔ ان مختصر حوالوں سے بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس پیشگوئی کی وسعت کتنی ہے اور کس شان سے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے موعود بیٹے کی ذات میں پوری ہوئی۔حضور انور نےحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں پیشگوئی بیان فرمائی۔ آپؑ فرماتے ہیں قادیان کا ایک گمنام شخص جس کو قادیان کے لوگ بھی پوری طرح نہیں جانتے تھے لوگوں کی اس مخالفت کو دیکھ کر جو اسلام اور بانیٔ اسلام سے وہ رکھتے تھے اپنے خدا کے حضور علیحدگی میں عبادت کرنے اور اس کی نصرت اور تائید کا نشان طلب کرنے کے لئے آیا اور چالیس دن لوگوں سے علیحدہ رہ کر اس نے اپنے خدا سے دعائیں مانگیں۔

چالیس دن کی دُعاؤں کے بعد خدا نے اس کو ایک نشان دیا، وہ نشان یہ تھا کہ میں نہ صرف ان وعدوں کو جو میں نے تمہارے ساتھ کئے ہیں پورا کروں گا اور تمہارے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا بلکہ اس وعدے کو زیادہ شان کے ساتھ پورا کرنے کے لئے میں تمہیں ایک بیٹا دوں گا جو بعض خاص صفات سے متّصف ہو گا وہ اسلام کو دُنیا کے کناروں تک پھیلائے گا۔ کلام الٰہی کے معارف لوگوں کو سمجھائے گا رحمت اور فضل کا نشان ہو گا اور وہ دینی اور دنیوی علوم جو اسلام کی اشاعت کے لئے ضروری ہیں اسے عطا کئے جائیں گے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس کو لمبی عمر عطا فرمائے گا یہاں تک کہ وہ دُنیا کے کناروں تک اور آج دُنیا کے جس ملک میں بھی جماعت احمدیہ قائم ہے اس پیشگوئی کی شہرت اور اس عظیم بیٹے کی شہرت ہے۔

20 فروری 1886ء کو جب یہ اشتہار شائع ہوا تو اس وقت مخالفین نے اعتراض شروع کر دیا کہ یہ کون سی پیشگوئی ہے۔ کوئی بھی اعلان کر سکتا ہے کہ میرے ہاں بیٹا پیدا ہو گا ۔پس اگر آپ کے ہاں بھی کوئی لڑکا پیدا ہو جائے تو اس سے یہ کیونکر ثابت ہو گا کہ دُنیامیں اس ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا کوئی خاص نشان ظاہر ہوا ہے۔ اس کا جواب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےدیا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ تب 22مارچ 1886ء کو آپؑ نے ایک اور اشتہار شائع فرمایا۔ آپؑ نے لوگوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے 22 مارچ کے اشتہار میں تحریر فرمایا کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفی ﷺ کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا۔ پھر اسی اشتہار میں حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ تحریر فرمایا کہ خداوند کریم نے اس عاجز کی دُعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہے جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ فرمایا : آج دُنیا گواہ ہے کہ اس موعود بیٹے نے دُنیا کے کناروں تک شہرت پائی ہے اور بیرون ہندوستان یا بیرون قادیان دُنیا کا ہر مشن آپؑ کی سچائی کا ثبوت ہے۔ بہت سارے مشن دُنیا میں حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں قائم ہوئے تھے اور وہی سلسلہ اسی نظام کا سلسلہ آج تک چل رہا ہے۔

حضور انور نے فرمایا: حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مصلح موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی آئندہ نسل سے تین چار سو سال کے بعد آئے گا یہاں بھی نسل کا ذکر ہے کہ آئندہ نسل سے کوئی تین چار سو سال کے بعد آئے گا موجودہ زمانے میں نہیں آ سکتا مگر ان میں سے کوئی شخص خدا کا خوف نہیں کرتا کہ وہ پیشگوئی کے الفاظ کو دیکھے اور ان پر غور کرے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو لکھتے ہیں کہ اِس وقت اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام اپنے اندر نشان نمائی کی کوئی طاقت نہیں رکھتا چنانچہ پنڈت لیکھرام اعتراض کر رہا تھا کہ اگر اسلام سچا ہے تو نشان دکھایا جائے۔ اندرمَن اعتراض کر رہا تھا کہ اگر اسلام سچا ہے تو نشان دکھایا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خدا! میں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ تو مجھے رحمت کا نشان دکھا تو مجھے قدرت اور قربت کا نشان عطا فرما۔ پس یہ نشان تو ایسے قریب ترین عرصہ میں ظاہر ہونا چاہئے تھا جبکہ وہ لوگ زندہ موجود ہوتے جنہوں نے یہ نشان طلب کیا تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 1889ء میں جب میری پیدائش اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے ماتحت ہوئی تو وہ لوگ زندہ موجود تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نشان مانگا تھا۔ پھر جوں جوں میں بڑھا اللہ تعالیٰ کے نشانات زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوتے چلے گئے۔ پس یہ نشان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی زندگی میں اور ان لوگوں کی زندگی میں جو اسلام پر اعتراضات کرتے تھے ظاہرہونا ضروری تھا جنہوں نے یہ نشان مانگا تھا اور یہ ظاہر ہوا۔

حضور انور نے حضرت مسیح موعودؑ کے ہی الفاظ میں پیشگوئی مصلح موعود کی اغراض کاذکر کرتے ہوئے معترضین کے اعتراضات کاجواب پیش فرمایا۔فرمایا: 1944ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اور مجھے ہی اللہ تعالیٰ نے ان پیشگوئیوں کا مَورد بنایا ہے جو ایک آنے والے موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائیں۔ جو شخص سمجھتا ہے کہ میں نے افترا سے کام لیا ہے یا اس بارے میں جھوٹ اور کذب بیانی کا ارتکاب کیا ہے وہ آئے اور اس معاملے میں میرے ساتھ مباہلہ کر لے اور یا پھر اللہ تعالیٰ کی مؤکد بر عذاب قسم کھا کر اعلان کر دے کہ اسے خدا نے کہا ہے کہ میں جھوٹ سے کام لے رہا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ خود بخود اپنے آسمانی نشانات سے فیصلہ فرما دے گا کہ کون کاذب ہے اور کون صادق۔ کوئی اس بارے میں نہیں آیا جو آپ کے مخالفین تھے جماعت کے اندر بھی جو علیحدہ ہونے والے تھے۔ غرض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم سے وہ پیشگوئی جس کے پورا ہونے کا ایک لمبے عرصہ سے انتظار کیا جا رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق اپنے الہام اور اعلام کے ذریعہ مجھے بتا دیا ہے کہ پیشگوئی میرے وجود میں پوری ہو چکی ہے اور اب دشمنان اسلام پر خدا تعالیٰ نے کامل حجت کر دی ہے اور ان پر یہ امر واضح کر دیا ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب محمد رسول اللہ ﷺ خدا تعالیٰ کے سچے رسول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کے سچے فرستادہ ہیں جھوٹے ہیں وہ لوگ جو اسلام کو جھوٹا کہتے ہیں، کاذب ہیں وہ لوگ جو محمد رسول اللہ ﷺ کو کاذب کہتے ہیں خدا نے اس عظیم الشان پیشگوئی کے ذریعہ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔فرمایا: پس یہ کوئی معمولی اعلان نہیں تھا ۔ آپؓ کا 52 سالہ دَور خلافت اور اس کا ہر دن جو ہے اس کی شان کو ظاہر کر رہا ہے۔

پھر آپؓ فرماتے ہیں کہ میں اس سچائی کو نہایت کھلے طور پر ساری دُنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ یہ آواز وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی آواز ہے۔ یہ مشیت وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی مشیت ہے یہ سچائی نہیں ٹلے گی نہیں ٹلے گی اور نہیں ٹلے گی۔ اسلام دنیا پر غالب آ کر رہے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ میرے بوئے ہوئے بیج سے وہ درخت پیدا ہوں گے جس کے سامنے عیسائیت ایک خشک جھاڑی کی طرح مرجھا کر رہ جائے گی اور دُنیا میں چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا انتہائی بلندیوں پر ابھرتا ہوا دکھائی دے گا۔
پھر آپؓ فرماتے ہیں کہ میں اس موقع پرجہاں آپ لوگوں کو یہ بشارت دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کوپورا کر دیا جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی تھی وہاں میں آپ لوگوں کو ان ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں اور یہ ذمہ داریاں آج بھی ہماری ہیں جو آپ لوگوں پر عائد ہوتی ہیں آپ لوگ جو میرے اس اعلان کے مصدق ہیں جو تصدیق کر رہے ہیں کہ میں مصلح موعود ہوں آپ کا اولین فرض یہ ہے کہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک اسلام اور احمدیت کی فتح اور کامیابی کے لئے بہانے کے لئے تیار ہو جائیں۔ بیشک آپ لوگ خوش ہو سکتے ہیں پیشگوئی کا اظہار کرنے کے لئے خوشی کی جا سکتی ہے خوش ہو سکتے ہیں کہ خدا نے اس پیشگوئی کو پورا کیا لیکن میں کہتا ہوں کہ اس خوشی اور اچھل کود میں تم اپنی ذمہ داریوں کو فراموش مت کرو جس طرح خدا نے مجھے رؤیا میں دکھایا کہ میں تیزی کے ساتھ بھاگتا چلا جا رہا ہوں اور زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹتی جا رہی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے الہاماً میرے متعلق یہ خبر دی ہے کہ میں جلد جلد بڑھوں گا پس میرے لئے یہی مقدر ہے کہ میں سرعت اور تیزی کے ساتھ اپنے قدم ترقیات کے میدان میں بڑھاتا چلا جاؤں۔ مگر اس کے ساتھ ہی آپ لوگوں پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے قدم کو تیز کریں اور اپنی سست روی کو ترک کریں۔ آپؓ فرماتے ہیں اگر ترقی کرنا چاہتے ہو اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھتے ہو تو قدم بہ قدم اور شانہ بہ شانہ میرے ساتھ بڑھتے چلے آؤ تا کہ ہم کفر کے قلب میں محمد رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا گاڑ دیں اور باطل کو ہمیشہ کے لئے صفحہ عالم سے نیست و نابود کر دیں اور انشاء اللہ ایسا ہی ہو گا۔ زمین اور آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی باتیں کبھی ٹل نہیں سکتیں۔

حضور انور نے پیشگوئی میں مذکور الفاظ کہ ‘‘وہ علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا’’ کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے بتا یا کہ حضرت مصلح موعود ؓ کی کتب، لیکچرز اور تقاریر کا مجموعہ انوار العلوم کے نام سے شائع ہو رہا ہے۔ بہت ساری جلدی شائع ہو چکی ہیں۔ جو اُردو پڑھنا جانتے ہیں ان کو پڑھنا چاہئے ویسے بعض کتابوں کے انگریزی ترجمہ بھی ہو رہے ہیں۔ اس وقت انوار العلوم کی26 جلدیں شائع ہو چکی ہیں ان 26 جلدوں میں کُل 670 کتب، لیکچرز اور تقاریر آ چکی ہیں۔ خطبات محمود کی اس وقت تک کُل 39 جلدیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1959ء تک کے خطبات شائع ہو گئے ہیں۔ ان جلدوں میں 2 ہزار367خطبات شامل ہیں۔ تفسیر صغیر 1071 صفحات پر مشتمل ہے۔ تفسیر کبیر10 جلدوں پر محیط ہے، اس میں قرآن کریم کی 59 سورتوں کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔تفسیر کبیر کی 10 جلدوں کے صفحات کی کُل تعداد 5 ہزار 907 ہے۔ غیر مطبوعہ تفسیر حضرت مصلح موعود کے درس القرآن جو کہ غیر مطبوعہ تھے وہ ریسرچ سیل نے کمپوز کرنے کے بعد فضل عمر فاؤنڈیشن کے سپرد کر دئیے ہیں۔ اس کے 3094 صفحات ہیں۔ اس کے بعد اب ریسرچ سیل کو میں نے کہا تھا کہ حضرت مصلح موعود کی تحریرات اور فرمودات سے تفسیر قرآن اکٹھی کی جائے جس پر کام شروع کیا گیا ہے اور اب تک 9 ہزار صفحات پر مشتمل تفسیر لی جا چکی ہے اور اس پر مزید کام جاری ہے۔ یہ تو ہے ایک مختصر جائزہ آپ کے کاموں کا لیکن اسی جائزے کو حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے اپنے وقت میں بھی ایک خطبہ میں بیان فرمایا تھا ۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ ‘‘وہ علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا’’ اس کے متعلق میں نے بہت سی تفصیلات جمع کی تھیں لیکن اس وقت میں صرف وہ نقشہ ہی پیش کر سکتا ہوں جو میں نے اس غرض کے لئے تیار کروایا ہے اور وہ یہ ہے۔ حضور کی ایک تفسیر تو تفسیر کبیر ہے جو خود اتنی عجیب تفسیر ہے کہ جس شخص نے بھی غور سے اس کے کسی ایک حصہ کو پڑھا ہو گا وہ یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو گا کہ اگر دُنیا میں کوئی خدا رسیدہ بزرگ پیدا ہوتا اوروہ صرف یہ حصہ قرآن وہ یہ حصہ قرآن کریم کا تفسیری نوٹوں کے ساتھ شائع کر دیتا تو یہ اس کو دُنیا کی نگاہ میں بزرگ ترین انسانوں میں سے ایک انسان بنانے کے لئے کافی تھا لیکن اس پر ہی بس نہیں۔ قرآن کریم پر اور بہت سی کتب لکھیں اور میرا خیال ہے کہ حضور نے صرف قرآن کریم کی تفسیر پر ہی آٹھ دس ہزار صفحات لکھے ہیں تفسیر کبیر کی گیارہ مجلدات بھی ان میں شامل ہیں۔کلام کے اوپر حضور نے10 کتب اور رسائل لکھے۔ روحانیات اسلامی اخلاق اور اسلامی عقائد پر 31 کتب اور رسائل تحریر فرمائے۔ سیرت و سوانح پر 13 کتب و رسائل لکھے۔ تاریخ پر 4 کتب و رسائل فقہ پر 3 کتب و رسائل۔

سیاسیات قبل از تقسیم ہند 25 کتب اور رسائل سیاسات بعد از تقسیم ہند ، ہندو قیام پاکستان9 کتب اور رسائل۔ سیاست کشمیر 15کتب اور رسائل۔ تحریک احمدیت کے مخصوص مسائل اور تحریکات پر 99 کتب اور رسائل ۔ان سب کتب و رسائل کا مجموعہ 225 بنتا ہے تو جیسا کہ فرمایا تھا الہام میں کہ وہ علوم ظاہری وباطنی سے پُر کیا جائے گا ان پر ایک نظر ڈال لیں تو ان میں علوم ظاہری بھی نظر آتے ہیں اور علوم باطنی بھی نظر آتے ہیں اور پھر لطف یہ کہ جب بھی آپ نے کوئی کتاب یا رسالہ لکھا ہر شخص نے یہی کہا کہ اس سے بہتر نہیں لکھا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہزاروں ہزار رحمتیں ہوں آپؓ پر اور ہر آن اللہ تعالیٰ آپؓ کے درجات بلند فرماتا رہے اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس بیٹے کی طرح اسلام کی اشاعت کا دَرد اپنے دل میں بھی پیدا کرنے والے ہوں اور اسلام کی خدمت کے لئے ہم ہر وقت کمر بستہ ہوں اور ان لوگوں میں شامل ہوں جو دین کی خدمت کرنے والے ہوں نہ کہ ان لوگوں میں جن کے بارے میں حضرت مصلح موعود نے فرمایاتھا کہ آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نہ کرے کہ یہ سلسلہ بدنام کرنے والے ہوں بلکہ خدمت میں آگے سے آگے بڑھتے چلے جانے والے ہوں۔

حضور انور نے آخر پر مکرمہ مریم الزبتھ اہلیہ ثانی مکرم ملک عمر علی کھوکھر رئیس ملتان و سابق امیر ملتان اور عزیزم جاہد فارس احمد ابن مکرم طارق نوری بعمر 12 سال کی وفات پر مرحومین کا ذکر خیر کیااورنماز جمعہ کے بعد مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کا بھی اعلان فرمایا۔


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 فروری 2020

مقبول ترین