• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 20 مارچ 2020ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد ٹلفورڈ یوکے

23مارچ کے تاریخی دن کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ کا دعویٰ ،بعثت کا مقصد، اہمیت اور ضرورت کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ کے پُر معارف و پُر اثر ارشادات نیز کرونا وائرس کی بیماری کی تفصیلات اور احتیاطی تدابیر

حضرت مسیح موعودؑ، آنحضرت ﷺ کی غلامی میں آپؐ ہی کے کام کو اور آپؐ کے دین کو دنیا میں پھیلانے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے

حضرت مسیح موعودؑفرماتے ہیں: ’’میں کھول کر کہتا ہوں اور یہی میرا عقیدہ اور مذہب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اتباع اور نقش قدم پر چلنے کے بغیر کوئی انسان روحانی فیض اور فضل حاصل نہیں کر سکتا‘‘

’’وہ شخص بڑا ہی مبارک اور خوش قسمت ہے جس کا دل پاک ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے اظہار کا خواہاں ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے دوسروں پر مقدم کر لیتا ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’اللہ تعالیٰ نے مجھے پُرشوکت الفاظ میں فرمایا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

پس آج 200 سے اوپرممالک میں پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپؑ کی سچائی دنیا پر ظاہر فرماتا چلا جا رہا ہے

کرونا وائرس کی بیماری کے حوالے سے حضور انور نے فرمایا: ’’ان حالات میں جہاں اپنے آپ کو سنوارنے، اپنی تبلیغ کو مؤثر رنگ میں کرنے کی ضرورت ہے وہاں دنیا کو اسلام کے بارے میں پہلے سے بڑھ کر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔‘‘

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ20مارچ 2020ء کو مسجد مبارک ، اسلام آباد ٹلفورڈ یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اےانٹر نیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ حضور انور نے فرمایا:تین دن کے بعد 23مارچ ہے۔ یہ وہ دن ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت کا آغاز فرمایا تھا اور یوں باقاعدہ آپؑ کے دعویٰ مسیح موعودکے ساتھ جماعت احمدیہ کی بھی بنیاد پڑی۔ جماعت میں یہ دن یوم مسیح موعود کے نام سے منایا جاتا ہے، اس دن کی مناسبت سے جلسے بھی ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ اور آپؑ کے آنے کے مقصد کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔ اس لئے اس حوالے سےمیں آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ میں کچھ اقتباسات پیش کروں گا۔اس سال شاید اکثر ملکوں اور مقامات میں جو آج کل وائرس کی وباء پھیلی ہوئی ہے اس کی وجہ سے جلسے نہ ہو سکیں اس لئے میرے خطبہ کے علاوہ ایم۔ٹی۔اے پر بھی اس حوالے سے پروگرام پیش ہوں گے،انہیں ہر احمدی کو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں سننے کی کوشش کرنی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی غلامی میں آپ ہی کے کام کو اور آپ ؐکے دین کو دُنیا میں پھیلانے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔ چنانچہ آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں “میں آنحضرت ﷺ پر دُرود بھیجتا ہوں کہ آپؐ ہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور آپؐ ہی کے فیضان اور برکات کا نتیجہ ہے جو یہ نصرتیں ہو رہی ہیں ………میں کھول کر کہتا ہوں اور یہی میرا عقیدہ اور مذہب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اتباع اور نقشِ قدم پر چلنے کے بغیر کوئی انسان کوئی روحانی فیض اور فضل حاصل نہیں کر سکتا ” آپؑ نے آنحضرت ﷺ سے جو روحانی فیض پایا اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو دُنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا۔ اسلام کی شان و شوکت کو دوبارہ دُنیا میں قائم کرنے کے لئے بھیجا۔ چنانچہ ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں کہ “خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا میں مخلوق کی اصلاح کروں” پھر اپنی بعثت کے بارے میں مزید وضاحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں کہ’’میں اس کو بار بار بیان کروں گا اور اس کے اظہار سے میں رُک نہیں سکتا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔

حضور انور نے فرمایا: پھر اس بات کا اعلان فرماتے ہوئے کہ جس مسیح موعودؑ کے آنے کی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی وہ اپنے وقت پہ ظاہر ہوا آپ فرماتے ہیں “سو اب اے بھائیو! ضرور تھا کہ میں ایسی باتیں پیش کرتا جن کے سمجھنے میں تمہیں غلطی لگی ہوئی تھی۔ اگر تم پہلے ہی راہ صواب پرہوتے تو میرے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ میں کہہ چکا ہوں کہ میں اس امت کی اصلاح کے لئے ابن مریم ہوکر آیا ہوں اور ایسا ہی آیاہوں کہ جیسے حضرت مسیح ابن مریم یہودیوں کی اصلاح کے لئے آئے تھے۔ میں اسی وجہ سے تو ان کا مثیل ہوں کہ مجھے وہی اور اسی طرز کا کام سپردہوا ہے جیسا کہ انہیں سپرد ہوا تھا۔ مسیح نے ظہور فرما کر یہودیوں کو بہت سی غلطیوں اوربے بنیاد خیالات سے رہائی دی تھی۔ منجملہ اس کے ایک یہ بھی تھا کہ یہودی لوگ ایلیا نبی کے دوبارہ دُنیا میں آنے کی ایسی ہی امید باندھے بیٹھے تھے جیسے آج کل مسلمان مسیح ابن مریم رسول اللہ کے دوبارہ آنے کی امید باندھے بیٹھے ہیں۔ سو مسیح نے یہ کہہ کر کہ ایلیانبی اب آسمان سے نہیں اتر سکتا ،زکریا کابیٹا یحیٰ ایلیا ہے جس نے قبول کرنا ہے کرے اس پرانی غلطی کو دُور کیا اور یہودیوں کی زبان سے اپنے تئیں ملحد اورکتابوں سے پھرا ہوا کہلایا مگر جو سچ تھا وہ ظاہر کر دیا۔ یہی حال اس کے مثیل کا بھی ہوا اور حضرت مسیح کی طرح اس کو بھی ملحد کا خطاب دیا گیا۔ کیا یہ اعلیٰ درجہ کی مماثلت نہیں ہے”اور صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر قوم اور مذہب کو اپنی بعثت کی اہمیت بتائی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی واضح ہو کہ میرا اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنا محض مسلمانوں کی اصلاح کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں تینوں قوموں کی اصلاح منظور ہے اور جیسا کہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے ایسا ہی میں ہندوؤں کے لئے بطور اوتارکے ہوں اور میں عرصہ بیس برس سے یا کچھ زیادہ برسوں سے اِس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ میں ان گناہوں کے دُور کرنے کے لئے جن سے زمین پُر ہوگئی ہے جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا۔

یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کی رُو سے میں وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔

حضور انور نے فرمایا: پھر اپنی بعثت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ بیان فرماتے ہیں:

’’خدا تعالیٰ غیور ہے۔ اس نے مصلحت کے مطابق عین ضرورت کے وقت بگڑی ہوئی صدی کے سر پر ایک آدمی بھیجا تا کہ وہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلائے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ اسلام میں سے پہلے ایک شخص بھی مرتد ہو جاتا تھا تو ایک شور برپا ہو جاتا تھا۔ اب اسلام کو ایسا پاؤں کے نیچے کچلا گیا ہے کہ ایک لاکھ مرتد موجود ہے۔ پھر آپ ؑ فرماتے ہیں کہ اسلام جیسے مقدس مطہر مذہب پر اس قدر حملے کئے گئے ہیں کہ ہزاروں لاکھوں کتابیں آنحضرت ﷺ کو گالیوں سے بھری ہوئی شائع کی جاتی ہیں۔ بعض رسالے کئی کروڑ تک چھپتے ہیں۔ اسلام کے برخلاف جو کچھ شائع ہوتا ہے اگر سب کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ایک بڑا پہاڑ بنتاہے۔ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ گویا ان میں جان ہی نہیں اور سب کے سب ہی مر گئے ہیں۔ اس وقت اگر خداتعالیٰ بھی خاموش رہے تو پھر کیا حال ہوگا۔ خدا کا ایک حملہ انسان کے ہزار حملہ سے بڑھ کر ہے اور ایسا ہے کہ اس سے دین کا بول بالا ہو جائے گا۔فرمایا کہ دیکھو خدا تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ اس نے ایسا پہلو اختیار کیا ہے جس سے دشمن تباہ ہو جائے۔‘‘ پھر ایک موقع پر حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ’’وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جوکدورت واقعہ ہوگئی ہے اس کو دُور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں اور وہ دینی سچائیاں جو دُنیا کی آنکھ سے مخفی ہوگئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دُعا کے ذریعہ سے نمودار ہوتی ہیں حال کے ذریعہ سے نہ محض مقال سے ان کی کیفیت بیان کروں اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی توحید جو ہر ایک قسم کی شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو اب نابود ہوچکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دوں اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہو گا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہوگا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک طرف تو خدا نے اپنے ہاتھ سے میری تربیت فرما کر اور مجھے اپنی وحی سے شرف بخش کر میرے دل کو یہ جوش بخشا ہے کہ میں اس قسم کی اصلاحوں کے لئے کھڑا ہو جاؤں اور دوسری طرف اس نے دل بھی تیار کر دیئے ہیں جو میری باتوں کے ماننے کے لئے مستعد ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ جب سے خدا نے مجھے دُنیا میں مامور کر کے بھیجا ہے اُسی وقت سے دُنیا میں ایک انقلاب عظیم ہو رہا ہے۔‘‘

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’وہ شخص بڑا ہی مبارک اور خوش قسمت ہے جس کا دل پاک ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے اظہار کا خواہاں ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اُسے دوسروں پر مقدم کر لیتا ہے۔ جو لوگ میری مخالفت کرتے ہیں ان کا اور ہمارا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے ہے۔ وہ ہمارے اور اُن کے دلوں کو خوب جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کس کا دل دُنیا کے نمود اور نمائش کے لئے ہے اور کون ہے جو خدا تعالیٰ ہی کے لئے اپنے دل میں سوزو گداز رکھتا ہے۔فرمایا کہ یہ خوب یاد رکھو کہ کبھی روحانیت صعود نہیں کرتی جب تک دل پاک نہ ہو۔ جب دل میں پاکیزگی اور طہارت پیدا ہوتی ہے تو اس میں ترقی کے لئے ایک خاص طاقت اور قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر اس کے لئے ہر قسم کے سامان مہیا ہو جاتے ہیں اور وہ ترقی کرتا ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود ؑ دُنیا کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ہماری آخری نصیحت یہی ہے کہ تم اپنی ایمان کی خبر داری کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم تکبر اور لا پروائی دِکھلا کر خدائے ذو الجلال کی نظرمیں سرکش ٹھہرو۔ دیکھو خدا نے تم پر ایسے وقت میں نظر کی جو نظر کرنے کا وقت تھا ،سو کوشش کرو کہ تاتمام سعادتوں کے وارث ہو جاؤ۔ خدا نے آسمان پر سے دیکھا کہ جس کو عز ت دی گئی اس کو پیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے اور وہ رسول جو سب سے بہتر تھا اس کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ اس کو بد کاروں اور جھوٹوں اور افترا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کی کلام کو جوقرآن کریم ہے بُرے کلموں کے ساتھ یاد کر کے انسان کا کلام سمجھا جاتا ہے۔ سو اس نے اپنے عہد کو یاد کیا۔ وہی عہد جو اس آیت میں ہے کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْن۔ سو آج اسی عہد کے پورے ہونے کا دن ہے۔ اس نے بڑے زور آور حملوں اور طرح طرح کے نشانوں سے تم پر ثابت کر دیا کہ یہ سلسلہ جو قائم کیا گیا ،اُس کا سلسلہ ہے۔ سو اے مسلمانوں کی ذریت! خداتعالیٰ کے کاموں کی بے حرمتی مت کرو۔‘‘ پس آپؑ نے دُنیا کو تنبیہ کی کہ خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے سے لڑائی مت کرو۔ جب اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تو وہ مدد اور نصرت بھی فرماتا ہے نشانات بھی دکھاتا ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے پُرشوکت الفاظ میں فرمایا ہے کہ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زورآور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ حضور انور نے فرمایا: پس آج دو سو سے اُوپر ممالک میں پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپؑ کی سچائی دُنیا پر ظاہر فرماتا چلا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپؑ کے مشن کو پھیلانے میں حصہ دار بنائے اور ہمارے ایمان و ایقان کو مضبوط کرے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

کرونا وائرس بیماری کے بارے میں احتیاطی تدابیر

حضور انور نے وباء کروناوائرس کے بارے میں دُنیا داروں کے تبصرے اور تجزیے پیش کئے اور فرمایا:پس اس وائرس نے دُنیا کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ خدا کی طرف رجوع کریں لیکن حقیقی خدا اور زندہ خدا تو صرف اسلام کا خدا ہے جس نے اپنی طرف آنے والوں کو راستہ دکھانے کا اعلان فرمایا ہے۔ ایک قدم بڑھانے والوں کو کئی قدم بڑھ کر ہاتھ پکڑنے، اپنی پناہ میں لینے کا اعلان فرمایا ہے پس ان حالات میں ہمیں جہاں اپنے آپ کو سنوارنے، اپنی تبلیغ کو مؤثر رنگ میں کرنے کی ضرورت ہے وہاں دُنیا کو اسلام کے بارے میں پہلے سے بڑھ کر متعارف کرانے کی ضرورت ہے اور پھر ہر احمدی کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دُنیا کو بتائے کہ اگر اپنی بقاء چاہتے ہو، اپنے بہتر انجام چاہتے ہو تو اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچانو کہ آخری زندگی کا انجام جو ہے وہی اصل انجام ہے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اس کی مخلوق کے حق ادا کرو۔

حضور انور نےفرمایا:کرونا کی وباء کے بارے میں پہلے ہی مَیں ہدایت دے چکا ہوں یاددہانی بھی کروا دوں کیونکہ اب یہ تمام دُنیا میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہاں بھی اس کا اثر بہت زیادہ ہو رہا ہے۔ اب حکومت بھی اس بات پہ مجبور ہو گئی ہے کہ زیادہ سخت اوربڑے اقدامات اٹھائے۔ جب بیماریاں آتی ہیں ،وبائیں آتی ہیں تو ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ اس لئے ہر ایک کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔ بڑی عمر کے لوگ گھروں سے کم نکلیں اور یہی حکومت کا اعلان بھی ہے ۔مسجد میں آنے میں بھی احتیاط کریں۔ جمعہ بھی اپنے علاقے کی مسجد میں پڑھیں ۔اپنے جسم کی قوت مدافعت بڑھانے کے لئے اپنے آرام پہ بھی توجہ دینی چاہئے۔ اس کے لئے اپنی نیند کو پورا کرنا چاہئے، خود بھی اور بچے بھی ۔ایک بڑے آدمی کے لئے چھ سات گھنٹے کی نیند ہے بچے کے لئے آٹھ نو گھنٹے یا دس گھنٹے کی نیند ہے۔ اس طرف توجہ دینی چاہئے ۔ پھر بازاری چیزیں کھانے سے بھی پرہیز کریں۔ ان سے بھی بیماریاں پھیلتی ہیں خاص طور پر یہ جو چپس وغیرہ کے پیکٹ ہیں یہ بچوں کو کھانے کے لئے لوگ دے دیتے ہیں ، یہ خطرناک ہیں صحت کے لئے ان سے پرہیز کرنا چاہئے یہ بھی انسانی جسم کو کمزور کرتے جاتے ہیں آہستہ آہستہ۔

پھر یہ بھی ڈاکٹر آجکل کہتے ہیں کہ پانی بار بار آج کل پینا چاہئے ۔ ہاتھوں کو صاف رکھنا چاہئے، اگر سینیٹائزر نہیں بھی ملتے تو ہاتھ دھوتے رہیں اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کم از کم پانچ دفعہ وضو کرنے والے جو ہیں ان کو صفائی کا موقع مل جاتا ہے اس طرف توجہ کریں۔ چھینک کے بارے میں پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں مسجدوں میں بھی اور عام طور پر بھی اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے بھی رومال ناک پر رکھ کے یا بازو اپنا سامنے رکھ کے اس پہ چھینکیں تا کہ ادھر ادھر چھینٹے نہ اڑیں۔ بہرحال صفائی بہت ضروری ہے اور اس کا خیال رکھنا چاہئے لیکن آخری حربہ دُعا ہے اور یہ دُعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے شر سے بچائے۔ ان تمام احمدیوں کے لئے بھی خاص طور پر دُعا کریں جو اس بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں کسی وجہ سے یا ڈاکٹروں کو شک ہے کہ ان کو بھی یہ وائرس ہے یا کسی بھی اور بیماری میں مبتلا ہیں سب کے لئے دُعا کریں۔ عمومی طور پر ہر ایک کے لئے دُعا کریں اللہ تعالیٰ دُنیا کو اس وبا ءکے اثرات سے بچا کے رکھے جو بیمار ہیں انہیں شفائے کاملہ عطا فرمائے اور ہر احمدی کو شفاعطا فرمانے کے ساتھ ساتھ ایمان اور ایقان میں بھی مضبوطی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ