• 19 اپریل, 2021

یوں الگ گوشہ ویراں میں جو چھوڑا ہم کو

یوں الگ گوشۂ ویراں میں جو چھوڑا ہم کو
نہیں معلوم کہ کیا قوم نے سمجھا ہم کو
کل تلک تو یہ نہ چھوڑے گا کہیں کا ہم کو
آج ہی سے جو لگا ہے غمِ فردا ہم کو
ہے خدا کی ہی عنایت پہ بھروسہ ہم کو
نہ عبادت کا نہ ہے زہد کا دعویٰ ہم کو
دردِ الفت میں مزہ آتا ہے ایسا ہم کو
کہ شفایابی کی خواہش نہیں اصلا ہم کو
تجھ پر رحمت ہو خدا کی کہ مسیحا تو نے
رشتۂ الفت و وحدت میں ہے باندھا ہم کو
اپنا چہرہ کہیں دکھلائے وہ رب العزت
مدتوں سے ہے یہی دل میں تمنا ہم کو
گالیاں دشمنِ دِیں ہم کو جو دیتے ہیں تو دیں
کام لیں صبر و تحمل سے ہے زیبا ہم کو
کچھ نہیں فکر ، لگائی ہے خدا سے جب لو
گو سمجھتا ہے بُرا اپنا پرایا ہم کو
ایک تسمہ کی بھی حاجت ہو تو مانگوں مجھ سے
ہے ہمیشہ سے یہ اُس یار کا ایما ہم کو
زخمِ دل زخمِ جگر ہنستے ہیں کِھل کِھل کر کیوں
حالتِ قوم پہ آتا ہے جو رونا ہم کو
کہیں موسیٰ کی طرح حشر میں بیہوش نہ ہوں
لگ رہا ہے اسی عالم میں یہ دھڑکا ہم کو
ایک دم کے لئے بھی یاد سے کیوں تُو اترے
اور محبوب کہاں تجھ سا ملے گا ہم کو
تجھ پہ ہم کیوں نہ مریں اے مرے پیارے کہ ہے تو
دولت و آبرو و جان سے پیارا ہم کو
آدمی کیا ہے تواضع کی نہ عادت ہو جسے
سخت لگتا ہے برا کبر کا پتلا ہم کو
دشمنِ دین درندوں سے ہیں بڑھ کر خونخوار
چھوڑیو مت مرے مولیٰ کبھی تنہا ہم کو

(کلام محمود)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 مارچ 2021