• 6 مئی, 2021

مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو کھانے کھلاتے ہیں

حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتاہے: وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا (سورۃ الدھر :۹)۔ اور وہ کھانے کو، اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے، مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔

اس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کو اپنی ضروریات ہوتی ہیں وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے ضرورتمندوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں، آپ بھوکے رہتے ہیں اور ان کو کھلاتے ہیں۔ تھڑدلی کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ جو دے رہے ہیں وہ اس کو جس کو دیا جارہاہے اس کی ضرورت بھی پوری نہ کرسکے، اس کی بھوک بھی نہ مٹا سکے۔ بلکہ جس حد تک ممکن ہومدد کرتے ہیں اور یہ سب کچھ نیکی کمانے کے لئے کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کرتے ہیں۔ کسی قسم کا احسان جتانے کے لئے نہیں کرتے۔ اوراس کا یہ بھی مطلب ہے کہ وہ چیز دیتے ہیں جس کی ان کو ضرورت ہے یعنی اس دینے والے کو جس کی ضرورت ہے جس کو وہ خود اپنے لئے پسند کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ ذہن میں رکھتے ہیں کہ اللہ کی خاطر وہی دو جس کو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ یہ نہیں کہ جس طرح بعض لوگ اپنے کسی ضرورتمندبھائی کی مددکرتے ہیں تو احسان جتاکے کررہے ہوتے ہیں ۔بلکہ بعض تو ایسی عجیب فطرت کے ہیں کہ تحفے بھی اگر دیتے ہیں تو اپنی استعمال شدہ چیزوں میں سے دیتے ہیں یاپہنے ہوئے کپڑوں کے دیتے ہیں ۔ تو ایسے لوگوں کو اپنے بھائیوں ،بہنوں کی عزت کاخیال رکھناچاہئے۔ بہتر ہے کہ اگر توفیق نہیں ہے تو تحفہ نہ دیں یا یہ بتا کر دیں کہ یہ میری استعمال شدہ چیزہے اگر پسند کرو تو دوں ۔پھر بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم غریب بچیوں کی شادیوں کے لئے اچھے کپڑے دینا چاہتے ہیں جو ہم نے ایک آدھ دن پہنے ہوئے ہیں۔اور پھر چھوٹے ہوگئے یا کسی وجہ سے استعمال نہیں کرسکے۔ تو اس کے بارہ میں واضح ہوکہ چاہے ایسی چیزیں ذیلی تنظیموں، لجنہ وغیرہ کے ذریعہ یا خدام الاحمدیہ کے ذریعہ ہی دی جا رہی ہوں یاانفردی طورپر دی جارہی ہوں تو ان ذیلی تنظیموں کو بھی یہی کہا جاتاہے کہ اگر ایسے لو گ چیزیں دیں تو غریبوں کی عزت کا خیال رکھیں اور اس طرح، اس شکل میں دیں کہ اگر وہ چیز دینے کے قابل ہے تو دی جائے۔ یہ نہیں کہ ایسی اُترن جو بالکل ہی ناقابل استعمال ہووہ دی جائے۔ داغ لگے ہوں ،پسینے کی بو ُ آرہی ہو کپڑوں میں سے۔ تو غریب کی بھی ایک عزت ہے اس کا بھی خیال رکھناچاہئے۔ اور ایسے کپڑے اگر دئے جائیں تو صاف کروا کر، دھلا کر، ٹھیک کرواکر،پھر دئے جائیں ۔ اور جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا ہماری ذیلی تنظیمیں بھی، لجنہ وغیرہ بھی دیتی ہیں کپڑے تو جن لوگوں کو یہ چیزیں دینی ہوں ان پر یہ واضح کیاجاناچاہئے کہ یہ استعمال شدہ چیزیں ہیں تاکہ جو لے اپنی خوشی سے لے۔ ہرایک کی عزت نفس ہے، مَیں نے جیسے پہلے بھی عرض کیا ہے اس کا بہت خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور بہت خیال رکھنا چاہئے۔

(خطبۂ جمعہ فرمودہ 12 ستمبر 2003ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اپریل 2021