• 6 مئی, 2021

اسلام اور مسلمان

چند روز قبل مکرم سید شمشاد احمد ناصر۔ امریکہ سے فون پر بات ہو رہی تھی باتوں باتوں میں مسلم ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے اخلاق روبہ زوال ہونے کا ذکر ہوگیا۔ آپ نے مجھے بتا یا کہ میں نے کسی عیسائی سکالر کا یہ فقرہ پڑھ رکھا ہے کہ ’’مغربی ممالک میں اسلام ہے اور مسلم ممالک میں مسلمان ہیں۔‘‘

اس پر خاکسار نے جب اپنی پُرانی یادوں کو چھیڑا اور مغربی ممالک میں مختلف اوقات میں اپنے قیام کے دوران مغربی دنیا کو پڑھا ۔اس کو کھنگالا۔ اس کی جگالی کی تو بہت سی باتیں ذہن میں آئیں۔ خاکسار آج اپنی روزمرّہ سیر کے دوران سڑک عبور کرنے لگا تو مجھے ایک بائیسکل آتی نظر آئی جس پر ایک شخص تیز تیز سائیکلنگ کر تا میری طرف بڑھ رہا تھا۔ اس نے مجھے دیکھ کر ہاتھ کے اشارے سے سڑک عبور کرنے کو کہا۔ میں نے اُسے کہا کہ you first۔ کہنے لگا Are you sure۔ میں نے کہا yes اس پر وہ گزرا۔ ٹریفک کا نظام اتنا عمدہ ہے جس میں ہر شخص بادب لگتا ہے۔ آپ اگر کسی کو راستہ دیں تو وہ ہاتھ اٹھا کر شکریہ ادا کر کے جاتا ہے۔ دوسروں کے حقوق کا اس قدر خیال رکھا جاتا ہے کہ انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کاش! یہ اسلامی ممالک میں ہو۔ دیہاتی علاقوں میں جہاں سٹرکوں کی چوڑائی تھوڑی کم اور چھوٹی ہوتی ہے۔ وہاں کاروں کی لائنیں لگی نظر آتی ہیں۔ مگر مجال کوئی کسی کو cross کرے۔ اگر آگے گھوڑ سوار یا سائیکلسٹ گزر رہا ہے تو ان کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اگر کسی جگہ کار کے گزرنے کا راستہ ہے تو ہر دو کی کوشش ہو گی کہ پہلے سامنے والا گزر جائے۔ جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ اگر head lights دے دیں تو مطلب یہ کہ مجھے گزرنے دو تم جاؤ بھاڑ میں۔ اگر کسی کو راستہ دے بھی دیں تو وہ بجائے شکر گزار ہونے کے بُرا بھلا کہہ کر جاتاہے۔

ہمارے ممالک میں لائن بنانے کا تصّور ہی نہیں۔ مگر وہی لوگ جب مغربی دنیا میں land کرتے ہیں تو فوری لائن میں لگ جاتے ہیں۔ باہر نکلیں تو ہر دوسرا بندہ آپ کو Hi یا Hello کہہ کر greet کرتا ہے۔ گندگی نظر نہیں آتی۔ ایسے علاقے جہاں مسلمانوں کی بہتات ہے میں گندگی بھی ملے گی اور ٹریفک اصولوں میں ڈنڈی مار تے بھی نظر آئیں گے۔ مجھے جرمنی سے ایک احمدی خاتون نے بتایا کہ ایک جرمن بچی بعمر 12سال پلاسٹک والی تیل کی بوتل کر ڈٹرجنٹ سے صاف کر کے کوڑے میں پھینکتی تھی۔ تا کوڑا اُٹھانے والوں کو مشکل درپیش نہ ہو۔ حالانکہ یہ سار ا میٹریل ری سائیکل ہو جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں گھر کا تمام کوڑا کرکٹ باہر سڑک پر لا کر ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ ممالک law biding ممالک ہیں Thanks کہنے کا بہت رواج ہے۔ ہماری احمدی مجالس اور gatherings میں ہر طرف سے جزاک اللہ‘ جزاک اللہ کی آوازیں بلند ہوتی سنائی دیتی ہیں۔

مجھے چند روز قبل covid 19 کی ویکسین لگوانے کے لئے Farnham Hospital جانے کا موقع ملا۔ ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے جو انتظام تھا وہ تو مثالی تھا ہی مگر مجھے جس بات نے متاثر کیا وہ ہر بندے کا دوسرے کے حقوق کا پاس کرنا تھا۔

مجھے ایک دوست نے بتا یا کہ میرے گھر میں ایک پلمبر کام کرنے کے لئے آیا۔ drill کرتے ہوئے گیس کا پائپ damage ہو گیا۔ اس نے اپنی کمپنی کو فون کے ذریعہ inform کر کے پلمبر کو بلوایا۔ پلمبر کو آتے دو گھنٹے سے زائد کا وقت بیت گیا۔ وہ کاریگر جب تک پلمبر نہیں آیا اسی جگہ موجود رہا تا گیس کی leakage سے کوئی زیادہ نقصان نہ ہو جائے۔ پھر پلمبر نے اپنا کام مکمل کر کے کہا کہ میں نے عارضی طور پر اس کو درست کر دیا ہے۔ فلاں دن بڑا پلمبر آکر پوری مرمت کر دے گا۔ معین وقت پر بڑے پلمبر نے آکر کام مکمل کیا اور کہا کہ فلاں دن پینٹر آکر متاثرہ حصے پر وائٹ واش کر دے گا۔ چنانچہ پینٹر نے بھی اپنا کام خوش اسلوبی سے کر کے کہا کہ اگر تین ماہ میں پینٹ کی رنگت بدل جائے تو مجھے فون کر دیں۔ چنانچہ سارے کام وقت پر ہوئے۔ اور ہمارے ہاں لیکٹریشن ہو ’پلمبر ہو‘ گاڑی کا مکینک ہو یا وائٹ واشر ہو۔ کام شروع کرنے کے بعد کئی کئی دن تک کے لئے غائب ہو جاتے ہیں۔ اور موبائل پر رابطہ کریں تو اول فون اُٹھاتے نہیں اگر اٹھا لیں تو جواب ملتا ہے میں ا س وقت out of city ہوں۔ حالانکہ وہ شہر میں ہی ہوتا ہے۔

اخلاقیات کو دیکھیں تو وہ مسلسل انحطاط و زوال کا شکار ہیں۔ آنحضور ﷺ سے محبت کا اقرار بھی کرتے دکھائی دیں گے اور اظہار بھی ایسا کہ آقا و مولیٰ ﷺکے ناموس کی خاطر مرنے مارنے اور قتل کردینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر ہر وہ کام کریں گے جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی ممالک میں جھوٹ، فتنہ پر وری، قتل و غارت، بے ایمانی،یتیم کا مال کھانا، بد عہدی اور تکبر وغیرہ عام ہے۔ حج کرنے کے بعد کاروبار میں دیانت نہ برتنا اور ملاوٹ عام ہے۔ سؤر نہیں کھاتے کہ حرام ہے مگر پیسہ حرام سے کما کر اپنی تجوریاں بھر تے رہتے ہیں اور شراب بھی پی لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ فلاں دکان سے گوشت نہ خریدیں ان کا ذبیحہ کا طریق اسلامی نہیں ہے۔ میکڈونلڈ نہ جائیں ۔ سؤ ر کے ملے تیل استعمال کرتے ہیں۔ مگر حرام کی کمائی پر فخریہ انداز میں فخر کرتے ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی یہ بُرائیاں اور بدیاں عام دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جبکہ مغربی دنیا میں یہ بدیاں ،بُرائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان جیسے حالات کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر کوئی قوم اپنی حالت نہیں بدلتی تو اللہ تعالیٰ نئی قوم لے آتا ہے۔ فلسطین کے حوالہ سے پیشگوئی کے مطابق یہود دوبارہ مسلّط ہو چکے ہیں۔ لیکن توبہ مشروط ہے۔ جس کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الربع رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

’’اگر انہوں نے توبہ نہ کی اور اللہ کے بندوں کے ساتھ رحم کے ساتھ پیش نہ آئے تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں (یہود کو) فلسطین سے خود نکالے گا نہ کہ مسلمانوں سے جنگ کے نتیجہ میں اور ان کی بجائے اللہ اپنے صالح بندوں کو فلسطین کا بادشاہ بنادے گا۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو تب تک فلسطین پر غلبہ عطانہیں ہو سکتا جب تک وہ اس شرط کو پورانہ کر یں کہ اللہ کے صالح بندے بن جائیں۔‘‘

(تعارفی نوٹ سورۃ بنی اسرائیل، از قرآن با ترجمہ ص461)

ہمارےموجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بھی گزشتہ کئی خطبوں میں پاکستان اور الجزائر کے احمدیوں اور امت مسلمہ کی اصلاحی تبدیلیوں کے لئے احباب جماعت کو دعا کی تحریک کر رہے ہیں۔ اللہ تعالی امت مسلمہ پر رحم فرمائے۔ احتجاج تو تمام دنیا میں ریکارڈ کروایا جاتا ہے لیکن مغربی دنیا میں پُرامن احتجاج دیکھنے کو ملتا ہے مگر مسلمان ممالک کے بعض حصوں میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور تمام اخلاقی ضابطوں کو توڑتے ہوئےاحتجاج کرتے دیکھا جاتا ہے۔

چوری چکاری،ڈاکہ زنی اور رقوم و اموال کو بے رحمی سے تلف کرنا اور چھین کر اپنا حصہ سمجھنا روز کا وطیرہ بن چکا ہے۔ یہاں ہماری کالونی کے باہر مین روڈ پر ایک خاتون پھولوں کا کاروبار کرتی ہے۔ اور پھولوں کی ٹرے اور گملوں کو باہر قیمت لگا کر رکھ دیتی ہے اور ساتھ ایک گلہ رکھا ہوتا ہے۔ لوگ آتے اور اپنی پسند کے پھول لے کر اس کی مالیت کے برابر رقم گلے میں ڈال کر پھول لے جاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں مالک کی موجودگی میں بھی داوٗ لگا جاتے ہیں۔

آج اپنی زبوں حالی کا تذکرہ روزانہ ہی ٹاک شو اور دیگر ٹی وی کے پروگرامز میں اینکر حضرات اور مہمان اس بات کا عام اعتراف کرتے سنائی دیتے ہیں کہ ہم ترقی معکوس کر رہے ہیں ہماری اخلاقی کیفیت جو 1947ء میں تھی وہ اب 2021 میں نہیں ہے۔ ہم گراوٹ کا شکار ہیں۔ بظاہر ہماری محبت اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے بڑھی ہے لیکن اسلامی احکام پر عمل کے حوالے سے ہمارا معیار بہت نیچے جا گرا ہے ۔عدم برداشت نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسی طرح سوشل میڈیا پر عیسائیوں کی طرف سے ویڈیوتیار ہو کر دکھلائی جاتی ہیں۔ جن میں اسلامی ممالک میں اسلام کے ساتھ جو مذاق اڑایا جا تا ہے ان کا ذکر ہوتا ہے۔ شادی بیاہ کے مواقع پر بے پردگی ’ناچ اور دیگر رسومات‘ قبروں کو سجدہ گا ہ بنانا اور دیگر کئی بُرائیاں ہمارے معاشرے میں گھر بنا گئی ہیں۔ جن کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں۔

یورپین اقوام law biding ہیں۔ یہاں برطانیہ میں گھروں میں سگریٹ نوشی منع ہے۔ ہمارے پڑوس میں ایک شخص سگریٹ نوشی کر تا ہے۔ میں نے اس کو اکثر اپنے گھر سے باہر نکل کر سگریٹ پیتے دیکھا ہے۔ ہر شخص اپنی گاڑی کو proper جگہ پرپارک کرتا ہے۔ یہاں مجھے شاید ہی کسی جگہ No Parking کا بورڈ نظر آیا ہو۔ ہما رے ہاں جہاں لکھا ہو کہ یہاں گاڑی پارک کرنا منع ہے۔ وہاں گاڑی پارک کریں گے۔ جہاں لکھا ہو کہ یہاں پیشاب کرنا منع ہے وہاں پیشاب کر تے نظر آتے ہیں۔

ابھی چند روز قبل ٹرانسپیرسی ایمینسٹی نے جو سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔ اس کے پہلے 20ممالک جو کرپشن سے پاک ہیں ان میں کوئی بھی اسلامی ملک شامل نہیں اور جو کرپشن والے ممالک ہیں ان میں سے پہلے چار اسلامی ممالک ہیں۔ کہنے اور لکھنے کو تو بہت کچھ ہے۔

اس مختصر اداریے میں مغربی دنیا کے خواص بیان کرنے مشکل ہیں۔ المختصر یہ کہ خاکسار نےاپنے کسی کےہاں نومولود کی پیدائش پر (جرمنی میں مسز مبارکہ شاہین کو) لکھا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ اسے یورپ کی آلائشوں سے محفو ظ رکھے۔ جواب ملا۔ اللہ تعالیٰ یورپ کی خوبیوں اور خواص سے نوازے۔ آمین

یہی خواص اور خوبیاں مذہب اسلام کا طرّہ امتیاز ہیں۔ پس آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسلمان اپنے آپ کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ اور مزین کریں۔ انہی تعلیمات پر عمل ہی حقیقت میں سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ سے حقیقی عقیدت و پیار اور محبت نیز اطاعت یہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہ فَا تَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ

کہ اے محمد !کہہ دے کہ اگر تم مجھ سے محبت کے دعویدار ہو تو پھر پہلے میری کامل اتباع کرو تب اللہ تم سے محبت کرے گا۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اپریل 2021