• 20 جون, 2021

یہ کیسی عید ہے یاربّ

یہ وہ ہی صحن ہے جس میں نمازِ عید پڑھنی تھی
مگر اب خوں میں لت پت مسکنِ آہ وبکا ہو کر
یہ وہ ہی ہاتھ ہےجس پر حنا میں نے رچانی تھی
وہی اب خون سے رنگین ہے تن سے جدا ہو کر
مرا بازو کہاں ہے ماں؟ جسے پھولوں کے گجروں سے
بڑے ہی شوق سے اور ناز سے میں نے سجانا تھا
مرے پاؤں کہاں ہیں جن پہ چل کر کتنے چاؤ سے
مجھے بھی عید پڑھنے کے لیے مسجد میں جانا تھا
چلو چھوڑو! یہ سب کچھ ہی، مجھے بس یہ تو بتلا دو
مرے بابا کہاں ہیں ماں؟ ابھی تو تھے یہیں بیٹھے
ابھی شیرینی لینے کے لیے بازار جاتے تھے
ذرا بھیجو نا بھائی کو، کہ وہ جا کر پتہ کرلے
نہیں رک جاؤ، ڈرتی ہوں کہیں ایسا نہ ہوجائے
کہ میرا بھائی میرے بابا کی مانند کھوجائے
نجانے آج ہی کیونکر یہ آتش بازی کرتے ہیں
ابھی تو عید میں کچھ دن ہیں، گولے کیوں برستے ہیں؟
سنا تھا عید کی رنگینیوں میں سب ہی ہنستے ہیں
مگر کیوں ہر طرف سے سسکیوں کا شور برپا ہے؟
نجانے کون ظالم ہے جو بچوں کو ڈراتا ہے
مجھے انساں نہیں لگتا جو ماؤوں کو رلاتا ہے
زمینی اِن خداؤں کو ذرا جاؤ، یہ بتلاؤ
تمہارا کیا بنے گا جب مدد اللہ کی آئے گی؟
تمہاری چھین لی جائیگی چھت، تو کیا کروگے تم؟
تمہارے ہاتھ اور بازو کٹیں گے کیا کرو گے تب؟
رکو! تم کو بتاتی ہوں کہ اب انجام کیا ہوگا
تم اپنی ظلم کی پاداش میں جلتے رہوگے سب
سہارا تم نہ پاؤگے میں جب رو کر یہ پوچھوں گی
نہ جس میں باپ کا سایہ، نہ جس میں پیار کی ٹھنڈک
یہ کیسی عید ہے یاربّ؟

(سدرۃ المنتہیٰ۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 مئی 2021