• 9 اگست, 2022

پردہ تعلیم میں رکاوٹ نہیں ہے

؎ گرا تو کتنی پستی میں گرا ہے
حجاب اترا تو پھر آنچل نہ ٹھہرا

شعر آ پ نے پڑھا تو کچھ تائثر بھی لیا ہوگا۔ لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اس شعر پر جو تائثر لیا اسے دست مبارک سے خط لکھ بھیجا۔ جو،میرے لئے اعزاز ہے۔ مَیں حضوؒر کی مبارک تحریر پیش کرتی ہوں۔

؎ گرا تو کتنی پستی میں گرا ہے
حجاب اترا تو پھر آ نچل نہ ٹھہرا

ایک احمدی شاعرہ کے منہ سے کیسا سجتا ہے جس نے قیام حجاب کی راہ میں سالہا سال جا نکا ہی کی ہو چہرہ اس شعر کا بتا رہا ہے کہ یہ نہ تو کسی زاہد خشک کا کلام ہے نہ کسی بے عمل شاعرہ کا۔ بلکہ ایک باریک نظر صاحب ِ تجربہ کے دل کی پکار ہے دوسرا مصرعہ تو لاجواب ہے۔

حجاب اترا تو پھر آنچل نہ ٹھہرا

باوقار حجاب

13 مارچ 1975ء کی صبح میری پیاری امی جان کے ہارٹ فیل سے انتقال کا المناک سانحہ ہوا۔ جو واردات گزرگئی اس میں سے ایک چھوٹی سی بات اپنا اثر چھوڑ گئی۔ امی جان کا جسد خاکی چار پائی پر پڑا تھا۔ یہ وہ خاتون تھیں جس نے درویش شوہر کی جدائی میں بڑے حوصلے اور وقار سے حیا اور پردے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاری تھی۔ ہم نے ساری عمر دیکھا کہ عزیز رشتہ دار آتے امی جان اپنے سلیقے سے اوڑھے دوپٹے کو اسطرف سے آ گے کھینچ لیتیں جدھر مرد بیٹھے ہوتے اور خاطر تواضع بھی کرتیں اہم امور پر گفتگو بھی ہوتی۔ امی جان کو اپنے آٹھ بچوں کو پڑھانا، رشتے طے کرنا اور شادیوں وغیرہ کے سب کام مردانہ وار کرنے پڑے۔ اُس دلیر خاتون کی وفات پر سب اشکبار تھے تجہیز و تکفین کے بعد اب آخری بار آ پ کا پُر سکون چہرہ دیکھ رہے تھے۔ باہر چچا جان کو بھی کسی نے پیغام دیا۔ کہ منہ دیکھ لیں جنازہ اُٹھنے والا ہے۔ چچا جان نے جواب دیا ’’ہماری بھابی نے ساری عمر حجاب رکھا اب آ خری وقت میں ان کا منہ دیکھ کر ان کی روح کو بے چین نہیں کر سکتا میں ان کے لئے دعا کروں گا مگر منہ دیکھنے کی ہمت نہیں‘‘ چچا جان پھوٹ پھوٹ کر رو دئے مگر ایک مثالی پردے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ ایک مثال امی جان نے قائم کی تھی اور ایک مثال ہمارے چچا جان نے قائم کی۔ اللہ تعالیٰ دونوں کے درجات بلند فر مائے۔ آمین۔

پردہ اور حصول تعلیم وعزت

یونیورسٹی اور ینٹل کالج کی راہداریوں، لیکچر روم اور لائبریری میں کئی دفعہ آتے جاتے مذاق کا نشانہ بننا پڑا۔ بند گوبھی۔ ڈاکو اور شٹل کاک تو جیسے درودیوار بھی کہنے لگے تھے۔ داخلہ ہوا تو کلاس میں کئی لڑکیاں برقعے میں نظر آئی تھیں مگر رفتہ رفتہ کایا پلٹتی گئی برقعہ کا تو ذکر ہی کیا شلوار وں کی جگہ جینز اور قمیصیں مختصر ہوتی گئیں۔

کچھ نہ کچھ یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم برقع والے بیوقوف نظر آتے ہونگے۔ دوسرے یہ کہ ہم نصابی سر گر میوں میں پوری طرح حصہ نہیں لے سکتے یہ خیالات آ ئے ضرور تھے مگر جواب بھی ساتھ ساتھ ملتے گئے وہ جنہوں نے پردہ چھوڑا تھا مختلف سکینڈلز کا موضوع بننے لگیں اور تعلیم میں بھی بہت نمایاں نہ ہوئیں اس کا اندازہ ایک ایسے واقعے سے بھی ہوا ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں سیمینارز ہوتے تھے مضمون پڑھنے والے کو بعد میں سوالات کے جوابات بھی دینے ہوتے تھے جب میری باری آئی تو میں نے بہت محنت سے لکھا ہوا مضمون اپنے پرو فیسر محترم وقار عظیم صاحب کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ خود پیش نہیں کروں گی۔ اپنے پرنسپل ڈاکٹر سید عبداللہ شاہ صاحب سے مشورہ کرکے مجھے کہا کہ ٹھیک ہے ہم کسی اور سے پڑھوا دیں گے مگر آپ موجود رہیں۔ سیمینار والے دن کھچا کھچ بھرے ہال میں پروفیسر صاحب نے مضمون کا بہت اچھا تعارف کروانے کے بعد اعلان کیا کہ یہ مضمون امۃ الباری نے لکھا ہے مگر اس کو۔۔ صاحب پیش کریں گے تو ہال سے اعتراض ہوا کہ جب مضمون نگار موجود ہیں تو وہ خود کیوں پیش نہیں کرتیں ؟ سب میری جانب دیکھنے لگے کہ میں کیا جواب دوں گی مجھ سے پہلے وقار صاحب کھڑے ہوگئے اور جواب دیا کہ ’’ہمیں فخر ہونا چاہئے کہ ایک بچی پورے۔۔۔ پردے کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ آپ اس بات پر اعتراض کے بجائے یہ دیکھیں کہ مضمون کس قدر عمدہ لکھا ہے۔‘‘ مجھے اس واقعہ سے کافی تقویت ملی، برقع اچھا لگنے لگا۔ پہلا تعلیمی سال پورا ہونے پر نظارت تعلیم ربوہ کی طرف سے کار کردگی کی رپورٹ طلب کی گئی تو پر نسپل صاحب کی طرف سے جانے والی رپورٹ میں ایک جملہ یہ تھا کہ ’’ہمارے شعبہ کے سب اساتذہ اس طالبہ کی تحقیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کی تعریف میں رطب اللسان ہیں‘‘ پردہ سے کسی جگہ رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی محنت کرنا عادت ہے اور پڑھنا جنون، بہت سی لائبریریوں کے ریڈنگ روم میرا ٹھکانا ہوتے۔ ایک اور خوشی کی بات بتا دوں کہ ایک دن محترم وقار عظیم صاحب نے فر مایا میرے آفس میں آنا کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ موصوف میرے فائنل کے مقابلہ میں میرے خصوصی ٹیوٹر تھے جس سے باپ بیٹی جیسی بے تکلفی سے بات کر سکتے تھے۔ میں گئی تو آپ نے فر مایا کہ ’’سوچ رہا ہوں کہ طالبات کے لئے ایک ہوسٹل بناؤں، طالبات کو سہولت ہو جائے گی اور کچھ آمدنی میں اضافے کی صورت بھی ہوگی۔ مگر اس سلسلہ میں آپ کو میری مدد کرنا ہوگی۔‘‘ اُن کی بات سے مَیں گھبرائی مَیں تو صرف پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی تھی کسی ہوسٹل کی انتظامیہ میں شامل ہونے لاہور نہیں آئی تھی۔ مگر بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے ایک حوصلہ افزا بات کہی اور وہ یہ تھی کہ ’’مَیں چاہتا ہوں کہ آپ اپنا ہاسٹل چھوڑ کر اس ہاسٹل میں آ جائیں تا کہ آپ جیسی باپردہ حیا دار اور پڑھنے والی بچی کے وہاں رہنے سے دوسرے لوگ اپنی بچیوں کو وہاں داخل کرنے میں اطمینان محسوس کریں۔‘‘ ہوسٹل تو پتہ نہیں بنا یا نہیں مجھے یقین ہو گیا پردہ تعلیم میں رکاوٹ نہیں ہے اور عزت دیتا ہے۔ فائنل میں اللہ کے فضل سے پوزیشن کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔

دردانہ کو شکایت ہے

دُلہن بنی دردانہ بہت پیاری لگ رہی تھی رخصتی کا وقت آیا تو وہ بےتحاشہ رونے لگی کچھ دن بعد ملاقات پر مَیں نے اُس سے پوچھا کہ اُس دن کیا ہوا تھا۔ بس اتنا پوچھنا تھا کہ وہ پھر رونے لگی کچھ طبیعت سنبھلی تو کہنے لگی میں نے کسی کو نہیں بتایا مگر آپ کو اس لئے بتا رہی ہوں کہ شایدآپ اس کا کوئی حل نکالیں۔میں چھوٹی تھی جب دادی اماں سے سنا کہ وہ بچیاں جن پر غیروں کی نظر یں پڑتی ہیں ان کے چہروں پر رونق نہیں رہتی پھر امی جان بھی بات کرتی تھیں کہ کھلے منہ پھرنے والیوں پر روپ نہیں آتا میں ساری عمر پردہ کرتی رہی اور اچھی طرح پردہ کیا میرا خیال تھا مجھ پر بہت روپ آئے گا۔ شادی کا جوڑا خریدا تو گلا بہت بڑا تھا میں نے سوال اُٹھایا تو کہا گیا کہ گلا بڑا نہ ہو تو زیور نہیں سجتا۔ آستینیں بھی چھوٹی تھیں کہا گیا کہ اب ایسی ہی فیشن میں ہیں۔ دُلہن بن کر سٹیج پر بیٹھی تو تھوڑی دیر میں کئی اجنبی مرد سٹیج پر چڑھ آئے کسی کے ہاتھ میں لائٹ کسی کے پاس کیمرہ کوئی تار پکڑے ہوئے کوئی قریبی عزیز کوئی دور کا رشتہ دار اور کئی کیمرے تیز لائٹ میں رنگ رنگ کی تصویریں لے رہے تھے۔ پتہ نہیں کون کون تصویریں لے رہا تھا اور کہاں کہاں گئی ہونگی دوپٹہ بھی پنوں سے فکس کیا ہوا تھا۔ میں کچھ نہیں کر سکتی تھی ضبط کرتی رہی مگر جب رُخصتی ہونے لگی تو سارا خبط ٹوٹ گیا …. وہ پھر رونے لگی مَیں نے اُسے تسلی دی کہ تم معصوم ہو تم پر بہت روپ آیا تھا قصور ہمارا ہے جو ساری عمر پردہ کرواتے ہیں پھر ایک دن میک اپ کروا کر سر عام بٹھا دیتے ہیں۔ میں دردانہ کی شکایت لکھ رہی ہوں۔ ضرور غور کیجئے گا کس کا قصور ہے ہم نے دردانہ سے دُلہن بننے کی خوشی کیوں چھینی؟

یہ مسئلہ مینا نے حل کیا

میرے ملنے جلنے والیوں میں ایک شہلا ہے جو کبھی کبھی بڑی مشکل سے وقت نکال کر میرے پاس آتی ہے اور رو رو کر اپنے دکھ بیان کرتی ہے۔ میری بہو مینا چائے پانی دے کر کمرے سے چلی جاتی ہے تا کہ وہ دل کھول کر باتیں کر سکے۔ اس کے مسائل میں سر فہرست میاں کی بے توجہگی ہے‘‘ وہ مجھے نوکرانی سمجھتے ہیں، سب سے ہنس کر بات کرتے ہیں مجھے دیکھ کر ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں ابھی کل کی بات ہے …. ’’میں شہلا کی ساری شکایت نہیں لکھتی۔ ہر دفعہ میں اس کی باتیں سن کر مزید صبر مزید عاجزی سے دل جیتنے کے مشورے دیتی۔ ایک دن اسے بازار جانا تھا مجھے بھی کچھ کام تھا کہنے لگی آپا میں آپ کو ساتھ لے جاؤں گی۔ شہلا آئی ہلکا پھلکا میک اپ کیا ہوا بہت ترو تازہ لگ رہی تھی۔ یہ بات مینا نے بھی محسوس کی کہنے لگی آ نٹی گھر میں کتنی سادہ رہتی ہیں ذرا سے میک اپ نے آپ کو فریش کر دیا ہے اس بات سے مجھے شہلا کے مسئلے کا حل مل گیا۔ میں نے اُسے مشورہ دیا کہ تمہیں بنا سنورا دیکھنے کا پہلا حق تمہارے شوہر کا ہے گھر سے باہر بازار جاتے ہوئے میک اپ کرنا دانشمندی نہیں بازار والوں کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ ہم کیسے لگ رہے ہیں اُ نہیں پیسہ کمانے سے کام ہوتا ہے تم گھر میں بن سنور کر رہا کرو اکتائے ہوئے رہنا کسی کو اچھا نہیں لگتا وہ میری بات سمجھ گئی۔ اب جب بھی وہ خو شگوار موڈ میں اچھے نتائج بتانے آتی ہے مینا چائے میں ہمارے ساتھ شامل رہتی ہے۔

تربیت کا ایک موئثر ذریعہ

سکول کالج میں گئے تو بڑی چادر کی جگہ برقع پہنا دیا گیا یہ ایک معمول کا عمل تھا۔ ربوہ میں پلنے بڑھنے سے کوئی دوسری بات ذہن میں آئی ہی نہیں ہاں یہ ہوتا تھا کہ برقع پہن کر بچوں کی طرح بھاگنے لگتے یا نقاب ٹھیک کرنا ہی یاد نہ رہتا۔ ایسی سب لغزشوں کی اصلاح اور پردے کا سلیقہ ہمیں کس طرح آیا۔ ربوہ میں ہر بچی سب کی بچی اور ہر ماں سب کی ماں ہوتی ہے۔ راستے میں کوئی بھی خاتون ہمیں بڑے پیار سے سمجھا دیتی، بیٹی آپ کے بال نظر آ رہے ہیں بال پردے میں شامل ہیں بیٹی راستے میں زور زور سے باتیں نہیں کرتے، زور سے نہیں ہنستے، بیٹی آپ کے کوٹ کے بٹن ٹھیک سے بند نہیں۔ اب یاد آتا ہے یہ تر بیت کا کتنا موئثر ذریعہ ہے ہم نے بہت سی اچھی باتیں راہ چلتے سیکھ لیں۔ اگر ہم غلطی دیکھنے پر ماں کی سی شفقت سے بچوں کو سمجھائیں گے تو ضرور اثر ہوگا یہ بھی ممکن ہے کہ آگے سے تلخ جملہ سننے کو ملے اسی لئے میں نے لکھا ہے کہ ماں کی سی شفقت سے نصیحت کیا کریں ماں درد مند ہوتی ہے سچی خیر خواہ ہوتی ہے اور اپنے بچوں کی کمزوریوں کی تشہیر نہیں کرتی انہیں اچھالتی نہیں بلکہ خاموشی سے اصلاح کرتی ہے۔

ایسا کیوں ہوا؟ ایک سنجیدہ سی نیک سی خاتون نے ٹورانٹو میں مجھے اپنے بیٹے کے رشتے کے لئے کوئی اچھی سی لڑکی بتانے کو کہا ان کا کہنا تھا کہ اُن کی ایک ہی اولاد ہے کسی جہیز وغیرہ کی ضرورت نہیں گھر میں سب کچھ ہے بس گھر بسانے والی لڑکی ہو۔ کئی بچیاں ذہن میں آئیں لیکن میں نے سوچا دعا کر کے بتانا چاہئے اس لئے اُن سے وعدہ کر لیا کہ جلدی کوئی رشتہ بتاؤں گی۔ اگلے دن وہ پھر آ ئیں، لگتا تھا بہت روتی رہی ہیں ذرا تنہائی ملی تو بولیں کہ کل میں نے آپ سے ایک بات چھپائی تھی ضمیر پر بوجھ رہا کہ قول سدید سے کام نہیں لیا اس لئے آج بتانے آئی ہوں کہ میری ایک لڑکی بھی ہے لیکن بعض وجوہ سے اُس نے قطع تعلق کر لیا ہے۔ پھر جو کہانی محترمہ نے سنائی وہ مختصراً یوں تھی کہ نئے نئے پاکستان سے آئے تھے۔ بچوں کو سکول میں داخل کیا تو ان کے والد صاحب کا اصرار تھا کہ بچے شلوار قمیض میں سکول جائیں گے ہم اپنا طور طریق کیوں چھوڑیں بہت سمجھا بھجا کر کچھ کچھ باتیں مان گئے مگر بچی کی jeans کی خواہش پر سمجھوتا نہ کیا۔ پھر کم عمری میں سکارف پہنا دیا۔ بچی نے احتجاج کیا مگر فائدہ نہ ہوا ہمیں روز روز ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو بدلنا نہ آیا۔ بچی ضدی اور چڑ چڑی ہو تی گئی اُس کے والد صاحب بھی سخت مزاج تھے بچی نے وراثت میں سختی لی تھی بہت قسم کی بد مزگیاں ہو جاتیں۔ ایک دن اس کے والد صاحب کو علم ہوا کہ وہ سکول جا کر سکارف اتار دیتی ہے بچی کی پٹائی ہوئی اس نے گھر چھوڑ دیا پھر پتا چلا کہ وہ کسی اپارٹمنٹ میں رہتی ہے جس میں سکھ لڑکے لڑکیاں رہتے ہیں۔ پارٹ ٹائم جاب کر کے خرچ پورا کرتی ہے۔ ہم موت سے بڑے دکھ اور کرب سے گزرے ہم سے بہت سی غلطیاں ہوئیں جس کے نتیجے میں ہم نے چاند سی بیٹی کھو دی اب ہم اسے اپنی بیٹی نہیں کہتے۔ آپ یہ سب لکھ دیں کہ آہستہ آہستہ نرمی سے سمجھانے سے دل اور روح میں اُتری ہوئی بات پر عمل ہوتا ہے سختی تشدد زبردستی کام نہیں دیتی۔

لیجئے میں نے اس دُکھی خاتون کی بپتا لکھ دی ہے کاش اس سے کوئی فائدہ اُ ٹھانے اور کاش کبھی کسی کو یہ دُکھ نہ جھیلنا پڑے۔

(امۃ الباری ناصر۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 مئی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ