• 6 اگست, 2021

فرشتے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعائیں دے رہے ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اپنی رحمتیں نازل فرما رہا ہے۔ اس کے فرشتے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعائیں دے رہے ہیں، اس کے لئے رحمت مانگ رہے ہیں۔ پس جب یہ صورتحال ہے تو وہ لوگ جو مختلف حیلے اور ہتھکنڈے استعمال کر کے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کو روکنا یا کم کرنا چاہتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط الزامات لگاتے ہیں اور ہنسی اور ٹھٹھے کا نشانہ بنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہو جائیں گے وہ احمقوں کی جنت میں بستے ہیں۔ ان کی یہ سازشیں اور کوششیں اللہ تعالیٰ کے اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے اس کا حصول اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا چلا جائے گا اور اس زمانے میں تو اس مقصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے عاشق صادق کو بھیج کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کو پھیلانے کے نئے دروازے کھول دئیے ہیں۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن کو اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے اور ہر قوم کے لئے نبی بنا کر بھیجا ہے اس کی مدد کے سامان بھی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل سے خود فرما رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نہ پہلے کبھی کامیاب ہو سکے، نہ اب کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اس لئے اس کی تو ایک حقیقی مسلمان کو فکر ہی نہیں ہونی چاہئے کہ اسلام کو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو کوئی دنیاوی کوشش نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ہاں جو کام اللہ تعالیٰ نے حقیقی مسلمان کے ذمّہ لگایا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح وہ اور اس کے فرشتے اس نبی کے مقام کو اونچا کرنے کے لئے اس پر رحمت بھیج رہے ہیں تم اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے پیارے، کامل، مکمل اور آخری نبی پر بیشمار درود اور سلام بھیجو۔ پس یہ فرض ہے جو ایک حقیقی مسلمان کا ہے۔ اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کو ترقی دیتے چلے جانے والوں میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی بات کے پیچھے چلتے ہوئے بیشمار درود اور سلام ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھیجیں۔ گزشتہ دنوں فرانس میں جو حالات ہوئے اور مسلمان کہلانے والوں نے ایک اخبار کے دفتر پر حملہ کر کے جو بارہ آدمیوں کو ماردیا اس کے بارے میں گزشتہ جمعہ میں مختصر ذکر کر کے مَیں نے احمدیوں کو، افرادِ جماعت کو درود پڑھنے کی طرف توجہ دلائی تھی کہ قتل و غارت گری سے اسلام کی فتح نہیں ہو گی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکیں گے۔ نیز اس فکر کا بھی مَیں نے اظہار کیا تھا کہ اس حملے کے بدلے میں غلط ردّ عمل دکھایا جا سکتا ہے یا دکھایا جائے گا اور یہی ان لوگوں سے امید کی جا سکتی تھی۔ غلط ردّ عمل دکھا کر ان لوگوں نے بھی دوبارہ خاکے شائع کئے جو پھر ہمارے لئے مزید تکلیف کا باعث بنے اور ہر حقیقی مسلمان کے لئے تکلیف کا باعث بننے چاہئے تھے۔ اس دہشتگردی کا کیا فائدہ ہوا۔ دو تین سال پہلے جو ان اخبار والوں نے حرکت کی اور جو دب گئی تھی اس غلط حرکت کو پھر مسلمان کہلانے والوں کے غلط عمل نے ہوا دے دی۔ جو کچھ یہ اخبار پہلے کرتا رہا اس پر مغربی دنیا کے بہت سے لیڈرز نے سخت ردّ عمل دکھایا۔ اس کو سختی سے ردّ کیا اور کئی حکومتوں نے کہا کہ ہم کبھی اپنے اخباروں کو اجازت نہیں دیں گے۔ لیکن گزشتہ ہفتے کے واقعہ کے بعد بہت سے بظاہر عقل رکھنے والے اور ذمّہ دار لوگوں نے اور لیڈروں نے اس بیہودہ اخبار کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اور مختلف جگہوں سے انہیں کئی ملینز (millions) ڈالر کی امداد ملنی شروع ہو گئی۔ اس اخبار کی اشاعت جو صرف ساٹھ ہزار تھی اور کہا جا رہا تھا کہ شاید یہ اپنی موت آپ مرنے والا ہے، بالکل ختم ہونے و الا ہے اور ختم ہوجائے گا۔ مسلمان کہلانے والوں کے غلط عمل نے ایک دن کے اندر اندر، ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی اشاعت کو پانچ ملین سے اوپر پہنچا دیا۔ اور اب بعض اندازے لگانے والے یہ کہتے ہیں کہ شاید اس اخبار کو دس بارہ سال اور مل گئے ہیں جو شاید چھ مہینے بھی نہ چلتا۔

(خطبہ جمعہ 16؍ جنوری 2015ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جون 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ