• 15 اگست, 2022

ہمدردی ایک عظیم خلق ہے

اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حد درجہ ہمدردی کو اس طرح بیان فرمایا کہ
’’یعنی کیا تو اپنی جان کو اس لئے ہلاک کر دے گا کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔‘‘

(الشعراء: 4)

سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے محبت کرنے، باہم ہمدردی کرنے اور ایک دوسرے پر رحم کرنے میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جب اس کا ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے باقی سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

(صحيح مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم وتعاضدهم حديث رقم 4813)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔‘‘

(اشتہارتکمیل تبلیغ 12جنوری 1889ء)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دین کے دو ہی کامل حصے ہیں ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لیے دعا کرنا۔‘‘

(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد19 صفحہ464)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اصل بات یہ ہے کہ ہمارے دوستوں کا تعلق ہمارے ساتھ اعضاء کی طرح سے ہے اور یہ بات ہمارے روزمرہ کے تجربہ میں آتی ہے کہ ایک چھوٹے سے چھوٹے عضو مثلا انگلی ہی میں درد ہو تو سارا بدن بے چین اور بے قرار ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ٹھیک اس طرح ہر وقت اور ہر آن میں ہمیشہ اسی خیال اور فکر میں رہتا ہوں کہ میرے دوست ہر قسم کے آرام و آسائش سے رہیں۔ یہ ہمدردی اور یہ غمخواری کسی تکلف اور بناوٹ کی رو سے نہیں،بلکہ جس طرح والدہ اپنے بچوں میں سے ہر واحد کے آرام و آسائش کے فکر میں مستغرق رہتی ہے خواہ وہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح میں للّٰہی دلسوزی اورغمخواری اپنے دل میں دوستوں کے لئے پاتا ہوں اور یہ ہمدردی کچھ ایسی اضطراری حالت پر واقع ہوئی ہے کہ جب ہمارے دوستوں میں سے کسی کا خط کسی قسم کی تکلیف یا بیماری کے حالات پر مشتمل پہنچتا ہے تو طبیعت میں ایک بے کلی اور گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے اور ایک غم شامل حال ہو جاتا ہے…چونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی ہستی ایسی نہیں جو ایسے ہموم اور افکار سے نجات دیوے۔اس لئے میں ہمیشہ دعاؤں میں لگا رہتا ہوں اور سب سے سے مقدم دعا یہی ہوتی ہے کہ میرے دوستوں کو ہموم اور غموم سے محفوظ رکھے کیونکہ مجھے تو ان کے ہی افکار اور رنج غم میں ڈالتے ہیں۔‘‘

(انفاخ قدسیہ صفحہ101-102)

آپؑ نے فرمایا: ’’وہ دین دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو۔ اور نہ وہ انسان انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ہمارے خدا نے کسی قوم سے فرق نہیں کیا۔‘‘

(روحانی خزائن جلد23 صفحہ439)

آپ فرماتے ہیں: ’’یہ ایک یقینی بات ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندر اپنے ابنائے جنس کے لیے ہمدردی کا جوش نہیں پاتا،وہ بخیل ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ93)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یاد رکھو ہمدردی تین قسم کی ہے:
’’اول جسمانی؛ دوم مالی؛ تیسری قسم ہمدردی کی دعا ہے۔ جس میں نہ صرفِ زر ہوتا ہے اور نہ زور لگانا پڑتا ہے اور اس کا فیض بہت ہی وسیع ہے کیونکہ جسمانی ہمدردی تو اس صورت میں ہی انسان کر سکتا ہے جبکہ اس میں طاقت بھی ہو۔ مثلا ایک ناتواں مجروح مسکین اگر کہیں پڑا تڑپتا ہو تو کوئی شخص جس میں خود طاقت اور توانائی نہیں ہے کب اس کو اٹھا کر مدد دے سکتا ہے اسی طرح پر اگر کوئی بیکس و بے بس ؛بے سرو سامان انسان بھوک سے پریشان ہو تو جب تک مال نہ ہو اس کی ہمدردی کیونکر ہو گی مگر دعا کے ساتھ ہمدردی ایک ایسی ہمدردی ہے کہ نہ اس کے واسطے کسی مال کی ضرورت ہے اور نہ کسی طاقت کی حاجت بلکہ جب تک انسان انسان ہے وہ دوسرے کے لئے دعا کر سکتا ہے اور اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اس ہمدردی کا فیض بہت وسیع ہے اور اگر اس ہمدردی سے انسان کام نہ لے تو سمجھو بہت ہی بڑا بد نصیب ہے‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ352-353)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’جماعت میں خدمت خلق اور بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے جتنا زور دیا جاتاہے اور ہر امیر غریب اپنی بساط کے مطابق اس کوشش میں ہوتاہے کہ کب اسے موقع ملے اور وہ اللہ کی رضاکی خاطرخدمت خلق کے کام کو سرانجام دے۔ کیوں ہر احمدی کا دل خدمت خلق کے کاموں میں اتنا کھلاہے؟ اس لئے کہ اسلام کی جس خوبصورت تعلیم کو ہم بھول چکے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت چاہتے ہوتو پھر اس کی مخلوق سے اچھا سلوک کروان کی ضروریات کا خیال رکھو۔ یہ بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب سے نوازے گا۔اس خوبصورت تعلیم کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی شرائط بیعت کی ایک بنیاد ی شرط قرار دیاہے کہ میرے ساتھ منسلک ہونے کے بعد اپنی تمام تر طاقتوں اور نعمتوں سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی نہ صرف ہمد ردی کرو بلکہ ان کو فائدہ بھی پہنچاؤ۔ اس لئے اگر زلزلہ زدگان کی مدد کی ضرورت ہے تو احمدی آگے ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کی ضرورت ہے تو احمدی آگے ہے۔ بعض دفعہ تو ایسے مواقع بھی آئے کہ پانی کی تند و تیز دھاروں میں بہہ کر احمدی نوجوانوں نے اپنی جانوں کو توقربان کردیا لیکن ڈوبتے ہوؤں کو کنارے پر پہنچا دیا۔ پھر خلیفہ ٔوقت نے جب یہ اعلان کیاکہ مجھے افریقہ کے غریب بچوں کی تعلیم اور بیماریوں کی وجہ سے دکھی مخلوق جنہیں علاج کی سہولت میسر نہیں، سکول اور ہسپتال کھولنے کے لئے اتنی رقم کی ضرورت ہے تو افراد جماعت اس جذبہ کے تحت جو ایک احمدی کے دل میں دکھی انسانیت کے لئے ہونا چاہئے یہ رقم مہیا کریں اور اس پیاری جماعت کے افراد نے خلیفہ ٔوقت کےاس مطالبہ پر لبیک کہتے ہوئے اس سے کئی گنازیادہ رقم خلیفہ ٔ وقت کے سامنے رکھ دی جس کا مطالبہ کیا گیاتھا۔ اورپھر جب خلیفہ ٔوقت نے یہ کہا کہ یہ رقم تو مہیاہو گئی اب مجھے ان سکولوں اور ہسپتالوں کو چلانے کے لئے افرادی قوت کی بھی ضرورت ہے تو ڈاکٹر ز اور ٹیچرز نے انتہائی خلوص کےساتھ اپنے آپ کو پیش کیا۔ اب تو افریقہ کے حالات نسبتاً بہترہیں۔ ستّر کی دہائی میں جب یہ نصرت جہاں سکیم شروع کی گئی تھی انتہائی نامساعد حالات تھے۔ اور ان نامساعد حالات میں ان لوگوں نے گزارا کیا۔ بعض ڈاکٹر ز اور ٹیچرز اچھی ملازمتوں پرتھے لیکن وقف کے بعد دیہاتوں میں بھی جا کررہے۔ اکثر ہسپتال اور سکول دیہاتوں میں تھے جہاں نہ بجلی کی سہولت نہ پانی کی سہولت لیکن دکھی انسانیت کی خدمت کے عہد بیعت کو نبھانا تھااس لئے کسی بھی روک اور سہولت کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کی۔ شروع میں ہسپتالوں کا یہ حال تھا کہ لکڑی کی میز لے کر اس پر مریض کو لٹایا، روشنی کی کمی چند لالٹینوں یا گیس لیمپ سے پوری کی اور جو بھی چاقو، چھریاں، قینچیاں، سامان آپریشن کا میسر تھا اس پر مریض کا آپریشن کردیا اور پھر دعا میں مشغول ہو گئے کہ اے خدا میرے پاس تو جو کچھ میسر تھا اس کا مَیں نے علاج کر دیاہے۔ میرے خلیفہ نے مجھے کہا تھاکہ دعا سے علاج کرو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ میں بہت شفا رکھے گا۔ توُ ہی شفا دے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان قربانی کرنے والے ڈاکٹروں کی قدرکی اور ایسے ایسے لاعلاج مریض شفا پاکر گئے کہ دنیا حیران ہوتی تھی۔ اورپھرمالی ضرورتیں بھی اس طرح خداتعالیٰ نے پوری کیں کہ بڑے بڑے امراء بھی شہروں کے بڑے ہسپتالوں کو چھوڑ کر ہمارے چھوٹے دیہاتی ہسپتالوں میں آ کر علاج کروانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اسی طرح اساتذہ نے بھی بنی نوع انسان کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ ڈاکٹروں اور اساتذہ کی خدمات کے سلسلے آج بھی جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ سلسلے جاری رکھے اور ان سب خدمت کرنے والوں کو اجرعظیم سے نوازتارہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 17؍اکتوبر 2003ء)

(عرفان احمد طاہر کشمیری)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جون 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ