• 19 اکتوبر, 2021

آنے والا مسیح نبی یا محض امتی؟

لفظ خاتَم اور ختم نبوت کے مفہوم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے جو غلطی آج امت مسلمہ میں موجود ہے، اس پرپردہ ڈالنے کے لئے عام طور پر مسیح موعود کی آمد کے متعلق یہ آرام سے کہہ دیا جاتا ہے کہ آنے والا مسیح نبی نہیں ہو گا بلکہ صرف ایک امتی ہوگا۔

جب بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ کا دعویٰ نبوت پیش کیا جاتا ہے تو ختم نبوت کی آیت اور اسکے غلط مفہوم کو سامنے رکھ کر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اب کوئی نبی نہیں۔ جب ایسے معترضین کے سامنے یہ رکھا جاتا ہے کہ تم بھی ایک نبی کے منتظر ہو اورحدیثوں میں مسیح کی آمد ثانی کا ذکر ہے جو کہ نبی تھے توبِلا توقف ہر کوئی یہ جواب دیتا ہے کہ وہ نبی نہیں امتی ہو کر آئیں گے اور بطور امتی ہی امت کی اصلاح کریں گے۔

اول اس حوالہ سے یہ خیال ضرور پیدا ہونا چاہیئے کہ کیا محض ایک اُمتی آدمی ساری امت کی اصلاح کر سکتا ہے؟ ایسے آدمی میں جو مسیح تھا اب محض ایک امتی ہو،ایسے امتی اور دوسرے افراد امت میں فرق کیا ہوا؟بلکہ یہ سوال تو ان سے بھی ہوگا کہ آپ صرف ایک امتی ہیں، آپ میں اور باقی افراد امت میں کیا فرق ہوا ؟ تو اس کا وہ کیا جواب دیں گے؟پھر یہ کہ ایسا شخص یہ دعوی کرے کہ میں مسیح ہوں اور اب امتی ہو کر آیا ہوں، ایسےشخص کو مانے گا کون؟

یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ کیا ایک انسان جس کو خدا تعالیٰ نبی بنائے، ہم اپنے خیال میں اور محض سچے مسیح محمدی سے بغض کی بناء پر کسی نبی کو نبوت سے ہٹا سکتے ہیں؟ کیا خدا نے انسانوں کو اختیار دیا ہے کہ ایک انسان کو وہ خود نبی بنائے اور انسان اسکونبوت کے مقام سے فارغ کردیں؟

اول اصولی طور یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ جب کوئی نعمت خدا تعالیٰ دیا کرتا ہے اسکو خدا کے علاوہ کوئی واپس نہیں لے سکتا، پھر یہ کہ اس نعمت سے انسان نے فائدہ اٹھانا ہے کہ اپنا نقصان کرنا ہے یہ بھی انسان کو ہی اختیار دے دیا۔

فرمایا:

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمۡ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعۡمَۃً اَنۡعَمَہَا عَلٰی قَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ۔

(الانفال:54)

ترجمہ: یہ اس لئے کہ اللہ کبھی وہ نعمت تبدیل نہیں کرتا جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو یہاں تک کہ وہ خود اپنی حالت کو تبدیل کر دیں۔ اور (یاد رکھو) کہ یقیناً اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔

یعنی خدا تعالیٰ جب کسی کو انعام دے گو وہ کبھی واپس نہیں لیا کرتا بشرطیہ کہ انسان اپنی حالت کو بد ل دے اور اس انعام کا حقدار نہ رہے۔ اس صورت میں وہ نعمت واپس ہو جایا کرتی ہے۔ حضرت عیسیؑ جن کو خدا نے اعلیٰ مقام عطا فرمایا اور وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ قرار دیا، نبی بنایا اور نبوت کے انعام سے نوازا، کیا نعوذ باللہ ان سے کوئی غلطی ہو گئی تھی کہ اب اگر بالفرض وہ واپس آئیں تو نبی نہ ہوں گے؟

پھر یہ سوال امت مسلمہ پر بھی ہوگاکہ بالفرض حضرت عیسیؑ آ بھی جائیں اور محض امتی ہوں اور نبوت سے انعام یافتہ نہ ہوں، تو اس امت سے کیا غلطی ہوئی کہ حضرت عیسیٰؑ بطور نبی اصلاح کے لئے نہیں آئے؟ اور کیوں خدا نے اس امت کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا جس سے نعوذ باللہ نعمت واپس لے لی، اور امت مسلمہ جسکے ساتھ انعاموں کا وعدہ ہے، اور جسکو بہترین امت کا لقب دیا، اس امت میں بغیر نبوت کے بھیج دیا اور امت کو بھی نبوت کے فیض سے محروم رکھا؟

پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰؑ کے بارہ میں بیان فرماتا ہے:

وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ

(آل عمران: 50)

ترجمہ : اور وہ رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف

قرآن کریم انکو بنی اسرائیل کا رسول کہتا ہے، اگر بالفرض حضرت عیسٰیؑ واپس آتے ہیں تو کس طرح وہ امت مسلمہ سے مخاطب ہوں گے؟ اس وقت قرآن کریم کی اس آیت کا کیا ہوگا جس میں انکو بنی اسرائیل کا رسول کہا مگر وہ آئے امت محمدیہ میں؟

قرآن کریم میں ایک اور جگہ فرمایا:

وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰٮۃِ

(سورۃ الصف:7)

ترجمہ: اور (یاد کرو) جب عیسیٰؑ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! یقیناً میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں جو تورات میں سے میرے سامنے ہے

اس آیت میں بھی حضرت عیسیٰؑ کے مخاطب بنی اسرائیلی ہی ہیں، نیز یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے تورات کی تصدیق کی۔کہیں یہ ذکر نہیں کہ آپ قرآن کریم کی تصدیق کریں گے یعنی قرآن کریم کی خدمت پر مامور ہوں گے۔ اگر واپس آتے ہی تو اسلام کی خدمت کے لئے انکے پاس قرآن کریم کا علم ہونا ضروری ہے، کیا قرآن کریم دوبارہ ناز ل ہو گا؟ یا اس وقت بھی مسلمان تورات پڑھیں گے جیسا کہ وہ تورات کی ہی تصدیق کرنے آئے نہ کہ قرآن کی۔ پھر سوال وہی کھڑا ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت کو کیا تبدیل کر دیا جائے گا اگر با لفرض حضرت عیسیؑ امت محمدیہ میں آ بھی جائیں؟

حضرت مسیح موعود ؑ نے بیان فرمایا :
’’اگر یہودی ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ کے مصداق ہو چکے ہیں اور نبوت اس خاندان سے منتقل ہو چکی ہے تو پھر یہ نا ممکن ہے کہ مسیح دوبارہ اسی خاندان سے آوے؟ اگر یہ تسلیم کیا جاویگا تو اس کا نتیجہ یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ادنی نبی مانا جاوے اور اس امت کو بھی ادنیٰ امت حالانکہ یہ قرآن شریف کے منشاء کے صریح خلاف ہے کیونکہ قرآن شریف نے تو صاف طور پر فرمایا کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ پھر اس امت کو خیر الامۃ کی بجائے شر الامۃ کہو گے؟ اور اس طرح پر آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ پر حملہ ہو گا‘‘

(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ، جلد3، صفحہ144)

حضرت مسیح موعودؑ نے کس وضاحت سے فرما دیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ در اصل یہ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ پر سوال کھڑا ہوگا، کہ کس قدر کمزور قوت قدسیہ تھی نعوذ باللہ کہ آپ کے فیضان اور قوت قدسیہ سے ایک نبی اس امت میں نہ پیدا ہو سکا بلکہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے نبی کو واپس آنا پڑے۔

یہ ایک گستاخی ہے کہ یہ امت اب نبوت کے انعام قابل نہیں اور خدا نے یہ انعام واپس لے لیا، اور حضرت عیسیٰؑ کی بھی گستاخی ہے کہ وہ نبی نہ ہوں گے محض امتی ہوں گے۔

مزید اس غلط خیال کے متعلق کہ حضرت عیسیٰ ؑ محض امتی ہو کر آئیں گے قرآن کریم کی ان آیات پر بھی غور کرنا ضروری ہے تا اس غلط خیال کو دور کیا جائے۔ ان آیات میں حضرت عیسیٰؑ کا قول خدا تعالیٰ نے محفوظ کر دیا جو نہ صرف انکے نبی ہونے پر دلالت کرتا بلکہ ان آیات سے حضرت عیسیؑ کی وفات بھی ثابت ہوتی ہے۔

قَالَ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ؕ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیۡ نَبِیًّا۔ وَّ جَعَلَنِیۡ مُبٰرَکًا اَیۡنَ مَا کُنۡتُ ۪ وَ اَوۡصٰنِیۡ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ مَا دُمۡتُ حَیًّا۔

(مریم: 31تا 32)

ترجمہ: اُس نے کہا یقیناً میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ نیز مجھے مبارک بنا دیا ہے جہاں کہیں میں ہوں اور مجھے نماز کی اور زکوٰۃ کی تلقین کی ہے جب تک میں زندہ رہوں۔

اول ان آیا ت میں حضرت عیسیٰؑ کی تین خصوصیات کا ذکر ہے، نیز ان خصوصیات پہ غور کرنے کے ساتھ اَیۡنَ مَا کُنۡتُ کو مدنظر ضرور رکھنا ہو گا، یعنی ’جہاں کہیں میں ہوں‘۔

1۔ میں خدا کا بندہ ہوں (جہاں کہیں میں ہوں)

ظاہری طور پر تو گو مسلمان عیسی ؑ کو خدا نہیں سمجھتے، مگر خدائی صفات ضرور دیتے ہیں جیسے کہ آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ حالانکہ وہ کہتے ہیں میں تو خدا کا بندہ ہوں، یعنی مجھے جو حکم ہو گا کروں گا، میں ایک انسان ہوں۔ بات یہ ہے کہ آسمان پر جانے کا مطالبہ تو آنحضرت ﷺ سے بھی ہو ا تو خدا تعالیٰ نے آپ سے کیا اعلان کروایا؟

قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا۔

(بنی اسرائیل: 94)

ترجمہ: تُو کہہ دے کہ میرا ربّ (ان باتوں سے) پاک ہے (اور) میں تو ایک بشر رسول کے سوا کچھ نہیں۔

کہ ایک انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ جسمانی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سفر کرے اور خدا اس طرح کے افعال سے پاک ہےکہ ایک جسم کا روحانی وجود کی طرف سفرکرواے۔ نیز حضرت عیسیٰؑ کا اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بندہ بتانا یہ دلالت کرتا ہے کہ بطور انسان اور عبدآپ خدا کی مرضی کے خلاف نہ چل سکتے ہیں اور نہ ہی انسان میں طاقت ہے کہ خدا کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھا سکے، یعنی قدرت کے قوانین کے خلاف انسان نہیں جا سکتا اور نہ ہی مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ سکتا ہے۔

2۔ مجھے کتاب دی گئی، یعنی میرے پاس کتاب ہے (جہاں کہیں میں ہوں)

جس طرح پہلے سورۃ الصف:7 میں ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ تورات کی تصدیق کے لئے آئے نیز آپ کو انجیل دی گئی۔ غرض وہ جہاں بھی ہیں کتاب انکے ساتھ ہے، اگر بالفرض آسمان پر ہیں تو انجیل بھی ساتھ ہے، اگر واپس آئیں گے تو انجیل لے کر آئیں گے۔ اس صورت میں کیا مسلمان انجیل پڑھیں گے؟ کیونکہ فرمایا جہاں بھی ہوں کتاب میرےپاس ہے۔ اور اگر انجیل ساتھ لئے پھر رہے ہیں تو مسلمانوں کو قرآن پڑھانے کے لئے آیا قرآن کا نزول دوبارہ ہو گا؟

3۔ مجھے نبی بنایا ہے (جہاں کہیں میں ہوں)

بنی اسرائیل میں تو وہ نبی تھے، اگر آج آسمان پر زندہ ہیں تو بھی نبی ہیں، اگر واپس آئیں گے تو بھی نبی ہی ہوں گے کیونکہ وہ جہاں بھی ہیں نبوت انکے پاس ہو گی۔ سارے مسلمان انکو امتی کہنے والے ان آیات کے متعلق کیا کہیں گے؟ اور اگر انکو نبی مانتے ہیں تو پھر انکے بیان کردہ ختم نبوت کے معنیٰ نہ صرف غلط ہوں گے، بلکہ ختم نبوت کے حقیقی معنیٰ بھی غلط ثابت ہوں گے، جن کی رو سے آپ ﷺ نبیوں کے سردار اور روحانی باپ اور آخری شرعی نبی ہیں، اور آپ کی شریعت آخری ہے، اب کوئی نیا قانون نہ آئے گا، نہ تورات نہ انجیل، اور اب نبی آپ ﷺ کے فیض اور آپ کی پیروی سے پیدا ہوگا اور اس شریعت کے تابع ہوگا نہ کہ گزشتہ نبی امتی ہو کر آئے۔

پھر ان آیات میں دو احکامات کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰؑ کو دئیے گئے۔ وَ اَوۡصٰنِیۡ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ مَا دُمۡتُ حَیًّا

یعنی ’’اور مجھے نماز کی اور زکوٰۃ کی تلقین کی ہے جب تک میں زندہ رہوں‘‘۔

1۔ مجھے نماز پڑھنے کا حکم ہے (جب تک میں زندہ رہوں)

چونکہ تمام مسلمان مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ اس وقت آسمان پر زندہ موجود ہیں، اگر زندہ موجود ہیں، تو انکو زندہ ہونے کی حالت میں نماز کا حکم ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت آسمان پر کس طرف قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے ہوں گے؟اور کیا نماز با جماعت ہوتی ہے یا اکیلے؟ اگر باجماعت ہوتی ہے تو اور کونسے انسان آسمان پر زندہ موجود ہوں جو نماز ساتھ پڑھتے ہوں گے؟ پھر نماز کے اوقات کا تعیّن کیسے ہوتا ہوگا؟

2۔ مجھے زکوٰۃ دینے کا حکم ہے (جب تک میں زندہ رہوں)

کہ آپ زندہ ہیں اور زندہ ہونے کی حالت میں زکوٰۃ دینے کاحکم ہے۔ وہاں کس کو زکوٰۃ دیتے ہوں گے؟ اس کے لئے ضروری ہے کہ اور بھی انسان وہاں موجود ہوں۔ پھر سب جانتے ہیں کہ زکوٰۃ ایک نظام کے تحت خرچ ہوتی ہے، جس سے خدا کا قائم کردہ نظام ترقی پاتا ہے نیز ضرورت مندوں کو دی جاتی ہے۔ آسمان پر ایسا کونسا نظام قائم ہوگیا جس کی ترقی کے لئے وہ زکوٰۃ دیتے ہوں گے؟ پھر کونسے ایسے ضرورت مند انسان ہیں جو ساتھ موجود ہیں جن پر زکوٰۃ خرچ کی جاتی ہو گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو عقلی طور پر پیدا ہوجاتے ہیں اگر حضرت عیسیٰؑ کو زندہ مانا جائے۔ قرآن کریم سے حضرت عیسیٰؑ کا آسمان پرجانا ثابت نہیں ہوتا، اور نہ ہی اور انسانوں کا آسمان پر جانا ثابت ہے جو یاتو ساتھ نماز پڑھتے ہوں یا نظام چلانے والے ہوں یا ایسے ضرورت مند جن پر زکوٰۃ خرچ ہوتی ہو۔

اصل مدعا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جن کی بطور امتی واپسی کی امید رکھی جاتی ہے، اول تو قرآن کریم کے مطابق وہ وفات پا چکے، اور کہیں انکی واپسی کا ذکر نہیں۔ اگر بالفرض وہ واپس آتے ہیں تو بہت سے سوالات اٹھ جاتے ہیں، نیز انکی واپسی بطور نبی ہی ہو گی، کسی انسان کے اختیار میں نہیں کہ خدا تعالیٰ کا دیا ہوا انعام واپس لے سکے۔

حضرت مسیح موعود ؑبیان فرماتے ہیں:
’’میرا بیان مسیح موعود کی نسبت جس کی آسمان سے اترنے اور دوبارہ دنیا میں آنے کی انتظار کی جاتی ہے جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میرے پر کھول دیا ہے یہ ہے کہ مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کا قرآن شریف میں تو کہیں ذکر نہیں۔ قرآن شریف تو ہمیشہ کے لئے اس کو دنیا سے رخصت کرتا ہے۔ البتہ بعض حدیثوں میں جو استعارات سے پُر ہیں مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کے لئے بطور پیشگوئی بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے ان حدیثوں کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ اس جگہ در حقیقت مسیح ابن مریم کا ہی دوبارہ آجانا ہر گز مراد نہیں ہے بلکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جو مسیح ابن مریم کا زمانہ ہمرنگ ہوگا۔ ایک شخص اصلاح خلائق کے لئے دنیا میں آئیگا جو طبع اور قوت اور اپنے منصبی کام میں مسیح ابن مریم کا ہمرنگ ہو گا اور جیسا کہ مسیح ابن مریم نے حضرت موسیٰؑ کے دین کی تجدید کی اور وہ حقیقت اور مغز توریت کا جس کو یہودی لوگ بھول گئے تھے اُن پر دوبارہ کھول دیا ایسا ہی وہ مسیح ثانی مثیل موسیٰ کے دین کی جو جناب ختم الانبیاء ﷺ ہیں تجدید کریگا اور یہ مثیل موسیٰ کا مسیح اپنی سوانح میں اور دوسرےتمام نتائج میں جو قوم پر ان کی اطاعت یا ان کی سر کشی کی حالت میں موثر ہونگے اُس مسیح سے بلکل مشابہ ہوگا جو موسیٰ کو دیا گیا تھا۔ اب جو امر کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔‘‘

(ازالۂ اوہام، روحانی خزائن جلد3، صفحہ121 تا 122)

فرمایا:
’’پھر ایک طرف تو یہ اقرار ہے کہ مسیح موعود وہی مسیح ابن مریم نبی اللہ ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی جس پر حضرت جبریل اُتراکرتا تھا جو خدائے تعالیٰ کے بزرگ پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ زمین پر آکر اپنی نبوّت کا نام بھی نہیں لے گا بلکہ منصب نبوت سے معزول ہو کر آئے گا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہو کر عام مسلمانوں کی طرح شریعت قرآنی کا پابند ہوگا۔ نماز اَوروں کے پیچھے پڑھے گا جیسے عام مسلمان پڑھا کرتے ہیں بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ حنفی ہو گا امام اعظم صاحبؔ کو اپنا امام سمجھے گا۔مگر اب تک اس بارہ میں تصریح سے بیان نہیں کیا گیا کہ چار سلسلوں میں سے کس سلسلہ میں داخل ہو گا آیا وہ قادری ہو گا یا چشتی یا سہروردی یا حضرت مجدّد سرہندی کی طرح نقشبندی۔غرض ان لوگوں نے عنوان میں نبوت کا خطاب جما کر جس درجہ پر پھر اُس کا تنزل کیا ہے کوئی قائم الحواس ایساکام کبھی نہیں کر سکتا۔‘‘

(ازالۂ اوہام، روحانی خزائن جلد3، صفحہ123)

(اسفند سلیمان احمد۔ مبلغ سلسلہ، کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جولائی 2021