• 31 اکتوبر, 2020

حشر سامانیوں کا موسم ہے

پھر وہی بارشوں کا موسم ہے
سانولے بادلوں کا موسم ہے

پھر صبا نے ہے زلف کو چھیڑا
حشر سامانیوں کا موسم ہے

ایسے ساون میں جی مچلتا ہے
جل ترنگ گھنگھروں کا موسم ہے

پھر سے جاگی ترنگ جینے کی
جل تھلوں رم جھموں کا موسم ہے

حسن اور عشق کی کہانی میں
کوندتی بجلیوں کا موسم ہے

ہنس کے کلیاں چمن میں کھلتی ہیں
پھیلتی خوشبوؤں کا موسم ہے

رنگِ برسات میں نہائی ہوئی
رنگا رنگ تتلیوں کا موسم ہے

بھیگے موسم نے درد بانٹ لیا
کیسی برکھا رتوں کا موسم ہے

دل کا ہر زخم پھر ہرا ہو گا
بھیگی بھیگی رتوں کا موسم ہے

بھیگی پلکوں نے پی لیے آنسو
یاد کے آنسوؤں کا موسم ہے

(امجد خان – سڈنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 ستمبر 2020