• 23 اکتوبر, 2020

تعارف سورۃ النمل (ستائیسویں سورۃ)

(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 94 آیات ہیں)
ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003ء
(مترجم: وقار احمد بھٹی)

وقت نزول اور سیاق و سباق

سابقہ سورۃ کے اختتام پر کفار نے آنحضرت ﷺ پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایک شاعر ہیں اور یہ کہ آپ پر اترنے والے شیطان (نعوذ باللہ) حد درجہ قابلِ تردید ہیں اور (جواباً) یہ بتایا گیا ہے کہ شیطان صرف جھوٹے گناہ گاروں اور جھوٹ گھڑنے والوں پر اترتے ہیں جو حق و باطل کو باہم ملا جلا دیتے ہیں اور یہ کہ جھوٹ کی ایسی کھچڑی جس میں کچھ سچائی کی آمیزش بھی ہو کبھی اچھے نتائج پید انہیں کر سکتی۔ گزشتہ سورۃ میں بتایا گیا تھا کہ شاعروں کا کوئی معین مقصد اور زندگی کی سمت نہیں ہوتی اور وہ ہر وادی میں سرگرداں گھومتے پھرتے ہیں اور جو بیان کرتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔ اسی مضمون کو مزید وضاحت سے بیان کرنے کے لئے اس سورۃ میں بڑی تحدی کے ساتھ یہ بیان کیا گیاہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وحی متلو ہے۔ یہ انسانی زندگی کے جملہ روحانی امور کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس (روحانیت) کے اصولوں کو بڑے مضبوط اور مؤثر دلائل سے بیان کرتا ہے۔حضرت ابنِ عباسؓ اور حضرت ابنِ زبیرؓ کے مطابق یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ دیگر مسلمان علماء بھی اس رائے کی حمایت کرتے ہیں۔

مضامین کا خلاصہ

گزشتہ سورۃ کا آغاز حروف مقطعات (طسم)سے ہواتھا جبکہ اس سورۃ کا آغاز ط، س سے ہوا ہے اور م کا حرف محذوف کر دیا گیا ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اس سورۃ میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ، گزشتہ سورۃ کے مضامین کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس سورۃ کا آغاز حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک رؤیا سے ہوا ہے جس میں آپ نے ایک الٰہی تجلی کا مشاہدہ کیا۔ بعد ازاں حضرت سلمان اور حضرت داؤد علیھما السلام کا تفصیلی ذکر ہے۔ جن کے دور میں بنی اسرائیلیوں کی فتوحات، طاقت، دنیاوی شان و شوکت عروج پر تھی۔

اس کے بعد اس سورۃ میں دو بنیادی اور اہم ترین مذہبی عقائد کا تفصیلی ذکر ہوا ہےجن میں ہستی باری تعالیٰ اور حیات بعد الموت شامل ہیں۔ پہلے عقیدہ کی تفصیل میں اس سورۃ میں قانونِ قدرت اور فطرت نیز انسان کے باطن اور اسکی ساری زندگی سے دلائل دئے گئے ہیں۔ اس حوالہ کے بعد کہ خدا کی عظیم طاقتیں قانون قدرت میں جلوہ گر ہیں، اس سورۃ میں قبولیت دعا کو ہستی باری تعالیٰ کی دلیل کے طور پر بیان کیا گیاہے۔ پھر ایک اور لا جواب اور مسقط دلیل جو اس سورۃ میں ہستی باری تعالی ٰ کی دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا اپنے تئیں خود اپنے رسولوں اور نیک بندوں پر ظاہر کرتا ہے اور انہیں گمنام چیزوں کا علم نوازتا ہے، جس کی مثالیں ہر دور میں پائی جاتی ہیں۔

پھر اس سورۃ میں حیات بعد الموت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دیگر دلائل دینے کے بعد اس سورۃ میں ایک ناقابلِ تسخیر دلیل جو حیات بعد الموت کی دی گئی ہے وہ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ برپا ہونے والی عظیم اخلاقی اور روحانی تبدیلی ہے جو آپ ﷺ کی قوم میں واقع ہوئی۔ پھر اس دلیل کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔ یہ دلیل یوں بیان کی گئی ہے کہ عرب لوگ اپنے مستقبل کے حوالہ سے بالکل مایوسی کے عالم میں تھے۔ وہ پر غفلت ،بے حیائی کی دلدل میں لتھڑے ہوئے تھے اور آنحضرت ﷺ کے دعویٰ کو جھٹلایا اور اس بات کو بھی کہ انہیں اپنے اعمال کے بارے میں اگلے جہان میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ اخلاقی اور روحانی طور پر وہ ایک اندھی قوم تھی۔ مگر قرآن کریم کے ذریعہ ان میں ایک نئی روح پھونک دی گئی۔ وحی الٰہی عرب کی بے آب و گیاہ وادی میں نازل ہوئی اور اس میں روئیدگی پیدا ہوئی اور بہار آگئی اور ایک نئی زندگی کی روح پھونک دی گئی۔ اور اسکی تعلیمات پر عمل کے نتیجہ میں عرب کے لوگ جو قبل ازیں انسانیت کے سفلی درجہ پر تھےوہ اچانک ان کے قائد اور راہبر بن گئے۔ اس عظیم انقلاب نے یہ زبردست دلیل مہیا کی ہے کہ خدا جو روحانی طور پر مردہ قوم کو زندہ کرتا ہے وہ جسمانی طور پر مردہ لوگوں کو بھی دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ اس سورۃ کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ خدا نے مکہ کو اپنے آخری پیغام کے لئے بطور مرکز کے چُنا ہے اور اسی شہر سے الٰہی نور کی کرنیں نکلیں گی اور پورے عالم کو منور کر دیں گی۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 ستمبر 2020