• 23 نومبر, 2020

اس شخص سے بھی خیانت نہ کر جو تجھ سے خیانت کرتا ہے

آج کل کے معاشرے میں میاں بیوی کی آپس کی باتیں جو اُن کی ہوتی ہیں وہ لوگ اپنے ماں باپ کو بتا دیتے ہیں اور پھر اس سے بعض دفعہ بدمزگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ ماں باپ کو خود عادت ہوتی ہے کہ بچوں سے کرید کرید کے باتیں پوچھتے ہیں۔ پھر یہی جھگڑوں کا باعث بنتی ہیں۔ اس لئے آپؐ نے فرمایا: میاں بیوی کی یہ باتیں کسی بھی قسم کی باتیں ہوں نہ ان کا حق بنتا ہے کہ دوسروں کو بتائیں اور نہ دوسروں کو پوچھنی چاہئیں اور سننی چاہئیں۔ اگر اس نصیحت پر عمل کرنے والے ہوں تو بہت سارے جھگڑے میرے خیال میں خود بخود ختم ہو جائیں۔ پھر آپؐ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو امانت لوٹا دے جس نے تم پر اعتماد کرکے تمہارے پاس امانت رکھی اور اس شخص سے بھی خیانت نہ کر جو تجھ سے خیانت کرتا ہے۔

(سنن الترمذی – ابواب البیوع- باب ما جاء فی النھی للمسلم)

یہ صرف نصیحت ہی نہیں بلکہ جیسا کہ ہم پہلے دیکھ آئے ہیں آپؐ نے کس طرح امانتیں لوٹانے کا حق ادا کیا۔

پھر ہمیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا، حضرت ابوہریرہ ؓ اس کی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں۔ جب گفتگو کرتا ہے تو کذب بیانی سے کام لیتا ہے، جھوٹ سے کام لیتا ہے۔ جب اس پر اعتماد کیا جاتا ہے تو وہ خیانت کرتا ہے۔ اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔

(بخاری- کتاب الشھادات- باب من امر بانجاز الوعد)

تو یہ بہت خوف کا مقام ہے۔ اللہ ہر احمدی کو ایسی حالت سے محفوظ رکھے۔ اور ہر ایک کو ہمیشہ سچوں، ایمانداروں اور عہدوں کی پابندی کرنے والوں میں شامل رکھے۔

ایک اور روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَّااَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَّاعَہْدَ لَہٗ یعنی جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کی پابندی نہیں کرتا، اس کا پاس نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔

(مسند احمد بن حنبل جلد3 صفحہ135 مطبوعہ بیروت)

(خطبہ جمعہ 15؍ جولائی 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اکتوبر 2020