• 23 نومبر, 2020

درود شریف کی برکت، حکمت، تعداد اور پڑھنے کے طریقے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔

پھر آپؑ اپنے ایک مکتوب میں جومیر عباس علی شاہ صاحب کو لکھا تھا، جو بعد میں بہرحال پِھر گئے تھے۔ فرماتے ہیں:
’’آپ درود شریف کے پڑھنے میں بہت ہی متوجہ رہیں اور جیسا کوئی اپنے پیارے کیلئے فی الحقیقت برکت چاہتا ہے ایسے ہی ذوق اور اخلاص سے نبی کریم کے لئے برکت چاہیں اور بہت ہی تضرّع سے چاہیں اور اُس تضرّع اور دعا میں کچھ بناوٹ نہ ہو بلکہ چاہئے کہ حضرت نبی کریم سے سچی دوستی اور محبت ہو اور فی الحقیقت روح کی سچائی سے وہ برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مانگی جائیں کہ جو درود شریف میں مذکور ہیں۔ …… اور ذاتی محبت کی یہ نشانی ہے کہ انسان کبھی نہ تھکے اور نہ کبھی ملول ہو اور نہ اغراضِ نفسانی کا دخل ہو اور محض اسی غرض کے لئے پڑھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خداوند کریم کے برکات ظاہر ہوں۔‘‘

(مکتوبات احمد۔ جلد اول صفحہ 535-534)

پھر ایک مجلس میں آپؑ نے فرمایا:
’’درود شریف کے طفیل …مَیں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے ہیں او رپھر وہاں جا کرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں جذب ہوجاتے ہیں اور وہاں سے نکل کران کی لاانتہاء نالیاں ہوجاتی ہیں اور بقدر حصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں۔ یقینًا کوئی فیض بدُوں وساطت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔ درود شریف کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس عرش کو حرکت دینا ہے جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے اُس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرے تا کہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔‘‘

(الحکم۔ جلد 7نمبر 8مورخہ 28؍فروری1903ء صفحہ 7)

پھر اپنے ایک خط میں تعداد کے بارے میں کہ کتنی تعداد میں پڑھا جائے یا تعداد ہونی چاہئے کہ نہیں، فرماتے ہیں بعض دفعہ تعداد بتائی بھی ہے لیکن اس میں بتایا کہ:
’’درود شریف وہی بہتر ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ کی زبانِ مبارک سے نکلا ہے۔ اور وہ یہ ہے‘‘۔ (ایک تو یہ کہ درود شریف کونسا بہتر ہے اور پھر کتنا پڑھا جائے۔ فرمایا وہی بہتر ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ کی زبانِ مبارک سے نکلا ہے اور وہ یہ ہے۔ کہ) اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰھُمَّ بارکِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ …‘‘۔

فرمایا ’’سب اقسام درود شریف سے یہی درود شریف زیادہ مبارک ہے۔ یہی اس عاجز کا وِردہے اور کسی تعداد کی پابندی ضرور نہیں۔ اخلاص اور محبت اور حضور اور تضرع سے پڑھنا چاہئے اور اُس وقت تک ضرور پڑھتے رہیں کہ جب تک ایک حالت ر قّت اور بیخودی اور تاثّر کی پیدا ہوجائے اور سینہ میں انشراح اور ذوق پایا جائے۔‘‘

(مکتوبات احمد۔ جلد اول صفحہ 526)

پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے حکم میں کیا حکمت ہے آپ فرماتے ہیں کہ:
’’اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دوسرے کی دعا کی حاجت نہیں لیکن اس میں ایک نہایت عمیق بھید ہے‘‘۔ (بڑا گہرا راز ہے) ’’جو شخص ذاتی محبت سے کسی کے لئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ بباعث علاقہ ذاتی محبت کے اُس شخص کے وجود کی ایک جز ہو جاتا ہے‘‘ (یعنی جب کسی سے ذاتی محبت ہو اور ذاتی محبت کی وجہ سے رحمت اور برکت چاہے تو اُس کا ایک حصہ بن جاتا ہے) ’’اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فیضان حضرتِ احدیّت کے بے انتہا ہیں اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے برکت چاہتے ہیں بے انتہا برکتوں سے بقدر اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے۔ مگر بغیر روحانی جوش اور ذاتی محبت کے یہ فیضان بہت ہی کم ظاہر ہوتا ہے۔‘‘

(مکتوبات احمد۔ جلد اول صفحہ 535-534)

یہ تو درود شریف پڑھنے کے طریقے ہیں۔ اب مَیں تھوڑے سے عربی کے بعض وہ اشعار پڑھتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تحریر فرمائے۔ جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور مقام اور قوتِ قدسی اور آپ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اور اُس محبت کے باوجود قوم کا آپ سے جو سلوک ہے، اُس کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ جتنے بیان مَیں نے پڑھے ہیں، ان سے سوائے محبت کے اور کچھ بھی نہیں ٹپکتا۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت آپ کے خلاف ہے۔ ان شعروں میں آپ نے کچھ یوں ذکر فرمایا۔ فرماتے ہیں:۔

لَا شَکَّ اَنَّ مُحَمَّدًا خَیْرُالْوَرٰی رَیْقُ الْکِرَامِ وَ نُخْبَۃُ الْاَعْیَانٖ

کہ بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق میں سب سے بہترین ہیں اور معزّزین میں سے برگزیدہ اور سرداروں میں سے منتخب وجود ہیں۔ فرمایا:

وَاللّٰہِ اِنَّ مُحَمَّدًا کَرِدَافَۃٍ وَ بِہِ الْوُصُوْلُ بِسُدَّۃِ السُّلْطَانٖ

کہ بخدا بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم (خدا کے) نائب کے طور پر ہیں اور آپ ہی کے وسیلے سے دربارِ شاہی میں رسائی ہو سکتی ہے۔ فرمایا:

اِنِّیْ لَقَدْ اُحْیِیْتُ مِنْ اِحْیَآئِہٖ وَاھًا لِاِعْجَازٍ فَمَا اَحْیَانِیْ

کہ بیشک میں آپ کے زندہ کرنے سے ہی زندہ ہوا ہوں، سبحان اللہ! کیا اعجاز ہے اور مجھے کیا خوب زندہ کیا ہے۔ فرمایا

یَا سَیّدِیْ قَدْ جِئْتُ بَابَکَ لَاھِفًا وَالْقَوْمُ بِالْاِکْفَارِ قَدْ آذَانِی

کہ اے میرے آقا! مَیں آپ کے دروازے پر مظلوم و فریادی بن کر آیا ہوں۔ جبکہ قوم نے مجھے کافر کہہ کر دکھ دیا ہے۔

اُنْظُرْ اِلَیَّ بِرَحْمَۃٍ وَّتَحَنُّنٍ یَا سَیّدِیْ اَنَا اَحْقَرُالْغِلْمَانٖ

تُو مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر کر۔ میرے آقا میں ایک حقیر ترین غلام ہوں

جِسْمِیْ یَطِیْرُ اِلَیْکَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا یَالَیْتَ کَانَتْ قُوَّۃُ الطَّیَرَانٖ

میرا جسم تو شوقِ غالب سے تیری طرف سے اُڑتا ہے، اے کاش مجھ میں اُڑنے کی طاقت ہوتی۔

(آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 590 تا 594)

(خطبہ جمعہ یکم فروری 2013ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اکتوبر 2020