• 30 نومبر, 2020

نالۂ خاموش

اے نالۂ خاموش خدا تجھ کو جزا دے
افلاک سے بڑھ کر عرشِ معلیٰ کو ہلا دے
اےچشمِ ستم دیدہ وہ طوفان بپا کر
جو دیدۂ سفاک کو بھی خون رُلا دے
اے دل تو لہو بن کے مری آنکھ سے ڈھل جا
چمکا ہوا رنگ رخِ آفاق اُڑا دے
اے خونِ جگر سینے میں کھول اور اُبل جا
اک جوشِ جنوں خیز رگ و پے میں رچا دے
اے عقلِ رسا اور تیرا اب نہیں کچھ کام
دیوانوں کی فہرست میں اک نام بڑھا دے
گزرا ہے جو نظروں سے وہ بھولی نہیں نظریں
گزری ہے جو دل پر اسے دل کیسے بھلا دے
خود میرے محافظ نے ہی چھینی مری دولت
یہ طرفہ ستم کیوں نہ مری جان جلا دے
رگ رگ میں تپِ غم سے لہو کھول رہا ہے
منہ تکتے ہیں حسرت سے میرے دل کے ارادے
مخلوق نے انصاف کی توقیر گھٹا دی
اللہ مرا حوصلۂ ضبط بڑھا دے
صد حیف کہ کمزور کو بے وجہ زبردست
اک تختۂ مشق ِستم و جَور بنا دے
کیا جرم ہے کیا میں نے بگاڑا ہے کسی کا
کچھ میری خطا بھی تو کوئی مجھ کو بتا دے
اک میں ہی تو دیوانۂ آئینِ وفا تھا
اللہ مجھی کو وہ غم ہوش ربا دے
آتے ہی مرا نام بدل جاتی ہے تیوری
اب کیا کہوں اللہ ان آنکھوں کو حیا دے
حق کا تو زبردست گلا گھونٹ چکا ہے
کمزور کو برداشت کی توفیق خدا دے
پاکیزگئ نفس ہے اک نعمت عظمےٰ
لیکن یہ اسی کے لئے ہے جس کو خدا دے
کل تھا تو میں وہ تھا جو ہے مشہور۔ مگر آج
جو چاہے وہ اس کا لبِ الزام بنا دے
تقصیر بھی کچھ ہے کہ نہیں اس سے غرض کیا
شائق جو سزا دینے کا ہو کیوں نہ سزا دے
یونہی سہی میں فاتحۂ خیر تو پڑھ دوں
انصاف کو گاڑا ہے کہاں کوئی بتا دے
خالی نہیں جاتیں کبھی مظلوم کی آہیں
کوئی یہ اُس انصاف کے پتلے کو بتا دے
یوسف تو اسیری میں بھی یوسف ہی رہے گا
لیکن اسے کیا کہیے جو یوسف کو سزا دے
ہے بہر سزا جرم کا اثبات بھی لازم
الزام تو جس پر بھی جو چاہے وہ لگا دے
اے وہ کہ نظر بندئ یوسف سے ہے شاداں
دنیا کو ذرا دامنِ یوسف بھی دکھا دے
رہتا ہے عیاں ہو کے ہی فرق حق و ناحق
گر کوئی اُسے کتنے ہی پردوں میں چھپا دے
اللہ رہے پاکیزگئ دامنِ یوسف
شرمندہ زلیخا ہو عزیز آنکھ جھکا دے
اے دل یہ تیری نظم تو احباب نے سن لی
اک نظم اسی دھن میں خدا کو بھی سنا دے
جو دیکھنے والے ہیں وہ یہ دیکھ لیں مختاؔر
تُو نظم پڑھے داد تجھے تیرا خدا دے

(حیات حضرت مختار صفحہ286-287)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اکتوبر 2020