• 23 نومبر, 2020

پَرْوَرِش اور تربیت کے معنوں میں لطیف فرق اور تربیت اولاد کے قرینے (قسط دوم۔ آخری)

تربیت اولاد اس قدر توجہ طلب امر ہے کہ لمحہ بہ لمحہ نیک صالح اولاد کے حصول کی طرف نہ صرف ترغیب دلائی گئی ہے بلکہ اس کے حصول کے طریق اور ذرائع بھی واضح طور پر بیان کر دیئے۔ مجھےایک بزرگ نے بتایا کہ میں اپنے گھر کی دیواروں پر بچوں کی تصاویر نمائش کی غرض سے نہیں لگاتا بلکہ اس لئے لگاتا ہوں کہ ان کو دیکھ کر اول تو اُس اللہ کا شکر ادا کرتا رہوں جس نے یہ عظیم نعمت عطا فرمائی اور دوم ان بچوں کے نیک، صالح، دیندار، خادم دین اور باعزت با روزگار ہونے کے لئے دعاؤں کا موقع ملتا ہے۔

اوپر بین السطور میں تو اُن دعاؤں کا ذکر ہوا ہے جو اولاد کے حصول کے لئے یا اس کے طلب کرنے کے لیے ہیں۔ مگر جب بیوی با امیدہو جائے تو ہماری بزرگ خواتین نہ صرف وہ تمام عرصہ دُعاؤں میں گزارتیں بلکہ پیدائش کے بعد دودھ پلاتے وقت روحانیت کی بھی Dose ساتھ کے ساتھ دیتی رہتیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے قرآن سے محبت اپنی ماں کے پیٹ کے دوران سے ہی حاصل کی ہے۔ کیونکہ آپ کی والدہ دوران حمل بکثرت قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔ میں نے اسی مضمون کو اپنی ایک کتاب میں بہت کھول کر بیان کیا ہے۔ ڈاکٹرز، حکماء اور بزرگ خواتین باامید بچیوں کو خوبصورت نظارے اور سینریز (sceneries) کو دیکھنے اور ان دنوں دودھ اور ایسی غذائیں کھانے کی ترغیب دلاتی ہیں جن سے ہونے والی اولاد خوبصورت اور صحت مندپیدا ہو۔

اگر دنیوی طور پر ایسا کرنا عورت کے پیٹ میں موجوداولاد پر اثر پذیر ہوتا ہے تو دوران حمل نیکیاں بجا لانے، نمازیں پڑھنے، تسبیح و تحمید کرنے، درود پڑھنے اور دُعاؤں کا پیٹ میں موجود اولاد پر اثر کیوں نہیں ہوگا۔ ہوتا ہے اور ضرور ہوتا ہے۔ ہماری بزرگ مائیں بچوں کو دودھ پلاتے وقت تسبیح و تحمید، تلاوت قرآن ، دروداور دعائیں بکثرت کیا کرتی تھیں تا مادی خوراک کے ساتھ روحانی خوراک سےبھی بچہ مالا مال ہو۔

پھر بچہ جب چلنے پھرنے، باتیں کرنے کے قابل ہوتا ہے تو تب بھی بچے کی تربیت کی طرف خیال رہناچاہیے۔ ہمارے معاشرے میں بالعموم جوائنٹ فیملی سسٹم (مشترکہ خاندانی نظام ) رائج ہے جس میں خاندان کے تمام افراد ایک ہی جگہ پررہتے ہیں اور بچے کو مختلف اینگل (Angle) سے جائز و ناجائز پیار بھی مل رہا ہوتا ہے ۔جو بچے کی تربیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بچہ خود بھی ان فیملی ممبر زسے باتیں اخذ کرنے کے قابل ہو چکا ہوتا ہے۔اس مشترکہ خاندانی نظام میں ممکن ہے کہ بہن بھائیوں میں سے کسی کے بچے کی تعلیم اور تربیت میں فرق رہ گیا ہو جو دوسرے بچے پر اثر ڈالتا ہے یا بچہ اس بچے سے اثر لے رہا ہوتا ہے۔ اس ناطےسے بھی بچے کی نگرانی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ صرف نگرانی بلکہ تمام شیطانی حملوں سے بچاؤ کے لیے دعائیں کرنے کی ضرورت بھی رہتی ہے ۔

خاکسار کو چونکہ پاکستان میں بڑے شہروں میں خدمت کی توفیق ملی ہے جہاں زمینوں کی خرید و فروخت اور رئیل (Real) اسٹیٹ کا کاروبار بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایک دفعہ خاکسار ایک احمدی دوست کے پاس بیٹھا تھا جو رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرتے تھے۔ میری موجودگی میں ایک متوسط طبقہ کے احمدی دوست مکان بنانے کے لئے زمین خریدنے کے لیے تشریف لائے اور 5 مرلہ کا پلاٹ کسی اچھی Location میں دکھلانے کو کہا۔ مالک رئیل اسٹیٹ نے مشورہ دیتے ہوئے اس احمدی سے درخواست کی کہ میرا مشورہ ہے کہ5 مرلہ کی بجائے کڑوا گھونٹ کرکےکم از کم 10 مرلہ کا پلاٹ خریدلیں جو آپ کے لئے اور آپ کی اولاد کے مستقبل کے لیے اچھا ہوگا۔ اس احمدی دوست نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ 5-5 مرلہ کے علاقے میں نچلے طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں جن کی اولادیں زیادہ تربیت یافتہ نہیں ہوتیں۔ لازماً آپ کے بچے وہاں ان بچوں کے ساتھ میل جول رکھیں گے۔ کھیلیں گے اور ان کی عادات کو Adopt کریں گے۔ یوں آپ بچوں کی اس طرح تربیت نہ کر پائیں گے جس طرح اسلام چاہتا ہے۔ 10 مرلہ اور ایک کنال والے حصہ میں ذرا اچھے اور اعلیٰ طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں ۔جن کے بچوں کے ساتھ میل جول زیادہ تر بُرے اثرات نہیں دکھلاتا۔ یہ تو صحبت صالحین سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

آنحضورﷺ نے بچپن میں تعلیم و تربیت کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ترغیب دلائی ہے۔ اگر گھروں میں ماں باپ نمازی ہیں توتوتلی زبان رکھنے والا بچہ بھی ٹوپی سرپر پہن کر، جائے نماز کو الٹا سیدھا بچھا کر قبلہ رخ کا خیال کئے بغیر نمازیں پڑھے گا۔ سجدہ اگر نہ بھی کرنا آتا ہو تو الٹا لیٹ جائے گا۔ آنحضورﷺ کے نواسے تو آپؐ کے کندھوں پر نماز کے دوران سوار ہوجاتے تھے۔اگر گھرانوں میں قرآن کریم پڑھنے کا رواج ہو تو بچہ عام کتاب کو پکڑ کر اس پر الٹی سیدھی ننھی سی انگلی کو چلائے گا اور ساتھ ساتھ ہونٹ بھی ہلائے گا۔ تو یہ دیکھی اور ان دیکھی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آنحضور ﷺنے ایک بچے کو جو کھانے کے درمیان ہاتھ مار رہا تھا فرمایا تھا:

كُلْ بِيَمِيْنِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ

(صحیح بخاری، کتاب الأطعمة)

اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ (یعنی برتن میں اپنے سامنے سے کھاؤ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اعلیٰ اخلاق کی تربیت ہمیشہ بچپن سے ہی ہوتی ہے اس لئے ہمیں بھی اپنے بچوں کی بچپن سے ہی تربیت کرنی چاہیے اور یہ نہیں کہ ابھی عمر نہیں آئی اس لئے تربیت کی ضرورت نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں جو بظاہر چھوٹی لگتی ہیں یہی بڑے ہوکر اعلیٰ اخلاق بنتے ہیں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 169)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جماعت کے تمام افراد کی کامل تعلیم و تربیت کے لیے افراد جماعت کو ذیلی تنظیموں میں تقسیم فرمایا۔ حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے کہ بچوں اور ناصرات کی تنظیم تربیت چاہتی ہے۔ جبکہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم کو خود اپنی تربیت کی طرف توجہ دینی ہوتی ہے۔ جبکہ انصاراللہ (اور لجنہ) کی تنظیم اپنی تربیت کی طرف توجہ کے ساتھ ساتھ جماعت کے دیگر افراد و خواتین اور دیگر تنظیموں کے ممبران کی تربیت بھی ان کے ذمہ ہے۔ (خلاصہ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

’’ان بچوں کی ایسی تر بیت کر و کہ دین کو دنیا پر مقدم کر نے کا اِدراک انہیں بچپن سے حاصل ہو جائے۔ انصار کو خود بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے اور گھر کی خواتین کو بھی اسے ذہن نشین کرواتے رہنا چاہئے۔‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی شخص کا اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنا صدقہ دینے سے زیادہ بہتر ہے۔صدقہ دینا تو بہت اچھا ہے، مگر اولاد کی تربیت سے لا متناہی سلسلہ صدقات کا شروع ہو جاتا ہے۔ اچھی تربیت والی اولاد جو آئندہ کے لئے نیکی کا موجب بنتی ہے وہ صدقہ دیتی ہے اور اس کی اولاد آگے اولاد۔ اوریہ محبت کا سلسلہ نسلاً بعد نسلِِ چلتا ہے۔پس یہ معنی ہیں کہ ایک صدقہ تم دے د و وہ تو وہیں رُک جائے گا مگر اولاد کی تربیت اچھی کرو گے تو اولاد تمہارے لئے صدقہ جاریہ ثابت ہو گی۔‘‘

اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’جو تربیت کا زمانہ ہوتا ہے اس وقت غفلت برتی جاتی ہے اور جب ہاتھ سے نکلنے لگتی ہے تو اس وقت بےبسی کی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔مومن تو آسائش کے وقت بھی خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کی نعمتوں کے شکر سے غافل نہیں ہوتے۔ اس لئے اپنی اولاد کی تربیت کی فکر کریں اور ان پر معاشرے کے غلط رنگ کبھی نہ چڑھنے دیں۔انہیں تقویٰ کے رنگوں سے مزین کریں۔ انہیں نمازوں کا عادی بنائیں روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔ان کی نیکیوں اور دین کی خدمت کی باتیں آپ کے لئے فخر کا باعث ہونی چاہئیں۔ اگر آپ متقی اور دیندا راولاد چھوڑ جائیں تو یہی وہ متاع ہے جو آخرت میں بھی آپ کے کام آئے گی…… اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور اپنی اصلاح اور اولاد کی نیک تربیت پر دھیان دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دے……آمی‘‘

(سالانہ اجتماع انصار اللہ جرمنی2011ء کے موقع پرحضور انور کا پیغام)

آخر میں آنحضور ﷺ کے قول مبارک کے ساتھ اس آرٹیکل کو ختم کرتا ہوں۔

حضرت رسول کریم ﷺ اعلیٰ تربیت یافتہ نیک اولاد کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’یقیناً آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جاتا ہے (اس کی وفات کے بعد)۔ وہ کہتا ہے میرا درجہ کیسے بلند ہو گیا؟ اسے جواب دیا جاتا ہے کہ تیرے لئے تیرے بچے کی دعا کے سبب سے(یعنی تیرے لئے تیری اولادنے دعا کی) اس وجہ سے تیرا درجہ بلند ہوا‘‘

(ابن ماجہ کتاب الادب باب برالوالدین)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اکتوبر 2020