• 23 نومبر, 2020

بچوں کی تعلیم اور والدین کی ذمہ دارایاں

سب والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے تعلیم کے میدان کے شاہسوار بنیں۔اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے وہ بچوں کو اکثر اپنی ہمت سے زیادہ وسائل بھی فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔وہ بچے کے لئے ایک بہتر سکول تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اور موجودہ رواج کے زیر اثر وہ اپنی اولادکے لئے کوئی نہ کوئی ٹیوٹر بھی تلاش کرتے ہیں۔ان کی ان کوششوں کے باوجود یہ بات سامنے آتی ہے کہ بہت سے بچوں کا رحجان تعلیم کی طرف بہت ہی کم نظر آتا ہے ۔والدین کی کوششوں میں شامل ان کا خلوص کیوں رنگ نہیں لاتا میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شاید انکی کوششوں کی سمت درست نہیں ہوتی۔ میں سمجھتا ہو ں کہ اگر طلبا ء کے والدین دل سے اس بات کے خواہش مند ہیں کہ ان کے بچے تعلیم میں واقعی نمایاں کامیابی حاصل کریں تو ان کا سب سے پہلا یہ قدم ہونا چاہیے کہ وہ ممکن حد تک بچے کے تعلیمی معاملات میں عملی طورپر دلچسپی کا اظہار کریں اور یہ ہر گز نہ سوچیں کہ صرف بچے کے اساتذہ یا ٹیوٹر ہی کلی طور پر ان کی تعلیم کے ذمہ دار ہیں۔ان کو اس معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں کو بھی بخوبی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ والدین کے دل میں یہ احساس رہنا چاہیے اور ان کو ہر وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بچے کی تعلیمی کامیابیوں کے لئے اس کے اساتذہ کرام کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی عملی شمولیت بھی ازحد ضروری ہے۔

اس سلسلہ میں سب سے پہلا کام تو یہ کیا جائے کہ بچے کے سکول اور اس کے اساتذہ کے ساتھ ایک مسلسل رابطہ قائم رکھا جائے تا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہو سکیں کہ کمرہ تدریس میں ان کے بچے کا عمومی رویہ کیا ہوتا ہے۔ اگر ان کو یہ خبر ملتی ہے کہ بچہ پڑھائی کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہا اور اپنے تعلیمی کاموں میں اس کی دلچسپی کم ہے تو سب سے پہلے والدین دوستانہ روّیہ اپناتے ہوئے گفت و شنید کے ذریعہ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کریں تاکہ اسکی راہنمائی کے لئے راستہ متعّین کرنے میں آسانی ہو اور کو یہ بھی علم ہو کہ کس پہلو پر محنت کرنے کی زیادہ ضرورت ہے ۔اگر بچے کے مسئلہ کا تعلق گھر کے ساتھ محسوس ہو تو والدین گھر میں ہی اس کا خاطر خواہ حل تلاش کریں اور اگر انہیں یہ اندازہ ہو کہ مسئلے کا تعلق سکو ل سے ہے تو وقت لے کر بچے کے استاد سے اس معاملہ پر تفصیلاً بات کی جائے۔

والدین کو چاہیے کہ جب ان کا بچہ سکول سے واپس آئے تو روزانہ بچے کی کتابیں اور کاپیاں چیک کریں اور اگر کسی کاپی پر استاد کی جانب سے کوئی ہدایت درج ہو تو اس پر عمل کروایا جائے۔ جس حد تک ممکن ہو بچے کا ہوم ورک والدین یا تعلیم یافتہ بڑے بہن بھائی خود کروائیں یا کم ا ز کم اپنے سامنے کروائیں اسطر ح بچہ یقیناً پڑھائی میں زیادہ دلچسپی لے گا اور زیادہ توجہ سے ہوم ورک کرے گا جس کے یقیناً مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ اگر ٹیوٹر کا انتظام ہے تو بھی اس کام کی ذمہ داری اس پر مت ڈالیں۔ ہوم ورک کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ بچہ سکول میں پڑھائے گئے اسباق کی اچھی طرح سے دہرائی کر لے بچے میں زیادہ سے زیادہ خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور ہوم ورک اسے خود کرنے کی ترغیب دیں۔

بچوں کی بہتر تعلیم کی خواہش کے حصول میں سب سے اہم اورضروری چیز والدین اوراساتذہ کے درمیان باہمی روابط ہیں۔اس سے اساتذہ کرام کو یہ فائدہ ہوتا ہےکہ ان کو اپنے شاگردکے بارے میں اس کے والدین سے بعض ایسی معلومات ملتی ہیں جن سے بچے کی تدریس میں خاطر خواہ اور مثبت مدد ملتی ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اساتذہ ہمیشہ ان والدین کو خوش آمدید کہتے ہیں جو اپنے بچوں کی تعلیم کے معاملات میں مثبت رویہ کے ساتھ بھرپور دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ یہ بات ہر استاد جانتا ہے کہ وہ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا ۔والدین کے تعاون سے ہی صحیح معنوں میں بچے کی زندگی او ر تعلیم کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ والدین بھی جب اساتذہ سے ملنے جائیں تو بہتر ہو گا اگر وہ بچے کے بارے میں کچھ باتیں اور کچھ سوالات لکھ کر اپنے ساتھ لے جائیں تا کہ وہ استاد کے قیمتی وقت کےضیاع کا باعث نہ بنیں اور صر ف با مقصد بات ہو۔اگر استاد بچے کی بہتری اور اصلاح کو مد ّنظر رکھتے ہوئے والدین کو کچھ قیمتی مشورے دے تو ان کونو ٹ کر لیا جائے اور ملاقات کے بعد ان مشوروں پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر والدین بچے کو زیادہ سے زیادہ اس کے استاد کی مرضی سے چلائیں گے تو پھریقیناً استاد بھی خوش ہو کر بچے پر اپنی خصوصی توجہ ضرور نچھاور کرے گا۔

اگر آپ محسوس کر رہے ہیں اور آپ کو نظر بھی آرہا ہے کہ آپ کا بچہ روز بروز پڑھائی میں کمزور ہو تا چلا جا رہا ہے تو پھر آپ کا اس کے اساتذہ سے فور ی طورپر ملنا نہایت ہی ضروری ہو جاتا ہے تا کہ بچے کے اس تعلیمی انحطاط کی وجہ بننے والے مسئلے کے سدباب کے لئے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں۔استا د کو والدین کی طرف سے یہ یقین دہانی بھی ملنی چاہیے کہ وہ اپنے شاگرد کے اس مسئلے کے حل کے لئے اکیلانہیں ہے اور وہ جب چاہے ان کو ملاقات اور مددکے لئے بلا سکتا ہے۔ ویسے ٹیچر کو ہر روز اپنے محسوسات بچے کی ڈائری پر لکھ دینے چاہیئں اور والدین اپنے بچوں کو پابند کریں کہ ڈائری پر لکھا ہوا استاد کا ہر پیغام وہ فوراً آپ کو پہنچائیں۔

والدین کو یہ بھی چاہیے کہ وہ اس با ت کے انتظار میں نہ رہیں کہ کب بچےّ کے استاد کا پیغام ملتا ہے تاکہ وہ جا کر اس کو مل سکیں بلکہ جب بھی مہینے میں ایک دو بار فرصت ہو اور موقع ملے تو سکول جا کر استاد کو مل لیا جائےتا کہ یہ بھی علم ہو سکے کہ استاد کا پیغام آپ تک پہنچانے میں آپ کے بچے نے کوئی کوتاہی تو نہیں کی۔ یہ بات آپ کے ذہن میں رہے کہ استاد سے ملاقات آپکی ڈیوٹی نہیں اور نہ ہی یہ کوئی پابندی ہے بلکہ یہ آپ کی طرف سےآپ کے بچے کے بہتر اور روشن مستقبل کی راہیں متعین کرنے کے لئے ایک اہم قدم ہے۔ استاد اپنے ہر شاگرد کا خیرخواہ ہوتا ہے اس لئے یہ یقینی بات ہےکہ ایسی ملاقاتوں میں آپ کے بچے کے اساتذہ بچے کی پڑھائی اور اخلاقی بلندی کے حصول کے لئے کچھ بہتر اور مفید مشورے آپ کے سامنے رکھیں۔

اگر آپ کسی بھی وقت بچے کے بیان کردہ حالات اور اس کے اساتذہ کرام سے ملاقات کے بعد یہ بات محسوس کریں کہ آپ کے بچے کے ساتھ کوئی ٹیچر کچھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے اور اس کا رویہ خاص طور پر آپ کے بچے کے ساتھ بہتر نہیں تو آپ کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ ٹیچر کے ساتھ اس مسئلہ پر تفصیل سے بات چیت کریں اور مسئلے کو اچھے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں اور اگرآپکو نظر آئے کہ اس طرح سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا تو پھر لازم ہے کہ اس سلسلہ میں محترم پرنسپل صاحب سے مدد حاصل کریں۔

میری ان ساری گزارشات کا مقصد صرف اور صرف طلباء کے والدین کو یہ باور کروانا ہے کہ انکے بچے کی تعلیم کی تمام تر ذمہ داری سکول اور اساتذہ کے سر ہی نہیں ہے بلکہ بچے کی پڑھائی اورتربیت کے سلسلہ میں ان کی ذمہ داریاں شاید اساتذہ کرام سے بھی زیادہ ہیں اسلئے ان کو چاہیے کہ وہ اس اہم کام کو صرف سکول ٹیچر پر ہر گز نہ چھوڑیں بلکہ ان کے ساتھ بچے کے بہتر مستقبل کی خاطر اپنی معاونت کو بھی یقینی بنائیں۔

٭…٭…٭

(مرسلہ: مکرم وحید احمد جنجوعہ صاحب)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اکتوبر 2020