• 5 دسمبر, 2021

غزل

’’مل کر بھی جب دل نہ ملیں تو لمبی چوڑی باتیں کیوں‘‘
جب ہم رنگ ہے خون تو اتنی اہم ہوئی ہیں ذاتیں کیوں

دن ان کی یادوں میں گزرے، حسن کا جلوہ آنکھوں میں
خواب میں وہ آ جائیں تو ہم جاگ کے کاٹیں راتیں کیوں

عشق جنوں ہے پھر بھی غالب کیوں رہتا ہے جیون بھر
عقل نے جب بھی دھاوا بولا، دل سے کھائیں ماتیں کیوں

لاکھ چھپاؤ عشق محبّت ظاہر ہو کر رہتے ہیں
کہتے ہو چاہا ہی نہیں پھر اشکوں کی برساتیں کیوں

صبر کا پھل شیریں جو نہیں تو کیسے آئیں روز فقیر
گھنٹوں بیٹھ کے در پر پھر وہ سن لیں یوں صلو اتیں کیوں

کچھ خاصیّت تو ہو گی جس سے اہمیّت ہے اس کی
سونے سے ارزاں ہوتی ہیں ورنہ ساری دھاتیں کیوں

سو چو! سارے حاسد کیونکر نارِ حسد میں جلتے ہیں
اور ہمارے ہر گھر میں ہیں یہ شادی کی باراتیں کیوں

یہ قانون ہوا ہے رائج طارق!آج زمانے میں
حسن کا جلوہ عاقل دیکھیں، مجنوں کھائیں لاتیں کیوں

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 نومبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ