• 8 جولائی, 2020

حضرت مصلح موعودؓ کا نوجوانوں سے پہلا خطاب

خطبہ جمعہ حضرت مصلح موعودؓ

حضرت مصلح موعودؓ کا نوجوانوں سے پہلا خطاب

نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہوں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور مامور دنیا میں قائم کرتے ہیں
اس وقت تک اس سلسلہ کا ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا

میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ
’’میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہوں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور مامور دنیا میں قائم کرتے ہیں۔ اس وقت تک اس سلسلہ کا ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا۔ بے شک ترقی ہوتی ہے۔ مگر اس طرح کہ کبھی ترقی ہوئی اور کبھی رک گئی۔ کبھی بڑھ گئے اور کبھی رخنہ واقع ہو گیا۔ اس طرح الہٰی سلسلہ پہاڑوں کی طرح اونچا نیچا ہو تا چلا جاتا ہے۔ لیکن بہرحال رخنہ بری چیز ہے۔ کوئی اچھی چیز نہیں اورہمیں اس کو جلد سے جلد دور کرنا چاہئے۔ مگر یہ رخنے آج ہم میں ہی پیدا نہیں ہوئے۔ پہلی قوموں اور پہلے زمانوں میں بھی موجود تھے۔ جن کو نظر انداز کرتے ہوئے بعض لوگ ہماری جماعت پر یہ اعتراض کردیا کرتے ہیں کہ اگر یہ الہٰی سلسلہ ہے تو اس میں فلاں نقص کیوں ہے۔ حالانکہ یہ باتیں پہلے زمانوں میں بھی تھیں….

اسلام اور احمدیت کی تعلیمات کی حقیقی روح نوجوانوں میں جلوہ گر ہو

مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ اِن چیزوں کو قائم رکھا جائے بلکہ ہمیں ان امور کی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے اور وہ اصلاح اسی رنگ میں ہوسکتی ہے کہ نوجوانوں کو اِس امر کی تلقین کی جائے کہ وہ اپنے اندر ایسی روح پیدا کریں کہ اسلام اور احمدیت کا حقیقی مغز انہیں میسر آجائے۔ اگر ان کے اندر اپنے طور پر یہ بات پیدا ہوجائے تو پھر کسی حُکم کی ضرورت نہیں رہتی۔ حُکم دینا کوئی ایسا اچھا نہیں ہوتا۔ دنیا میں بہترین مصلح وہی سمجھا جاتا ہے جو تربیت کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پیدا کردیتا ہے کہ اس کا حکم ماننا لوگوں کیلئے آسان ہوجاتا ہے اور وہ اپنے دل پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم باقی الہامی کتب پر فضیلت رکھتا ہے اور الہامی کتابیں تو یہ کہتی ہیں کہ یہ کرو اور وہ کرو مگر قرآن یہ کہتا ہے کہ اِس لئے کرو، اِس لئے کرو ۔ گویا وہ خالی حکم نہیں دیتا بلکہ اس حکم پر عمل کرنے کی انسانی قلوب میں رغبت بھی پیدا کردیتا ہے۔ تو سمجھانا اور سمجھا کرقوم کے افراد کو ترقی کے میدان میں اپنے ساتھ لئے جانا یہ کامیابی کا ایک اہم گُر ہے اور قرآن کریم نے اس پر خاص زور دیا ہے۔ چنانچہ سورۂ لقمان میں حضرت لقمان ؑ کی اپنے بیٹے کومخاطب کرکے جو نصیحتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ وَاقْصِدْ فِى مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ (آیت:20) تمہارے ساتھ چونکہ کمزور لوگ بھی ہوں گے اس لئے ایسی طرز پر چلنا کہ کمزور رہ نہ جائیں۔ بے شک تم آگے بڑھنے کی بھی کوشش کرو مگر اتنے تیز بھی نہ ہوجاؤ کہ کمزور طبائع بالکل رہ جائیں۔

حکم دو تو محبت اور پیار سے سمجھا کردو

دوسرے جب بھی تم کوئی حُکم دو محبت، پیار اور سمجھا کر دو۔ اس طرح نہ کہو کہ “ہم یوں کہتے ہیں” بلکہ ایسے رنگ میں بات پیش کرو کہ لوگ اسے سمجھ سکیں اور وہ کہیں کہ اس کو تسلیم کرنے میں تو ہمارا اپنا فائدہ ہے۔ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ کے یہی معنے ہیں۔

میانہ روی اور حکمت قومی ترقی کی روح پیدا کرنے میں ممد ہیں گویا میانہ روی اور پُرحکمت کلام یہ دو چیزیں مل کر قوم میں ترقی کی رُوح پیدا کیا کرتی ہیں اور پُرحکمت کلام کا بہترین طریق یہ ہے کہ دوسروں میں ایسی روح پیدا کردی جائے کہ جب انہیں کوئی حکم دیا جائے تو سننے والے کہیں کہ یہی ہماری اپنی خواہش تھی۔ یہی وقت ہوتا ہے جب کسی قوم کا قدم ترقی کی طرف سُرعت کے ساتھ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے مگر جب امام کچھ کہے اور ماموم کچھ سمجھے، امیر کوئی حکم دے اور مأمور اس سے کوئی مطلب لے اور سمجھنے اور سمجھانے کی کشمکش جاری رہے ۔ وہ حکم دے اور یہ کہے کہ مجھے پہلے اس کی غرض اور اس کا فائدہ سمجھادیجئے اور جب سمجھایا جائے تو کہے میری سمجھ میں نہیں آیا۔ تو ایسی صورت میں کبھی بھی قومی ترقی نہیں ہوتی۔ لیکن جب امیر اور مامور کے آپس میں ایسے تعلقات ہوں یا تربیت دماغی ایسے رنگ میں ہوچکی ہو کہ امیر جب کوئی حکم دے تو سب لوگ یہ سمجھیں کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے اور یہی ہماری خواہش تھی، تو اُس وقت یقیناً وہ ترقی کرجاتی ہے۔ ہمارے ملک میں مثل ہے کہ سَو سیانے اِکّو مت۔ یعنی اگر سو عقلمند ہوں تو وہ سب ایک ہی بات پر متفق ہوں گے۔ یہ نہیں ہوگا کہ کوئی کچھ کہے اور کوئی کچھ۔ اسی طرح اگر ہم ساری جماعت کو عقلمند بنادیں تو سب کی ایک ہی رائے ہو اور متحدہ عزم، متحدہ ارادے اور متحدہ کوششیں اپنے اندر جو اثر رکھتی ہیں وہ بہت وسیع ہوتے ہیں لیکن اگر امیر کی عقل تو تیز ہے لیکن مأمور کی نہیں، مأمور قدم قدم پر ٹھہر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے سمجھالیجئے ایسا نہ ہو کہ مجھے کوئی غلطی لگ جائے، تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس امیر کی کوششیں بارآور نہیں ہوتیں اور قوم کامیابی کا پھل کھانے سے محروم رہتی ہے۔

قوم کے دماغوں کی تربیت صحابؓہ کرام کی مانند

بہترین ذریعہ قومی ترقی کا یہ ہوتا ہے کہ ساروں کی عقل تیز کردی جائے۔ اِدھر اِنہیں حُکم ملے اور اُدھر طبائع اس پر عمل کرنے کیلئے پہلے ہی تیار ہوں اوروہ کہیں کہ ہم تو پہلے ہی اس کے منتظر تھے۔ حدیثوں میں ایسے بہت سے واقعات آتے ہیں کہ جب قرآنی احکام نازل ہوتے تو صحابہؓ کہتے ہم تو پہلے ہی ان احکام کے منتظر تھے۔ اِس کانتیجہ یہ ہوتا کہ وہ فوراً عمل کی طرف متوجہ ہوجاتے اور بحث اور غلط بحث سے بچ جاتے۔ پس ایسے ذرائع کو اختیار کرنا چاہئے جن سے قوم کے دماغ کی تربیت ہو اور خصوصاً نوجوانوں کے دماغ کی تربیت ہو کیونکہ زیادہ تر کاموں کی ذمہ داری آئندہ نوجوانوں پر ہی پڑنے والی ہوتی ہے۔

نکمے پن کی تباہ کن عادت

اگر نوجوانوں میں بُری باتیں پیدا ہو جائیں مثلاً نکمے پن کی عادت پیدا ہوجائے یا سُستی کی عادت پیدا ہوجائے یا جھوٹ کی عادت پیدا ہوجائے تو یقیناً آج نہیں تو کل وہ قوم تباہ ہوجائے گی۔

بِالخصوص جھوٹ تو ایسا خطرناک مرض ہے کہ یہ انسان کے ایمان کو جڑ سے اُکھیڑ دیتا ہے۔ بعض دفعہ پندرہ پندرہ سال تک ہم ایک شخص کے متعلق یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ بڑا بزرگ اور راستباز انسان ہے مگر پھر پتہ لگتا ہے کہ وہ بڑا کذاب ہے۔ دیکھتا کچھ ہے اور بیان کچھ کرتا ہے۔ مگر یہ باتیں بچپن میں ہی پیدا ہوتی ہیں۔ پس نوجوانوں میں اگر اس قسم کی باتیں پیدا کردی جائیں اور ان کے اخلاق کو صحیح رنگ میں ڈھالا جائے تو یقینا ًقوم کی ترقی میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ مثلاً میں نے تحریک جدید جاری کی۔ اس میں اگر غور کرکے دیکھا جائے توکامیابی عورتوں اور بچوں کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اگر عورتیں اوربچے ہمارے ساتھ تعاون نہ کریں تو یقیناً جماعت کا ایک حصہ اس پر عمل کرنے سے رہ جائے گا لیکن اگر عورتیں اور بچے اس میں شامل ہوں تو ہمارے کام میں بہت سہولت پیدا ہوسکتی ہے۔ مثلاً سادہ کپڑے ہیں یا زیورات کی کمی ہے یا ایک خاص عرصہ تک زیور بالکل نہ بنوانا ہے۔ اب جب تک عورتیں اس میں شریک نہ ہوں تو ان باتوں پر کس طرح عمل ہو سکتا ہے یا ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے اس میں اگر بچے اور نوجوان شریک نہ ہوں تو یہ سکیم کس طرح چل سکتی ہے ۔یا ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے اِس میں اگر بچے اور نوجوان شریک نہ ہوں تو یہ سکیم کس طرح چل سکتی ہے ۔ مثلاً نکمّا نہ رہنا ہے اب نکمے پن کی عادت بچوں میں ہی ہوسکتی ہے، بڑے تو اپنی اپنی جگہ کام کررہے ہوتے ہیں اوران میں سے کئی آسودہ حال ہوتے ہیں لیکن ان کی نئی نسل یہ کہنا شروع کردیتی ہے کہ ہمارے ابا نواب، ہمارے ابّا فلانے، ہم فلاں کام کیوں کریں اِس میں ہماری ہتک ہے اور پھر تمام خرابیاں اسی سے پیدا ہوتی ہیں حالانکہ اگر ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی جائے اور ان کے قلوب پر اس کا نقش کردیا جائے۔

کام کرنے والا عزت کا مستحق ہے اور نکما بیٹھنے والا باعث ننگ و عار ہے

کہ جو شخص کام کرتا ہے وہ عزت کا مستحق ہے اور جو کام نہیں کرتا بلکہ نکمّا رہتا ہے وہ اپنی قوم اور اپنے خاندان کیلئے عار اور ننگ کا موجب ہے اور یہ کہ معمولی دولت مند یا زمیندار تو الگ رہے اگر ایک بادشاہ یا شہنشاہ کا بیٹا بھی نکمّا رہتا ہے تو وہ بھی اپنی قوم اور اپنے خاندان کیلئے عار کا موجب ہے اور اس چمار کے بیٹے سے بدتر ہے جو کام کرتا ہے۔ تو یقیناً اگلی نسل درست ہوسکتی ہے اور پھر وہ نسل اپنے سے اگلی نسل کو درست کرسکتی ہے اور وہ اپنے سے اگلی نسل کو۔ یہاں تک کہ یہ باتیں قومی کریکٹر میں شامل ہوجائیں اور ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوجائیں کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ جو باتیں قوم کی عادت بن جاتی ہیں وہ ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوجاتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عادت ایک لحاظ سے بُری ہے مگر اس میں بھی شُبہ نہیں کہ ایک لحاظ سے وہ اچھی بھی ہوتی ہے۔

عادت کا فائدہ۔ قوم کے سوجانے کے باوجود عادت باقی رہتی ہے

جب کوئی قوم بیدار ہو اور اُس وقت وہ اپنے اندر اچھی عادتیں پیدا کرے تو اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ قوم سوجاتی ہے تو اُس کی عادت اُس کے ساتھ رہتی ہے اور اس طرح وہ نیکی ضائع نہیں جاتی بلکہ محفوظ رہتی ہے۔ چاہے وہ خود اس سے فائدہ نہ اُٹھائے بلکہ کوئی اور اس سے فائدہ اُٹھائے۔ اسی لئے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں تین قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک کی مثال تو اُس کھیت کی سی ہوتی ہے جس میں پانی آتا ہے اور وہ اپنے اندر جذب کرلیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں سے خوب کھیتی نکلتی ہے۔ اور ایک کی مثال اس زمین کی سی ہوتی ہے جس میں پانی آکر جمع تو ہوجاتا ہے مگر کھیتی نہیں اُگتی دوسرے لوگ اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ اور ایک کی مثال اُس کنکریلی زمین کی سی ہوتی ہے جہاں پانی آتا ہے تو نہ اُس زمین میں جذب ہوتا ہے اور نہ اُس میں محفوظ رہتا ہے۔ اسی طرح انسان بھی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ ہوتے ہیں جو الٰہی نور اپنے اندر جذب کرتے ، اُس سے فائدہ اُٹھاتے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اور ایک ایسے ہوتے ہیں جو خود تو فائدہ نہیں اُٹھاتے مگر جس طرح بعض زمینوں میں پانی جمع ہوجاتا ہے اسی طرح عادت کے طور پر بعض نیک کام ان میں پائے جاتے ہیں اور اس کا گو اُنہیں کوئی فائدہ نہ پہنچے مگر کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ نیکی محفوظ رہتی ہے۔ مثلاً اگر باپ التزام کے ساتھ سوچ سمجھ کر نماز پڑھنے کا عادی ہے اور اس کا بیٹا نماز کا تارک ہے تو پوتا بہرحال نماز کا تارک ہوگاکیونکہ اُس نے اپنے باپ کو نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا ہوگا لیکن اگر بیٹا نماز تو پڑھتا ہے مگر عادتاً پڑھتا ہے، دلی ذوق و شوق کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تو گو وہ اس فائدہ سے محروم رہے جو حقیقی نماز پڑھنے والوں کو حاصل ہوتا ہے مگر نماز اس کے بیٹوں تک ضرور پہنچ جائے گی اور ممکن ہوگا کہ وہ اگلی نسل نماز سے حقیقی فائدہ حاصل کرلے۔

عادت کی بدولت اگلی نسل میں نیکی کا حقیقی روح کے ساتھ زندہ ہو جانے کا امکان رہتا ہے

تو عادتاً جو نیکیاں پیدا ہوجائیں وہ بھی قوم کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور گو عادت کی وجہ سے وہ قوم اس سے خود فائدہ نہ اُٹھائے مگر وہ نیکی راستہ میں برباد نہیں ہوجاتی بلکہ اگلے لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور ان میں سے جو فائدہ اٹھانے کے اہل ہوں وہ فائدہ اُٹھالیتے ہیں۔ اسی لئے جب کسی قوم میں تین چار نسلیں اچھی گزرجائیں اس کے معیاری اخلاق دنیا میں قائم رہتے ہیں مٹتے نہیں اوراگر ایک دو نسلوں میں ہی کمزوری آجائے تو وہ اخلاق راستہ میں ہی فنا ہوجاتے ہیں۔ پس اگر کئی اچھی نسلیں گزرجائیں اور ان میں نیکیاں عادت کے طور پر پیدا ہوجائیں تو گو کوئی زمانہ ایسا آجائے کہ وہ اصل نیکی کی روح سے محروم ہوجائے ۔ مگر چونکہ اس کا ظاہر باقی ہوگا اس لئے بعدمیں آنے والے اس سے پھر زندگی حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ نمونہ ان کے پاس موجود ہوگا۔ تو اولادوں کی درستی اور اصلاح اور نوجوانوں کی درستی اور اصلاح اور عورتوں کی درستی اور اصلاح یہ نہایت ہی ضروری چیز ہے۔

تحریک جدید کی کامیابی کے لئے خدام الاحمدیہ کا قیام

اگر دوست چاہتے ہیں کہ وہ تحریک جدید کو کامیاب بنائیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح ہر جگہ لجنات اماء اللہ قائم ہیں اسی طرح ہر جگہ نوجوانوں کی انجمنیں قائم کریں۔ قادیان میں بعض نوجوانوں کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا ہؤا تو انہوں نے مجھ سے اجازت حاصل کرتے ہوئے ایک مجلس خدام الاحمدیہ کے نام سے قائم کردی ہے۔ چونکہ ایک حد تک کام میں ایک دوسرے کے ذوق کا ملنا بھی ضروری ہوتا ہے اس لئے شروع میں میں نے انہیں اجازت دی ہے کہ وہ ہم ذوق لوگوں کو اپنے اندر شامل کریں لیکن میں نے انہیں یہ ہدایت بھی کی ہے کہ جہاں تک ان کیلئے ممکن ہو باقی لوگوں کو بھی اپنے اندر شامل کریں مگر میں نے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ نوجوانوں میں کام کرنے کی روح پیدا ہو یہ ہدایت کی ہے کہ جو لوگ جماعت میں تقریر و تحریر میں خاص مہارت حاصل کرچکے ہوں اُن کو اپنے اندر شامل نہ کیا جائے۔ جس کی وجہ سے بعض دوستوں کو غلط فہمی بھی ہوئی ہے۔

چنانچہ ہماری جماعت کے ایک مبلغ مجھ سے ملنے کیلئے آئے اور کہنے لگے کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں میں نے کہا میں تو ناراض نہیں، آپ کو یہ کیونکر وہم ہؤا کہ میں ناراض ہوں۔ وہ کہنے لگے مجھے معلوم ہؤا ہے کہ آپ نے مجلس خدام الاحمدیہ میں میری شمولیت کی اجازت نہیں دی۔ میں نے کہا یہ صرف آپ کا سوال نہیں جس قدر لوگ خاص مہارت رکھتے ہیں اُن سب کی شمولیت کی میں نے ممانعت کی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر بڑے آدمیوں کو بھی ان میں شامل ہونے کی اجازت دے دی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ پریذیڈنٹ بھی انہی کو بنائیں گے، مشورے بھی انہی کے قبول کریں گے اور اس طرح اپنی عقل سے کام نہ لینے کی وجہ سے وہ خود بُدھو کے بُدھو رہیں گے۔ مثلاً اگر میں کسی انجمن یا جلسہ میں شامل ہوں تو یہ قدرتی بات ہے کہ چونکہ جماعت کے اعتقاد کے مطابق خلیفۃ المسیح سے بڑا مقام اور کوئی نہیں، اس لئے وہ کہیں گے کہ خلیفۃ المسیح کو ہی پریذیڈنٹ بنایا جائے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جو تربیت پریذیڈنٹی سے حاصل ہوتی ہے وہ بیچ میں ہی رہ جائے گی اور جماعت اس قسم کے تجربے سے محروم رہ جائے گی۔ پس میں نے خاص طور پر انہیں یہ ہدایت دی ہے کہ جن لوگوں کی شخصیتیں نمایاں ہوچکی ہیں اُن کو اپنے اندر شامل نہ کیا جائے تا انہیں خود کام کرنے کا موقع ملے۔

ہاں دوسرے درجہ یا تیسرے درجہ کے لوگوں کو شامل کیا جاسکتا ہے تا اُنہیں خود کام کرنے کی مشق ہو اور وہ قومی کاموں کوسمجھ سکیں اور اُنہیں سنبھال سکیں۔ چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ اِس وقت تک انہوں نے جو کام کیا ہے اچھا کیا ہے اور محنت سے کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں انہیں یہ اجازت دے دیتا کہ وہ پُرانے مبلغین مثلاً مولوی ابوالعطاء اللہ دتّا صاحب یا مولوی جلال الدین صاحب شمس اور اسی قسم کے دوسرے مبلغوں کو بھی اپنے اندر شامل کرلیں تو جو اشتہارات اِس وقت انہوں نے لکھے ہیں سب وہی لکھتے، وہی اعتراضات کے جوابات دیتے اور دوسرے نوجوانوں کو کچھ بھی پتہ نہ ہوتا کہ اعتراضات کا جواب کس طرح دیا جاتا ہے۔ پس میں نے انہیں ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے سے روک دیا۔ میں نے کہا تم مشورہ بے شک لو مگر جو کچھ لکھو وہ تم ہی لکھو تا تم کو اپنی ذمہ داری محسوس ہو۔

گو اِس کا نتیجہ یہ ہؤا کہ شروع میں وہ بہت گھبرائے۔ اُنہوں نے اِدھر اُدھر سے کتابیں لیں اور پڑھیں، لوگوں سے دریافت کیا کہ فلاں بات کا کیا جواب دیں۔ مضمون لکھے اور بار بار کاٹے مگر جب مضمون تیار ہوگئے اور اُنہوں نے شائع کئے تو وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے۔ اورمیں سمجھتا ہوں کہ وہ دوسرے مضمونوں سے دوسرے نمبر پر نہیں ہیں۔ گو ان کو ایک ایک مضمون لکھنے میں بعض دفعہ مہینہ مہینہ لگ گیا اورہمارے جیسا شخص جسے لکھنے کی مشق ہو شاید ویسا مضمون گھنٹے دو گھنٹے میں لکھ لیتا اور پھر کسی اور کی مدد کی ضرورت بھی نہ پڑتی مگر وہ دس بارہ آدمی ایک ایک مضمون کیلئے مہینہ مہینہ لگے رہے لیکن اِس کا فائدہ یہ ہؤا کہ جو اسلامی لٹریچر ان کی نظروں سے پوشیدہ تھا وہ ان کے سامنے آگیا اور دس بارہ نوجوانوں کو پڑھنا پڑا اور اس طرح ان کی معلومات میں بہت اضافہ ہؤا۔ تو اگر اس قسم کے علمی کام یہ انجمنیں کریں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلامی تاریخ کی کتب، اسلامی تفسیر کی کتابیں، حدیث کی کتابیں، فقہ کی کتابیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں اور اسی طرح اَور بہت سی کتب ان کے زیر نظر آجائیں گی اور انہیں اپنی ذات میں بہت بڑا علمی فائدہ حاصل ہوگا۔

دوسرا فائدہ جماعت کو اس قسم کی انجمنوں سے یہ پہنچے گا کہ اسے کئی نئے مصنف اور مؤلّف مل جائیں گے۔ تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ نوجوانوں میں اعتمادِ نفس پیدا ہوگا اور انہیں یہ خیال آئے گا کہ ہم بھی کسی کام کے اہل ہیں۔ اب اگر میں بڑے آدمیوں کو بھی انہیں اپنے اندر شامل کرنے کی اجازت دے دیتا تو یہ سارے فوائد جاتے رہتے۔ لیکن یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ تصنیف کا کام ہمیشہ نہیں ہوتا اور نہ ہر شخص کرسکتا ہے کیونکہ ہر شخص نہ عربی میں احادیث پڑھ سکتا ہے، نہ عربی میں تفسیریں دیکھ سکتا ہے، نہ عربی کتب کا مطالعہ کرسکتا ہے، پس اِن کیلئے اَور کاموں کی بھی ضرورت ہے۔ اورمیں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تحریکِ جدید کے اصول پر کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ نوجوانوں کے اخلاق کی درستی کریں، ا نہیں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی ترغیب دیں، سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کریں۔ دینی علوم کے پڑھنے اور پڑھانے کی طرف توجہ کریں اور ان نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کریں، جو واقع میں کام کرنے کا شوق رکھتے ہوں۔

بعض طبائع صرف چوہدری بننا چاہتی ہیں، کام کرنے کا شوق اُن میں نہیں ہوتا۔ ایسوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ لوگ صرف پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بننا چاہتے ہیں اور ان کا طریق یہ ہوتا ہے کہ جس دن پریذیڈنٹ یا سیکرٹری کے انتخاب کا سوال ہو فوراً آجائیں گے اور پھر کبھی شکل بھی نہیں دکھائیں گے لیکن جب دوبارہ انتخاب کا سوال ہو تو پھر اپنے پندرہ بیس چیلے لے کر آجائیں گے جنہیں پہلے سے یہ سکھادیں گے کہ ہمیں ووٹ دینا اور اس طرح پھر پریذیڈنٹ یا سیکرٹری بن جائیں گے اور خیال کریں گے کہ ان کی زندگی کا مقصد پورا ہوگیا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک جگہ ایک مجلس قائم ہوئی تو اس میں بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا۔ میں نے پوچھا کیا ہوا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپس میں خوب لڑائی ہوئی ہے۔ ایک کہتا ہے مَیں پریذیڈنٹ بنوں گا اور دوسرا کہتا ہے میں بنوں گا۔ آپؓ فرماتے تھے کہ میں نے کہا تم یُوں کیوں نہیں کرتے کہ ایک کوپریذیڈنٹ بنادو، دوسرے کا صدر نام رکھ دو، تیسرے کو مربی بنادو اور چوتھے کو چیئرمین قرار دے دو۔ وہ یہ سُن کر بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے اسی طرح کیا۔ ایک کے متعلق کہہ دیا کہ یہ مربی صاحب ہیں اور چپکے سے اس کے کان میں کہہ دیا کہ اجی مربی ہی سب سے بڑا ہوتا ہے صدر کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ پھر دوسرے کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ آپ ہیں صدر اور دیکھئے صدر ہی سب سے بڑا ہوتا ہے کیونکہ سب سے نمایاں جگہ اِس کو ملتی ہے مربی کا کیا ہے وہ تو گھر بیٹھا رہتا ہے۔ پھر تیسرے کے پاس گئے اور کہنے لگے آپ ہمارے پریذیڈنٹ ہیں صدر تو مُلّاؤں قُلْ اَعُوْذُ یوں کا لفظ ہے آپ موجودہ زمانہ کے روشن دماغ انسانوں کی طرف دیکھئے وہ اپنے میں سے بہترین شخص کو پریذیڈنٹ بناتے ہیں چنانچہ ہم آپ کو اپنا پریذیڈنٹ بناتے ہیں۔ پھر چوتھے کے پاس گئے اور کہنے لگے آپ ہمارے چیئر مین ہیں۔ چنانچہ سب خوش ہوگئے کیونکہ انہیں کام سے کوئی غرض نہ تھی۔ اُنہیں صرف اتنا شوق تھا کہ جب مثلاً کسی ڈپٹی کمشنر کو کوئی چِٹھی لکھنی پڑے تو نیچے لکھ دیا مربی مُسلم ایسوسی ایشن، دوسرے نے لکھ دیا چیئر مین مُسلم ایسوسی ایشن، تیسرے نے لکھ دیا صدر مُسلم ایسوسی ایشن، چوتھے نے لکھ دیا پریذیڈنٹ مُسلم ایسوسی ایشن، محض یہ بتانے کیلئے کہ ہم مسلمانوں کے سردار ہیں ورنہ کام کچھ نہیں کرتے۔

تو بعض لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے عُہدے لینے کیلئے مجالس میں شامل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ لعنت ہوتے ہیں اپنی قوم کیلئے اور لعنت ہوتے ہیں اپنے نفس کیلئے۔ وہ وہی ہیں جن کے متعلق خداتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلاَتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَآءُونَ (الماعون: 5 تا 7) ریاء ہی ریاء ان میں ہوتی ہے کام کرنے کا شوق ان میں نہیں ہوتا۔ تو میں نے انہیں نصیحت کی ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے اندر مت شامل کریں جو کام کرنے کیلئے تیار نہ ہوں بلکہ انہی کو اپنے اندر شامل کریں جویہ اقرار کریں کہ وہ بے قاعدگی کے ساتھ نہیں بلکہ باقاعدگی کے ساتھ کام کیا کریں گے۔بے قاعدگی کے ساتھ کا م میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ اگر تھوڑا کام کیا جائے لیکن مسلسل کیا جائے تو وہ اس کام سے زیادہ بہتر ہوتا ہے جو زیادہ کیا جائے لیکن تواتر اور تسلسل کے ساتھ نہ کیاجائے۔ میں چاہتا ہوں کہ باہر کی جماعتیں بھی اپنی اپنی جگہ خدام الاحمدیہ نام کی مجالس قائم کریں۔ یہ ایسا ہی نام ہے جیسے لجنہ اماء اللہ، لجنہ اماء اللہ کے معنی ہیں اللہ کی لونڈیاں اور خدام الاحمدیہ سے مراد بھی یہی ہے کہ احمدیت کے خادم۔ یہ نام انہیں یہ بات بھی ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ وہ خادم ہیں مخدوم نہیں۔ یہ جو بعض لوگوں کے دلوں میں خیال پایا جاتا ہے کہ کاش ہم کسی طرح لیڈر بن جائیں، یہ بیہودہ خیال ہوتا ہے۔

لیڈر بنانا خدا کا کام ہے

لیڈر بنانا خدا کا کام ہے او رجس کو خدا لیڈر بنانا چاہتا ہے اُسے پکڑ کر بنادیتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں تحریر فرمایا ہے کہ ‘‘میں پوشیدگی کے حُجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔ اُس نے گوشۂ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔ میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں مگر اُس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شُہرت دوں گا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی صفحہ 149)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی مثال۔ انکسار

پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کو ہم نے دیکھا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں آپؓ ہمیشہ پیچھے ہٹ کر بیٹھا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آپؓ پر نظر پڑتی تو آپ فرماتے مولوی صاحب آگے آئیں اور آپؓ ذرا کھِسک کر آگے ہوجاتے۔ پھر دیکھتے تو فرماتے مولوی صاحب اَور آگے آئیں اور پھر آپؓ ذرا اَور آگے آجاتے۔ خود میرا بھی یہی حال تھا۔ جب حضرت خلیفہ اوّلؓ کی وفات کا وقت قریب آیا اُس وقت میں نے یہ دیکھ کر کہ خلافت کیلئے بعض لوگ میرا نام لیتے ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں، یہ ارادہ کرلیا تھا کہ قادیان چھوڑ کر چلا جاؤں تا جو فیصلہ ہونا ہو میرے بعد ہو مگر حالات ایسے پیدا ہوگئے کہ میں نہ جاسکا۔ پھر جب حضرت خلیفہ اول ؓ کی وفات ہوگئی تو اُس وقت میں نے اپنے دوستوں کو اِس بات پر تیار کر لیا کہ اگر اِس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو، تو ہم ان لوگوں میں سے (جو اَب غیر مبائع ہیں) کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں اور پھر میرے اصرار پر میرے تمام رشتہ داروں نے فیصلہ کیا کہ اگر وہ اس امر کو تسلیم کرلیں تو اول تو عام رائے لی جائے اور اگر اس سے وہ اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کرلیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلی جائے اور میں یہ فیصلہ کرکے خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہے گی۔

چنانچہ گزشتہ سال حافظ غلام رسول صاحب وزیرآبادی نے بھی حلفیہ بیان شائع کرایا تھا کہ میں نے حافظ صاحب کو اُنہی دنوں کہا تھا کہ ‘‘اگر مولوی محمد علی صاحب کو اللہ تعالیٰ خلیفہ بنادے تو میں اپنے تمام متعلقین کے ساتھ ان کی بیعت کرلوں گا’’ (الفضل 2 ۔اگست 1937ء) لیکن اللہ تعالیٰ نے دھکّا دے کر مجھے آگے کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ جس کو بڑا بنانا چاہے وہ دنیا کے کسی کونہ میں پوشیدہ ہو، خداتعالیٰ اُس کو نکال کر آگے لے آتا ہے۔ کیونکہ خداتعالیٰ کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ اس کیلئے میں پھر حضرت لقمان ؑوالی مثال دیتا ہوں۔ حضرت لقمان ؑ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں يٰبُنَىَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِى صَخْرَةٍ أَوْ فِى السَّمَاوَاتِ أَوْ فِى الأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللّٰهُ (لقمان:17) کہ اے میرے بیٹے! اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی چیز ہو اور وہ کسی پتھر میں پوشیدہ ہو یا آسمانوں اور زمین میں ہو تو اللہ تعالیٰ اُس کو نکال کر لے آئے گا۔ اِس کے معنے یہی ہیں کہ اگر تمہارے دل میں ایمان ہو تو خداتعالیٰ تمہیں خود اس کام پر مقرر کرےگا جس کے تم اہل ہو ۔تمہیں خود کسی عُہدہ کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔ تو وہ لوگ جو خدمتِ خلق کو اپنا مقصود قرار دیتے ہیں وہی ہرقسم کی عزت کے مستحق ہیں۔ پھر اگر خداتعالیٰ تمہیں خود مخدوم بنانا چاہے تو ساری دنیا مل کر بھی اِس میں روک نہیں بن سکتی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو خداتعالیٰ کے مسیح اور مأمور تھے اور پھر ایسے مأمور تھے جن کی تمام انبیاء نے خبر دی۔ اُن کا ذکر تو بڑی بات ہے۔ میں اپنے متعلق ہی شروع سے دیکھتا ہوں کہ مخالفتیں ہوتی ہیں اور اتنی شدید ہوتی ہیں کہ ہر دفعہ لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اب کی دفعہ یہ مخالفانہ ہوائیں سب کچھ اُڑا کر لے جائیں گی مگر پھر وہ اِس طرح بیٹھ جاتی ہیں جس طرح جھاگ بیٹھ جاتی ہے، تو جس کو اللہ تعالیٰ قائم کرنا چاہے اُس کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔

ہرقسم کی نمود کاخیال مٹا کر کام کرنا چاہئے

پس تمہیں اپنے دلوں میں سے ہرقسم کی نمود کا خیال مٹا کر کام کرنا چاہئے۔ بڑبولا ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں ہوتی۔ حضرت عائشہؓ نے ایک دفعہ بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ تیز کلامی میں مشغول ہیں۔ صحابہؓ چونکہ سادہ کلام کرنے کے عادی تھے اس لئے حضرت عائشہ ؓ نے یہ معمولی فقرہ فرما دیا کہ میں نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو باتیں کرتے دیکھا ہے۔ آپ تو اس طرح تیز تیز باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ اب ایک نیک شخص اورمؤمن انسان کو یہ فقرہ بالکل کاٹ دینے والا ہے اور وہ اسی سے سمجھ سکتا ہے کہ کس رنگ میں گفتگو کرنی چاہئے۔ تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ زبان کے رس میں ساری کامیابی ہے حالانکہ اصل چیز باتیں کرنا نہیں بلکہ کام کرنا ہے۔ مگر میں انہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں یعنی یہاں کی مجلس خدام الاحمدیہ کو بھی اور اُن مجالس خدام الاحمدیہ کو بھی جو میرے اس خطبہ کے نتیجہ میں قائم ہوں کہ وہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ اُن کا تعداد پر بھروسہ نہ ہو بلکہ کام کرنا ان کا مقصود ہو۔ یہ بات میں پہلے بھی بیان کرچکا ہوں لیکن آج مجھے اس طرف خاص توجہ اِس لئے ہوئی ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ کے ایک عُہدہ دار کی مجھے چِٹھی ملی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے اس مجلس میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے اور بعض لوگ جو پہلے اِس میں شامل تھے وہ اب پیچھے ہٹ گئے ہیں حالانکہ اِس بات پر بجائے رنجیدہ ہونے کے انہیں خوش ہونا چاہئے تھا کیونکہ میری تعلیم یہی ہے کہ کام کرنے والے چاہئیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ محض تعداد بڑھانے کے شوق میں نااہلوں کو بھی شامل کرلیا جائے۔ ہم سے زیادہ تعداد شیعوں کی ہے اور ان سے بھی زیادہ حنفیوں کی ہے۔ پھر غیرمسلموں کو جمع کیا جائے تو وہ مسلمان کہلانے والوں سے زیادہ ہیں۔

پس اگر تعداد کی زیادتی پر ہی مدار رکھا جائے تو پھر تو انسان کو باطل کی طرف جھکنا پڑتا ہے حالانکہ نیک کام ہمیشہ نیک بنیاد سے ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں یہ سوال نہیں کہ تمہارے دس ممبر ہیں یا بیس یا پچاس یا سَو۔ اگر مجلس خدام الاحمدیہ کا ایک سیکرٹری یا پریذیڈنٹ ہی کہی (کسّی۔مرتب) ہاتھ میں لے لے اور گلیوں کی صفائی کرتا پھرے یا لوگوں کو نماز کے لئے بُلائے یا کوئی غریب بیوہ جس کے گھر سَودا لاکر دینے والا کوئی نہیں اسے سودا لا کر دے دیا کرے تو بے شک پہلے لوگ اسے پاگل کہیں گے مگر چنددنوں کے بعد اس سے باتیں کرنی شروع کردیں گے۔ پھر انہی میں سے بعض لوگ ایسے نکلیں گے جو کہیں گے کہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم بھی آپ کے کام میں شریک ہوجائیں۔ اس طرح وہ ایک سے دو ہوں گے، دو سے چار ہوں گے اور بڑھتے بڑھتے ہزارو ں نہیں لاکھوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ تو نیک کام کرتے وقت کبھی یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کتنے آدمی اِس میں شریک ہیں۔ اگر وہ کام جسے تم کرنا چاہتے ہو واقعہ میں نیک اور پسندیدہ ہے تو تھوڑے ہی دنوں میں تم ایک سے دس ہوجاؤ گے، پھر دس سے سَو بنو گے اور سَو سے ہزار ہوجاؤ گے کیونکہ نیک کام اثر کئے بغیر نہیں رہتا۔

روٹری کلب کی تاریخ (تاریخ ترقی)

آج کل یورپ میں ایک بہت بڑی انجمن ہے جس کی نہ صرف یورپ میں بلکہ سارے ایشیا میں شاخیں ہیں۔ روٹری کلب اس کا نام ہے اور لاکھوں اس کے ممبر ہیں۔ یہ کلب امریکہ سے شروع ہوئی تھی۔ پہلے اس میں صرف تین آدمی شامل تھے۔ لوگ ان سے مخول کرتے، انہیں پاگل اور احمق قرار دیتے مگر وہ خاموشی سے اپنے کام میں مشغول رہے یہاں تک کہ سال دوسال کے بعد سات آٹھ ممبر ہوگئے اور پھر تین چار سال کے بعد تو سینکڑوں تک نَوبت پہنچ گئی۔ اب اسے قائم ہوئے غالباً بیس پچیس سال گزرچکے ہیں اور اس کے لاکھوں ممبر یورپ اور ایشیا میں موجود ہیں۔ تو یہ خیال پیدا ہوجانا کہ ہماری مجلس میں کم آدمی شامل ہیں، زیادہ شامل ہونے چاہئیں، یہ بھی بتاتا ہے کہ مخفی طور پر دل میں شُہرت کی خواہش ہے ورنہ مقصد ہو تو تعداد کا خیال بھی دل میں نہ آئے اور میں تو سمجھتا ہوں بجائے اس کے کہ وہ تعداد بڑھانے کے شوق میں کام نہ کرنے والوں کو اپنے اندر شامل کریں جنہیں بعدمیں نکالنا پڑے، یہ زیادہ بہتر ہے کہ صرف کام کرنے والوں کو اپنے اندر شامل کیا جائے اور جو کام کرنے کا شوق نہیں رکھتے انہیں شامل نہ کیا جائے کیونکہ اندر سے گند کا نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن باہر سے گند نہ آنے دینا بہت آسان ہوتا ہے۔

پس ان کو اپنے نمونہ سے ایک نیک مثال قائم کرنی چاہئے پھر خودبخود نوجوانوں کے دلوں میں تحریک پیدا ہوگی اور وہ بھی ان کے کام میں شریک ہونے کی خواہش کریں گے کیونکہ وہ دیکھیں گے کہ باوجود کام کرنے کے یہ زندہ اور ہشاش بشاش ہیں پھر ہمارا کیا بگڑتا ہے اگر ہم بھی کام کریں اورنیک نامی حاصل کریں۔دنیا میں کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اتنا وقت فلاں کام کیلئے دے دیا تو دوستوں سے گپیں ہانکنے کیلئے ہمارے پاس کوئی وقت نہیں رہے گا اور اس طرح ہماری ساری بشاشت اور زندہ دلی ماری جائے گی مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ کام کرنے والوں کے چہرے بھی ویسے ہی ہشاش بشاش ہیں اور پھر زائد بات یہ ہے کہ انہیں لوگوں میں نیک نامی حاصل ہے تو پھر وہ بھی سمجھتے ہیں کہ دوستوں میں بیٹھ کر دو دو چار چار گھنٹے گپیں ہانکنے کی نسبت یہ بہتر ہے کہ خدمت خلق کا کوئی کام کیاجائے۔

پس افراد کا ان کو کوئی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ جو شخص ان کی مجلس میں شامل نہیں ہوتا اس کے متعلق انہیں کوئی شکوہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنا عملی نمونہ بہتر سے بہتر دکھانا چاہئے۔ اگر تم نوجوانوں کے لئے کامل نمونہ بن جاؤ تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ تم سے نہ ملیں۔ وہ اگر نہ ملیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ تمہارے نمونہ میں کوئی نقص ہے۔ یہا ں بھی اور باہر کی جماعتوں میں بھی کئی غرباء ہوتے ہیں، کئی بیمار ہوتے ہیں جنہیں کوئی دوائی لاکر دینے والا نہیں ہوتا، کئی بیوائیں ہوتی ہیں جنہیں سَودا سلف لاکر دینے والا کوئی نہیں ملتا۔ آخر یہ کتنی بے شرمی کی بات ہے کہ ایک شخص بازار میں کسی دکان پر یا اپنے کسی دوست کے مکان پر بیٹھ کر دو دو تین تین گھنٹے گپیں مارتا چلا جاتا ہے مگر جب اُسے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور خدمتِ خلق کےلئے تھوڑا سا وقت دو تو وہ کہنے لگ جاتا ہے کیا کروں، بڑا کام ہے، ذرا بھی فُرصت نہیں ملتی حالانکہ جس وقت وہ گپیں ماررہا ہوتا ہے، جب وہ اپنے نہایت قیمتی وقت کا خون کررہا ہوتا ہے اُس وقت اس کے محلہ میں ایک بیوہ عورت کے بچے بِلک بِلک کر رو رہے ہوتے ہیں اور اس کے پاس کوئی شخص نہیں ہوتا جو اسے آٹا لاکر دے یا دال لا کر دے۔

آخر یہ لوگ خدا کو کیا جواب دیں گے۔ کیا جس وقت وہ یہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی وقت نہیں تھا اُس وقت خدا یہ نہیں کہے گا کہ تیرے پاس دو گھنٹے گپیں ہانکنے کیلئے تو تھے مگر تجھے پندرہ منٹ کی فُرصت نہیں تھی کہ تو اس بیوہ کے بچوں کیلئے سَودا لاکر دے دیتا۔ تو تم اپنا عملی نمونہ جس وقت لوگوں کے سامنے پیش کرو گے یہ ناممکن ہے کہ لوگ تم میں شامل ہونے کی خواہش نہ کریں۔ یہ سلسلہ تو خدا کا ہے اور اس میں اس کے وہ بندے شامل ہیں جن کو خدا نے اپنی رضا کیلئے چُن لیا۔ میں کہتا ہوں ایک کافر سے کافر بھی نیک نمونہ دیکھ کر متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے ایک استاد مولوی رحمت اللہ صاحب تھے جو بعد میں مدینہ چلے گئے۔ وہ بڑے نیک اور بزرگ تھے مگر عیسائی مذہب سے انہیں کوئی واقفیت نہ تھی۔ ایک دفعہ عیسائیوں کے ساتھ ان کا مباحثہ قرار پایا۔ ان کے مقابلہ میں جو پادری تھا وہ بڑا ہوشیار اور عالم تھا مگر یہ صرف قرآن اور حدیث جانتے تھے اور چونکہ دانا اور سمجھدار تھے اس لئے کہتے تھے کہ اگر میں نے قرآن اور حدیث کو اس کے سامنے پیش کیا تو وہ کہہ دے گا کہ میں ان کو نہیں مانتا۔ دلیل ایسی چاہئے جسے یہ بھی تسلیم کرے اور وہ مجھے آتی نہیں۔ آخر کہنے لگے لوگوں سے کیا کہنا ہے آؤ خدا سے دعا کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے دعا کی رات کو گیارہ بجے کے قریب ان کے دروازے پر کسی نے دستک دی۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو ایک شخص جُبہ پہنے ہوئے اندر داخل ہؤا اور کہنے لگا صبح آپ کا فلاں پادری سے مباحثہ ہے، میں بھی پادری ہوں مگر میں سمجھتا ہوں کہ توحید کے معاملہ میں آپ حق پر ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ بعض حوالے نوٹ کرلیں کیونکہ ممکن ہے ان حوالوں کا آپ کو علم نہ ہو۔ چنانچہ اُس نے تمام حوالے لکھوادیئے اور صبح جب مناظرہ ہؤا تو وہ پادری یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ انہیں تو کسی حوالے کا علم نہ تھا اب یہ کیا ہؤا کہ یہ کہیں یونانی کتب کے حوالے دے رہے ہیں تو کہیں عبرانی کتب کے حوالے پڑھ رہے ہیں، کہیں انگریزی کتب سے اقتباس پیش کررہے ہیں تو کہیں بائبل سے توحید کی تعلیم سنارہے ہیں۔ غرض انہوں نے زبردست بحث کی اور اس پادری کو سخت شکست اُٹھانی پڑی۔ اسی طرح روزانہ وہ رات کو آتا اور حوالے لکھاجاتا اور صبح آپ خوب دھڑلے سے پیش کرتے۔ بعد میں یہ مباحثہ انہوں نے کتابی صورت میں بھی شائع کردیا اور مظاہر الحق اس کا نام رکھا۔ ہندوستان میں لوگوں نے اِس کتاب سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔

اب دیکھو اس پادری کی طبیعت پر حق کا اثر تھا۔ اُس نے جب دیکھا کہ آج حق مظلوم ہے تو اُس کی حمایت کا اُسے جوش آگیا اور اس نے کہا آج توحید کہیں شکست نہ کھاجائے۔ چنانچہ وہ رات کو آتا اور حوالے لکھاجاتا اور گو وہ لوگوں سے چھُپ کر آیا مگر بہرحال آتو گیا۔ تو جب کوئی شخص نیک کام کرنے کیلئے کھڑا ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ خودبخود لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کردیتا ہے اور وہ اس کی تصدیق اور تائید کرنے لگ جاتے ہیں۔ پس قادیان کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنا نیک نمونہ دکھائیں۔ خصوصیت سے میں مجلس خدام الاحمدیہ کے اس رکن کو مخاطب کرتا ہوں جس نے مجھے خط لکھا اور میں اسے کہتا ہوں کہ تم بھُول جاؤ اس امر کو کہ قادیان میں کوئی اَور شخص بھی ہے۔ تم سمجھو کہ صرف تم پر ہی اس کام کی ذمہ داری عائد ہے۔ کیونکہ وہ شخص ہرگز مؤمن نہیں ہوسکتا جو کہتا ہے کہ میری یہ ذمہ داری ہے اور فلاں کی یہ ذمہ داری ہے مؤمن وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ صرف اور صرف میری ذمہ داری ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم تجھ سے پوچھیں گے کسی اور سے نہیں۔مگر اس سے مراد بھی صرف رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نہیں بلکہ ہر مؤمن مراد ہے۔ اور خداتعالیٰ کہتا ہے کہ میں تم میں سے ہر شخص سے یہ سوال کروں گا کہ تم نے کیا کِیا۔ مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی ہے اپنے ایک فعل پر جو گو ایک بچگانہ فعل تھا مگر جس طرح بدر کے موقع پر ایک انصاری نے کہا تھا کہ یَا رَسُوْلَ اﷲ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے، دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہؤا نہ گزرے اور اس صحابی کو اپنے اس فقرہ پر ناز تھا۔

حضرت مسیح موعودؑ کی نعش کے سرہانے حضرت مصلح موعودؓ کا عہد

اسی طرح مجھے بھی اپنے اس فعل پرناز ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہوئے تو چونکہ آپؑ کی وفات ایسے وقت میں ہوئی جبکہ ابھی بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئی تھیں اور چونکہ میں نے عین آپؑ کی وفات کے وقت ایک دو آدمیوں کے منہ سے یہ فقرہ سنا کہ اب کیا ہوگا۔ عبدالحکیم کی پیشگوئی کے متعلق لوگ اعتراض کریں گے، محمدی بیگم والی پیشگوئی کے متعلق لوگ اعترض کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ تو ان باتوں کو سنتے ہی پہلا کام جو میں نے کیا وہ یہ تھا کہ میں خاموشی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاش مبارک کے پاس گیا اور سرہانے کی طرف کھڑے ہوکر میں نے خداتعالیٰ سے مخاطب ہوکر کہا اے خدا! میں تیرے مسیح کے سرہانے کھڑے ہوکر تیرے حضور یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت بھی پھر گئی تو میں اِس دین اور اِس سلسلہ کی اشاعت کیلئے کھڑا رہوں گا جس کو تُونے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ قائم کیا ہے۔ میری عمر اُس وقت انیس سال کی تھی اور انیس سال کی عمر میں بعض اَور لوگوں نے بھی بڑے بڑے کام کئے ہیں مگر وہ جنہوں نے اس عمر میں شاندار کام کئے ہیں وہ نہایت ہی شاذ ہوئے ہیں۔ کروڑوں میں سے کوئی ایک ایسا ہؤا ہے جس نے اپنی اس عمر میں کوئی شاندار کام کیا ہو بلکہ اربوں میں سے کوئی ایک ایسا ہؤا ہے اور مجھے فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر مجھے یہ فقرہ کہنے کا موقع دیا۔ تو مؤمن کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ سمجھے اصل ذمہ دار میں ہوں۔ جب کسی شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہوجائے کہ میں اور فلاں ذمہ دار ہیں وہ سمجھ لے کہ اس کا ایمان ضائع ہوگیا اور اس کے اندر منافقت آگئی۔

ہم میں سے ہر شخص سمجھتا اور سچے دل سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ احمدیت سچی ہے اوراسلام سچا مذہب ہے مگر کیا اگر فرض کرلیا جائے کہ کسی وقت سب لوگ فوت ہوجائیں یا مقطوع النسل ہوجائیں یا نَعُوْذُ بِاﷲ مرتد ہوجائیں اور صرف اکیلا کوئی شخص باقی رہ جائے تو وہ اس کام کو چھوڑ دے گا۔ یقینا ًوہ اس کام کو کبھی نہیں چھوڑے گا بلکہ وہ سمجھے گا کہ اس کام کے کرنے کابہترین وقت یہی ہے کیونکہ جتنے تھوڑے لوگ ہوں گے اسی قدر محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا سایہ زیادہ عمدگی سے ان پر پڑے گا۔ اگر ایک سیر بھر مصری سمندر میں ڈال دی جائے تو مٹھاس کا پتہ تک نہیں لگ سکتا لیکن اگر گلاس دو گلاس میں اتنی مصری ملادی جائے تو بہت زیادہ میٹھا ہوجائے گا۔ اسی طرح محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا سایہ جب ہزار دوہزار یا لاکھ دو لاکھ نفوس پر پڑے گا تو وہ پھیل جائے گا لیکن جب وہ ایک ہی شخص پر پڑے گا تو وہ مجسم محمؐد بن جائے گا۔ پس اگر ایک نیکی میں تمہیں اکیلے کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو تمہارا دل خوشی سے بلّیوں اُچھلنا چاہئے کیونکہ تم اس کام میں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے ظلِّ کامل بنو گے اور دوسرا کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا سایہ لے رہا ہو۔ پس یہ وہم اپنے دلوں سے نکال دو کہ لوگ تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوتے۔

نیک کاموں میں سرگرمی سے مشغول ہوجاؤ تعاون کرنے والے خو د بخود آملیں گے تم اگر نیک کاموں میں سرگرمی سے مشغول ہوجاؤ تو میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ لوگوں پر اس کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع کرسکتا ہے، سورج مغرب کی بجائے مشرق میں ڈوب سکتا ہے مگر یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی نیک کام کو جاری کیا جائے اور وہ ضائع ہوجائے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ تم نیک کام کرو اور خدا تمہیں قبولیت نہ دے۔

مقبولیت خدا بخشتا ہے

رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے قبل از وقت ہمیں بتادیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں جب کوئی شخص مقبول ہوجاتا ہے تو وہ اپنے فرشتوں کو پتہ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بندہ میری نگاہ میں مقبول ہے پھر وہ اگلے فرشتوں کو بتاتے ہیں اور وہ اپنے سے اگلے فرشتوں کو فَیُوْضَعُ لَہُ الْقَبُوْلُ فِی الْاَرْضِ یہاں تک کہ دنیا کے لوگوں کے دلوں میں اس کی قبولیت پیدا کردی جاتی ہے مگر اس مقبولیت کا پیمانہ تمہارے دل کا اخلاص ہے تمہارے دل کا اخلاص جتنا زیادہ ہوگا اتنی ہی زیادہ یہ مقبولیت ہوگی اور تمہارے دل کا اخلاص جتنا کم ہوگا اتنی ہی کم یہ مقبولیت ہوگی۔ پس میں یہاں کی مجلس خدام الاحمدیہ کے ارکان کو بھی نصیحت کرتا ہوں اور اُن بیرونی جماعتوں کو بھی جن کے نوجوان اس مجلس کی نقل میں کام کرنے کو تیار ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکّل کرتے ہوئے اس نیت سے کام کریں کہ صرف کام کرنے والے نوجوان اپنے اندر شامل کریں گے، تعداد بڑھانے کیلئے ہر شخص کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح جو تجربہ کار لیکچرار یا تجربہ کار لکھنے والے ہیں ان کو شروع میں اپنے اندر شامل نہ کیا جائے۔

بے شک نگرانی کیلئے کسی وقت ان سے مشورہ لے لیا جائے مگر انہیں اپنا ممبر نہ بنائیں تا وہ ان کے کام پر حاوی نہ ہوجائیں اور ان کی عقلیں ان کی عقلوں کے مقابلہ میں پَست نہ ہوجائیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک بڑے درخت کے نیچے اگر ایک چھوٹا پودا لگادیا جائے تو چند ہی دنوں میں وہ سُوکھ جاتا ہے۔ اسی طرح جب بڑے لوگوں کو اپنے اندر شامل کیا جائے تو چھوٹوں کا ذہنی ارتقاء رُک جاتا ہے۔ مگر میں نے دیکھا ہے قادیان میں یہی مرض نہایت شدت سے پھیلا ہؤا ہے۔ کوئی جلسہ ہو، کوئی ٹی پارٹی ہو، کوئی دعوت ہو اس میں مجھے ضرور شامل کریں گے جس کا یقیناً ًانہیں یہ نقصان پہنچتا ہے کہ انہیں خود اُٹھنے اور کام کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا طریق بہت کم نظر آتا ہے اور گو صحابہؓ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو بُلاتے بھی تھے مگر موقع کی حیثیت سے لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ جنازہ بھی خلیفۃ المسیح پڑھائیں، نکاح بھی خلیفۃ المسیح پڑھائیں، کوئی دعوت ہو تو اس میں بھی وہ ضرور شامل ہوں، کوئی ولیمہ ہو تو اس میں بھی ضرور شامل ہوں۔ اسی طرح مبلغ کے جانے کی تقریب ہو، تب وہ شامل ہوں اور آنے کی ہو تو تب بھی وہ شامل ہوں۔ غرض خلیفہ سے اتنے کاموں کی امید کی جاتی ہے کہ جن میں شامل ہونے کے بعد دین کی ترقی اور اس کے کاموں میں حصہ لینے کا اس کیلئے کوئی وقت ہی نہیں رہتا اور اس کا کام صرف اتنا ہی رہ جاتا ہے کہ دعوتیں کھائیں، مُلّانوں کی طرح پیٹ پر ہاتھ پھیرا، ڈکار لیا اورسو رہے۔

یہ ایک مرض ہے جس کے نتیجہ میں افراد کا ذہنی ارتقاء مارا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور بڑے درخت کے نیچے جو پودے لگے ہوئے ہوں وہ نشوونما نہیں پاتے۔ پھر اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ جب کوئی اور تحریک کرتا ہے تو لوگ اُس کی بات پر کان نہیں دھرتے اور وہ میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے آپ اِس امر کے متعلق تحریک کریں۔ میں اُس وقت دل میں ہنستا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ سزا ہے جو ان لوگوں کو اس لئے مل رہی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو یہ عادت ڈال دی ہے کہ جب تک کوئی بات خلیفہ نہ کہے اُس کا ماننا کوئی ایسا ضروری نہیں ہوتا۔ حالانکہ دینی مشاغل اور قرآن کا درس و تدریس اور دوسرے ایسے ہی بیسیوں کام میں خلیفہ کے کہنے کی کیا ضرورت ہے یا کسی ناظر کے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہر شخص کو اپنی اپنی جگہ دلی شوق سے یہ کام کرنے چاہئیں اور اگر وہ آجائیں تو سارا کام انہی کا دماغ کررہا ہوگا اور باقی لوگ خاموش بیٹھے رہیں گے اور اس کا نتیجہ قوم کیلئے مُہلک ہوگا۔ اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے لَا تَسْئَلُوْ عَنْ اَشْیَاءَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْ کُمْ یعنی اے مومنو! تم بہت باتوں کے متعلق سوالات نہ کیا کرو کیونکہ اگر خدا ان باتوں کو بیان کرے گا تو تمہیں دُکھ پہنچے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ دُکھ کیوں پہنچے گا؟ کیا خدا کے احکام دُکھ دینے والے ہوتے ہیں؟ خدا کا تو ہر حُکم انسان کیلئے باعثِ رحمت ہے۔ پھر اس کا کیا مطلب ہے کہ اگر خدا نے ان باتوں کو بیان کیا تو تمہیں دُکھ پہنچے گا۔ بعض لوگ نادانی سے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس کامطلب یہ ہے کہ اگر تم نے بار بار سوال کیا تو خدا ناراض ہوکر تمہیں کوئی سخت حکم دے دے گا۔ یعنی جب مثلاً یہ پوچھا کہ دو نمازیں پڑھنی چاہئیں یا پانچ؟ تو خدا کہے گا اچھا تم نے تو یہ پوچھا ہے مَیں بطور سزا تمہیں کہتا ہوں کہ تم چھ نمازیں پڑھا کرو۔ مگر یہ بیوقوفی کی بات ہے خدا کوئی تھکنے والا وجود نہیں کہ ایک دو سوالوں سے وہ نَعُوْذُبِاﷲ گھبراجائے اور اُکتا کر سخت حکم دینے شروع کردے۔

افراد جماعت کو اپنی عقلوں اور قوائے دماغیہ کو استعمال کرنے کی تلقین

اس کا مطلب یہی ہے کہ اگر تم ہر بات مجھ سے دریافت کرو گے اور اپنی عقلوں پر زور نہیں ڈالو گے تو تمہارے قوائے دماغیہ کمزور اور بے کار ہوجائیں گے کیونکہ جس عضو سے ایک عرصہ تک کام نہ لیا جائے وہ بے کار ہوجاتا ہے۔ ہاتھ سے کام نہ لیا جائے تو ہاتھ خشک ہوجاتا ہے، دماغ سے کام نہ لیا جائے تو دماغ کمزور ہوجاتا ہے۔ پس فرماتا ہے اگر تم ہم سے پوچھو گے تو گو ہم تمہیں وہ بات بتادیں گے مگر پھر تم فقیہہ نہیں رہو گے بلکہ نقّال بن جاؤ گے حالانکہ قوم کی ترقی کیلئے فقیہوں کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ مگر وہ یہ بھی یاد رکھیں کہ کام تحریک جدیدکے اصول پر کریں۔ میں نے بارہا کہا ہے کہ اَلْاِمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِہٖ تمہاراکام بےشک یہ ہے کہ تم دشمن سے لڑو مگر تمہارا فرض ہے کہ امام کے پیچھے ہوکر لڑو۔ پس کوئی نیا پروگرام بنانا تمہارے لئے جائز نہیں۔ پروگرام تحریک جدید کا ہی ہوگا اور تم تحریک جدید کے والنٹیئرز ہو گے۔ تمہارا فرض ہوگا کہ تم اپنے ہاتھ سے کام کرو، تم سادہ زندگی بسرکرو، تم دین کی تعلیم دو، تم نمازوں کی پابندی کی نوجوانوں میں عادت پیدا کرو، تم تبلیغ کیلئے اوقات وقف کرو، اسی طرح باہر جو انجمنیں بنیں وہ بھی اسی رنگ میں کام کریں، مگر موجودہ حالات میں جس طرح قادیان کی لجنہ کو میں نے باہر کی لجنات پر ایک برتری اور فوقیت دی ہوئی ہے۔

ابتدا ء میں دو سال کے لئے خدام الاحمدیہ قائم ہوئی

اسی طرح میں اعلان کرتا ہوں کہ موجودہ حالات میں عارضی طور پر سال دو سال کیلئے قادیان کی مجلس خدام الاحمدیہ کی بیرونی جماعتوں کی مجالس خدام الاحمدیہ شاخیں ہوں گی اور ان کا فرض ہوگا کہ اس انجمن کے ساتھ اپنی انجمنوں کا الحاق کریں اور اس انجمن کی اپنے آپ کو شاخ سمجھیں۔ اسی طرح ہر جگہ ان کا یہ کام ہوگا کہ وہ سلسلہ کا لٹریچر پڑھیں، نوجوانوں کو دینی اَسباق دیں مثلاً صبح کے وقت یا کسی اَور وقت ایک دوسرے کو پڑھایا جائے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنے کے لئے کہا جائے اور پھر ان کا امتحان لیا جائے۔

خدمت خلق

اسی طرح وہ خدمتِ خلق کے کام کریں اور خدمتِ خلق کے کام میں یہ ضروری نہیں کہ مسلمان غریبوں اور مسکینوں اور بیواؤں کی خبرگیری کی جائے بلکہ اگر ایک ہندو یا سکھ یا عیسائی یا کسی اور مذہب کاپیرو کسی دُکھ میں مبتلا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اس کے دکھ کو دور کرنے میں حصہ لو۔ کہیں جلسے ہوں تو اپنے آپ کوخدمت کیلئے پیش کردو۔ میں نے اِسی قسم کے کاموں اور مقاصد کیلئے احمدیہ نیشنل لیگ کور قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ اس کا بہت سا وقت لیفٹ اور رائٹ میں ہی خرچ ہوگیا۔ وہ اپنے دائیں اوربائیں تو دیکھتے رہے مگر انہوں نے اپنے سامنے کبھی نہ دیکھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ انہوں نے اس وقت تک کوئی مفید کام نہیں کیا۔ انہوں نے بھی بعض مفید کام کئے ہیں۔ خصوصاً جلسہ سالانہ کے موقع پر اور دوسرے اجتماعوں کے مواقع پر ان کا جو انتظام ہوتا ہے وہ بہت اچھا ہوتا ہے مگر قواعد کرنےکے علاوہ یا بعض جسمانی خدمات کے علاوہ اور جن کاموں کی میں ان سے امید رکھتا تھا وہ پورا نہیں ہوا میرے پاس لیگ کور کی قواعد کرانے والے افسروں نے اپنے کام کی فہرست پیش کی ہے کہ وہ فلاں فلاں کام کرتے رہے ہیں۔ میں خطبہ میں ان کے کام کے اس حصہ کا خود ہی اعتراف کرچکا ہوں۔ میرا اظہارِ خیال قواعد سکھانے والوں کے مطابق نہیں۔ انہوں نے باقاعدگی سے کام کیا ہے اور اس کا مجھے اعتراف ہے۔ جو شکوہ میں نے کیا ہے وہ لیگ کا ہے کہ دوسری اغراض جو علاوہ قواعد کے تھیں وہ انہوں نے باوجود درجنوں دفعہ مجھ سے مشورہ لینے کے پوری نہیں کیں۔ بہرحال میں امید کرتا ہوں کہ اگر نیشنل لیگ نے یہ مقصد پورا نہیں کیا۔

سلسلہ کےدرد کو اپنا درد سمجھیں

تو اب مجلس خدام الاحمدیہ کے ارکان ہی اِس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنی زندگی کو کارآمد بنائیں گے اور سلسلہ کے درد کو اپنا درد سمجھیں گے لیکن جیسا کہ میں بیان کرچکا ہوں مجلس خدام الاحمدیہ میں جو بھی شامل ہو وہ یہ اقرار کرے کہ میں آئندہ یہی سمجھوں گا کہ احمدیت کا ستون میں ہوں اور اگر مَیں ذرا بھی ہِلا اور میرے قدم ڈگمگائے تو میں یہ سمجھوں گا کہ احمدیت پر زد آگئی۔

حضرت طلحہؓ کا نمونہ

حضرت طلحہؓ ایک بہت بڑے صحابی گزرے ہیں ان کا ایک ہاتھ لڑائی کے موقع پر شل ہوگیا تھا۔ بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو جنگیں ہوئیں ان میں سے کسی موقع پر ایک شخص نے طنزاً حضرت طلحہؓ کو لنجا کہہ دیا۔ حضرت طلحہؓ نے کہا تمہیں پتہ بھی ہے میں کس طرح لنجا ہؤا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ احد کے موقع پر جب رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم پر کفار نے حملہ کردیا اور اسلامی لشکر پیچھے ہٹ گیا تو اُس وقت کفار نے یہ سمجھتے ہوئے کہ صرف محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی ذات ہی ایک ایسا مرکز ہے جس کی وجہ سے تمام مسلمان مجتمع ہیں، آپ پر پتھر اور تیر برسانے شروع کردیئے۔ میں نے اُس وقت دیکھا کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں کوئی تیر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر آکر نہ آلگے۔ چنانچہ میں نے اپنا بازو رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے منہ کے آگے کردیا۔ کئی تیر آتے او رمیرے بازو پر پڑتے مگر میں اسے ذرا بھی نہ ہِلاتا یہاں تک کہ تیر پڑتے پڑتے میرا بازو شل ہوگیا۔ کسی نے پوچھا جب تیر پڑرہے تھے تو اُس وقت آپ کے منہ سے کبھی اُف کی آواز بھی نکلتی تھی یا نہیں کیونکہ ایسے موقع پر انسان بے تاب ہوجاتا اور درد سے کانپ اُٹھتا ہے۔ انہوں نے کہا میں اُف کس طرح کرتا جب انسان کے منہ سے اُف نکلتی ہے تو وہ کانپ جاتا ہے۔ پس میں ڈرتا تھا کہ اگر میں نے اُف کی تو ممکن ہے میرا ہاتھ کانپ جائے اور کوئی تیر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو جاکر لگ جائے اس لئے میں نے اُف بھی نہیں کی۔ دیکھو کتنا عظیم الشان سبق اس واقعہ میں پنہاں ہے۔ طلحہؓ جانتے تھے کہ آج محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک کی حفاظت میرا ہاتھ کررہا ہے۔ اگر میرے اس ہاتھ میں ذرا بھی حرکت ہوئی تو تیر نکل کر محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو جالگے گا۔ پس انہوں نے اپنے ہاتھ کو نہیں ہِلایا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس ہاتھ کے پیچھے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا چہرہ ہے۔ اسی طرح اگر تم بھی اپنے اندر یہ احساس پیدا کرو، اگر تم بھی یہ سمجھنے لگو کہ ہمارے پیچھے اسلام کا چہرہ ہے اور اسلام اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم دو نہیں بلکہ ایک ہیں تو تم بھی ایک مضبوط چٹان کی طرح قائم ہوجاؤ اور تم بھی ہر وہ تیر جو اسلام کی طرف پھینکا جاتا ہے اپنے ہاتھوں اور سینوں پر لینے کیلئے تیار ہوجاؤ۔

خدام الاحمدیہ کے پیچھے اسلام کا چہرہ ہے

پس یہ مت خیال کرو کہ تمہارے ممبر کم ہیں یا تم کمزور ہو بلکہ تم یہ سمجھو کہ ہم جو خادمِ احمدیت ہیں ہمارے پیچھے اسلام کا چہرہ ہے۔ تب بیشک تم کو خداتعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی طاقت ملے گی جس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکے گا۔ پس تم اپنے عمل سے اپنے آپ کو مفید وجود بناؤ۔ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرو نہ صرف اپنے مذہب کے غریبوں اور مسکینوں کی بلکہ ہر قوم کے غریبوں اور بے کسوں کی۔ تا دنیا کو معلوم ہو کہ احمدی اخلاق کتنے بلند ہوتے ہیں۔ مشورہ دینے کے لحاظ سے میں ہر وقت تیار ہوں مگر میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نمایاں شخصیتوں کو اپنا ممبر مت بناؤ کیونکہ بڑے درخت کے نیچے اگر آؤ گے توتمہاری اپنی شاخیں سُوکھ جائیں گے۔ اسی طرح سچائی کو اپنا معیار قرار دو۔ قواعد کے تیار کرنے میں مَیں انشاء اللہ تمہاری ہر طرح مدد کروں گا۔ سرِدست یہ نصیحت کرتا ہوں کہ تم ہر ممبر سے یہ اقرار لو کہ اگر وہ جھوٹ بولے گا اور اس کا جھوٹ ثابت ہوجائے گا تو وہ خوشی سے ہر سزا برداشت کرنے کیلئے تیار رہے گا۔

نمازوں میں باقاعدگی، خدمت دین کے لئے رات دن مشغول رہنےکا طریقہ

جب تم سچائی پر قائم ہوجاؤ گے، جب تم نمازوں میں باقاعدگی اختیار کرلو گے، جب تم دین کی خدمت کیلئے رات دن مشغول رہو گے، تب جان لینا کہ اب تمہارا قدم ایسے مقام پر ہے جس کے بعد کوئی گمراہی نہیں۔ اسی طرح تمہیں چاہئے کہ تم تحریک جدید کے متعلق میرے گزشتہ خطبات سے تمام ممبران کو واقف کرو اور ان سے کہو کہ وہ اَوروں کو واقف کریں۔ اور پھر ہر شخص اپنی ماں اور اپنی بہن اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو ان سے واقف کرے۔اسی طرح میں لجنات اماء اللہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس رنگ میں کام کریں اور جہاں جہاں لجنہ ابھی تک قائم نہیں ہوئی وہاں کی عورتیں اپنے ہاں لجنہ اماء اللہ قائم کریں اور وہ بھی اپنے آپ کو تحریک جدید کی والنٹیئرز سمجھیں اور اسلام کی ترقی کیلئے اپنی زندگی کو وقف قرار دیں۔

خدا تمہارا نام جانے گا

اگر تم یہ کام کرو تو گو دنیا میں تمہارا نام کوئی جانے یا نہ جانے (اور اِس دنیا کی زندگی کی حقیقت ہے ہی کیا ہے۔ چند سال کی زندگی ہے اور بس) مگر خدا تمہارا نام جانے گااور جس کا نام خدا جانتاہو اس سے زیادہ مبارک اور خوش قسمت اور کوئی نہیں ہوسکتا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1938ء مطبوعہ اخبار الفضل 10اپریل 1938ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 فروری 2020