• 14 جولائی, 2024

سو سال قبل کا الفضل

26؍فروری 1923ء دو شنبہ (سوموار)
مطابق 9؍رجب 1341 ہجری

صفحہ اول پر مدینۃ المسیح کی خبروں میں تحریر ہے کہ ’’حضرت خلیفۃا لمسیح ایدہ اللہ بنصرہ پٹھان کوٹ سے پھیروچیچی تشریف لے آئے ہیں جہاں روزانہ ڈاک قادیان سے دستی حضور میں پہنچتی ہے۔‘‘

صفحہ اول و دوم پر بعض نظارتوں کی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔رپورٹ صیغہ تالیف و اشاعت کے تحت ’’مقامی تبلیغ‘‘ کے زیرِ عنوان تحریر ہے۔

’’قادیان کی جماعت کے اکثر غرباء جمعرات اور جمعہ کے دن قادیان کے گردونواح کے قریباً بیس گاؤں میں پھیل جاتے ہیں اور نمازِ جمعہ کے بعد وہ اپنی رپورٹیں ناظر تالیف واشاعت کو سناتے ہیں۔اس تجویز سے قادیان کے ہمسایہ دیہات میں احمدی جماعت کی طرف ایک عام توجہ ہو گئی ہے۔زیرِ رپورٹ ہفتوں میں26 آدمیوں نے بیعت بھی کی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید کی جاتی ہے کہ عنقریب بعض گاؤں کے گاؤں جماعت میں داخل ہو جائیں گے۔یہ کام چار ماہ سے شروع ہے۔ایک سو سے اوپر اشخاص اس طرح داخلِ بیعت ہو چکے ہیں۔ابھی تک سوائے پادریوں کے کسی سے مباحثہ نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی پبلک تقریر ہوئی نہ ہی کوئی دنگا فساد ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت خلیفة ا لمسیح ایدہ اللہ بنصرہ کی ایماء اور مشورہ سے ناظر تالیف و اشاعت مبلغین کو جو ہدایات دیتے ہیں، ان پر وہ لوگ عمل کرتے ہیں۔‘‘

مذکورہ بالا نظارت کی رپورٹ کے تحت ہی زیرِ عنوان ’’امریکہ کی چٹھی‘‘ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کی ایک رپورٹ محررہ 16؍جنوری 1923ء شائع ہوئی ہے۔آپؓ نے اس چٹھی میں تحریر فرمایا:
’’شہر نیویارک کے ایک بڑے گرجا میں شام کی نماز میں آئندہ کے واسطے صرف موسیقی یعنی بجانا اور گانا رکھا گیا۔آئندہ شام کوئی دعا یا وعظ نہ ہوگا۔اس ملک میں عموماًگرجوں کا میلان اس طرف ہورہا ہےکہ موزوں خوش الحان گیتوں کے ذریعہ سے قلب کی صفائی پر زیادہ اثر ہوتا ہے۔بجائے اس کے کہ لمبے لیکچر دیئے جائیں۔مسلمانوں میں بعض صوفیاء بھی اس طرف مائل ہوئے ہیں لیکن با شریعت علماء کے درمیان خوش الحانی سے قرآنِ شریف پڑھنے یا شعر خوانی سے آگے قدم نہیں بڑھا۔حضرت مسیحِ موعودؑ کی مجلسِ مبارک میں بھی بعض دفعہ سے خوش الحانی سے اشعار پڑھے جاتے تھے۔ایک دفعہ جب حضور کی نظم پڑھی جا رہی تھی۔ فرمایا ’’بعض دفعہ دِلوں کے قفل اس سے بھی کھل جاتے ہیں۔‘‘ غالباً مراد غفلت کے قفل تھی۔۔۔

اتوار کی صبح کو مسجد میں دو رکعت نماز تعلیمی پڑھی گئی۔جس کی غرض نو مسلموں کو نماز سکھانا ہے اور جلسہ میں تقریر آنحضرتﷺ کی عظمت پر ہوئی۔

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نےاس رپورٹ میں نومسلم افرادِ جماعت کو نماز سکھانے کا ذکر کیا ہے۔حضرت مفتی صاحبؓ امریکہ میں ’’مسلم سن رائز‘‘ نامی جو رسالہ شائع کرتےتھے،اُس میں ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ نومسلموں کو اسلام اور سلسلہ سے واقفیت پیدا ہو۔چنانچہ ’’مسلم سن رائز‘‘ کے اپریل تا جولائی1923ء کے شمارہ میں صفحہ203 تا 206 پر حضرت مفتی صاحبؓ نے نو مسلموں کوتصویری شکل میں نماز پڑھنے کا عملی طریقہ بتایا ہے۔یہاں اس امر کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ نماز سکھانے کے لیے جس بچے کی تصاویر دی گئیں ہیں وہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ ہیں۔ چنانچہ حضرت مفتی صاحبؓ نے تصاویر کے فُٹ نوٹ میں تحریر فرمایا کہ

‘‘The lad posing for prayer is Mirza Nasir Ahmad’’

تبصرہ ھٰذا میں حضرت صاحبزادہ صاحبؒ کی مذکورہ تصاویر دی جارہی ہیں۔

بعدازاں حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ افسرصیغہ لنگر خانہ کی جانب سے رپورٹ لنگر خانہ بھی شائع ہوئی ہے۔

صفحہ 3اور4 پر اداریہ درج ذیل عناوین پر مشتمل ہے:

1۔ حضرت مسیحِ موعودؑ کے احسانات اسلام کے فرزندوں پر 2۔ مرکزی خلافت کمیٹی میں اسراف

دوسرے عنوان کے تحت اخبار نے علی گڑھ گزٹ کے 9؍فروری کے شمارہ میں شائع اس رپورٹ کے بعض اقتباسات نقل کیے ہیں جو ترکی میں خلافت کے بارہ میں مقرر کردہ کمیشن نے لکھی۔ اس رپورٹ میں کمیشن نے ترکی میں انسانوں کی قائم کردہ خلافت کے متعلق بعض انکشافات کیے ہیں۔

صفحہ5 اور 6 پر مولانا جلال الدین صاحب شمس کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں آپ نے 13؍جنوری 1927ء کو ہونے والے مباحثہ ساگرپورہ کے متعلق ذکر کیا ہے۔ اس ذکر کی وجہ یہ ٹھہری کہ اس مباحثہ میں شامل سنی مناظر نے اخبار اہلِ سنت والجماعت کے شمارہ 28۔29 میں اس مناظرہ کی رُوداد تحریر کی لیکن اس رُوداد میں بہت سےدوراز حقیقت امور بیان کیے۔چنانچہ حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے اس مباحثہ کی مختصر رُوداد تحریر کی اور لکھا کہ ’’کیا سنی مناظر صاحب اس بات پر حلف اٹھانے کے لیے تیار ہیں کہ جو کچھ انہوں نے اپنی تقریر میں اور میرے جوابات لکھے ہیں، بعینہٖ یہی تھے۔‘‘

اسی طرح مولانا شمس صاحب کے صفحہ 6 پر دو مختصر مضامین زیرِ عنوان ’’مہاشہ صاحبان جواب دیں۔تسلی بخش جواب دینے پر پانچ صد روپیہ انعام‘‘ اور ’’عیسائی صاحبان جواب دیں‘‘ شائع ہوئے ہیں۔

اول الذکر مضمون میں ستیارتھ پرکاش میں مذکور بعض عقائد کے متعلق سولات کیے ہیں جبکہ ثانی الذکر مضمون میں تثلیث کے عقیدہ سے متعلق بعض سوالات کیے ہیں۔

صفحہ7 اور 8 پر فضل حسین صاحب احمدی کا ایک مضمون ’’ویدک دعاوی پر ایک نظر‘‘ شائع ہوا ہے۔

صفحہ9 پر ڈاکٹر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی ایڈیٹر روزنامہ اتفاق کا ایک مضمون زیرِ عنوان ’’برلن کی مسجد اور احمدی مستورات‘‘شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں آپ نے اُس زمانہ میں احمدی مستورات کو برلن کی مسجد سے متعلق کی گئی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
’’جمعہ کی نماز جماعت دہلی خاکسار کے دفتر میں پڑھتی ہے جو لبِ سڑک واقعہ ہے۔گزشتہ جمعہ کو خطیب نے حضرت اقدس کا خطبہ جو الفضل میں چھپا ہوا تھا سنایا۔ یہاں سوائے میری اہلیہ کے باقی تمام مرد تھے اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ بعد نماز بیگم سے کہوں گا کہ مسجد کے لیے آپ اپنی پازیب دے دیں کہ اتنے میں دروازہ کی کھٹکھٹاہٹ میرے کان میں آئی اور میں گھر میں گیا جہاں وہ مصلیٰ پر بیٹھی خطبہ سن رہی تھیں اور اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔کچھ بات نہیں کی اور اپنے گلے سے پنج لڑا طلائی ہار جو غالباً تین سو روپے کا تھا مجھے دے دیا جو میں نے اسی وقت خطیب صاحب کو لاکر دے دیا۔

احمدی دوستو! عورتوں کی کمزوری کی وجہ سے میرا خیال تھا کہ شاید وہ بڑی قربانی نہ کر سکیں۔کیونکہ عورتوں کو زیور سے بہت محبت ہوتی ہے۔اس لیے میں نے پازیب کے واسطے خیال کیا تھامگر اس کمزور عورت نے اس قدر جرأت اور سخاوت سے کام لیا ہے۔اسی طرح ہر ایک احمدی عورت کو پُر جوش خیر مقدم اس تحریک کا کرنا چاہیے۔۔۔مسجد دائمی چیز ہے جس کا ثواب تاقیام مسجد اس شخص کو ملتا رہتا ہے جس نے مسجد بنوائی ہے۔ہندوستان میں اگر سو مسجدیں بھی آپ بنوا دیں تو اس قدر ثواب نہیں جس قدر اس شخص کو ثواب ملا ہو گا جس نے سب سے پہلے ہندوستان میں مسجد بنوائی ہو گی۔بادشاہ اور نوابوں کو چھوڑ دو۔معمولی سوداگر اور زمیندار لاکھوں ایسے موجود ہیں جو برلن میں دس مسجدیں بنوا سکتے ہیں مگر ان میں سے یہ احساس چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آج آسمان کے نیچے یہ کام صرف تم غریبوں کے سپرد کیا ہے۔لہٰذا میرے دوستو تم میری طرح پازیب کا سا خیال اپنی بیویوں کے آگے پیش کرنے کا خیال نہ کرنا بلکہ پورے جوشِ احمدیت کو مدِ نظر رکھ کر ان کو نصائح کرو تاکہ وہ بہت جوش کے ساتھ اس میں حصہ لیں۔غور کرو، اگر تم ان کو اس اہم مقصد کے واسطے نصیحت نہ کرو گے تو کیا فرشتے ان کے پاس وعظ سنانے آئیں گے۔اس میں شک نہیں کہ حضرت اقدس نے صرف عورتوں کو اس ثواب میں حصہ لینے کا حکم دیا ہے اور ہم محروم ہیں۔مگر ہم اس سعادت میں صرف اس طرح حصہ لے سکتے ہیں کہ ہم بڑی سے بڑی رقم دینے کے واسطے ان کو ترغیب دیں۔۔۔

لہٰذا میرے دوستو! خدا کے کام ضرور پورے ہوں گے مگر بڑے مبارک وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھ سے یہ سرانجام دیئے جائیں۔عنقریب ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ لوگ کہیں گے کہ کاش کوئی ایک لاکھ روپیہ مجھ سے لے کر اس مسجد کی ایک اینٹ کا ثواب مجھے دے دے۔ مگر افسوس اُس وقت ان میں کم زندہ ہوں گے جن کے قبضۂ قدرت سے یہ کام باہر ہو گا۔ آج کا ایک پیسہ آئندہ کے ہزاروں روپیہ سے زیادہ ثواب رکھتا ہے۔پس کون ہے جو سابقون الاولون میں داخل ہو۔‘‘

مذکورہ بالا اخبار کے مفصل مطالعہ کےلیے درج ذیل link ملاحظہ فرمائیں۔

https://www.alislam.org/alfazl/rabwah/A19230226.pdf

(م م محمود)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 فروری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی