• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

والدین کی ذمہ داری

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ احمدی ماں باپ کا فرض ہے کہ جماعتی اجلاسوں اور پروگراموں میں بچوں کو خود لے کر جائیں۔بعض تو ایسے ماں باپ ہیں ….سمجھتے ہیں کہ دینی تعلیم و تربیت صرف نظام جماعت کا کام ہے اور ہم نے کچھ نہیں کرنااور وہ بچوں کو چھوڑ بھی جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو اس طرف توجہ ہی نہیں دیتے۔خود بھی جماعتی پروگراموں میں شامل نہیں ہوتےاور بچوں کو بھی نہیں لاتے۔ پس خود بھی شامل ہوں اور بچوں کو بھی اس کی اہمیت بتائیں۔‘‘

(لجنہ سے خطاب بر مو قع جلسہ سالانہ یوکے 2018)

’’پھر ایک عام بات ہے جس کی طرف والدین کو توجہ دینی ہوگی۔ وہ ہے اپنے بچوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کریں،اُنہیں متقی بنائیں اور یہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتاجب تک والدین خود متقی نہ ہوں یا متقی بننے کی کوشش نہ کریں۔ کیونکہ جب تک عمل نہیں کریں گے مُنہ کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اگر بچہ دیکھ رہا ہے کہ میرے ماں باپ اپنے ہمسایوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے، اپنے بہن بھائیوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں، ذرا ذرا سی بات پر میاں بیوی میں، ماں باپ میں ناچاقی اور جھگڑے شروع ہو رہے ہیں تو پھر بچوں کی تربیت اور ان میں تقویٰ پیدا کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔اس لئے بچوں کی تربیت کی خاطر ہمیں بھی اپنی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 27جون 2003ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ